یہ کتاب آپ پڑھ رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ شاید یا تو آپ ریسرچسٹ ہیں یا آپ خدا کو ڈھونڈ رہے ہیں یا آپ مجھے غلط ثابت کر رہے ہیں۔ اس کتاب کو جاننے سے پہلے جان لیجیے کہ اس کتاب میں جو بھی باتیں لکھی ہیں یہ میں اپنے پرسنل ایکسپیرئنس کے مطابق کر رہا ہوں۔ یہ وہ سوال ہیں جن کے جوابات مجھے آج تک کبھی کوئی مولوی، مفکر، مفتی، حموری، قاری یا کوئی دین کا بڑا پریچ، فادر، ہنمت، برہمن یا کوئی بڑا سردار، گرو، یا کسی بھی مذہب کا پیشوا نہ دے سکا۔ تو پھر سوچا کہ تمام باتیں میں آپ لوگوں سے پوچھوں شاید کوئی شخص ایسا ہو جس کے پاس ان تمام سوالوں کے جوابات ہوں۔ آپ یہ سوال خود بھی دوسروں سے کر سکتے ہیں اور اگر آپ کو ان تمام سوالوں کے جوابات مل جائیں تو آپ سمجھ لیجیے گا شاید آپ کو زندگی کا فلسفہ سمجھ آ گیا یہ کچھ وہ سوال ہیں جس کا کسی کے پاس شاید کوئی جواب نہیں مگر میں ان سوالوں کے کچھ وہ جوابات دینے کی کوشش بھی کروں گا اپنی دوسری کتابوں میں جہاں شاید ممکنہ طور پر یا عقل کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ ان کے جوابات حاصل کر سکیں۔
Page 1
• خدا خود کہاں سے آیا؟
• اگر خدا ہمیشہ سے ہے تو ہمیشہ سے ہونے کا مطلب کیا ہے؟
• اگر خدا وقت سے باہر ہے تو "پہلے" اور "بعد" کا تصور اس پر کیسے لاگو ہوتا ہے؟
• خدا نے کائنات اسی وقت کیوں بنائی؟
• خدا نے اس سے پہلے کیا کیا؟
• اگر خدا کامل ہے تو تخلیق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
• خدا کو کس نے پیدا کیا؟
• اگر خدا کو کسی نے پیدا نہیں کیا تو کائنات بھی بغیر خالق کے کیوں نہیں ہو سکتی؟
• عدم (Nothingness) آخر کیا ہے؟
• کیا کبھی مکمل "کچھ بھی نہیں" موجود تھا؟
• وقت کب شروع ہوا؟
• وقت کے شروع ہونے سے پہلے کیا تھا؟
• اگر وقت کا آغاز ہے تو آغاز کس لمحے ہوا؟
• اگر وقت لامتناہی ہے تو آغاز کی ضرورت کیوں؟
• کیا وقت حقیقت ہے یا صرف احساس؟
• شعور (Consciousness) اصل میں کیا ہے؟
• دماغ اور شعور میں فرق کیا ہے؟
• کیا AI کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے؟
• خواب حقیقت کیوں محسوس ہوتے ہیں؟
• موت کے لمحے شعور کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
• روح کیا ہے؟
• روح کہاں موجود ہوتی ہے؟
• روح کا وزن کیوں نہیں؟
• کیا روح مادے سے الگ چیز ہے؟
• روح جسم میں کب داخل ہوتی ہے؟
• پہلی زندگی کیسے وجود میں آئی؟
• زندگی بے جان مادے سے کیسے بنی؟
• DNA نے خود کو کیسے منظم کیا؟
• زندگی صرف زمین پر ہی کیوں؟
• اگر دوسری مخلوق ہے تو وہ کہاں ہے؟
• برائی کیوں موجود ہے؟
• معصوم بچوں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟
