Part One
حصہ اول
اگر آپ در حقیقت خلافت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو گہرائی سے ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھنا ہوگا خاص طور پر ان چیزوں کو جہاں میں آپ کے ساتھ خاطرخواہ لانے والا ہوں جیسا کہ سب سے پہلے بات کرتے ہیں وفادے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کیسے ہوئی کچھ لوگ اسے طبی شکل دیتے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قدموں کے پاس کوئی فرشتہ یا عزرائیل آ گیا اور اجازت مانگنے لگا جبکہ درحقیقت اگر آپ ریشنل ہو کے سوچیں یا میری طرح فلسفاتی سوچ رکھیں یا اگر آپ ریسرچسٹ ہیں تو میں وہ تمام چیزیں درحقیقت بتاؤں گا جس کے اوپر کسی بھی دین کا، اسلام کا یا ریلیجن کا کوئی چشمہ نہیں ہوگا ایک انسان کے مانند جیسے کوئی شخص کسی چیز کو حقیقت میں بیان کرتا ہے اسی طرح حق اور بیان کرنے کی کوشش کروں گا اگر آپ کے اندر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تو آپ اگلا صفحہ مت کھولیے کیونکہ میں وہ حقائق بتاؤں گا جہاں نہ کوئی معجزہ ہوگا نہ کوئی جادو، نہ کوئی توہنا نہ کوئی جبرائیل آئے گا نہ کوئی فرشتہ اور نہ ہی کوئی آسمان سے کوئی خدا آئے گا جو کہ دوائی کے اثر اور زہر کے اثر کو غلط بتا سکے اور یہاں تک کہ جس کی روح نکلنی ہے وہ روح نکل کے رہے گی جس نے جو ہے اس دنیا سے جانا ہے وہ جا کر رہے گا بےشک ہر جان نے جو ہے وہ موت کا مزہ چکھنا ہے إِنَّا لِللَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون
رسول اللہ کی وفات ایک زہر سے ہوئی جس کی میں کچھ دلائل دے رہا ہوں، آپ ان دلائلوں کو خاطر خواہ لائیے اور ضرور پڑھئے۔ دلیل نمبر ایک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے امی عائشہ سے فرمایا
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 4428
(بعض نسخوں میں 3168 یا 5777 کی نمبرنگ بھی ملتی ہے)
عربی
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:
يَا عَائِشَةُ، مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السَّمِّ.
اردو ترجمہ
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کا وصال ہوا، فرمایا:
"اے عائشہ! میں ہمیشہ اس کھانے کی تکلیف محسوس کرتا رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا، اور اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اسی زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ رہی ہے۔"
حوالہ:
صحیح بخاری، حدیث 4428
2. Musnad Ahmad
عربی
عَنْ عَائِشَةَ:
إِنِّي لَأَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي.
اردو ترجمہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں آج بھی خیبر میں کھائے ہوئے کھانے کا درد محسوس کرتا ہوں، اور اب میری شہ رگ کٹنے کا وقت آ پہنچا ہے۔"
حوالہ:
مسند احمد بن حنبل، جلد 43، حدیث 26225
(محققین کی مختلف طباعتوں میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے۔)
3. Sunan al-Darimi
عربی
مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنَ الْأُكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي.
اردو ترجمہ
"میں مسلسل خیبر کے اس لقمے کا اثر محسوس کرتا رہا ہوں، اور اب میری شہ رگ کے کٹنے کا وقت آ گیا ہے۔"
یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زہر کی شدت کو محسوس کیا تو انہیں لگا کہ کوئی معتبر بیوی جو ہے وہ انہیں تھوڑا تھوڑا سا زہر دے رہی ہے یہاں تک کہ وہ خود کو کمزور محسوس کرنے لگے ان کے جسم میں درد رہتا تھا اور طبیعت اکثر خراب رہتی تھی انہیں اس بات پہ تھوڑا سا شک ہوا اس شک کی بنا پہ انہیں لگا کہ کوئی نہ کوئی ان کے اپنے قریبی ساتھی یا کوئی گھر کا شخص جو ہے وہ ملوث ہے اس چال میں وہ انہیں زہر دے رہا ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کو اپنے جو قریب تھے اور چند بیویوں کو اکٹھا کیا اور انہیں کہا کہ تم بھی وہی دوا چکھو جبکہ وہ دوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روز دی جا رہی تھی جس کی وجہ سے آپ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں کوئی زہر دیا جا رہا ہو یہ مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ کسی کو آرام آرام سے آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا زہر دیں اور جبکہ دوسری طرف آپ اس تھوڑے سے زہر کو کسی کو کھلائیں تو کھانے والے پہ کوئی اثر نہیں ہوگا آپ کو اس بات کی دلیل میں نیچے دی ہوئی تمام حدیث سے دے سکتا ہوں آپ انہیں پڑھ کر ری ویریفائی کر لیجیے یہاں تک کہ ہم مانتے ہیں کہ کیا رسول اللہ کو غیب کا علم تھا اگر رسول اللہ کو غیب کا علم ہوتا تو یہاں پہ ایک بڑی دلیل جو مجھے ملی ریسرچ کرتے ہوئے وہ یہ تھی کہ رسول اللہ کو اگر پتہ ہوتا کہ کون شخص ہے جو ان کے کھانے میں یا ان کی دوائی میں زہر ملا رہا ہے تو وہ اسے ایک منٹ میں پکڑ لیتے وہ اس طرح سے تجربہ نہ کرتے اور تمام لوگوں کو تھوڑا تھوڑا زہر یا وہ دوائی نہ چٹواتے جو کہ نیچے آنے والی حدیث میں میں نے دی ہوئی ہے سوچئیے گا ضرور کیونکہ جس طرح آپ سوچیں گے آپ کا دماغ کھلتا جائے گا اور آپ بہت سی بیڑیوں سے آزاد ہونا شروع ہو جائیں گے
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 5709 (بعض طبعات میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
عربی:
لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ لَا تَلُدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي؟ قُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ، إِلَّا الْعَبَّاسَ.
اردو ترجمہ:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیماری میں آپ کو دوا پلائی۔ آپ اشارہ فرما رہے تھے کہ مجھے دوا نہ پلاؤ، مگر ہم نے سمجھا کہ مریض عام طور پر دوا پسند نہیں کرتا۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا: "کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ مجھے دوا نہ پلاؤ؟" پھر فرمایا: "اس گھر میں موجود ہر شخص کو یہی دوا پلائی جائے، سوائے عباسؓ کے۔"
2. Sahih Muslim
حدیث نمبر: 2213 (طباعت کے لحاظ سے فرق ہو سکتا ہے)
اسی واقعے کو حضرت عائشہؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوا پلانے سے منع فرمایا تھا، لیکن لوگوں نے سمجھا کہ یہ مریض کی معمول کی ناپسندیدگی ہے۔ بعد میں آپ ﷺ نے ناراضی ظاہر فرمائی اور سب کو وہ دوا چکھانے کا حکم دیا۔
آگے چل کر آپ جو چیز پڑھنے والے ہیں آپ وہ پڑھ کر حیران ہو جائیں گے ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے رسول کوئی نور ہیں یعنی کہ ان کے ہاتھ میں کچھ معجزے ہیں مگر درحقیقت یہ اگر آپ امی عائشہ کی حدیث پڑھیں تو اس میں آپ کو مل جائے گا جس میں وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو سب سے زیادہ تکلیف میں وفات کے وقت دیکھا اور ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ کو بیماری میں اتنی شدت ہوتی جتنی دو افراد کو اب سوچنے کی بات ہے جو نبی دو جہان کے لیے بنایا گیا جس نبی کے پاس اتنے معجزے تھے کہ وہ دیوار کے آر پار دیکھ سکتا ہے جو ایک پیالے میں سو سے دو سو لوگوں کو پانی پلا سکتا ہے جو نبی آسمان ستاروں پر جا سکتا ہے وہ نبی بیمار ہو رہا ہے اسی طرح جس طرح آپ کے اور میرے باپ دادا بیمار ہو رہے ہیں میرا مقصد یہ نیچے دلیل دی ہوئی ہے ان تمام دلائلوں پر سوچنا ہے ذرا ایک دفعہ اپنے علما یا مولوی کے پاس ضرور جائیے گا اور اسے پڑھائیے گا کہ بتائیے کہ کیا آپ نے غریب ا
ور ایک نارمل انسان کو جو شکل اور جو تشبیہ بتائی کیا اس شخص کو واقعاً بخار میں موت نہیں آئی؟ کیا وہ شخص زہر کی تکلیف سے نہیں وفات پایا؟ تو پھر آپ نے کون سی کہانیاں سکھائیں؟ وہ کہانیاں جس سے ایک غریب شخص اپنی غربت کی دو چار روپیوں کی روزی آپ کو دے دے جس سے آپ مسجدوں کی ٹوٹیاں لگوا سکیں، پنکھے لگوا سکیں اور دریاں لگوا سکیں تو چلیں یا تو اس سیاستیتا کی چھ کتابیں یعنی کہ احادیث کی کتابوں سے بالکل منع فرما دیجیے یا پھر آپ کوئی اور اپنی طرف سے دین میں ایک نئی شخصیت جو ہے وہ داخل کر دیجیے جو کہ بالکل انسانی روپ اور انسانی تشبیحات کے پرے ہو
یہاں میرا سوال اس یوتھ سے ہے جو آگے چل کر حوالہ پڑھنے والی ہے۔ ذرا سوچیے انہوں نے آپ کو کیا کیا بتایا مسجدوں میں اپنے حلووں کے چکر میں پالوشائیوں، بریانی اور پلاؤ کے چکر میں انہوں نے بولا کہ ایک جنگ میں آسمان سے تلوار اتری۔ پھر بولا کہ ایک دفعہ رسول اللہ سات آسمانوں پر پہنچے اور پھر ایسی بھی حدیثیں موجود ہیں جہاں سات آسمان کے بعد ایک ایسا بکرا ہے جس کے کھر بہت بڑے ہیں۔ یہ مزاحیہ خیض حدیث بھی آگے چل کے بیان کروں گا مگر ابھی ان حوالوں میں رسول اللہ کی تکلیف اسی طرح محسوس کریں جیسے آپ اور میرے باپ دادا کو تکلیف ہوتی ہے۔ کاش کوئی جبرائیل آ کر کالپول یا پیناڈول دے دیتا یا کوئی دم درود کر دیتا مگر شدت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف ایک انسان تھے اور باقی جو بھی جو ہے انہوں نے خصوصیات ہیں وہ خود سے گڑھی خود سے انہوں نے کہانیاں سنائیں تاکہ ہم ان کو ایک عام انسان چھوڑ کر سپر ہیومن میں کنورٹ کر سکیں اور سوچیں کہ واقعیت تک ہم ایک ایسے نبی کو مانتے ہیں جوکہ ایک انسان نہیں سپر انسان ہے جو چلتا ہے تو بادل اس کے ساتھ چلتے ہیں جو آواز دیتا ہے تو مردے کھڑے ہو جاتے ہیں جو جو کیڑیوں کی باتیں سن لیتا ہے جو جمی ہوئی کیڑیوں کو کہتا ہے ہٹ جاؤ جو اونٹوں سے بات کرتا ہے جو ہر چیز کی آواز سن سکتا ہے مگر درحقیقت وہ اپنا بخار دور نہیں کر سکتے۔
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 5646
عربی
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ:
دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ يُوعَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا.
قَالَ:
أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ.
اردو
عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ شدید بخار میں تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو بہت سخت بخار ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ہاں، مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔"
2. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 4449
عربی
عَنْ عَائِشَةَ:
مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
اردو
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو بیماری کی شدت میں مبتلا نہیں دیکھا۔"
3. Sahih Muslim
حدیث نمبر: 2571
عربی
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ.
اردو
رسول اللہ ﷺ کو عام لوگوں کی نسبت دو آدمیوں کے برابر بیماری کی شدت ہوتی تھی۔
4. Sunan Ibn Majah
حدیث نمبر: 1622
عربی
مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
اردو
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"میں نے کسی پر بیماری کی تکلیف رسول اللہ ﷺ سے زیادہ نہیں دیکھی۔"
5. Musnad Ahmad
حدیث نمبر: 24855 (بعض طبعات میں مختلف)
عربی
مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ وَجَعًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.
اردو
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھا۔"
اور پھر بالآخر آگے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سوموار کے دن وفات پا لیتے ہیں اب دیکھیے لکھنے والوں نے رسول اللہ کی وفات کو بھی کس طرح لکھا ہے یہ کہتے ہیں کہ جب ان کی وفات ہوتی ہے تو ان کا چہرہ مبارک امّی عائشہ کے سینے پر موجود تھا اور لبابے دہر جو ہے وہ سینے میں گرتا ہے کیا یہ باتیں لکھنے کی ہیں؟ کیا کسی بڑے امام یا کسی نبی یا پیغمبر کی موت کو کوئی شخص اس طرح بیان کرتا ہے؟ یقین جانئیے کہ اگر آپ کے والد کی انتقال ہو جائے یا آپ کے دادا کا یا میرے رشتے دار کا یا میرے والدین کا تو ہم کبھی ایسا نہیں لکھیں گے کہ میرے والد کے انتقال کے وقت میرے والد کا منہ یا چہرہ مبارک میری ماں کے سینے کے بیچ تھا اور لبابے دہر ان کے سینے کے بیچ گرا یقین جانئیے ان لوگوں نے خود اپنے دین کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جس طرح کوئی چھوٹا بچہ نہ جانے اپنے منہ پہ لگی ہوئی چاکلیٹ کو چھپاتا ہے تو چلیں آگے چل کے حوالے کے ساتھ ثابت کرتا ہوں کیونکہ یہ میں نہیں کہہ رہا میں تو صرف اس پہ ایک تبصرہ کر رہا ہوں آپ حقائق جان کر خود حیران ہوں گے کہ کیا کبھی کسی بڑے بزرگ یا معتبر شخص کی وفات کو کوئی اس طرح لکھتا ہے؟
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 4449
عربی
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ:
تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي.
اردو
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے اور گردن کے درمیان (میرے سہارے) وفات پائی۔"
2. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 4451
عربی
قَبَضَهُ اللَّهُ وَرَأْسُهُ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي.
اردو
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ کا سر میرے سینے سے لگا ہوا تھا۔"
3. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 4438
عربی
دَعَا بِالسِّوَاكِ ... فَلَيَّنْتُهُ بِرِيقِي، فَاسْتَنَّ بِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ ... ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى.
