John Shaqi

عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ وہ سوال جس کا جواب کبھی سنجیدگی سے نہیں دیا گیا

ایک قدیم رومی سپاہی، ایک کتبہ، اور ایک ایسا سوال جو خود عیسائیت کی دوسری صدی کی اپنی تحریروں میں دفن پڑا ہے۔ کنواری پیدائش کی کہانی کبھی بھی خاموشی سے قبول نہیں کی گئی تھی۔

By John Shaqi · July 12, 2026 · 6 min read

عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ وہ سوال جس کا جواب کبھی سنجیدگی سے نہیں دیا گیا

ذرا سوچیے۔ ایک انسان، جس کے گرد پوری ایک تہذیب کا عقیدہ کھڑا ہے، اور اس کے اپنے پیروکار آج تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ اس کا باپ اصل میں تھا کون۔ "کنواری پیدائش" کی کہانی سننے میں خوبصورت لگتی ہے، لیکن جب آپ خود انجیلوں سے باہر نکل کر تاریخ کے دروازے پر دستک دیتے ہیں، تو ایک بالکل مختلف، بہت پرانا اور بہت غیر آرام دہ دعویٰ آپ کا استقبال کرتا ہے۔ یہ دعویٰ کسی جدید ملحد کی ایجاد نہیں — یہ خود عیسائیت کی دوسری صدی کی اپنی تحریروں میں دفن پڑا ہے، اور اس کے پیچھے ایک نام ہے، ایک قبر ہے، اور دستاویزی ثبوت ہے۔

جس بات کو چھپایا نہیں گیا، بس کبھی بتایا نہیں گیا

تقریباً 177 عیسوی میں، یونانی فلسفی سیلسس (Celsus) نے ایک کتاب لکھی — The True Word — جو عیسائیت پر پہلی مربوط غیر عیسائی تنقید تھی۔ اصل کتاب آج موجود نہیں، لیکن ستم ظریفی دیکھیے: اس کا مواد ہمیں خود ایک عیسائی عالم، اوریجن (Origen)، کی بدولت ملتا ہے، جس نے اسے رد کرنے کی کوشش میں لفظ بہ لفظ نقل کر دیا (Contra Celsum، کتاب 1، حصہ 32 اور 69)۔ یعنی، اسے مٹانے کی کوشش نے ہی اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

Continue Reading

Continue reading this article

Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.

Sign in free to read →
Reader$0/mo
  • Read every article
  • Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
  • Browse the community
  • Reader badge
Join as Reader
Scholar$8/mo
  • Everything in Writer
  • Scholar badge
  • Featured in the community
Join as Scholar