John Shaqi

عمران بن حطان: علی کے قاتل کا مدح خواں اور صحیح بخاری کی سند

جس شاعر نے علی ابن ابی طالب کے قاتل ابن ملجم کی ضرب کو "متقی کی ضرب" کہا، اسی کا نام صحیح بخاری کی ایک سند میں درج ہے۔ کتبِ رجال کے متون، اعتراض اور دفاع — سب جوں کا توں، آمنے سامنے۔ فیصلہ آپ کا۔

By John Shaqi · July 23, 2026 · 15 min read

عمران بن حطان: علی کے قاتل کا مدح خواں اور صحیح بخاری کی سند

فجر کی تلوار، بصرہ کا قلم

رمضان ۴۰ ہجری۔ کوفہ کی مسجد میں فجر کی نماز۔ علی ابن ابی طالب — رسول اللہ ﷺ کے چچازاد اور داماد، اہلِ سنت کے چوتھے خلیفہ، اہلِ تشیع کے پہلے امام — نماز کے لیے نکلتے ہیں تو عبد الرحمٰن ابن ملجم زہر میں بجھی تلوار ان کے سر پر مارتا ہے۔ دو دن بعد علی وفات پا جاتے ہیں۔

عشرے گزرتے ہیں۔ بصرہ میں ایک معزز تابعی — ام المومنین عائشہ سے حدیث روایت کرنے والا راوی — اسی تلوار کے وار پر اشعار کہتا ہے۔ وہ ماتم نہیں کرتا۔ وہ اس وار کو "ایک متقی کی ضرب" کہتا ہے اور مارنے والے کو اللہ کے ترازو میں ساری مخلوق سے بھاری قرار دیتا ہے۔

Continue Reading

Continue reading this article

Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.

Sign in free to read →
Reader$0/mo
  • Read every article
  • Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
  • Browse the community
  • Reader badge
Join as Reader
Scholar$8/mo
  • Everything in Writer
  • Scholar badge
  • Featured in the community
Join as Scholar