اردو
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ وفات سے پہلے آپ ﷺ نے مسواک منگوائی، میں نے اسے اپنے لعاب سے نرم کیا، آپ ﷺ نے اس سے مسواک کی، پھر آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا:
"رفیقِ اعلیٰ (اعلیٰ ساتھی) کے پاس۔"
اس کے بعد آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔
نوٹ: اس روایت میں عائشہؓ کے لعاب سے مسواک نرم کرنے کا ذکر ہے،
4. Sahih Muslim
حدیث نمبر: 2444
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے میری باری کے دن، میرے گھر میں، اور میرے سینے سے لگے ہوئے وفات پائی۔
5. Musnad Ahmad
حدیث نمبر: 24864 (طبعات کے لحاظ سے نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے میری گود میں وفات پائی، پھر میں نے آپ کا سر تکیے پر رکھا۔
اب یہاں تک آپ نے وفات سن لی اور اس کے بعد یہاں بڑی کمال کی بات ہے، یہاں بات کرتے ہیں خلیفہ اول اور خلیفہ دوم کی، مگر سب سے پہلے ہم خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کو لیں گے، یہاں پہلا سوال اٹھتا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت ابو بکر وہاں موجود تھے؟ درحقیقت ابو بکر وہاں موجود ہی نہیں، سوچئیے کہ آپ کے گھر کا کوئی بڑا ہو، آپ کے گھر کا کوئی سردار ہو یا آپ کے گھر کا کوئی بڑا معتبر شخص ہو اور وہ کدرے بیمار ہو، اتنا بیمار کہ جس کے لیے آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ اتنا بیمار ہے جتنا کہ دو شخص کو بخار ہوتا ہے، ان کی خود کی بیٹی کہہ رہی ہیں کہ میں نے تکلیف میں جتنا رسول کو پایا اتنا کسی اور کو نہیں پایا، اس حال میں ابو بکر جو ہے وہ رسول اللہ کو چھوڑ کر کہیں اور گئے ہوئے تھے، آگے چل کے میں آپ کو بالکل حوالہ دیتا ہوں مگر سوچنے کی بات ہے کہ اگر گھر میں آپ کا باپ یا آپ کا دادا یا آپ کا پردادا بیمار ہو تو کیا آپ انہیں چھوڑ کر شہر سے باہر دور کہیں چلے جائیں گے اور پھر انتظار کریں گے کہ جب آپ کو وفات کی یا اطلاع دی جائے تو آپ دوڑے چلے آئیں یا آپ ان کے سر پر کھڑے ہو کر ان کے آخری الفاظ اور ان کے آخری دیدار کے لیے انتظار کریں گے، سوچئیے گا ضرور، اس کے ساتھ ساتھ میں ایک اور واقعہ بھی ایڈ کرتا جاؤں گا
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 4452
عربی
إِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ بِالسُّنْحِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تُوُفِّيَ، فَأَقْبَلَ عَلَى فَرَسِهِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ...
اردو
"حضرت ابوبکرؓ السنح میں تھے۔ جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر ملی تو وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوئے..."
3. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 1241
عربی
أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ مِنَ السُّنْحِ...
اردو
"ابوبکرؓ السنح سے آئے، رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوئے اور آپ کو بوسہ دیا..."
4. Sahih Muslim
حدیث نمبر: 2382 (طبعات میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
اس روایت میں بھی مذکور ہے کہ ابوبکرؓ السنح سے آئے، رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے، آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور بوسہ دیا۔
تو یہ تھے خلیفہ اول جو آتے ہی جو ہے رسول اللہ کو انہوں نے بوسہ دیا، جب کہ وہ وہاں موت کے وقت کہیں موجود نہیں تھے اور آخری وقت میں کہتے ہیں جب کوئی سردار وفات پاتا ہے یا دنیا سے چھوڑ کے جاتا ہے تو اپنے دستاویز یا اپنی وصیت یا کوئی ایسی بات یا نصیحت کر دیتا ہے جس سے بڑے بڑے انسانوں کی زندگی بدل جاتی ہے مگر مجھے لگتا ہے ہمارے حضرت ابو بکر صدیق کو کوئی نصیحت کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی انہیں کوئی اس وقت پرواہ تھی کیونکہ آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ کتنی پرواہ تھی اب ہم بات کریں گے ساتھ ساتھ خلیفہ دوم کی کہ وفات سے تھوڑا سا پہلے خلیفہ دوم نے کیا کیا جب رسول اللہ نے کہا کہ حدیث کرتاس میں کہ مجھے کاغذ قلم دو یا لکھنے کا سامان دو درحقیقت یہ ایک قدیم بحث ہے جس میں کہا گیا کہ کاغذ قلم آپ یقین جانئے آج سے صرف سات سو سال پہلے عرب کے اندر جو ہے وہ کاغذ قلم ایجاد ہوا پہلے قلم نہیں ہوا کرتی تھی پر یہ موم سے جو ہے اسے چمڑے پر لکھا جاتا تھا پتوں پر لکھا جاتا تھا یا پتھروں پر لکھا جاتا تھا تو اس وقت جس چیز کا اصل ترجمہ ہے عربی کا ترجمہ کریں تو وہاں ترجمہ ہے لکھنے کا سامان یہاں آپ کو اس بات پر رد کر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ حدیث کبھی کہی ہی نہیں مگر درحقیقت حضرتِ عمر نے بالکل جو الفاظ استعمال کیے وہ الفاظ آپ حدیث میں پڑھیں گے یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری کی حالت میں ہیں اور یہ دیوانے ہو چکے ہیں اور ایک حدیث میں آتے ہیں کہ یہ مجنون ہو چکے ہیں اب مجنون کا لفظ میں خود ترجمہ نہیں کر سکتا آپ اپنی عقل اور فہم جو ہے وہ خود توڑا لیجیے گا کہ یہ رسول اللہ کی درحقیقت کتنی عزت کرتے تھے واقعات تو بہت ہیں مگر ابھی فی الحال ٹاپک چل رہا ہے خلافت کا تو صرف اس کے قریب قریب کے واقعات پہ بات ہوگی ورنہ ایک واقعہ تو ایسا بھی ہے جس میں سینہ پسینہ حضرتِ عمر کھڑے ہو گئے رسول اللہ کی جو جو قمیض تھی جو جبہ تھا اسے جو ہے وہ پیچھے سے کھینچا اور انہیں ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کر دیا چلیں آپ وہ خود پڑھ لیجیے گا تھوڑی سی ریسرچ آپ بھی کیجیے میں حوالہ جات لگا دیتا ہوں کہ حدیث کرتاس میں درحقیقت ہوا کیا تھا جی ہاں یہ وہی حدیث ہے جس میں رسول اللہ کو اپنی وفات سے پہلے جو ہے وہ اپنی وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 114
راوی: Abd Allah ibn Abbas
عربی:
لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَجَعُهُ قَالَ:
ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ.
فَقَالَ عُمَرُ:
إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ.
فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ، فَقَالَ:
قُومُوا عَنِّي، وَلَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ.
• Sahih al-Bukhari، حدیث 114
• Sahih al-Bukhari، حدیث 4431
• Sahih al-Bukhari، حدیث 7366 (بعض طبعات میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
• Sahih Muslim، کتاب الوصیة، حدیث 1637 (طبعات کے لحاظ سے نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
• Musnad Ahmad، روایتِ Abd Allah ibn Abbas
• Musannaf Ibn Abi Shaybah، باب مرض النبي ﷺ
وفات تو ہو گئی مگر اب خلیفہ دوئم کی حرکت آپ دیکھیے کہ یہ کہتے ہیں کہ میں نہیں مانتا کہ رسول اللہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں یہ جستے خاکی پھر سے اٹھ پڑے گا جس طرح موسیٰ واپس آئے تھے جس طرح اور انبیا کرام واپس آئے تھے مگر ہمیں پھر سے ایک اور جھوٹ بتایا گیا کہ لوگوں نے رسول اللہ کا جنازہ پڑھا جبکہ درحقیقت انبیا کے جنازے کبھی نہیں ہوا کرتے اور صرف دعائیں اور درود پڑھا جاتا ہے تو آپ اپنے علما سے پوچھیے کہ یہ بتائیے کہ کیا انبیا کے جنازے ہوتے ہیں اگر ہوتے ہیں تو بتائیے کہ کاریہ وقت کون تھا کس نے جو ہے رسول اللہ کا جنازہ پڑھایا جبکہ ان کی جو ہے وہ جست خاکی کو تو تین دن تک جو ہے وہ دفنانے ہی نہیں دیا گیا آج کی گرمی میں جہاں آپ اور میں رہتے ہیں اگر ہمارے باپ دادا یا کوئی بڑا بزرگ مر جائے تو جست خاکی کو ایک دن رکھنا مہال ہو جاتا ہے وہاں رسول اللہ کا انتظار کیا گیا تین دن تک اور اس کے بعد جب کوئی حرکت نہ ہوئی تو اس کے بعد تدفین ہوئی تدفین کا واقعہ بھی بڑا حیرت انگیز ہے مگر آپ یہ حوالہ لے لیجیے اور ساتھ ساتھ میں آپ کو سقیفہ کے مقام پر بھی لے کے جاتا ہوں جہاں خلیفہ اپنی خلافت کے لیے لڑ رہے تھے اور مولا علی رسول اللہ ﷺ کے جسم خاک کے پاس تھے اور غم میں اتنے نڈھال تھے کہ انہیں اس بات سے اور کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کون خلیفہ اول بنے اور کون خلیفہ دوم اور کون سوم اور کون چوتھا خلیفہ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ بے شک ان سے ان کا ایک ولی چھین لیا گیا ہے ان سے ان کا مولا چھین لیا ہے ان سے ان کا چاہنے والا چھین لیا ہے ان سے ان کا استاد چھین لیا ہے ان سے ان کا جو ہے وہ تربیت دینے والا چھین لیا ہے
Sahih al-Bukhari
حدیث: 3667 (بعض طبعات میں 4454 یا قریب کی نمبرنگ)
اس میں حضرت عمرؓ کا یہ کہنا مذکور ہے کہ:
"اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے، بلکہ اپنے رب کے پاس گئے ہیں، جیسے موسیٰ علیہ السلام گئے تھے، اور وہ واپس آئیں گے۔"
اور پھر جب تین دن گزر گئے تو ابوبکر نے کیا کہا اور جو خطبہ دیا وہ کون سی آیتیں پڑھیں وہ میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں مگر ساتھ ہی ساتھ آپ کو لے کے چلتا ہوں کہ میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا ابوبکر وہاں موجود ہی نہیں تھے اور اس کے بعد جو ہے وہ ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر پہ بوسہ دیا اور وہاں موجود رہے کہ اتنی ہی دیر میں سقیفہ کے مقام سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ سقیفہ کے مقام پر جو ہے مہاجرین و انصار آپس میں لڑ رہے ہیں ایک شخص کہہ رہا ہے میں خلیفہ بنوں گا اور دوسرا شخص کہہ رہا ہے میں خلیفہ بنوں گا مہاجرین اپنی بڑائیاں بیان کرنے لگے اور انصار اپنی بڑائیاں بیان کرنے لگے مگر یہاں میں ایک بات سوچتا ہوں کہ اگر کوئی اللہ کا رسول، کوئی اللہ کا بھیجا ہوا بندہ کسی جگہ پہ جسد خاکی میں پڑا ہے تو لوگ کیوں یہ نہیں دیکھ رہے کہ خدا نے ان سے وہ چھین لیا جو انہیں حق پہنچانے آیا تھا لوگ یہ کیوں نہیں سوچ رہے کہ واقعی کوئی ان سے ان کا اپنا چلا گیا ہے لوگ کیوں نہیں سوچ رہے کہ ان کا ایک معلم انہیں چھوڑ کے چلا گیا ہے مگر وہ اپنی خلافت کے دعویدار ہونے لگے ہیں مجھے لگتا ہے کہ سلطنت میں آنے والی زکات اور مال غنیمت اور لونڈیاں بہت سی باتیں چیخ چیخ کر بتا رہی تھیں کہ درحقیقت لالچ کسی خدا، کسی دین، کسی نبی کی نہیں تھی درحقیقت لالچ کچھ لونڈیاں، کچھ پیسے، کچھ زکات اور مال و دولت اور اشرفیوں کی تھی چلیں آگے چل کے میں آپ کو حوالہ دے دیتا ہوں
عربی
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ:
لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ:
وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ، فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ زَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَاتَ.
فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:
أَمَّا بَعْدُ، مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا ﷺ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ.