• قدرتی آفات کیوں آتی ہیں؟
• اگر سب کچھ مقدر ہے تو سزا و جزا کیوں؟
• آزاد ارادہ (Free Will) حقیقت ہے یا وہم؟
• کیا انسان واقعی آزاد ہے؟
• اگر خدا سب جانتا ہے تو انتخاب آزاد کیسے؟
• اگر قسمت لکھی جا چکی ہے تو کوشش کیوں؟
• کیا مستقبل بدل سکتا ہے؟
• کیا متوازی کائناتیں موجود ہیں؟
• کائنات کتنی بڑی ہے؟
• کائنات کے باہر کیا ہے؟
• اگر کائنات پھیل رہی ہے تو کس میں پھیل رہی ہے؟
• خلا (Space) کس چیز سے بنا ہے؟
• خلا کے باہر خلا ہے یا کچھ اور؟
• بلیک ہول کے اندر کیا ہے؟
• بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟
• بگ بینگ کیوں ہوا؟
• طبیعی قوانین کہاں سے آئے؟
• ریاضی کائنات پر کیوں لاگو ہوتی ہے؟
• محبت کیا ہے؟
• خوبصورتی کیا ہے؟
• انصاف کی حتمی تعریف کیا ہے؟
• اچھائی اور برائی کا مطلق معیار کیا ہے؟
• اخلاقیات کی بنیاد کیا ہے؟
• اگر انسان نہ ہوتا تو اخلاقیات ہوتیں؟
• سچ کیا ہے؟
• حقیقت کیا ہے؟
• کیا ہر شخص اپنی حقیقت میں زندہ ہے؟
• کیا ہماری دنیا ایک Simulation ہو سکتی ہے؟
• اگر Simulation ہے تو پروگرامر کون ہے؟
• کیا خواب دوسری دنیا کی جھلک ہیں؟
• Déjà vu کیوں ہوتا ہے؟
• کیا یادداشت ہمیشہ درست ہوتی ہے؟
• کیا وقت میں سفر ممکن ہے؟
• اگر وقت میں سفر ممکن ہو تو تضادات کیسے حل ہوں گے؟
• مستقبل پہلے سے موجود ہے؟
• کیا ہر فیصلہ نئی کائنات بناتا ہے؟
• قسمت اور اتفاق میں فرق کیا ہے؟
• معجزہ کس قانون کے تحت ہوتا ہے؟
• انسان کیوں پیدا ہوا؟
• مقصدِ حیات کیا ہے؟
• اگر مقصد ہے تو کس نے مقرر کیا؟
• اگر مقصد نہیں تو معنی کہاں سے آتا ہے؟
• خوشی کی حتمی تعریف کیا ہے؟
• لامحدود (Infinity) حقیقت میں موجود ہے؟
• کیا صفر واقعی "کچھ نہیں" ہے؟
• کیا ریاضی دریافت ہوئی یا ایجاد؟
• کیا ہر سوال کا جواب ممکن ہے؟
• کیا کچھ سوال اصولاً ناقابلِ جواب ہیں؟
• اگر ہر چیز کی وجہ ہے تو پہلی وجہ کیا تھی؟
• اگر پہلی وجہ ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟
• کیا سبب و نتیجہ ہمیشہ درست ہے؟
• کیا کائنات خود اپنا سبب ہو سکتی ہے؟
• وجود، عدم سے بہتر کیوں ہے؟
• ہم کیوں موجود ہیں؟
• کچھ بھی نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں ہے؟
• کیا موت اختتام ہے؟
• اگر آخرت ہے تو وقت وہاں کیسے چلتا ہے؟
• اگر آخرت نہیں تو شعور کا خاتمہ کیسے محسوس ہوگا؟
• کیا خدا کو مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے؟
• کیا انسان کی عقل کی کوئی آخری حد ہے؟
• کیا سچ ہمیشہ قابلِ ثبوت ہوتا ہے؟
• کیا ہر حقیقت سائنسی تجربے سے ثابت ہو سکتی ہے؟
• کیا ایمان اور علم ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟
