Surah 75 of 114
سُوْرَةُ الْقِيَامَةِ
Al-Qiyaama
The Resurrection
قیامت کے دن کی قسم ہے
اور پشیمان ہونے والے شخص کی قسم ہے
کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے
ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کر دیں
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آئندہ بھی نافرمانی کرتا رہے
پوچھتا ہےکہ قیامت کا دن کب ہو گا
پس جب آنکھیں چندھیا جائیں گی
اور چاند بے نور ہو جائے گا
اور سورج اور چاند اکھٹے کیے جائیں گے
اس دن انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے
ہر گز نہیں کہیں پناہ نہیں
اس دن آپ کے رب ہی کی طرف ٹھکانہ ہے
اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا کہ وہ کیا لایا اور کیا چھوڑ آیا
بلکہ انسان اپنے اوپر خود شاہد ہے
گو وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے
آپ (وحی ختم ہونے سے پہلے) قرآن پراپنی زبان نہ ہلایا کیجیئے تاکہ آپ اسے جلدی جلدی لیں
بے شک اس کا جمع کرنا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے
پھر جب ہم ا سکی قرأت کر چکیں تو اس کی قرأت کا اتباع کیجیئے
پھر بے شک اس کا کھول کر بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے
ہر گز نہیں بلکہ تم تو دنیا کو چاہتے ہو
اور آخرت کو چھوڑتے ہو
کئی چہرے اس دن تر و تازہ ہو ں گے
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے
اور کتنے چہرے اس دن اداس ہو ں گے
خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والی سختی کی جائے گی
نہیں نہیں جب کہ جان گلے تک پہنچ جائے گی
اورلوگ کہیں گے کوئی جھاڑنے والا ہے
اور وہ خیال کرے گا کہ یہ وقت جدائی کا ہے
اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی
تیرے رب کی طرف اس دن چلنا ہوگا
پھر نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی
بلکہ جھٹلایا اورمنہ موڑا
پھر اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا
(اے انسان) تیرے لیے افسوس پرافسوس ہے
پھر تیرے لیے افسوس پر افسوس ہے
کیاانسان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا
کیا وہ ٹپکتی منی کی ایک بوند نہ تھا
پھر وہ لوتھڑا بنا پھر الله نے اسے بنا کر ٹھیک کیا
پھر اس نے مرد و عورت کا جوڑا بنایا
پھر کیا وہ الله مردے زندہ کردینے پر قادر نہیں