ثُمَّ تَلَا:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ﴾ [آل عمران: 144]
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت عمر بن خطابؓ کھڑے ہوئے اور کہا:
"اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ضرور انہیں دوبارہ ظاہر فرمائے گا، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے۔"
پھر حضرت ابوبکرؓ آئے، رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا، آپ کو بوسہ دیا، پھر باہر نکل کر فرمایا:
"جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، اسے معلوم ہو کہ محمد ﷺ وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔"
پھر انہوں نے سورۂ آل عمران کی آیت 144 تلاوت کی:
"محمد تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟
3667 sahi bukhari
مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے عروہ بن زبیرنے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ اس وقت مقام سنح میں تھے ، اسماعیل نے کہا یعنی عوالی کے ایک گاؤں میں ۔ آپ کی خبر سن کر حضرت عمر اٹھ کریہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے اللہ کی قسم اس وقت میرے دل میں یہی خیال آتا تھا اور میں کہتاتھا کہ اللہ آپ کو ضرور اس بیماری سے اچھا کر کے اٹھائے گا اور آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے ( جو آپ کی موت کی باتیں کرتے ہیں ) اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اندر جا کر آپ کی نعش مبارک کے اوپر سے کپڑا اٹھایا اور بوسہ دیا اور کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔ آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد آپ باہر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے اے قسم کھانے والے ! ذرا تامل کر ۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ گئے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ۔ پھر فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پوجتا تھا ( یعنی یہ سمجھتا تھا کہ وہ آدمی نہیں ہیں ، وہ کبھی نہیں مریں گے ) تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی ۔ ( پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سورۃ الزمر کی یہ آیت پڑھی ) ” اے پیغبر ! توبھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے ” اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہیں ۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکرگزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے ” راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر لوگ پھوٹ پھوٹ کررونے لگے ۔ راوی نے بیان کیا کہ انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم ( مہاجرین ) میں سے ہو گا ( دونوں مل کر حکومت کریں گے ) پھر ابوبکر ، عمر بن خطاب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ان کی مجلس میں پہنچے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنی چاہی لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے خاموش رہنے کے لیے کہا ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم میں نے ایسا صرف اس وجہ سے کیا تھا کہ میں نے پہلے ہی سے ایک تقریر تیار کر لی تھی جو مجھے بہت پسند آئی تھی پھر بھی مجھے ڈرتھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی برابری اس سے بھی نہیں ہو سکے گی ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انتہائی بلاغت کے ساتھ بات شروع کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم ( قریش ) امراء ہیں اور تم ( جماعت انصار ) وزارء ہو ۔ اس پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ بولے کہ نہیں اللہ کی قسم ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ، ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں ہم امراء ہیں تم وزارء ہو ( وجہ یہ ہے کہ ) قریش کے لوگ سارے عرب میں شریف خاندان شمار کیے جاتے ہیں اور ان کاملک ( یعنی مکہ ) عرب کے بیچ میں ہے تو اب تم کو اختیار ہے یا تو عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لو یا ابوعبیدہ بن جراح کی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ہم آپ کی ہی بیعت کریں گے ۔ آپ ہمارے سردار ہیں ، ہم میں سب سے بہتر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی پھر سب لوگوں نے بیعت کی ۔ اتنے میں کسی کی آواز آئی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو تم لوگوں نے مارڈالا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : انہیں اللہ نے مارڈالا ۔
Sahi al bukhari 1241
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا کہ مجھے معمر بن راشد اور یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ( جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے ۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے ( جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ ( یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر ) سے ڈھانک دیا گیا تھا ۔ پھر آپ نے حضور کا چہرہ مبارک کھولا اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے ۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا ۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے ۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ ۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا ۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ۔ آپ نے فرمایا امابعد ! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والا ہے ۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں ۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے ” اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں ” «الشاكرين» تک ( آپ نے آیت تلاوت کی ) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے ۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی
Sahi bukhari 6830
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں کئی مہاجرین کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے ۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ( سنہ 23 ھ ) ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا ۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں صلاح صاحب طلحہ بن عبیداللہ سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بغیر سوچے سمجھے بیعت تو اچانک ہو گئی اور پھر وہ مکمل ہو گئی تھی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت غصہ ہوئے اور کہا میں انشاءاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو زبردستی سے دخل درمعقولات کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین ایسا نہ کیجئے ۔ حج کے موسم میں کم سمجھی اور برے بھلے ہر ہی قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لئے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے ، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے ، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے ۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے ، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اچھا اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے ۔ جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے ( مسجدنبوی ) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکلے ، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی ۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا امابعد ! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا ، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو ۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچادے جہاںتک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی ، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا ، ان میں آیت رجم بھی تھی ۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ( اپنے زمانہ میں ) رجم کرایا ۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کربیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا ۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو ۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یاحمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو ۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو ۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھاکر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھاکر تعریفیں کی گئیں ( ان کو اللہ کو بیٹا بنا دیا گیا ) بلکہ ( میرے لیے صرف یہ کہو کہ ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمرکا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی ، خدا ترس ہو ۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں ۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوادیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے ۔ اسی طرح علی اور زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تھے ۔ اس وقت میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابوبکر ! ہمیں اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس لے چلئے ۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے ۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری انہیں کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ ( سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں ) اور انہوں نے پوچھا ۔ حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں ۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے ۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب ( سردار خزرج ) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے ۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی ۔ پھر کہا امابعد ! ہم اللہ کے دین کے مددگار ( انصار ) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین ! کم تعداد میں ہو ۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم قریش سے نکل کر ہم لوگوں میں آ رہے ہو ۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا ۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا ۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی ۔ میری بڑی خواہش تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنی چاہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا ۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور خدا کی قسم وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے ۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی ۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر پھر وہ خاموش ہو گئے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزا وار ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو ۔ ابوبکرنے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے ، ان ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات مجھ سے میرے سوا ہوئی ۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بےگناہ میری گردن ماردی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ خود موجود ہوں ۔ میرا اب تک یہی خیال ہے یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکادے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرنا ۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذریوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے ۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں ( دونوں مل کر کام کریں ) ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا ۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا ۔ میں ڈرگیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی ( چلو جھگڑا تمام ہوا جو منظور الٰہی تھا وہی ظاہر ہوا ) اس کے بعد ہم حضرت سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے ( انہوں نے بیعت نہیں کی ) ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا بھائیو ! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے خون کر ڈالا ۔ میں نے کہا اللہ اس کا خون کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کربیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا ( پھوٹ پڑجاتی ) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے ، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے ، نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں اپنی جان گنوائیں گے ۔
آپ نے پچھلے جتنے بھی ریفرنسز دیکھے، آپ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ درحقیقت ہو کیا رہا تھا۔ جی ہاں، پھر اس کے بعد خلیفہ اول کی جو ہے خلافت سنبھالنے کا واقعہ، یہاں تک کہ سب سے پہلے عمر نے کہا کہ میں خلیفہ بنوں گا، اس پر جو ہے مہاجرین و انصار آپس میں جھگڑتے جھگڑتے حضرت عمر پر بولے کہ تم کیسے خلیفہ بن سکتے ہو؟ تم تو اونٹ چرانے والے ہو اور تم نے قدرے بعد میں اسلام قبول کیا، ہم تم سے پہلے جو ہے وہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ یہ واقعہ آپ جانتے ہیں اس میں حضرت عمر نے حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کی اور بولا میں حضرت ابو بکر کو اپنا خلیفہ مانتا ہوں۔ یہ تمام باتیں اس طرح ہوئیں کہ جیسے کوئی آندھی طوفان آئی ہو اور یکے بعد دیگرے بیس سے پچیس لوگوں نے جو ہے وہ حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس کے بعد ایک ہوا سی پھیل گئی اور یہاں تک ہوا پھیل گئی کہ لوگوں نے کہا کہ پہلے خلیفہ جو ہیں وہ حضرت ابو بکر ہو گئے اور لوگ اتنی زیادہ تعلیم نہیں رکھتے تھے، زیادہ تر لوگ ان پڑھ تھے اور انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اپنے کسی بڑے سردار کی وفات کے بعد اپنے قبیلے کو کس طرح آگے لے کے چلنا ہے۔ جو دین آج دو ارب دلوں میں دھڑک رہا ہے اس دین کا کوئی اس ٹائم پر بنیاد میسر نہیں تھی، تو اس طرح خلیفہ اول ابو بکر صدیق بنے جبکہ اس کے بعد کچھ لوگ مولا علی کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ یا مولا آپ جانتے ہیں ابو بکر کو خلیفہ بنا دیا ہے جبکہ آپ کو رسول اللہ نے اپنی نسبت ہارون کی طرح دی تھی، یہاں پر آپ کو غدیر خم کے موقع پر آپ کو اپنا خلیفہ بنایا تھا اور ایک اور روایت میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور اپنے اہل و عیال کا حضرت علی کو رکھوالا بنا کر بھیجا تھا، میں وہ تمام احادیث بھی لگا دیتا ہوں تاکہ آپ ان کا مطالعہ کر کے اندازہ لگا لیجیے کہ درحقیقت مولا علی ہی خلیفہ اول تھے، ابھی تو اصل کہانی شروع ہوئی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بند ہو چکی ہیں
1) حدیثِ غدیر: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»
(الف) Jami' al-Tirmidhi
حدیث نمبر: 3713
راوی: Zayd ibn Arqam
مشہور الفاظ:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
یہ حدیث اردو ترجمے کے ساتھ درج ذیل ہے:
عربی متن:
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه قَالَ:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا، فَقَالَ: أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ؟ فَقَالَ: أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي.
اردو ترجمہ:
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ روایت کرتے ہیں کہ:
رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک کے لیے روانہ ہوئے اور حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا: "کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے درمیان چھوڑ کر جا رہے ہیں؟"
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام ہو جو ہارونؑ کا موسیٰؑ سے تھا؟ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔"
حوالہ:
(ب) Sahih Muslim
- حدیث نمبر: 2404
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت Ali ibn Abi Talib سے فرمایا:
أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
ترجمہ:
"کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام ہو جو ہارونؑ کا موسیٰؑ کے ساتھ تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"
کیا آپ کو اب بھی لگتا ہے خلیفہ واحد جو ہے وہ حضرت ابوبکر تھے مجھے لگتا ہے کہ اتنے دلائل کافی ہیں مگر رسول اللہ کی آنکھیں بند ہونے کے بعد اصل میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح بنو امیہ آگے چل کر رنگ دکھائے گا چلیں میں بی بی فاطمت الزہرا کے بارے میں بھی بتاتا ہوں اور باغِ فدک کیا ہے آپ کو اس کے بارے میں بھی بتا دیتا ہوں آپ باغِ فدک کو سوچتے ہوں گے عرب کا صحراء اور عرب کی زمین تپتپاتی ریت میں باغ کا کیا کام تو چلیں ہم پہلے جان لیتے ہیں کہ باغِ فدک اصل میں ہے کیا
اسلامی تاریخ میں بعض مقامات ایسے ہیں جن کا ذکر صرف زمین یا جائیداد کے طور پر نہیں کیا جاتا بلکہ وہ بعد کے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی اختلافات میں بھی اہم حیثیت اختیار کر گئے۔ انہی میں سے ایک مقام باغِ فدک ہے۔ اس کے بارے میں مختلف تاریخی اور مذہبی مکاتبِ فکر نے مختلف انداز سے واقعات نقل کیے ہیں۔ ذیل میں اس کی تاریخی کہانی نسبتاً غیر جانب دار انداز میں بیان کی جا رہی ہے۔
ایک سرسبز و شاداب بستی
مدینہ منورہ سے تقریباً 140 سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سرسبز علاقہ تھا جسے فدک کہا جاتا تھا۔ وہاں کھجوروں کے وسیع باغات، کنویں، زرعی زمینیں اور آباد بستیاں تھیں۔ اس علاقے میں زیادہ تر یہودی قبائل آباد تھے، جو تجارت اور زراعت میں مشہور تھے۔
فدک کی زمین انتہائی زرخیز تھی۔ یہاں کی کھجوریں دور دور تک فروخت ہوتی تھیں اور سالانہ اچھی خاصی آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے فدک اقتصادی اعتبار سے ایک قیمتی علاقہ سمجھا جاتا تھا۔
خیبر کی فتح اور فدک
سات ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی طرف پیش قدمی کی۔ خیبر کے کئی مضبوط قلعے مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔ خیبر کی فتح کی خبر جب فدک کے یہودیوں تک پہنچی تو انہوں نے محسوس کیا کہ اگر وہ جنگ کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو خیبر کے قلعوں کا ہوا۔
اسی لیے انہوں نے جنگ کے بجائے صلح کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ لڑائی کے بغیر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق فدک کی زمین اور اس کی آمدنی کا ایک حصہ مسلمانوں کے اختیار میں آ گیا۔
چونکہ یہ علاقہ جنگ کے بغیر حاصل ہوا تھا، اس لیے اسلامی قانون کے مطابق اسے فَے (Fay') کہا گیا۔
فَے کیا ہوتا ہے؟
اسلامی فقہ میں مال دو طرح سے حاصل ہوتا ہے۔
پہلا وہ جو جنگ کے بعد حاصل ہو، اسے غنیمت کہتے ہیں۔
دوسرا وہ جو بغیر جنگ کے صلح کے ذریعے حاصل ہو، اسے فَے کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید کی سورۂ حشر میں فَے کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔
اسی اصول کے مطابق فدک جنگ کے بغیر حاصل ہوا، اس لیے اس کے انتظام کا اختیار رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔
رسول اللہ ﷺ فدک کی آمدنی کہاں خرچ کرتے تھے؟
تاریخی روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ فدک کی آمدنی اپنی ذاتی عیش و آرام پر خرچ نہیں کرتے تھے۔
اس آمدنی سے:
مسافروں کی مدد کی جاتی۔
غریب اور محتاج مسلمانوں کی کفالت ہوتی۔
یتیموں کی مدد کی جاتی۔
بعض اوقات اہلِ بیت کی بنیادی ضروریات پوری کی جاتیں۔
جہاد اور اجتماعی مصالح پر خرچ کیا جاتا۔
رسول اللہ ﷺ کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات
11 ہجری میں رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا۔
آپ ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں کے سامنے کئی بڑے مسائل تھے۔
خلافت کا انتخاب
لشکروں کی تیاری
مختلف قبائل کی صورتحال
اور رسول اللہ ﷺ کے چھوڑے ہوئے اموال کا انتظام
انہی معاملات میں فدک کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔
حضرت فاطمہؓ کا مطالبہ
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ، جو اہلِ بیت میں سب سے نمایاں شخصیت تھیں، انہوں نے فدک کے بارے میں اپنا حق پیش کیا۔
یہاں سے تاریخی روایات دو مختلف انداز میں بیان ہوتی ہیں۔
پہلی روایت
بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت فاطمہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں فدک انہیں عطا کر دیا تھا۔
اس بنا پر انہوں نے کہا کہ یہ میری ملکیت ہے۔
دوسری روایت
دوسری روایات کے مطابق حضرت فاطمہؓ نے اسے بطور وراثت طلب کیا۔
یعنی چونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی تھیں، اس لیے انہیں وراثت میں حصہ ملنا چاہیے۔
مختلف تاریخی کتابوں میں ان دونوں طرح کی روایات موجود ہیں۔
حضرت ابوبکرؓ کا جواب
خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے:
"ہم انبیاء کی جماعت وراثت نہیں چھوڑتی، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔"
اس حدیث کی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ نے فدک کو سرکاری بیت المال کے تحت برقرار رکھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس مال کو مسلمانوں کے مفاد میں استعمال کیا، اس لیے وفات کے بعد بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
حضرت فاطمہؓ کا مؤقف
بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت فاطمہؓ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔
انہوں نے اپنا حق پیش کیا اور دلائل دیے۔
کئی تاریخی کتابوں میں ان کے خطبے کا بھی ذکر ملتا ہے جسے "خطبۂ فدکیہ" کہا جاتا ہے۔
اس خطبے میں انہوں نے قرآن، وراثت اور اپنے حق کے بارے میں گفتگو کی۔
بعد کے ادوار
حضرت عمرؓ کے دور میں بھی فدک بیت المال کے انتظام میں رہا۔
حضرت عثمانؓ کے دور میں بھی اس کی نگرانی مختلف طریقوں سے جاری رہی۔
حضرت علیؓ جب خلیفہ بنے تو تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے بھی فدک کو سرکاری انتظام ہی میں رہنے دیا، اگرچہ اس بارے میں مؤرخین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
بنو امیہ کا دور
بنو امیہ کے زمانے میں فدک کئی مرتبہ مختلف افراد کے حوالے کیا گیا۔
کبھی حکمرانوں نے اسے اہلِ بیت کو واپس کیا۔
کبھی دوبارہ سرکاری تحویل میں لے لیا۔
اس طرح فدک ایک سیاسی مسئلہ بھی بنتا گیا۔
عمر بن عبدالعزیز
خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں متعدد تاریخی روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے فدک اہلِ بیت کو واپس کر دیا تھا۔
بعد میں آنے والے بعض حکمرانوں نے دوبارہ وہ فیصلہ تبدیل کر دیا۔
عباسی دور
عباسی خلفاء کے زمانے میں بھی فدک کئی مرتبہ اہلِ بیت اور حکومت کے درمیان منتقل ہوتا رہا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک صرف ایک باغ نہیں رہا بلکہ ایک علامتی مسئلہ بھی بن گیا تھا۔
شیعہ اور سنی نقطۂ نظر
اہلِ سنت
اہلِ سنت کی بڑی تعداد کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ نے وہی فیصلہ کیا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی بنیاد پر درست سمجھا۔
ان کے نزدیک یہ ذاتی اختلاف نہیں بلکہ شرعی اجتہاد تھا۔
شیعہ نقطۂ نظر
شیعہ علماء کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک فدک حضرت فاطمہؑ کی ملکیت تھا اور انہیں واپس ملنا چاہیے تھا۔
وہ اس معاملے کو اہلِ بیت کے حقوق سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
کیا یہ صرف ایک باغ تھا؟
بظاہر فدک ایک باغ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ مختلف طبقات کے نزدیک مختلف معانی اختیار کرتا گیا۔
کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ایک قانونی مسئلہ تھا۔
کچھ کے نزدیک وراثت کا مسئلہ تھا۔
کچھ کے نزدیک اہلِ بیت کے حقوق کی علامت بن گیا۔
اور کچھ کے نزدیک خلافت کے ابتدائی فیصلوں کی ایک مثال تھا۔
جہاں ابوبکر نے بڑے بڑے کارنامے کیے وہاں ایک کارنامہ بی بی فاطمہ الزہرا سے باغ فدک کا چھیننا بھی تھا جی ہاں بی بی فاطمہ الزہرا اس پر بہت زیادہ غمگین رہیں رنجیدہ رہیں اور یہاں تک کہ اپنی وفات تک بھی حضرت ابوبکر سے بات نہ کی چلے آئیے یہ خطبہ بی بی فاطمہ الزہرا ہے جو آپ کے سامنے پیش کروں گا یہ آپ کو ملنا سننے کتابوں سے کافی مشکل ہے انہوں نے اس خطبے کو چھپایا اور یہاں تک کہ آپ کو درحقیقت دین کیا ہے یہ نہ پتہ چلے یہ باتیں بھی چھپائیں مگر میرا مقصد آپ کو ایز اے ریسرچسٹ سب باتیں سچ سچ بتانا ہے ایک ایک چیز حوالے کے ساتھ سمجھانا ہے تاکہ آپ اسے کھولیں دیکھیں اور اندازہ کریں درحقیقت دین تھا کیا اور ہمیں کیا ملا اور ہم نے کیا پڑھا اور ہم نے کیا پایا وہ باتیں جو مولوی بتانے سے ڈرتے ہیں میں اپنی جان اپنی پقا اپنی سانسیں دائو پہ لگا کے آپ کو بتا رہا ہوں
1. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 3093 (بعض نسخوں میں 4035 یا 6725)
عربی
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ ﷺ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ... فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ.
