سورہ احزاب کی «گم شدہ» لمبائی: اُبَی بن کعبؓ کی روایت اور نسخِ تلاوت کی بحث
مسند احمد 21206 میں اُبَی بن کعبؓ اپنے شاگرد زر بن حبیش سے پوچھتے ہیں: سورہ احزاب کی کتنی آیتیں شمار کرتے ہو؟ «تہتر۔» «یہ کبھی سورہ بقرہ کے برابر تھی۔» روایات، اسناد، آیتِ رجم، نسخِ تلاوت کی کلاسیکی توجیہ اور قرآن 15:9 — سب جوں کا توں۔ فیصلہ آپ کا۔
By John Shaqi · July 21, 2026 · 15 min read
استاد کا سوال، شاگرد کا جواب
مدینہ منورہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا زمانہ۔ ایک بوڑھے صحابی کے سامنے کوفہ سے آیا ہوا ایک قاری بیٹھا ہے۔ یہ بوڑھے صحابی کوئی عام آدمی نہیں: یہ اُبَی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں — انصار کے سردار، کاتبِ وحی، اور وہ شخص جن کے بارے میں حدیثی ذخیرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہے: «أقرؤكم أُبَي» — ”تم میں سب سے بڑا قاری اُبَی ہے۔“ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو — اور ان چار میں اُبَی بن کعب شامل ہیں۔
سامنے بیٹھا ہوا شاگرد بھی معمولی نہیں: زر بن حبیش، کوفہ کے جلیل القدر تابعی، جنہوں نے سو سال سے زیادہ عمر پائی اور جن سے اگلی نسل کے مشہور قاریوں نے قراءت سیکھی۔ وہ اُبَی بن کعبؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ دونوں کے شاگرد تھے۔
Continue Reading
Continue reading this article
Sign in free to read in full. Become a member to join the discussion without limits.
Sign in free to read →- ✓Read every article
- ✓Comment and reply (up to 100 words, 10/month)
- ✓Browse the community
- ✓Reader badge