John Shaqi

رضاعت کی آیات: جو پڑھی جاتی تھیں مگر مصحف میں نہیں

صحیح مسلم 1452 اور سنن ابن ماجہ 1944: رضاعت کی وہ آیات جو وفاتِ نبوی کے وقت پڑھی جا رہی تھیں مگر آج مصحف میں نہیں — متون جوں کے توں، نسخِ تلاوت کی کلاسیکی توجیہ، سند کی بحثیں اور فقہی نتائج۔ دونوں کالم آپ کے سامنے، فیصلہ آپ کا۔

By John Shaqi · July 21, 2026 · 15 min read

چارپائی کے نیچے ایک صحیفہ

مدینہ، گیارہ ہجری۔ رسولِ اسلام کی وفات ہو چکی ہے اور گھر غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ سارے شہر کی نگاہیں اُس حجرے پر ہیں جہاں آپ ﷺ نے آخری سانس لی — عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ۔ مگر سنن ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق اُسی حجرے میں کچھ اور بھی تھا: ایک لکھا ہوا صحیفہ، جو چارپائی کے نیچے رکھا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اُس پر آیتیں لکھی تھیں — رجم کی آیت اور بڑے کی دس بار رضاعت کی آیت۔ اور جب گھر والے رسول اللہ ﷺ کی وفات میں مشغول تھے تو ایک پالتو جانور اندر آیا اور وہ صحیفہ کھا گیا۔

یہ کسی ناقد کی گھڑی ہوئی کہانی نہیں۔ یہ اہلِ سنت کے ایک مستند مجموعۂ حدیث کی روایت ہے، اور راوی خود اُم المومنین ہیں۔ اس کے ساتھ صحیح مسلم کی ایک اور روایت کھڑی ہے جس میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ "دس معلوم رضعات" قرآن کے طور پر نازل ہوئیں، پھر "پانچ معلوم رضعات" سے منسوخ ہوئیں — اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت یہ قرآن میں پڑھی جا رہی تھیں۔ انہی دو متون کے گرد چودہ صدیوں کے علم نے باقاعدہ عمارتیں کھڑی کیں: نسخِ تلاوت کا نظریہ، سند کی جانچ، اور فقہ کے وہ احکام جن پر مذاہب آج تک منقسم ہیں۔ آج ہم وہی کتابیں کھولتے ہیں۔

Continue Reading

Continue reading this article

Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.

Sign in free to read →
Reader$0/mo
  • Read every article
  • Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
  • Browse the community
  • Reader badge
Join as Reader
Scholar$8/mo
  • Everything in Writer
  • Scholar badge
  • Featured in the community
Join as Scholar