اردو
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے رسول اللہ ﷺ کی میراث (جس میں فدک بھی شامل تھا) کا مطالبہ کیا، تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:
"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔"
2. Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 3093
عربی
فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ.
اردو
پھر حضرت فاطمہؓ اس معاملے میں حضرت ابوبکرؓ سے ناراض ہوئیں اور اپنی وفات تک ان سے گفتگو نہ کی۔
3. Sahih Muslim
حدیث نمبر: 1759
عربی
إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ.
اردو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہم انبیاء کی جماعت وراثت نہیں چھوڑتی، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے۔"
4. Sahih Muslim
حدیث نمبر: 1759
عربی
فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا.
اردو
حضرت ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ کو اس مال (فدک اور دیگر اموال) میں سے بطورِ وراثت کچھ بھی دینے سے انکار کیا، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر عمل کر رہے تھے۔
5. Sunan Abi Dawud
حدیث نمبر: 2968
عربی
لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ.
اردو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہم وراثت نہیں چھوڑتے، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے۔"
6. Musnad Ahmad ibn Hanbal
حدیث نمبر: 79 (مسند ابی بکرؓ؛ مختلف طبعات میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
عربی
إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ.
اردو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے۔"
میں نے ایک حدیث دی ہے تین ہزار ترانوے اس حدیث میں بی بی فاطمہ الزہرا ابو بکر سے ناراض رہیں اب یہ کون ناراض ہے یہ رسول اللہ کی بیٹی ناراض ہے اگر آپ مانتے ہیں کہ جنت کے شہزادے امام حسن اور حسین ہیں تو پھر ان کی والدہ کا درجہ آپ خود جانتے ہوں گے تو پھر کیا کوئی شخص ابھی بھی اشrae mubashra میں ہو سے ہو سکتا ہے کیا کوئی جنت کا حق دار ہو سکتا ہے کہ اگر رسول کی بیٹی یعنی کہ جنت کی شہزادی ہی آپ سے ناراض ہو جائے تو کیا آپ واقعی مسلمان بھی رہتے ہیں آپ اسے گستاخی نہ سمجھیے اسے موت بنا ایک سوال سمجھیے جو کہ آپ کیا کبھی اس طرح سوچ سکتے ہیں میرا مقصد یہاں پر صرف اور صرف یہ جاننا ہے کہ جو باتیں مجھے سوچ سوچ کر تنگ کرتی رہیں میری راتوں کی نیند اڑاتی رہیں کیا کبھی آپ نے بھی سوچا ہے کہ بی بی فاطمہ الزہرا تو درحقیقت اپنی وفات تک کبھی ابو بکر کے ساتھ راضی ہی نہیں تھیں یہ سوچئے کہ اگر آپ کی والدہ آپ سے راضی نہ ہوں اور آپ کو موت آ جائے یا آپ کی والدہ کو موت آ جائے تو سوچیں کہ بھروسے محشر آپ کا کیا ہوگا حقوق اللہ تو کہتے ہیں معاف کر دیے جائیں گے مگر حقوق العباد کبھی نہیں چھوڑے جائیں گے تو کیا آپ کو لگتا ہے بی بی فاطمہ الزہرا انہیں معاف کر دیں گی تو چلیں آئیں بی بی فاطمہ الزہرا کا وہ جلالی خطبہ پڑھتے ہیں جو کہ آپ سے چھپایا گیا جو کہ آپ کو بتا دے گا کہ واقعی یہ کسی شہزادی کا خطبہ ہے یہ وہ خطبہ ہے جسے پڑھتے ہی آپ کے رونٹے کھڑے ہو جائیں گے دل دھڑکنے لگے گا اور آپ اس جگہ پہ موجود ہر شخص کے دل کی آواز سمجھ رہے ہوں گے کہ بے شک بی بی کے ساتھ بڑا ظلم ہوا بڑا ظلم ہوا کہ رسول اللہ کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ اپنے اپنے کاموں پر ڈٹ گئے اور بنو امیہ نے کیا کیا کیا یہ میں سب کچھ کھول کھول کے بتاؤں گا
حضرت فاطمہ زہراؑ کا خطبۂ فدک (ابتدائی حصہ)
ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن حسن اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ:
جب حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے حضرت فاطمہؑ کو فدک نہ دینے کا فیصلہ کیا اور یہ خبر حضرت فاطمہؑ تک پہنچی، تو آپ نے اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھا، اپنی چادر اچھی طرح لپیٹی، اور اپنے خاندان کی خواتین اور چند قریبی افراد کے ساتھ مسجد نبوی کی طرف روانہ ہوئیں۔
آپ کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال سے اس قدر مشابہ تھی کہ اس میں ذرا بھی فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔
جب آپ مسجد میں داخل ہوئیں تو حضرت ابوبکر مہاجرین، انصار اور دوسرے لوگوں کے مجمع میں موجود تھے۔
آپ کے لیے ایک پردہ لٹکا دیا گیا۔ حضرت فاطمہؑ پردے کے پیچھے تشریف فرما ہو گئیں۔
پھر آپ نے اس قدر درد بھرے انداز میں آہ و زاری کی کہ حاضرینِ مجلس بے اختیار رونے لگے اور پوری مجلس غم اور سکوت میں ڈوب گئی۔
حضرت فاطمہؑ نے کچھ دیر انتظار فرمایا، یہاں تک کہ لوگوں کا رونا کم ہو گیا اور مجلس پر سکون طاری ہو گیا۔
اس کے بعد آپ نے گفتگو کا آغاز کیا۔
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجا۔
آپ کے یہ الفاظ سن کر حاضرین دوبارہ رونے لگے۔
جب وہ خاموش ہوئے تو حضرت فاطمہؑ نے دوبارہ اپنا خطبہ جاری رکھا اور فرمایا:
حضرت فاطمہ زہراؑ نے فرمایا:
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اپنی بے شمار نعمتوں سے ہمیں نوازا۔ اسی کے لیے شکر ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت اور الہام عطا فرمایا۔ ہم اس کی ان عظیم نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں جو اس نے ابتدا ہی سے اپنے بندوں پر نازل فرمائیں، اپنی وسیع رحمتیں عطا کیں اور اپنی مکمل عنایتوں سے نوازا۔
اس کی نعمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں، ان کا حق ادا کرنا انسان کی طاقت سے باہر ہے، اور ان کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنا بھی ممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں تاکہ اس کی نعمتوں میں مزید اضافہ ہو۔ اس نے اپنی بے شمار عطاؤں کی وجہ سے اپنی حمد و ثنا کو اپنے بندوں پر لازم کیا اور انہیں مزید نیکیوں کی ترغیب دی۔
میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی حقیقت اخلاص ہے، جسے اللہ نے دلوں میں راسخ کیا اور عقل و فکر کے ذریعے اس کی معرفت کو روشن فرمایا۔
وہ ذات ایسی ہے کہ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں، زبانیں اس کی حقیقت بیان نہیں کر سکتیں اور انسانی وہم و گمان اس کی کیفیت تک نہیں پہنچ سکتے۔
اسی نے تمام مخلوقات کو بغیر کسی پہلے نمونے کے پیدا کیا، بغیر کسی سابق مثال کے انہیں وجود بخشا۔ اس نے اپنی قدرت سے انہیں پیدا کیا اور اپنی مشیت سے وجود عطا فرمایا، نہ اسے ان کی تخلیق کی کوئی ضرورت تھی اور نہ ان کے پیدا کرنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہونا تھا۔
بلکہ اس نے انہیں اس لیے پیدا کیا تاکہ اپنی حکمت کو ظاہر کرے، اپنی اطاعت کی طرف رہنمائی کرے، اپنی قدرت کا اظہار کرے، اپنی مخلوق کو اپنی عبادت کی دعوت دے اور اپنے دین کو عزت و سربلندی عطا فرمائے۔
پھر اس نے اپنی اطاعت کرنے والوں کے لیے ثواب مقرر فرمایا اور نافرمانی کرنے والوں کے لیے سزا رکھی، تاکہ لوگ اس کے عذاب سے بچیں اور اس کی جنت کے مستحق بنیں۔
اور میں گواہی دیتی ہوں کہ میرے والد محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بھیجنے سے پہلے منتخب فرمایا، پیدا کرنے سے پہلے ان کا نام مقرر فرمایا، نبوت عطا کرنے سے پہلے انہیں چن لیا، جبکہ اس وقت تمام مخلوقات علمِ الٰہی میں پوشیدہ تھیں، غیب کے پردوں میں مستور تھیں اور عدم کی حالت میں تھیں۔
اللہ تعالیٰ کو تمام امور کے انجام کا علم تھا، زمانے کے تمام حالات اس کے سامنے تھے اور ہر چیز کے وقوع کا اسے مکمل ادراک تھا۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ اپنے حکم کو مکمل کرے، اپنے فیصلے نافذ کرے اور اپنی رحمت کو بندوں تک پہنچائے۔
اس وقت لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے تھے، کوئی آگ کی عبادت کرتا تھا، کوئی بتوں کو پوجتا تھا اور بہت سے لوگ اللہ کو جاننے کے باوجود اس کا انکار کرتے تھے۔
تب اللہ تعالیٰ نے میرے والد حضرت محمد ﷺ کے ذریعے تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیا، دلوں سے جہالت کے پردے ہٹا دیے، آنکھوں سے غفلت کا اندھیرا دور کر دیا، لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی، انہیں گمراہی سے نجات دی، نابینائی سے بصیرت عطا کی، سیدھے دین کی طرف رہنمائی کی اور انہیں صراطِ مستقیم کی دعوت دی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنی رحمت، اپنی رضا اور اپنے اختیار کے ساتھ اپنے پاس بلا لیا۔
اب محمد ﷺ دنیا کی تمام مشقتوں سے آزاد ہو کر اللہ کی رحمت میں ہیں، نیک فرشتوں کے درمیان ہیں، اپنے بخشنے والے رب کی رضا میں ہیں اور بادشاہِ حقیقی کے قرب میں ہیں۔
حضرت فاطمہ زہراؑ نے پھر اہلِ مجلس کی طرف رخ کر کے فرمایا:
اے اللہ کے بندو!