• کیا کائنات کا کوئی آخری مقصد ہے؟
• کیا تمام مذاہب کسی ایک حقیقت کی مختلف تعبیر ہیں؟
• اگر مکمل سچ موجود ہے تو سب اس پر متفق کیوں نہیں؟
• کیا انسان کبھی ہر راز جان سکے گا؟
• ایسا کون سا سوال ہے جو ابھی تک کسی انسان نے پوچھا ہی نہیں، مگر وہ سب سے اہم سوال ہے؟
آپ نے اوپر دیے ہوئے سو سوالات پڑھے یہ وہ سوالات ہیں جنہیں کوئی بھی لکھ سکتا ہے کوئی بھی کہہ سکتا ہے ان کا کوئی جواب میسر نہیں مگر میرے سوالات آگے چل کر وہ ہونے والے ہیں جو کہ ایک سیکنڈ میں آپ کے دماغ کو ہلا کر رکھ دیں گے جو باتیں آپ کو بچپن میں بتائی گئی ہیں وہ تمام باتیں آپ رد کرنے پر مجبور ہو جائیں گے آگے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے پڑھیے کہ جو باتیں اور جو سوال میں کرنے والا ہوں وہ سوال آپ کسی بھی مولوی علما کرام یا اپنے کسی بھی دین کے مفکر کے پاس لے جائیے اور اگر وہ آپ کو ان کے جواب دے دیں تو پھر آپ کا یہ کتاب پڑھنا فضول ہے تو چلیں آئیں میں سب سے پہلے شروع کرتا ہوں قصہ آدم سے آدم سے پہلے بات کرتے ہیں خدا کی اور خدا کی تخلیق کی تو چلیں آئیے اگر آپ تیار ہیں تو اپنی نشست باندھ لیجیے کیونکہ میرے سوال اتنے وسیع ہوں گے کہ آپ کو جواب دینا کافی قاصر ہو جائے گا\
میرا سب سے پہلا سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی خدا ہے؟ اور اگر خدا ہے تو اس کو چودہ سو سال پہلے ہی بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اسے اس دنیا کائنات کو شروع ہوئے اتنا عرصہ ہو گیا تو اس نے یہ صرف چار کتابیں ہی کیوں اپنی کہنے کا دعویٰ کیا؟ جبکہ اس دنیا میں چار ہزار خدا موجود ہیں اور چار ہزار سے زیادہ کتابیں لکھ دی گئی ہیں اور ہر خدا کا پیشوا اسے اپنا بندہ بتاتا ہے اور اس کی کتاب کو خدا کی کتاب بناتا ہے۔ چاہے آپ ہندوزم پڑھ لیں، چاہے آپ سکیزم پڑھ لیں یا کوئی بھی اور خدا کی کتاب پڑھیں، اس کا کتاب لکھنے والا یہی کہتا ہے کہ یہ اس کا کلام ہے مگر اس میں باتیں کسی رب کی کی گئیں، کسی اوپر والے کی یا کسی ایسی اینٹیٹی کی یا کسی ایسی یونیفائنگ فورس کی جس نے یہ پورا برہمانڈ بنایا ہے۔ مگر یہاں پہلا سوال یہ ہے کہ اگر آپ مانتے ہیں کہ ہر چیز کو بنانے والا ہوتا ہے، ہر چیز بیسٹ کرتی ہے کاز اینڈ ایفیکٹ کے اوپر، اگر آپ کاز اینڈ ایفیکٹ کی تھیوری مانتے ہیں تو مجھے یہ بتا دیجیے کہ کاز اینڈ ایفیکٹ کی تھیوری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خدا کو کس نے بنایا؟ یعنی کہ گاڈ کس نے بنایا؟ اس کا جواب آپ مجھے اپنے کسی بھی مذہب کی کتاب سے دے دیجیے کہ اگر یہ پورا برہمانڈ کا بنانے والا کوئی ہے تو پھر اس کا کریٹر کا بنانے والا بھی کوئی ہوگا جہاں ہم دس اسٹیپ آگے جا کے سوچ رہے ہیں وہاں ایک اسٹیپ مائنس میں چل کے ذرا یہ سوچیں کہ خدا کو بھی کسی نے بنایا ضرور ہوگا اور اگر بنایا ہے تو کس نے؟
