اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ کی عمر: چوہتر سندیں، ایک جواب
غم کے سال کے بعد خولہ بنت حکیمؓ رشتہ لے کر آئیں: ایک کنواری، ایک بیوہ۔ نکاح مکہ میں چھ برس کی عمر پر، رخصتی مدینہ میں نو برس پر۔ یہ کسی ایک راوی کی کہانی نہیں، بخاری، مسلم اور سنن سمیت تقریباً چوہتر سندوں کی گواہی ہے۔ پورا واقعہ، پوری دلیل، اس مضمون میں۔
By John Shaqi · July 19, 2026 · 15 min read
سوال جو ہر محفل میں اٹھتا ہے
اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عمرِ نکاح آج کے دور کا سب سے زیادہ اچھالا جانے والا سوال ہے۔ کوئی کہتا ہے روایات کمزور ہیں، کوئی کہتا ہے سب کچھ ایک ہی راوی کی زبان سے نکلا ہے، اور کوئی سرے سے تاریخ ہی بدل دینا چاہتا ہے۔
مگر اعتراض کرنے والوں کی اکثریت نے کبھی پوری کہانی پڑھی ہی نہیں۔ نہ وہ منظر جس میں یہ رشتہ آیا، نہ وہ معاشرہ جس میں یہ نکاح ہوا، نہ وہ سندیں جن پر یہ روایات کھڑی ہیں۔
Continue Reading
Continue reading this article
Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.
Sign in free to read →- ✓Read every article
- ✓Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
- ✓Browse the community
- ✓Reader badge