تم اللہ کے احکام اور اس کی ممانعتوں کے ذمہ دار ہو، اس کے دین اور اس کی وحی کے امین ہو۔ تم اپنے نفسوں پر اللہ کی امانت کے محافظ ہو اور اس کے پیغام کو دوسری امتوں تک پہنچانے والے ہو۔
اللہ کا ایک حق تم پر لازم ہے، اس نے تم سے ایک عہد لیا ہے، اور تمہارے درمیان ایک ایسی امانت چھوڑ دی ہے جسے اس نے تمہاری ذمہ داری بنایا ہے، اور وہ اللہ کی کتاب، قرآنِ مجید ہے۔
یہ وہ کتاب ہے جو حق بولنے والی ہے، سچی ہے، روشن نور ہے، چمکتا ہوا چراغ ہے۔ اس کے دلائل واضح ہیں، اس کے باطنی حقائق آشکار ہیں، اس کے ظاہری احکام روشن ہیں، اس کے پیروکار اس پر فخر کرتے ہیں، اس کی پیروی اللہ کی رضا تک پہنچاتی ہے اور اس کی باتوں کو غور سے سننا نجات کا ذریعہ ہے۔
اسی قرآن کے ذریعے اللہ کے روشن دلائل، اس کے واضح احکام، اس کی حرام کی ہوئی چیزیں، اس کی کھلی نشانیاں، اس کی مضبوط حجتیں، اس کی پسندیدہ فضیلتیں، اس کی عطا کی ہوئی رخصتیں اور اس کے مقرر کردہ قوانین معلوم ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لیے شرک سے پاکیزگی کا ذریعہ بنایا۔
نماز کو تکبر سے پاک ہونے کا وسیلہ بنایا۔
زکوٰۃ کو نفس کی پاکیزگی اور رزق میں برکت کا سبب بنایا۔
روزہ کو اخلاص کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
حج کو دین کی مضبوطی اور استحکام کا سبب بنایا۔
عدل و انصاف کو دلوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا۔
ہماری اطاعت کو امت کے نظام کی بنیاد قرار دیا۔
ہماری امامت کو امت کے اختلاف سے حفاظت کا ذریعہ بنایا۔
جہاد کو اسلام کی عزت و سربلندی کا سبب بنایا۔
صبر کو اجر و ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔
امر بالمعروف کو معاشرے کی اصلاح کا وسیلہ بنایا۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو اللہ کی ناراضی سے بچنے کا سبب بنایا۔
صلۂ رحمی کو عمر میں برکت اور نسل میں اضافہ کا ذریعہ بنایا۔
قصاص کو انسانی جانوں کے تحفظ کا سبب بنایا۔
نذر پوری کرنا مغفرت کے حصول کا ذریعہ بنایا۔
ناپ تول میں انصاف کو لوگوں کے حقوق کی حفاظت کا ذریعہ بنایا۔
شراب سے منع فرمایا تاکہ انسان ہر قسم کی نجاست اور برائی سے محفوظ رہے۔
پاک دامن لوگوں پر تہمت لگانے سے روکا تاکہ انسان اللہ کی لعنت سے محفوظ رہے۔
چوری کو حرام قرار دیا تاکہ معاشرے میں پاکدامنی اور امانت داری قائم رہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے شرک کو حرام قرار دیا تاکہ بندگی صرف اسی ایک رب کے لیے خالص رہے۔
لہٰذا اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اس کے ہر حکم پر عمل کرو اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچو۔
بے شک اللہ سے حقیقی طور پر وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔
پھر حضرت فاطمہ زہراؑ نے فرمایا:
اے لوگو! جان لو کہ میں فاطمہ ہوں، اور میرے والد محمد ﷺ ہیں۔
میں ابتدا سے انتہا تک صرف حق بات کہتی ہوں، نہ کبھی غلط بات کہتی ہوں اور نہ ہی حق سے ہٹ کر کوئی کام کرتی ہوں۔
پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
"یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بے حد خواہش مند ہیں اور ایمان والوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والے ہیں۔" (سورۃ التوبہ: 128)
پھر فرمایا:
اگر تم انہیں پہچانو اور ان کا مقام جانو تو معلوم ہوگا کہ وہ تمام عورتوں میں صرف میرے والد تھے، اور تمام مردوں میں صرف میرے چچا زاد بھائی (حضرت علیؑ) کے بھائی تھے، اور اس نسبت میں کوئی ان کا شریک نہیں۔
میرے والد محمد ﷺ نے اللہ کا پیغام پوری امانت داری کے ساتھ پہنچایا، لوگوں کو کھلے طور پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا، مشرکین کی گمراہی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ان کی طاقت کو توڑا، انہیں حق کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دی، بتوں کو پاش پاش کیا، باطل کے سرداروں کو شکست دی، یہاں تک کہ دشمنوں کی صفیں ٹوٹ گئیں اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
پھر تاریکی کی رات ختم ہوئی، حق کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا، دین کی آواز بلند ہوئی، شیطان کی صدائیں خاموش ہو گئیں، نفاق کی جڑیں کمزور پڑ گئیں، کفر اور اختلاف کی زنجیریں ٹوٹ گئیں، اور تم نے اخلاص کے کلمے کو قبول کر لیا۔
حالانکہ اس سے پہلے تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، دشمنوں کی نگاہ میں ایک معمولی لقمہ تھے، ہر طاقت ور تمہیں روند سکتا تھا۔ تم ذلت اور کمزوری کی زندگی گزار رہے تھے، خوف زدہ تھے کہ آس پاس کے لوگ تمہیں مٹا دیں گے۔
تب اللہ تعالیٰ نے میرے والد محمد ﷺ کے ذریعے تمہیں نجات عطا فرمائی، حالانکہ انہوں نے عرب کے سرکش لوگوں، اہلِ کتاب کے متعصب گروہوں اور ہر قسم کے دشمنوں کا سامنا کیا۔
جب بھی دشمن جنگ کی آگ بھڑکاتے، اللہ اسے بجھا دیتا۔ جب بھی شیطان کا کوئی لشکر سر اٹھاتا یا مشرکین کا کوئی خطرہ ظاہر ہوتا، رسول اللہ ﷺ اپنے بھائی حضرت علیؑ کو اس کے مقابلے کے لیے بھیجتے۔ حضرت علیؑ اس وقت تک واپس نہ آتے جب تک دشمن کو زیر نہ کر لیتے اور اپنی تلوار سے اس کی آگ ٹھنڈی نہ کر دیتے۔
وہ اللہ کی راہ میں مسلسل جدوجہد کرنے والے، اللہ کے حکم پر عمل کرنے والے، رسول اللہ ﷺ کے سب سے قریب، اللہ کے اولیاء کے سردار، مخلص، خیر خواہ، محنتی اور بے خوف انسان تھے۔ انہیں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہ تھا۔
جبکہ تم اس وقت آرام و آسائش میں زندگی گزار رہے تھے، امن میں تھے، حالات کا تماشہ دیکھتے تھے، ہمارے لیے مصیبتوں کے منتظر رہتے تھے، جنگ کے وقت پیچھے ہٹ جاتے تھے اور میدانِ جنگ سے فرار اختیار کرتے تھے۔
پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنے انبیاء کی منزل اور اپنے برگزیدہ بندوں کے مقام پر بلا لیا تو تمہارے درمیان نفاق ظاہر ہونے لگا، دین کا لباس پرانا ہونے لگا، گمراہ لوگوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، کمزور اور گمنام لوگ سر اٹھانے لگے، باطل کے علمبردار آگے بڑھ آئے، اور شیطان نے اپنا سر نکال کر تمہیں اپنی طرف بلایا، تو اس نے تمہیں اپنی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار پایا۔
اس نے تمہیں ابھارا تو تم فوراً اس کے پیچھے چل پڑے، اس نے تمہیں غصہ دلایا تو تم غضب ناک ہو گئے، پھر تم نے دوسروں کے اونٹوں پر اپنی مہر لگائی، دوسروں کے چشمے پر قبضہ کر لیا، حالانکہ ابھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، زخم تازہ تھے اور آپ ﷺ ابھی دفن بھی نہیں ہوئے تھے۔
تم نے یہ عذر پیش کیا کہ "ہم فتنہ سے ڈرتے ہیں۔"
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"خبردار! وہ خود فتنہ میں گر چکے ہیں، اور یقیناً جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔"
پھر فرمایا:
تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟ تم حق سے کیوں پھر رہے ہو؟ جبکہ اللہ کی کتاب تمہارے درمیان موجود ہے، اس کے احکام واضح ہیں، اس کی نشانیاں روشن ہیں، اس کے اوامر اور نواہی بالکل صاف ہیں، مگر تم نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا ہے۔
کیا تم قرآن سے بے رغبتی اختیار کرنا چاہتے ہو؟ یا اس کے علاوہ کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہتے ہو؟
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا، وہ ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔" (آل عمران: 85)
پھر تم نے تھوڑا ہی انتظار کیا تھا کہ حالات کچھ پرسکون ہوئے، لیکن تم نے دوبارہ فتنے کی آگ بھڑکانا شروع کر دی، شیطان کی آواز پر لبیک کہا، دین کے روشن چراغ بجھانے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو نظر انداز کرنے لگے۔
اور اب تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہمیں اپنے والد کی وراثت نہیں مل سکتی!
اے ابنِ ابی قحافہ!
کیا اللہ کی کتاب میں تم اپنے والد کے وارث بنو، مگر میں اپنے والد کی وارث نہ بنوں؟
بے شک تم نے ایک بہت بڑا اور عجیب دعویٰ کیا ہے۔
کیا تم نے جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا ہے؟
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے۔" (سورۃ النمل: 16)
"اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے ایسا وارث عطا فرما جو میرا اور آلِ > یعقوب کا وارث ہو۔" (سورۃ مریم: 5-6)
"اور رشتہ دار اللہ کی کتاب کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حق دار > ہیں۔" (سورۃ الانفال: 75)
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے..." (سورۃ > النساء: 11)
"جب تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور > قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا لازم کیا گیا ہے۔" (سورۃ > البقرہ: 180)
پھر فرمایا:
کیا تم یہ کہتے ہو کہ میرا اپنے والد کی میراث میں کوئی حق نہیں؟ کیا اللہ نے کوئی ایسی آیت صرف تمہارے لیے نازل کی ہے جس سے میرے والد کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہو؟ یا تم کہتے ہو کہ میں اور میرے والد ایک ہی دین پر نہیں تھے؟ یا تم خود کو میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی (حضرت علیؑ) سے بھی زیادہ قرآن کا عالم سمجھتے ہو؟
اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو یہ فدک تم ہی رکھ لو۔
لیکن یاد رکھو، قیامت کے دن تمہارا اور میرا سامنا ہوگا۔
اس دن اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہوگا، محمد ﷺ ہمارے گواہ ہوں گے، اور وعدے کا دن قیامت ہوگا۔
اس وقت باطل پر چلنے والے خسارے میں ہوں گے، اور اس دن کی ندامت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
ہر خبر کا ایک مقرر وقت ہے، اور بہت جلد تم جان لو گے کہ کس پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو اسے رسوا کر دے گا اور دائمی عذاب اس کا مقدر بن جائے گا۔
پھر حضرت فاطمہ زہراؑ نے فرمایا:
اے لوگو! جان لو کہ میں فاطمہ ہوں، اور میرے والد محمد ﷺ ہیں۔
میں ابتدا سے انتہا تک صرف حق بات کہتی ہوں، نہ کبھی غلط بات کہتی ہوں اور نہ ہی حق سے ہٹ کر کوئی کام کرتی ہوں۔
پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
"یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بے حد خواہش مند ہیں اور ایمان والوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والے ہیں۔" (سورۃ التوبہ: 128)
پھر فرمایا:
اگر تم انہیں پہچانو اور ان کا مقام جانو تو معلوم ہوگا کہ وہ تمام عورتوں میں صرف میرے والد تھے، اور تمام مردوں میں صرف میرے چچا زاد بھائی (حضرت علیؑ) کے بھائی تھے، اور اس نسبت میں کوئی ان کا شریک نہیں۔
میرے والد محمد ﷺ نے اللہ کا پیغام پوری امانت داری کے ساتھ پہنچایا، لوگوں کو کھلے طور پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا، مشرکین کی گمراہی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ان کی طاقت کو توڑا، انہیں حق کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دی، بتوں کو پاش پاش کیا، باطل کے سرداروں کو شکست دی، یہاں تک کہ دشمنوں کی صفیں ٹوٹ گئیں اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
پھر تاریکی کی رات ختم ہوئی، حق کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا، دین کی آواز بلند ہوئی، شیطان کی صدائیں خاموش ہو گئیں، نفاق کی جڑیں کمزور پڑ گئیں، کفر اور اختلاف کی زنجیریں ٹوٹ گئیں، اور تم نے اخلاص کے کلمے کو قبول کر لیا۔
حالانکہ اس سے پہلے تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، دشمنوں کی نگاہ میں ایک معمولی لقمہ تھے، ہر طاقت ور تمہیں روند سکتا تھا۔ تم ذلت اور کمزوری کی زندگی گزار رہے تھے، خوف زدہ تھے کہ آس پاس کے لوگ تمہیں مٹا دیں گے۔
تب اللہ تعالیٰ نے میرے والد محمد ﷺ کے ذریعے تمہیں نجات عطا فرمائی، حالانکہ انہوں نے عرب کے سرکش لوگوں، اہلِ کتاب کے متعصب گروہوں اور ہر قسم کے دشمنوں کا سامنا کیا۔
جب بھی دشمن جنگ کی آگ بھڑکاتے، اللہ اسے بجھا دیتا۔ جب بھی شیطان کا کوئی لشکر سر اٹھاتا یا مشرکین کا کوئی خطرہ ظاہر ہوتا، رسول اللہ ﷺ اپنے بھائی حضرت علیؑ کو اس کے مقابلے کے لیے بھیجتے۔ حضرت علیؑ اس وقت تک واپس نہ آتے جب تک دشمن کو زیر نہ کر لیتے اور اپنی تلوار سے اس کی آگ ٹھنڈی نہ کر دیتے۔
وہ اللہ کی راہ میں مسلسل جدوجہد کرنے والے، اللہ کے حکم پر عمل کرنے والے، رسول اللہ ﷺ کے سب سے قریب، اللہ کے اولیاء کے سردار، مخلص، خیر خواہ، محنتی اور بے خوف انسان تھے۔ انہیں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہ تھا۔
جبکہ تم اس وقت آرام و آسائش میں زندگی گزار رہے تھے، امن میں تھے، حالات کا تماشہ دیکھتے تھے، ہمارے لیے مصیبتوں کے منتظر رہتے تھے، جنگ کے وقت پیچھے ہٹ جاتے تھے اور میدانِ جنگ سے فرار اختیار کرتے تھے۔
پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنے انبیاء کی منزل اور اپنے برگزیدہ بندوں کے مقام پر بلا لیا تو تمہارے درمیان نفاق ظاہر ہونے لگا، دین کا لباس پرانا ہونے لگا، گمراہ لوگوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، کمزور اور گمنام لوگ سر اٹھانے لگے، باطل کے علمبردار آگے بڑھ آئے، اور شیطان نے اپنا سر نکال کر تمہیں اپنی طرف بلایا، تو اس نے تمہیں اپنی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار پایا۔
اس نے تمہیں ابھارا تو تم فوراً اس کے پیچھے چل پڑے، اس نے تمہیں غصہ دلایا تو تم غضب ناک ہو گئے، پھر تم نے دوسروں کے اونٹوں پر اپنی مہر لگائی، دوسروں کے چشمے پر قبضہ کر لیا، حالانکہ ابھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، زخم تازہ تھے اور آپ ﷺ ابھی دفن بھی نہیں ہوئے تھے۔
تم نے یہ عذر پیش کیا کہ "ہم فتنہ سے ڈرتے ہیں۔"
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"خبردار! وہ خود فتنہ میں گر چکے ہیں، اور یقیناً جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔"
پھر فرمایا:
تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟ تم حق سے کیوں پھر رہے ہو؟ جبکہ اللہ کی کتاب تمہارے درمیان موجود ہے، اس کے احکام واضح ہیں، اس کی نشانیاں روشن ہیں، اس کے اوامر اور نواہی بالکل صاف ہیں، مگر تم نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا ہے۔
کیا تم قرآن سے بے رغبتی اختیار کرنا چاہتے ہو؟ یا اس کے علاوہ کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہتے ہو؟
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا، وہ ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔" (آل عمران: 85)
پھر تم نے تھوڑا ہی انتظار کیا تھا کہ حالات کچھ پرسکون ہوئے، لیکن تم نے دوبارہ فتنے کی آگ بھڑکانا شروع کر دی، شیطان کی آواز پر لبیک کہا، دین کے روشن چراغ بجھانے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو نظر انداز کرنے لگے۔
اور اب تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہمیں اپنے والد کی وراثت نہیں مل سکتی!