انسان مٹی سے تخلیق کیا گیا یہ بات اس لیے ہمیں تمام ریلیجیس کتابوں میں ملتی ہے کہ انسان کے اندر ایٹیٹیوڈ، وقار، غرور، تکبر نہ آ جائے اور اس تکبر کے آتے رہتے سہتے دوسرے انسانوں پر ظلم و ستم نہ آ سکے وہ ظلم و ستم جس کی وجہ سے دوسرے انسان جو ہیں اپنی زندگی جینے سے قاصر ہو جائیں اس لیے انسان کو زیادہ تر ریلیجیس کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ انسان کسی مٹی سے بنا ہے اور سوچنے کی بات ہے جس طرح اس کائنات میں ہر چیز کاز اینڈ افیکٹ سے بنی ہے اسی طرح جو ہمارا کرییٹر ہے وہ کس چیز سے بنا ہے کبھی یہ ہم نہ جان سکیں تو اگر آپ کے پاس کوئی مفتی کاری حملی ہے تو اس سے پوچھیے کہ جہاں ہم انسان مٹی سے بنے ہیں جن آگ سے بنے ہیں فرشتے نور سے بنے ہیں تو خدا کس چیز سے بنا ہے؟ اگر خدا بھی نور سے بنا ہے تو پھر فرشتے بھی نور سے بنے ہیں آپ کا تو یہ سراسر بات رد ہو جاتی ہے کہ دو اینٹیٹی یعنی کہ فرشتے بھی نور کے اور خدا بھی نور کا اگر فرشتے انرجی تو خدا بھی انرجی اسی طرح اگر ہم دوسرے مذاہب کا مطالعہ کریں تو وہاں بھی خدا کو زیادہ تر نور اور انرجی سے جو ہے وہ ڈیفائن کیا جاتا ہے تو پھر تو پٹرول، ڈیزل، آگ اور جتنی بھی چیزیں ہیں لیتھیم کی بیٹری اور ادر چیزیں وہ بھی انرجی کی صورت ہیں جیسے کہ کرنٹ تو اس کا مطلب مان لیں کہ یہ بھی خدا ہیں تو پھر ہمیں انہیں بھی سجدہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی سورس آف انرجی ہیں تو پھر آپ مجھے یہ بتائیے کہ تر حقیقت جو ہمارا خدا ہے وہ کس مٹی شکل میں ہے یا کس مادے سے بن کر خدا بنا ہے
کچھ باتوں کا سیدھا سیدھا جواب ہوتا ہے اور کچھ باتوں کا جواب نہیں ہوتا۔ دین، ریلیجن کوئی بھی ہو یا کوئی بھی ہمیں ریلیجیس لوگ ملیں، وہ آپ کو کبھی سیدھا جواب نہیں دیں گے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ زندگی کیا ہے، خدا کیا ہے، سب سے پہلے تو وہ آپ کو اس کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ وہ آپ کو کہیں گے کہ اگر آپ نے خدا پر سوال کیا تو تمہارا ایمان چلا جائے گا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کا باپ ہو اور آپ پوچھیں کہ میرا باپ کون ہے؟ اس کے اوپر آپ کا باپ آپ سے ناراض ہو جائے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کی ماں موجود ہیں اور آپ کہیں لوگوں سے کہ میری ماں کون ہے؟ تو اس کے اوپر آپ کی ماں ناراض ہو کے آپ کو گھر سے نکال دے۔ اس بات پہ تو خوش ہونا چاہیے کہ میرا بیٹا میری عقل اور سوچ کو سمجھتے ہوئے میرے اوپر سوال کر رہا ہے اور مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ کیا میں تمہارا ہی بیٹا ہوں؟ تو مجھے بتاؤ کیا واقعی میرے بھی وہ عادات ہیں جو تمہاری ہیں؟ اسی طرح ہم خدا کو ماننے والے یا ہم خدا کے بچے ہیں یا ہم خدا کی مخلوق ہیں تو ہم یہ سوال کیوں نہیں پوچھ سکتے کہ بتاؤ خدا کیسے بنا؟ اس کو کس طرح تخلیق کر دیا گیا؟ اس کے اندر کون سے ایسے جوز ہیں یا وہ کس مادے سے بنا جسے ہم نہیں جان سکتے۔ اگر ہم نہیں جان سکتے تو اس کا مطلب خدا ایک مسٹری ہے۔ یہ وہ مسٹری ہے جو ہمیں پرانے وقتوں میں دی گئی تاکہ ہم سیول ہو سکیں یا سوسوک لاز کو فالو کر سکیں۔ مگر درحقیقت آج ہمارے پاس ٹیکنالوجی، سائنس اور ہر چیز کا مشاہدہ موجود ہے جس کی وجہ سے ہمیں خدا کہیں کھوتا ہوا یا خدا بھاگتا ہوا یا خدا ڈرتا ہوا اور چھپتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیوں ہمیں آج اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ملتا؟
یہ تھا میرا پہلا سوال۔ میں جانتا ہوں اگر میرے سوال بہت زیادہ آسان ہوئے تو آپ بور ہو جائیں گے۔ یہ تو صرف ایک سوال تھا جسے میں نے اپنی دلیل کی مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے سامنے پیش کیا۔ اب آتا ہوں سوال نمبر دو کی طرف۔
چلیں اب مان لیتے ہیں کہ خدا کی تخلیق ہو گئی، میرے پہلے سوال سے آپ نکل گئے مگر میں جانتا ہوں اس دنیا کائنات میں اس کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد خدا کیا کر رہا تھا؟ کہاں رہ رہا تھا؟ کیا کھا رہا تھا؟ کیا پی رہا تھا؟ کیا خدا کو بھوک بھی لگتی ہے؟ کیا خدا کو جو ہے وہ پیاس بھی لگتی ہے؟ کیا خدا بھی ہماری طرح جنسی تعلقات قائم کرنے کو قدرے بہتر سمجھتا ہے؟ کیونکہ یہ انسان کا ایک بڑا جز ہے۔ تو کیا خدا کے اندر بھی لالچ ہے، بھے ہے، ڈر ہے، سوچ ہے تو اگر خدا تخلیق ہو بھی گیا، آپ نے اسے کہیں سے ثابت کر بھی دیا کہ خدا موجود تھا تو پھر مجھے دوسرا عنصر بتائیے جو تمام عناصر ہمارے اندر موجود ہیں، کیا خدا کے اندر بھی یہ موجود ہیں؟
اب یہاں اگلا سوال ہے کہ کیا خدا کو بھی رفع حاجت کی ضرورت پڑتی ہے؟ کیا خدا بھی کہیں رفع حاجت میں جانا پڑے گا؟ اگر آپ کہیں کہ بدبخت یہ تم کیسے سوال کر رہے ہو تو بھائی بات تو یہی ہے کہ اگر ہم انسانوں کو رفع حاجت کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو خدا کو کیوں نہیں پڑ سکتی؟ اور اگر پڑتی ہوگی تو وہ کہاں جاتا ہوگا؟ یعنی کہ اس کو زمرہ زمرہ جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت ہوتی ہوگی اور پھر اگر اس نے انسان کے اندر ایک جنسی خواہش رکھی تو پھر اگلا سوال یہ ہے کہ کیا خدا بھی جنسی خواہش رکھتا ہوگا؟ وہ بھی کسی کے ساتھ جو ہے وہ ملنا یا ملاقات کرنا چاہتا ہوگا کیونکہ انسان کے اندر دو ایسی چیزیں ہیں جو کہ تمام پیسہ، دھن، دولت اگر اس کے پاس نہ بھی ہو تو اس کو وہ دو چیزیں تو چاہیے ہی چاہیے نمبر ایک ہوس یعنی کہ کسی دوسری عورت کے ساتھ اس کے جنسی تعلقات اور دوسری ہے بھوک کہتے ہیں بھوک انسان کو خدا بھی بنا دیتی ہے اور انسان کو شیطان بھی بھوک وہ چیز ہے جو بڑے بڑے انسانوں کو جانور بنا دیتی ہے بھوک وہ چیز ہے جو انسان کو کسی درندے سے کم نہیں بناتی تو کیا خدا کو بھی بھوک لگتی ہے اور کیا خدا بھی جنسی تعلق رکھتا ہوگا؟ اگر رکھتا ہے تو کس لیے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں بار بار سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اس کے بعد ابھی کہانی آگے باقی ہے
اب یہ سوال تھے خدا کی ذاتیات کے اوپر اور خدا کی بناوٹ کے اوپر، چلیں خدا بن گیا، خدا کی بناوٹ بھی ہو گئی، خدا کی ذاتیات بھی ہو گئی، اب ہم کرتے ہیں کہ خدا کو رہنے کے لیے کونوں مکان کی ضرورت تھی یا نہیں تھی، کیونکہ اگر ہم اس دنیا کائنات کا اسٹڈی کرتے ہیں تو یہ دنیا کائنات جو ہے وہ ہمیشہ سے موجود نہیں تھی، یعنی کہ ہاں کچھ پلانٹس موجود تھے، کچھ سیارے موجود تھے، یہ اسپیس موجود تھا اور کتنے عرصے سے موجود ہے، اب یہاں کسی بھی جو ہے وہ احاطہ یا حتمی اس کے نتیجے پر نہیں پہنچے، کیوں؟ کیونکہ اگر ہم روشنی کی رفتار سے بھی سفر کریں تب بھی ہم اس پوری کائنات یا جو خلا ہے اس کو پار نہیں کر سکتے۔ تو اگر انسان اس خلا کو پار نہیں کر سکتا تو اس کے بننے کا اور اس کے ہونے کا یہ کب سے ہے؟ اس کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکال سکتا مگر ہاں ہمارے پاس ایسی ایویڈنس اور ایسے ریسرچ موجود ہے جس میں ہم یہ جان سکتے ہیں یہ کرہِ عرض، یہ زمین، یہ سات یا نو ستارے یہ کس طرح جو ہے وجود میں آئے جسے ہم نظام شمسی کے سیارے کہتے ہیں ان سیاروں کا مدار کب ہوا؟ سورج کب سے بنا؟ مارس کب سے ہے؟ پلوٹو کب سے ہے؟ زمین کب سے ہے؟ چاند کب سے ہے؟ یہ چیزیں تو ہم جان سکتے ہیں مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ کون سے ستارے پہلے سے وجود میں ہیں سائنٹسٹ کا کہنا ہے کہ اس دنیا کائنات میں ہم کچھ ستارے ایسے بھی دیکھتے ہیں جو کہ درحقیقت موجود نہیں مگر وہ ہم سے اتنا دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک جب پہنچے گی جب تک وہ سیارے یا ستارے کب کے ختم ہو چکے ہوں گے یعنی کہ ہم اتنی بڑی کائنات میں موجود ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ درحقیقت خدا کی عمر کتنی ہیں ایک لاکھ سال، دو لاکھ سال، پانچ ارب سال، تین ارب سال، چھ ٹریلن سال یا انکاؤنٹیبل سال، خدا کب سے ہے؟ خدا کی عمر کب سے ہے؟ اور اگر خدا تھا تو پھر خدا نے یہ زندگی صرف کچھ عرصہ پہلے ہی کیوں شروع کی؟ اگر آپ شروع سے کہتے ہیں کہ خدا ازل سے تھا یعنی کہ بہت پہلے سے یعنی کہ زندگی اسٹارٹ ہونے سے پہلے سے اس کائنات کے ان ستاروں سے بھی پہلے جو کہ اس دنیا میں سب سے پرانے ہیں تو پھر خدا کو ایک دم خیال اس زمین پر انسان کو بنانے کا کیسے آیا؟ ہے نہ سوچنے کی بات؟ ضرور جواب دیجیے گا اگر ہمت ہے تو
اگر ہم تھوڑا سا سائنٹفکلی مشاہدہ کریں تو آپ یہ جان کر حیران ہو جائیں گے کہ یہ جو دنیا ہے یہ تقریباً ساڑھے چار ارب سال جو ہے وہ پہلے بنی۔ ساڑھے چار ارب سال، جی ہاں، اور جبکہ کائنات کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ کائنات تیرہ ارب سال پہلے کی تخلیق ہے تو بیچ میں نو ارب چھبیس ہزار، سوری نو ارب چھبیس کروڑ سال یہ خدا کیا کر رہا تھا؟ کیا خدا نو ارب سال تک جو ہے وہ کہیں گھوم رہا تھا؟ کہیں صرف بیٹھا ہوا تھا؟ تو خدا کو اس کائنات کو بنانے کا یعنی کہ اس زمین کو بنانے کا خیال نو ارب سال کے بعد ہی کیوں آیا؟ اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ آپ اپنے علمائے کرام سے کیوں نہیں پوچھتے؟ اپنے مولویوں سے، مفکروں سے، حنبلیوں سے کیوں نہیں پوچھتے؟ مگر جبکہ آپ کی دینی کتابوں میں دیکھیں تو وہاں پہ اتنی بڑی زندگی اور کائنات کے بارے میں لکھا ہی نہیں گیا۔ وہاں پہ تو لکھا ہے دس ہزار سال، آٹھ ہزار سال، چھ ہزار سال۔ اور اس سب کے بیچ دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ کے خدا نے اس دنیا کو چار ارب سال پہلے بنایا اور اپنے مذہبی پیشوا یعنی کہ پیغمبر، نبی، رسول صرف اس دس سال، دس ہزار سال کی عمر میں کیوں بھیجے؟ یعنی کہ اگر آپ پیچھے جائیں تو یہ تمام انبیا، رسول جو اوتار ہیں یہ دس ہزار سال کے اندر ہی آئے ہیں۔ آپ مجھے یہ بتائیے کہ کیوں آپ کا خدا نو ارب سال تک سویا رہا یا نہ جانے گلیوں گلیوں گھومتا رہا؟ اس نے کیوں نہیں سوچا کہ اسے انسان بنانا ہے؟ اور اس نے انسان کو بنایا بھی تو شعور آج آپ میں اور مجھ میں صرف دس ہزار سال پہلے کیوں ڈالا؟ کہاں گئے ہمارے تیرہ ارب سال؟ اب جانتے ہیں نا تیرہ ارب کتنا بڑا عدد ہوتا ہے؟
یہ تو اب ہم ٹیکنالوجی سائنس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جان پائے ہیں کہ درحقیقت یہ دنیا جو ہے وہ چار ارب سال پہلے تخلیق میں آئی اور یہ کائنات جو ہے وہ تیرہ ارب سال پہلے تخلیق میں آئی کیوں ہمیں کسی مذہبی پیشوا نے ایگزیکٹ اماؤنٹ نہیں بتائی ایگزیکٹ نمبر نہیں بتایا اس کا مطلب کیا ہمیں بتائے گئے خدا جھوٹے ہیں ہمیں وہ جھوٹی کہانیاں سنائی گئیں