اے ابنِ ابی قحافہ!
کیا اللہ کی کتاب میں تم اپنے والد کے وارث بنو، مگر میں اپنے والد کی وارث نہ بنوں؟
بے شک تم نے ایک بہت بڑا اور عجیب دعویٰ کیا ہے۔
کیا تم نے جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا ہے؟
حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے۔" (سورۃ النمل: 16)
"اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے ایسا وارث عطا فرما جو میرا اور آلِ > یعقوب کا وارث ہو۔" (سورۃ مریم: 5-6)
"اور رشتہ دار اللہ کی کتاب کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حق دار > ہیں۔" (سورۃ الانفال: 75)
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے..." (سورۃ > النساء: 11)
"جب تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور > قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا لازم کیا گیا ہے۔" (سورۃ > البقرہ: 180)
پھر فرمایا:
کیا تم یہ کہتے ہو کہ میرا اپنے والد کی میراث میں کوئی حق نہیں؟ کیا اللہ نے کوئی ایسی آیت صرف تمہارے لیے نازل کی ہے جس سے میرے والد کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہو؟ یا تم کہتے ہو کہ میں اور میرے والد ایک ہی دین پر نہیں تھے؟ یا تم خود کو میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی (حضرت علیؑ) سے بھی زیادہ قرآن کا عالم سمجھتے ہو؟
اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو یہ فدک تم ہی رکھ لو۔
لیکن یاد رکھو، قیامت کے دن تمہارا اور میرا سامنا ہوگا۔
اس دن اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہوگا، محمد ﷺ ہمارے گواہ ہوں گے، اور وعدے کا دن قیامت ہوگا۔
اس وقت باطل پر چلنے والے خسارے میں ہوں گے، اور اس دن کی ندامت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
ہر خبر کا ایک مقرر وقت ہے، اور بہت جلد تم جان لو گے کہ کس پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو اسے رسوا کر دے گا اور دائمی عذاب اس کا مقدر بن جائے گا۔
پھر حضرت فاطمہ زہراؑ نے انصار کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
اے انصار کے بزرگو! اے اسلام کے مددگارو اور دین کے محافظو!
میرے حق کے بارے میں یہ خاموشی کیوں ہے؟ میری مظلومیت پر یہ غفلت کیوں ہے؟
کیا میرے والد رسول اللہ ﷺ یہ نہیں فرمایا کرتے تھے:
"انسان کی عزت اور حق کا خیال اس کی اولاد کے بارے میں رکھا جاتا ہے۔"
تم نے کتنی جلدی حالات بدل ڈالے اور کس قدر جلد یہ تبدیلی لے آئے، حالانکہ تم میں اتنی طاقت موجود ہے کہ جس چیز کا میں مطالبہ کر رہی ہوں اسے پورا کر سکتے ہو، اور جس حق کی میں درخواست کر رہی ہوں اسے مجھے واپس دلانے کی قدرت رکھتے ہو۔
کیا تم یہ کہتے ہو کہ محمد ﷺ وفات پا گئے ہیں؟
یقیناً آپ ﷺ کی وفات ایک بہت بڑا حادثہ ہے، ایسا سانحہ جس سے اسلام میں ایک عظیم خلا پیدا ہوا، جس کا زخم بہت گہرا ہے اور جس کا غم بہت عظیم ہے۔
آپ ﷺ کی جدائی سے گویا زمین تاریک ہو گئی، سورج اور چاند کی روشنی ماند پڑ گئی، ستارے بکھر گئے، امیدیں ٹوٹ گئیں، پہاڑ لرز اٹھے، اہلِ حرم کے حقوق پامال ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ساتھ ان کی حرمت کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔
اللہ کی قسم! یہ امت پر آنے والی سب سے بڑی مصیبت ہے، اس جیسا کوئی اور حادثہ نہ پہلے آیا اور نہ جلد آنے والا ہے۔
اس عظیم مصیبت کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں پہلے ہی بیان کر دی تھی، جسے تم صبح و شام پڑھتے ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"محمد ﷺ تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو شخص الٹا پھر جائے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکے گا، اور اللہ شکر گزاروں کو ضرور جزا دے گا۔"
(سورۃ آل عمران: 144)
پھر حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:
اے بنو قیلہ (انصار)!
کیا میرے والد کی میراث مجھ سے چھین لی جائے گی جبکہ تم سب مجھے دیکھ رہے ہو، میری آواز سن رہے ہو، اس مجلس میں موجود ہو، اور تمہیں میرے حق کا پورا علم بھی ہے؟
تم تعداد میں بھی زیادہ ہو، طاقت بھی رکھتے ہو، ہتھیار بھی رکھتے ہو، اور میری مدد کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہو۔
میں تمہیں مدد کے لیے پکارتی ہوں مگر تم جواب نہیں دیتے، میں فریاد کرتی ہوں مگر تم میری مدد کو نہیں آتے۔
تم وہ لوگ ہو جنہیں شجاعت، نیکی اور صالحیت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، تم وہ بہترین گروہ تھے جنہیں اللہ نے اسلام کی نصرت کے لیے منتخب کیا تھا اور جنہیں اہلِ بیتؑ کی مدد کے لیے چنا گیا تھا۔
تم نے عرب کے بڑے بڑے قبیلوں سے جنگیں لڑیں، سخت مصیبتیں برداشت کیں، طاقتور قوموں کا مقابلہ کیا اور ہر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔
ہم جب تمہیں حکم دیتے تھے تو تم فوراً اطاعت کرتے تھے۔
یہاں تک کہ اسلام مضبوط ہو گیا، شرک کی طاقت ٹوٹ گئی، کفر کی آگ بجھ گئی، فتنے خاموش ہو گئے اور دین کا نظام مستحکم ہو گیا۔
پھر کیا ہوا کہ حق واضح ہو جانے کے بعد تم نے اسے چھوڑ دیا؟
اعلانِ حق کے بعد اسے چھپا لیا؟
ایمان لانے کے بعد پیچھے ہٹ گئے؟
اللہ کی لعنت ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے عہد توڑ دیے، رسول اللہ ﷺ کو نکالنے کا ارادہ کیا اور خود ہی دشمنی کی ابتدا کی۔
کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟
حالانکہ اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ ہی زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرو۔
پھر میں دیکھ رہی ہوں کہ تم آرام و آسائش کی زندگی میں مشغول ہو گئے ہو، اس شخص کو دور کر دیا ہے جو خلافت و قیادت کا سب سے زیادہ حق دار تھا، تم نے سکون کو اختیار کر لیا، ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو گئے، جو حق تم جانتے تھے اسے چھوڑ دیا اور جو علم تم نے حاصل کیا تھا اسے بھلا دیا۔
اگر تم اور زمین کے تمام لوگ بھی کفر اختیار کر لو تو اللہ تم سب سے بے نیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔
میں نے جو کچھ کہا ہے، وہ اس لیے نہیں کہ مجھے تمہاری حالت کا علم نہیں، بلکہ میں تمہارے دلوں میں پیدا ہونے والی کمزوری، سستی اور بے وفائی کو اچھی طرح جانتی ہوں۔
یہ میرے دل کا درد ہے، میرے غم کا اظہار ہے، میرے سینے کی بھڑاس ہے اور تم پر حجت قائم کرنا مقصود ہے۔
اب یہ معاملہ تمہارے حوالے ہے۔
اس کا بوجھ تم ہی اٹھاؤ۔
لیکن یاد رکھو!
یہ ہمیشہ کے لیے تمہارے لیے باعثِ شرمندگی رہے گا، اللہ کے غضب کا سبب بنے گا اور اس کا انجام جہنم کی آگ ہے، وہ آگ جو دلوں تک پہنچتی ہے۔
اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ بہت جلد جان لیں گے کہ انہیں کس انجام کی طرف پلٹنا ہے۔
میں تمہیں اس آنے والے سخت عذاب سے پہلے خبردار کرنے والے رسول ﷺ کی بیٹی ہوں۔
لہٰذا تم اپنا عمل کرتے رہو، ہم بھی اپنا عمل کرتے رہیں گے۔
اور انتظار کرو، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔
تو آپ نے بی بی فاطمہ الزہرا کا جو ہے وہ خطبہ سنا اور اس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں آپ نے واضح طور پر دلائل بھی دیکھی، سنی اور پڑھی اور میں یقین جانئے حیران ہوں کہ اگر آپ کو اس طرح وسیع و عریض الفاظ کے ساتھ قرآن کی دلیل کے ساتھ بھی اگر کوئی یہ بات بتائے تو تب بھی آپ کو سمجھ نہیں آئے گی کہ واقعیتاً کیا بی بی کے ساتھ کچھ غلط ہوا یا نہیں اگر آپ آج بھی بی بی کے ساتھ کھڑے ہیں تو آج بھی بی بی کے حق میں نکلیے، آج بھی بنو امیہ کے خلاف جو ہے وہ آواز بلند کیجیے جس طرح عبداللہ ابن جو ہے زبیر نے آواز اٹھائی تو انہیں قتل کر دیا گیا جس طرح آپ کے سامنے جو ہے عمر بن عبدالعزیز نے واقع واقعیتاً آگے آ کر تاریخ میں باغ فدق اہل بیت کو واپس دیا آج اگر آپ اہل بیت کے ساتھ کھڑے ہیں تو کم سے کم یہ آواز ہر شخص تک پہنچائیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو درحقیقت یہ سچ بتائیے وہ سچ جس پہ ہر وقت علماء کہتے ہیں ہم نے یہاں خاموشی اختیار کی یعنی کہ نبی کی بیٹی جا کر خطبہ دے رہی ہے اور علما وہاں خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں ابھی تو بات آگے جائے گی چلیں میں آپ کو آگے چل کر بتاتا ہوں کہ پھر اس کے بعد جواباً کیا ہوا اور ابو بکر نے کیا کہا
Part Two
حصہ دوم
حضرت فاطمہؓ نے فدک اور رسول اللہ ﷺ کی بعض املاک میں اپنے حق کا > مطالبہ کیا۔
حضرت ابوبکرؓ نے جواب میں وہ حدیث پیش کی:
«نحن معاشر الأنبياء لا نورث، ما تركنا صدقة»
"ہم انبیاء کی جماعت وراثت نہیں چھوڑتی، جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔"
- حضرت فاطمہؓ اس فیصلے سے راضی نہیں ہوئیں، اور صحیح بخاری و صحیح مسلم > کی روایات کے مطابق اپنی وفات تک حضرت ابوبکرؓ سے گفتگو نہیں کی۔
# 3094
صحیح البخاری 3094
ہم سے اسحاق بن محمد الفروی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، وہ مالک بن اوس بن الحادثن سے اور مجھ سے محمد بن جبیر نے اپنی اس حدیث کا ذکر کیا، تو میں چلا یہاں تک کہ میں مالک بن اوس کے پاس گیا، میں نے مالک بن اوس کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے پوچھا کہ میں نے مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ بہت ترقی یافتہ تھا، پھر عمر بن الخطاب کا قاصد میرے پاس آیا اور کہا: امیر المومنین کو جواب دو۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ وہاں ایک پلنگ کی ریت پر بیٹھے ہوئے تھے، ان کے اور اس کے درمیان کوئی گدی نہیں تھی، چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ تو میں نے سلام کیا اور پھر بیٹھ گیا تو اس نے کہا اے مالک تمہارے قبیلے کے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے ہیں اور میں نے حکم دیا ہے کہ ان کے مال میں سے کچھ حصہ ان کو دیا جائے۔ "یہ لے لو اور ان میں بانٹ دو۔" میں نے کہا اے امیر المومنین آپ کسی اور کو اس کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ اس نے کہا یہ لو یار۔ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے حجرہ یرفع ان کے پاس آئے اور کہا کہ کیا آپ کو عثمان، عبدالرحمٰن بن عوف، الزبیر اور سعد بن ابی وقاص کے بارے میں کوئی خبر ہے؟ وہ داخل ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور وہ اندر داخل ہو گئے۔ وہ سلام کر کے بیٹھ گئے۔ پھر وہ تھوڑی دیر بیٹھا اور کہنے لگا کیا تمہیں علی اور عباس سے کوئی دلچسپی ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ چنانچہ اس نے انہیں اجازت دی، اور وہ اندر داخل ہوئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ عباس نے کہا اے امیر المومنین، میرے اور اس شخص کے درمیان فیصلہ کر دیں۔ وہ اس بات پر جھگڑ رہے تھے جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی تھی، بنو نضیر سے۔ پھر عثمان اور ان کے ساتھیوں سمیت اس گروہ نے کہا کہ اے امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کرو اور ان میں سے ایک کو دوسرے سے فارغ کرو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم میراث نہیں چھوڑتے، جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے؟ اس کا مطلب خود تھا۔ گروپ نے کہا، "اس نے یہ کہا۔" پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا؟ کہنے لگے اس نے یہ کہا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میں تمہیں اس معاملے کے بارے میں بتاؤں گا، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس غنیمت میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چیز عطا فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں دی۔ پھر اس نے تلاوت فرمائی، "اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان میں سے عطا کیا ہے،" اس کے کہنے تک کہ "قویٰ"۔ تو یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا۔ خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ خدا کی قسم اس نے اسے اپنے لیے نہیں رکھا اور نہ ہی اپنے پاس رکھا۔ اس نے آپ کو دے دیا اور آپ میں تقسیم کر دیا یہاں تک کہ یہ رقم باقی رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس رقم سے اپنے اہل و عیال کے سالانہ اخراجات پر خرچ کرتے، پھر جو بچا تھا اسے لے کر اللہ کے خزانے میں وقف کر دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی یہ کام کیا۔ میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ جانتے ہیں؟ کہنے لگے ہاں۔پھر اس نے علی اور عباس سے کہا: میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تم یہ جانتے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال فرمایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور اس پر عمل کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچا، راست باز، اس معاملے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا پیروکار تھا۔ اور میں نے ابوبکر کو اپنا جانشین مقرر کیا، اور میں نے اپنی حکومت کے دو سال حکومت کی، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے کام کیا، عمل کیا اور جیسا کہ ابوبکر نے عمل کیا۔ اور خدا جانتا ہے کہ میں سچا، راست باز، راہ راست پر آنے والا اور اس میں حق کا پیروکار تھا۔ پھر تم دونوں میرے پاس آئے، مجھ سے باتیں کرتے رہے، تمہاری باتیں ایک تھیں اور تمہارا معاملہ ایک تھا۔ اے عباس، تم میرے پاس اپنے بھتیجے سے اپنا حصہ مانگنے کے لیے میرے پاس آئے، اور یہ میرے پاس آیا، یعنی علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کا حصہ اپنے باپ سے چاہا، تو میں نے تم دونوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہم (انبیاء) میراث نہیں چھوڑتے، ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے۔" جب مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ میں اسے آپ کو دوں تو میں نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس شرط پر دوں گا کہ آپ اللہ کا عہد اور عہد کریں کہ آپ اس کا انتظام کریں گے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انتظام کیا تھا، جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا انتظام کیا تھا اور جیسا کہ میں نے اس کا انتظام کیا تھا۔ چونکہ میں نے اس کی ذمہ داری سنبھالی ہے اس لیے تم دونوں نے کہا کہ یہ ہمیں دے دو۔ تو میں نے تم دونوں کو دے دیا۔ میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا میں نے انہیں اس بنا پر دیا؟ گروہ نے کہا ہاں۔ پھر علی اور عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا اسی بنا پر میں نے تمہیں دیا تھا؟ کہنے لگے ہاں۔ اس نے کہا، "تو تم مجھ سے مختلف حکم چاہتے ہو؟ خدا کی قسم، جس کی اجازت سے..." آسمان اور زمین کھڑے ہیں، اور میں ان کے بارے میں کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم اس سے عاجز ہو تو اسے میرے حوالے کر دو، میں تمہاری دیکھ بھال کروں گا۔جب مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ میں اسے آپ کے حوالے کر دوں تو میں نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اسے آپ کے حوالے کر دوں گا اس شرط پر کہ آپ مجھے خدا کا عہد اور عہد دیں کہ آپ اس کا انتظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر کریں گے، جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا انتظام کیا ہے اور جیسا کہ میں نے اس کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ آپ نے فرمایا اسے ہمارے حوالے کر دو۔ تو میں نے اس شرط پر آپ کے حوالے کر دیا۔ میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا میں نے اسے سپرد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو گروہ نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر علی اور عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا اسی بنا پر میں نے تمہیں دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس نے کہا، "پھر تم مجھ سے مختلف حکم چاہتے ہو؟ خدا کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، میں اس پر کسی اور طرح سے حکومت نہیں کروں گا، اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو مجھے دے دو، میرے لیے..." میں تم دونوں کے لیے اس کا خیال رکھوں گا۔جب مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ میں اسے آپ کے حوالے کر دوں تو میں نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اسے آپ کے حوالے کر دوں گا اس شرط پر کہ آپ مجھے خدا کا عہد اور عہد دیں کہ آپ اس کا انتظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر کریں گے، جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا انتظام کیا ہے اور جیسا کہ میں نے اس کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ آپ نے فرمایا اسے ہمارے حوالے کر دو۔ تو میں نے اس شرط پر آپ کے حوالے کر دیا۔ میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا میں نے اسے سپرد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو گروہ نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر علی اور عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا اسی بنا پر میں نے تمہیں دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس نے کہا، "پھر تم مجھ سے مختلف حکم چاہتے ہو؟ خدا کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، میں اس پر کسی اور طرح سے حکومت نہیں کروں گا، اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو مجھے دے دو، میرے لیے..." میں تم دونوں کے لیے اس کا خیال رکھوں گا۔
# 4240
صحیح البخاری 4240
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے عقیل کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ کی سند سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں، انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا۔ خدا نے ان پر رحمت نازل فرمائی، جو کچھ خدا نے انہیں مدینہ میں عطا کیا تھا، فدک کا مال غنیمت اور جو خیبر کے پانچویں حصے میں سے بچا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہم میراث نہیں چھوڑتے، جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے، اس مال میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کھاتے ہیں۔ اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقہ کو اس حالت سے نہیں بدلوں گا جس حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھا اور میں اس پر عمل کروں گا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا۔ لیکن ابوبکر نے فاطمہ کو اس میں سے کچھ دینے سے انکار کردیا اور وہ پریشان ہوگئیں۔ فاطمہ اس بات پر ابوبکر سے ناراض ہوئیں اور ان کا بائیکاٹ کر دیا، اس وقت تک ان سے بات نہیں کی جب تک وہ مر نہ جائیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر علی نے ابوبکر کو بتائے بغیر رات کو ان کو دفنایا اور انہوں نے ان پر نماز پڑھی۔ علی نے فاطمہ کی زندگی میں لوگوں کے درمیان ایک خاص مقام حاصل کیا تھا، لیکن ان کی موت کے بعد، وہ ان کے ساتھ لوگوں کے رویے سے ناراض ہوئے اور ابوبکر کے ساتھ صلح کی کوشش کی. بکر اور ان کی بیعت، اور انہوں نے ان مہینوں میں بیعت نہیں کی، تو اس نے ابوبکر کو پیغام بھیجا کہ "ہمارے پاس آؤ، اور کسی کو تمہارے ساتھ نہ آنے دو" کیونکہ وہ عمر کی موجودگی کو ناپسند کرتے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، خدا کی قسم، آپ ان پر اکیلے داخل نہیں ہوں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں، خدا کی قسم میں ان کے پاس جاؤں گا۔ تو ابوبکر ان کے پاس آئے اور علی نے ایمان کی گواہی سنائی اور کہا کہ ہم آپ کی فضیلت کو جانتے ہیں اور جو کچھ خدا نے آپ کو دیا ہے اور ہم آپ کو کسی نیکی سے محروم نہیں کرتے ہیں جو خدا نے آپ کو دیا ہے، تاہم آپ نے ہمارے ساتھ یکطرفہ سلوک کیا اور ہمیں یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری قرابت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں پر بہہ گئی۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنسو بولے تو فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت مجھے اپنی قرابت سے زیادہ عزیز ہے۔ جہاں تک ان رقوم کے بارے میں ہمارے درمیان جھگڑا ہو گیا، لیکن میں نے ان کو بھلائی کے لیے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور میں نے کسی ایسے عمل میں کوتاہی نہیں کی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ کرتے ہوئے دیکھا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ابوبکر سے کہا، "آج شام کو آپ کی بیعت کے لیے ملاقات ہے۔" جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز ختم کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی۔ ایمان کی گواہی، اور علی کا حال بیان کیا، بیعت سے ان کی غیر حاضری اور عذر کا ذکر کیا، پھر معافی مانگی، اور علی نے اس طرح ابوبکر کے حق کی بڑائی کی، اور کہا کہ میں نے وہ کام ابوبکر کے لیے حسد کی وجہ سے نہیں کیا، اور نہ ہی ہم نے اس کے انکار کی وجہ سے کیا، لیکن اس میں ہم نے خدا کی طرف سے کچھ حصہ لیا ہے۔ ہم پر تکبر کیا تو ہم نے اسے اپنے اندر پایا اور مسلمان اس پر خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ تم ٹھیک کہتے ہو۔مسلمان علی کے قریب تھے جب انہوں نے معروف معاملے پر دوبارہ غور کیا۔
یہاں تک آپ نے جو بھی سنا اس کا فیصلہ آپ لوگ خود کریں گے۔ یہاں میں نے احادیث بھی دے دی ابو بکر کے آرگومنٹ بھی دے دیئے بی بی فاطمہ الزہرا کا جو خطبہ ہے وہ بھی آپ کے سامنے میں نے پیش کر دیا۔ سوچنا، سمجھنا، کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا، کس کے ساتھ کھڑے ہونا اور کس کے ساتھ نہیں، یہ آپ کا ماننا ہے۔ چلیں اب چلتے ہیں کہ کیا واقعاً بی بی فاطمہ الزہرا کا گھر جلایا گیا تھا یا بی بی فاطمہ الزہرا کو جو ہے شہید کیا گیا تھا اور بی بی فاطمہ الزہرا کے جنازے میں کون کون لوگ موجود تھے اور کون کون سے لوگ نہیں موجود تھے اور بی بی فاطمہ الزہرا کا جنازہ کیسے ہوا یہ آگے چل کے ہم بیان کرتے ہیں۔ مگر سب سے پہلے جس طرح خلافت ہوئی ابو بکر کے ہاتھ پر مولا علی نے بیعت نہیں کی۔ یہ مسئلہ چھے مہینے تک چلتا رہا۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں بیعت سے پہلے جو مسئلے ہوئے اس پہ بات کرتے ہیں۔ حدیث اور قرآن اور تفاسیر کے حوالے سے سب سے پہلا مسئلہ کچھ لوگ حضرت علی کے گھر پہ آیا کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ یہ بیعت غلط ہوئی ہے یہ خلافت غلط لی گئی ہے۔ اس کے حوالے سے میں آپ کو کچھ روایات بیان کر دیتا ہوں۔
1) مصنف ابن أبي شيبة
کتاب: المصنف
محقق: كمال يوسف الحوت (دار الفكر)
جلد: 8
صفحہ: 572
اثر/حدیث: 37045 (بعض جدید ایڈیشنز میں 38042 بھی نمبرنگ > ملتی ہے)
عربی متن کا اہم حصہ:
"...وأيم الله ما ذاك بمانعي إن اجتمع هؤلاء النفر عندك أن آمر بهم أن يحرق عليهم البيت..."
2) تاريخ الطبري
کتاب: تاريخ الطبري
انگریزی ترجمہ: جلد 9
صفحہ: 186–187
عربی قدیم ایڈیشن: جلد 2، صفحہ 443 (ایڈیشن کے مطابق صفحہ > مختلف ہو سکتا ہے)
عربی متن:
"والله لأحرقن عليكم أو لتخرجن إلى البيعة"
3) أنساب الأشراف (البلاذري)
جلد: 1
صفحہ: 586
روایت نمبر: 1184 (بعض مطبوعات میں)
4) الإمامة والسياسة
جلد: 1
صفحہ: 19–20 (بعض نسخوں میں 12–20 کے درمیان)
مر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ فاطمہ اور دیگر لوگوں سے بیعت لیں اور اگر وہ انکار کریں تو انہیں قتل کر دیں۔ عمر نے اس حکم کو مردوں کے ایک گروہ کے ساتھ نافذ کیا، اس کے بعد اس نے فاطمہ کو دھمکی دی، اس کے دروازے کو آگ لگا دی، اور اس پر اس قدر وحشیانہ حملہ کیا کہ اس کا اسقاط حمل ہو گیا۔ پھر علی کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور بیعت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اہل سنت کی درج ذیل کتب میں اس کی خبر دی گئی ہے۔
المصنف ابن ابی شیبہ
الاستعاب از ابن عبدالبر
کنز العمال از علی متقی
تاریخ طبری از ابن جریر
انساب الاشرف از البلادوری
الامامۃ و السیاسۃ از ابن قتیبہ
عقد الفرید از ابن عبد ربیحی
المختصر فی الاخبار البشر ابو الفدا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیعت ہوئی تو علی اور زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے اور ان سے مشورہ کرتے اور ان کے معاملے پر گفتگو کرتے۔
جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ باہر نکلے یہاں تک کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں داخل ہوئے اور کہا: " بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام مخلوقات میں آپ کے والد سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے اور آپ کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ہے، لیکن اللہ کی قسم، یہ مجھے نہیں روکے گا، اگر وہ جماعت آپ کے گھر کے دروازے پر جمع ہونے کا حکم دے "۔
جب عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو وہ آئے اور اس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تھے اور اللہ کی قسم کھائی تھی کہ اگر تم واپس آؤ گے تو وہ تمہارے ساتھ دروازہ ضرور جلا دے گا، اللہ کی قسم وہ جو قسم کھائی تھی وہ ضرور پوری کرے گا، لہٰذا تم اطمینان سے چلے جاؤ، اپنے خیال سے بھاگ جاؤ اور مجھ سے ملنے نہ آنا۔
آپ نے دیکھا یہاں پہ جو ہے وہ خود کہا جا رہا ہے کہ اگر اس گھر میں یہ لوگ آئے تو میں ان کو جلا ڈالوں گا اور آگے چل کے اسی طرح ہی ہوا جس میں ہمیں ملتا ہے کہ حضرت عمر نے گھر کو آگ لگا دی اور یہاں تک آگ لگائی کہ دروازے کو لات تک مارے اور اس کے بعد بیوی فاطمہ الزہرا کے اوپر وہ جلتا ہوا دروازہ گر گیا اور لوگ کہتے ہیں کہ مولا کائنات وہاں کیا کر رہے تھے مولا کائنات باہر تھے جب وہ آئے اور انہوں نے دیکھا تو جہاں دوسرے معتبر صحابہ بھی موجود تھے انہوں نے حضرت عمر کو روکنے کی بھی کوشش کی اور بولا کہ یہ بی بی فاطمہ الزہرا ہیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں یہ نبی کی بیٹی ہے تو عمر اس پہ کہنے لگے کہ خدا کے کاموں میں جو بھی آئے گا وہ چاہے نبی کی بیٹی ہو اس کا یہی حشر ہوگا اس پر خالد بن ولید نے حضرت علی کو جو ہے وہ زنجیروں سے جکڑ لیا اور کچھ روایات میں آتا ہے کہ ان کے گلے میں رسی ڈال دی اور اس کے بعد حضرت علی کو وہاں جو ہے جھکنا پڑا اور پھر اس کے بعد یہ پورا گھر جو ہے اسے جلا ڈالا گیا جس میں بڑے معتبر صحابہ بھی موجود تھے مگر ان میں جو مین پیشہ پیش تھے وہ حضرت عمر تھے
آپ نے دیکھا، یہاں پر جو ہے وہ خود کہا جا رہا ہے کہ اگر اس گھر میں یہ لوگ آئے تو میں انہیں جلا دوں گا، اور آگے چل کر اسی طرح ہی ہوا، جس میں ہمیں ملتا ہے کہ حضرت عمر نے گھر کو آگ لگا دی، اور یہاں تک آگ لگائی کہ دروازے کو لات تک مارا۔ اور اس کے بعد بی بی فاطمہ الزہرہ کے اوپر وہ جلتا ہوا دروازہ گر گیا، اور لوگ کہتے ہیں کہ مولاے کائنات وہاں کیا کر رہے تھے؟ مولاے کائنات باہر تھے، جب وہ آئے اور انہوں نے دیکھا، تو جہاں دوسرے معتبر صحابہ بھی موجود تھے، انہوں نے حضرت عمر کو روکنے کی بھی کوشش کی، اور کہا کہ یہ بی بی فاطمہ الزہرہ ہیں، یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ تو عمر ان پر کہنے لگے کہ خدا کے کاموں میں جو بھی آئے گا، وہ چاہے نبی کی بیٹی ہو، اس کا یہی حشر ہوگا۔ اس پر خالد بن ولید نے حضرت علی کو زنجیروں سے جکڑ لیا، اور کچھ روایات میں آتا ہے کہ ان کے گلے میں رسی ڈال دی، اور اس کے بعد حضرت علی کو وہاں جھکنا پڑا، اور پھر اس کے بعد یہ پورا گھر جلایا گیا، جس میں بڑے معتبر صحابہ بھی موجود تھے، مگر ان میں جو مین پیشاپیش تھے، وہ حضرت عمر تھے۔
اب یہاں پر بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ حضرت علی جنہیں شیرِخدا کہا جاتا ہے اور جن کے لیے آسمان سے تلوار بھی اتری تھی اور بہت سے لوگ جو ہے وہ حضرت علی سے مدد بھی مانگتے ہیں یہاں سوال لوگ کرتے ہیں کہ پھر حضرت علی نے کیوں تلوار نہیں اٹھائی حضرت عمر کے خلاف یا حضرت عثمان کے خلاف یا حضرت ابو بکر کے خلاف تو بتاتا چلوں حضرت علی دوراندیش تھے وہ دیکھ سکتے تھے کہ اگر انہوں نے آج اس طرح تلوار اٹھائی تو یہ دین آگے تک نہیں چلے گا یہ بات یہیں ختم ہو جائے گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے وہ یہیں ختم ہو جائے گا مگر انہوں نے حکمتِ عملی سے جو ہے وہ جو ہے حکمتِ عملی کے ساتھ جو ہے انہوں نے اپنی بات کو آگے چلایا وہ اس وقت خاموش رہے اور بعد از کچھ دن کے بعد وہ تھوڑا سا شہر سے دور رہنے لگے
آگے چل کر حضرت علی شہر سے دور رہنے لگے انہوں نے وہاں سے اپنا پڑاؤ شہر سے باہر کر لیا اور بی بی فاطمہ الزہرا کا جو بازو اس مدفوعین میں ٹوٹا تھا اور ان کے پیٹ میں جو بچہ تھا جسے محسن کہتے ہیں جی ہاں محسن کی وفات کے بعد بی بی فاطمہ الزہرا کے ذہن پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ غم اور اس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس تکلیف میں اس دنیا سے چلی گئیں اور اس کی سب سے بڑی مثال آپ کو کسی بھی اسلامی روایت کے اندر نہیں ملے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو کہ جنت کی شہزادی ہیں ان کا جنازہ جو ہے کسی معتبر صحابی نے پڑھا ہو یہاں تک کہ نہ حضرت عمر نے پڑھا نہ حضرت ابو بکر صدیق نے پڑھا نہ ہی حضرت عثمان غنی نے پڑھا جبکہ بات کریں مولا کائنات صرف مولا کائنات ہی تھے جنہوں نے ان کی تدفین ان کا جنازہ اور ان کے تمام وہ عوامل جو کہ کسی کے وفات کے وقت کیے جاتے ہیں وہ صرف اور صرف مولا علی نے کیے یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ کسی بھی سنی کو چیلنج کر سکتے ہیں کہ جائیے اگر آپ سچے ہیں تو بتا دیجیے کہ بی بی فاطمہ الزہرا کا جنازہ کن لوگوں نے پڑھا
اب ہم بات کرتے ہیں کہ بی بی فاطمہ الزہرا کی تدفین کا معاملہ جی ہاں حضرت علی خود ہی جو تھے وہ تدفین کرنے والے تھے اور کہا جاتا ہے کہ حضرت علی نے ساٹھ قبریں بنائیں اور کچھ روایت میں آتا ہے حضرت علی نے ستر قبریں جو ہے وہ بنائیں تاکہ جو ہے بی بی فاطمہ الزہرا کی لاش کے ساتھ کوئی تذلیل نہ ہو نہ ہی کوئی بےحرمتی کی جائے نہ ہی ان کے ساتھ کوئی جو ہے وہ بد اخلاقی کی جائے اس لیے مولا علی نے رات کے اندھیرے میں ساٹھ سے ستر قبریں کھود کر یہ بتا دیا کہ بےشک اہل بیت کو نبی کے گھرانے کو کسی بھی جو ہے وہ یہودی سے کسی نصرانی سے کسی عیسائی سے یا کسی ہندو سے کوئی خطرہ نہیں انہیں خطرہ ہے تو بنو امیہ سے انہیں لوگوں سے جو کہ ممبروں پہ بیٹھے ہوئے ہیں جو کہ حکومت کو چلا رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کو آنے والا وہ قرآن دے رہے ہیں جسے مسلمان پڑھ کر آج جو ہے وہ اس دنیا کے ستاون ممالک میں سب سے نچلے طبقے پر جا پہنچا ہے یہ وہی کتاب ہے جسے انہوں نے تعمیر دیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے شر سے رسول اللہ کی بیٹی تک نہ بچ سکی چلیں بچ تو گئے یہ تو بڑے مان کی بات ہے کہ میں نے شعر سنا تھا کہ اگر ہم مر گئے تو کیا ہوگا اور پھر اگر مر کے بھی چین نہ پایا تو پھر اس سے بھی برا ہوگا تو وہی ہے کہ جیتے جی تو انہیں سکھ دے نہ سکے اور مرنے کے بعد بھی مولا علی کو اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ کچھ بھی ایسا کر سکتے ہیں اس لیے بی بی فاطمہ الزہرا کو رات میں دفنایا گیا اور اس سے بھی بڑی بات ان کی اتنی زیادہ قبریں بنائی گئیں کہ لوگوں کو پتا ہی نہ ہو کہ اصل قبر کہاں ہے وہ صرف مولا علی کو پتا تھا
جب بی بی فاطمہ الزہرا کا انتقال ہو گیا تو مولا علی جو تھے وہ کافی غمزدہ رہنے لگے وہ زیادہ تر قرآن لکھنے میں یا کتاب حق لکھنے میں اتنے مشہور ہوتے کہ وہ لوگوں سے ملنا ملانا چھوڑ گئے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے ایک کمرے میں رہا کرتے تھے لوگ آتے ان سے سوال پوچھتے وہ اس کا جواب دیتے زیادہ تر مولا علی خاموش رہتے تھے اور دین کے مسئلے مسائل میں صرف اوپر اور باہری رائے ہی دیا کرتے تھے کیونکہ جس شخص کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آیا ہو اس کے بعد وہ شخص کیا ہی کہے گا وہ بس خاموش رہتے تھے وہ زیادہ مسائل میں عمل نہیں کرتے تھے اور نہ ہی انہوں نے اس کے بعد کوئی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ جنگیں جو بعد میں لڑی گئی وہ ان کے دورِ خلافت میں ہیں مگر انہوں نے ان خلفائے راشدین کے وقت میں کوئی خاص یا کوئی بڑی جنگ نہ لڑی اور نہ ہی کوئی معرکہ کیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے انہوں نے جتنی بھی جنگیں کی تھیں وہ تیس سے بتیس سال کے اندر موجود تھیں یہ جتنی فتوحات اور جتنی جنگیں حضرت علی نے کی تھیں وہ تمام فتوحات صرف اور صرف رسول اللہ کے ہوتے ہوئے تھے اور وہ بڑی جنگیں تھیں جنہیں انہوں نے جوانی کے اندر ہی جو ہے وہ حل کیا تھا اور جنہوں جو معرکائیں لوگ کرنے کی بوڑھاپے تک کوشش کرتے ہیں وہ انہوں نے جوانی ہی کے وقت میں عمل پیرا کر لیے تھے اور وہ تمام چیزیں حاصل کر لی تھیں جن کے لوگ آج کے دور میں بھی خواہش مند ہیں
آپ کوئی بھی جنگ اٹھا کے دیکھ لیجیے جبکہ حضرت علی کے دور میں بہت ساری جنگیں ہوئیں اگر ہم بات کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کا دور حضرت ابو بکر کا دور اور حضرت عمر کا دور ان تمام جنگوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں حضرت علی نے صرف اور صرف مشورہ دیا جبکہ انہوں نے کبھی بھی تلوار نہیں اٹھائی اور نہیں آگے چڑھ کے لیا کیا آپ نے یہ بات سوچی ہے نہیں سوچی تو ضرور سوچئے گا اگر آپ کہتے ہیں کہ مولا علی ان تمام کی بیعت کر چکے ہیں اور دل سے کر چکے ہیں تو جو علی رسول اللہ کے وقت میں سب سے تیز، سب سے جرت مند، سب سے بہادر جس نے اتنی جنگیں لڑی اور بتیس سال کی عمر میں جس نے اتنے معرکہ کیے جس نے تراسی سے زیادہ جنگوں کو فتح کیا یعنی جیتا وہ اب کیوں ان خلفاء راشدین کے وقت یعنی خلفاء ثلاثہ یعنی کہ باقی جو تین خلیفہ تھے ان کے وقت میں کیوں اس نے تلوار نہ اٹھائی کبھی آپ نے یہ بات سوچی ہے یہ بات آپ کبھی نہیں سوچیں گے پھر انہوں نے جس جنگ میں جو ہے تلوار اٹھائی وہ جنگ صفین اور جنگ جمل ہے اور اپنے ادوار میں ہونے والے وہ تمام معرکے جو انہوں نے وہ کیے وہ آگے چل کے بیان کریں گے مگر یہاں میں ایک آپ کو تفصیل دے رہا ہوں یہ جنگوں کے نام ہیں اور یہ خلفاء کے نام ہیں آپ دیکھ لیں ان میں سے ایک میں بھی حضرت علی نے بڑھ چڑھ کر جو ہے وہ تلوار نہیں اٹھائی
1. حضرت ابوبکرؓ کی خلافت (11–13 ہجری / 632–634ء)
مدت: تقریباً 2 سال 3 ماہ
اہم جنگیں
جنگِ ردہ (Ridda Wars) – متعدد قبائل کے خلاف
مسیلمہ کذاب
طلیحہ اسدی
سجاح
مالک بن نویرہ کے قبیلے وغیرہ
جنگ یمامہ
مسیلمہ کذاب کے خلاف
ہزاروں حفاظِ قرآن شہید ہوئے۔
عراق کی مہمات
- خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں۔
شام کی ابتدائی فتوحات
- رومی سلطنت کے خلاف۔
حضرت علیؓ کا کردار
معتبر تاریخی روایات کے مطابق حضرت علیؓ ان جنگوں کے میدان میں بطور سپہ > سالار شریک نہیں تھے۔
وہ مدینہ میں رہے اور ریاستی و دینی امور میں مشورہ دیتے رہے۔
2. حضرت عمرؓ کی خلافت (13–23 ہجری / 634–644ء)
مدت: تقریباً 10 سال
یہ اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی فتوحات کا دور ہے۔
اہم جنگیں
ایران کے خلاف
جنگِ قادسیہ
جنگِ جلولاء
جنگِ نہاوند
مدائن کی فتح
اہواز
فارس
آذربائیجان
خراسان
روم (بازنطینی سلطنت) کے خلاف
جنگِ یرموک
دمشق کی فتح
بیت المقدس کی فتح
حمص
قیساریہ
مصر کی فتح
اسکندریہ
حضرت علیؓ کا کردار
حضرت عمرؓ اکثر اہم فیصلوں میں حضرت علیؓ سے مشورہ لیتے تھے۔
کئی تاریخی روایات میں آیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے بعض مواقع پر خود میدانِ > جنگ میں جانے کا ارادہ کیا، مگر حضرت علیؓ نے انہیں مدینہ میں رہنے کا > مشورہ دیا۔
حضرت علیؓ ان جنگوں میں بطور سپہ سالار شریک نہیں ہوئے۔
3. حضرت عثمانؓ کی خلافت (23–35 ہجری / 644–656ء)
مدت: تقریباً 12 سال
اہم فتوحات
شمالی افریقہ
قبرص کی فتح
آرمینیا
خراسان
طبرستان
کابل
سیستان
مکران
فارس کی مزید فتوحات
بحری جنگ
- ذات الصواری (Battle of the Masts)
- مسلمانوں اور بازنطینی سلطنت کے درمیان پہلی بڑی بحری جنگ۔
حضرت علیؓ کا کردار
حضرت علیؓ ان جنگوں میں بطور سپہ سالار شریک نہیں ہوئے۔
انہوں نے حضرت عثمانؓ کو متعدد مواقع پر مشورے دیے۔
محاصرۂ عثمان کے دوران انہوں نے اپنے بیٹوں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو > حضرت عثمانؓ کے گھر کی حفاظت کے لیے بھی بھیجا، جیسا کہ متعدد تاریخی > روایات میں ذکر ملتا ہے، اگرچہ ان روایات کی تفصیلات اور اسناد پر > اہلِ علم میں اختلاف بھی موجود ہے۔
میری نظر میں یہ رسول اللہ ان کی بیٹی اور حضرت علی کا کچھ جو ہے وہ پس منظر اور کچھ فلسفہ تھا جس میں میں نے کچھ باتیں بیان کیں، کچھ چیزیں اپنی سوچ سے اس کے اندر سوچنے کی کوشش کیں، آپ بھی ضرور بتائیے گا یہاں تک پڑھ کر آپ کو کیا پتا چلا اور کیا نہیں پتا چلا۔ پھر میں آگے کتاب لکھنے کی کوشش کروں گا ٹائم آف ابو بکر، پھر ٹائم آف عمر، ٹائم آف عثمان اور ٹائم آف حضرت علی۔ جی ہاں، باتیں بہت سی ہیں، کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، مگر یہ سب آپ کو بایوگرافی میں مل جائے گا جو کہ میں آلریڈی اپنی بایوگرافی جو میری ویب سائٹ کی بایوگرافی ہے اس میں لکھ چکا ہوں۔ مگر درحقیقت یہاں تک یہ کہانی تھی جس طرح جو ہے وہ چوتھے خلیفہ کے ساتھ ان لوگوں نے ظلم و ستم کیا، کس طرح انہوں نے خلیفہ جو ہے اربا کو جو ہے انہوں نے اپنی باتوں کا اپنی گالیوں کا اور اپنے مقاصد کا نشانہ بنایا جس سے ان کی اصل حقوق، اصل حقائق، اصل کتاب جو ہے وہ رہ گئی۔ قرآن درحقیقت کیا ہے؟ قرآن کی جمع کیسے ہوئی؟ یہ بات ضرور کریں گے میری کسی اور کتاب میں، یہاں اس کتاب میں آپ کو میں صرف اتنا بتاتا چلوں کہ جو جو کچھ ہوا خلفائے اربا کے ساتھ یعنی کہ چوتھے خلیفہ کے ساتھ وہ میں نے آپ کے ساتھ حق پہنچا دیا، بےشک حق اور دین ہم تک آن پہنچا ہے اور آن پہنچے گا اور آپ کو مجھے اور ہم سب کو رب کائنات، رب پروردگار دیکھنے کی رب توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