یا ہمارے خداؤں کو پتہ ہی نہیں تھا یا اس وقت جن لوگوں نے مذہب دین کی بنیاد رکھی وہ لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے کہ آگے چل کر ہم جب ریسرچسٹ بنیں گے سائنس ٹیکنالوجی کو پڑھیں گے تو ہمیں پتہ لگے گا کہ درحقیقت یہ دنیا کتنی پرانی ہے اور اس سے بڑی بات اگر ہم بات کریں اس دنیا پر رہنے والی تمام نباتات کو کیا دنیا کتنی دفعہ تباہ ہوئی ہے کتنی دفعہ اس دنیا کو ختم کیا ہے اس بات پہ کیوں کسی نے کبھی آواز نہیں اٹھائی یا کیوں ہماری کتابوں میں نہیں لکھا کہ ہم نے اس دنیا کو تباہ کیا اور ہم نے پھر سے اسے تخلیق کیا آپ کو یہ چیز کہیں نہیں ملے گی جبکہ سائنس میں بار بار آتا ہے جبکہ ہم ٹیکنالوجی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا بنانے سے پہلے بار بار تباہ ہو چکی ہے اور بار بار عمل میں لائی جا چکی ہے تو کیا خدا اپنی مرضی سے لوگوں کو ختم کر دیتا ہے مخلوق کو ختم کر دیتا ہے دنیا بناتا ہے اور پھر سے تخلیق دیتا ہے یا ہم سے پہلے جو مخلوقات آئیں تھیں ان پر ایکسپیریمنٹ کیے جا رہے تھے یا آج ہم پر بھی ایکسپیریمنٹ کیا جا رہا ہے اور پھر ہمارا ایکسپیریمنٹ ختم ہونے کے بعد ہمیں ختم کر دیا جائے گا اور ہم سے بہتر مخلوق لے آئی جائے گی کیا ہمیں ڈائنوسورس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا کہ ڈائنوسورس کی پوری سپیشز جس نے 6 کروڑ 50 لاکھ سال تک حکومت کی اس دنیا پر وہ آج ختم ہو گئی بنا کسی وجہ سے
نے یہ کہا کہ یہ مذہب کسی آخرت میں غریب کو کوئی انصاف دے گا اس کو انصاف دے گا جس کی عزت لوٹی گئی ہو اس کو انصاف دیے گا جس کو ظلم کے بعد مظلوم نے روند دیا ہو مگر یوں ہی میرے ذہن میں آج خیال آیا آیا، اور میں یہ خیال آنے پر سوچ رہا ہوں کہ پھر تو ہمارا خدا بھی رشوت خور ہے، ایسا رشوت خور جو بڑی دعائیں، بڑی بھینٹ، بڑی دےگیں، بڑی منّتیں، بڑی کھیرنیاں، بڑی نیاز اور بڑی، جو ہے، وہ اس کی قرآن خانیاں کرا کر ہم اسے منوا سکتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی کا رب ہو، مگر وہ تو پیسے سے بک جاتا ہے۔ مان لیجیے کہ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ چوری کا ہو اور اس میں سے آپ نے دس لاکھ غریبوں میں کھانا تقسیم کر دیا ہو، تو سوچئے، آپ کی نیکیاں اس قدر بڑھ جائیں گی کہ ایک غریب آدمی پوری زندگی لگا کر بھی دس لاکھ روپے لگا کر لوگوں کو کھانا نہیں کھلا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ تو آخرت میں بھی غریب جو ہے، وہ یوں ہی رہا، ناقابلِ انصاف، اور امیر نے انصاف خرید لیا۔ تو پھر در حقیقت یہ کیسا خدا ہوا؟ یہ خدا تو بک رہا ہے۔ اس خدا میں یقین جانئے ہم انسانوں جیسی ہی خوبیاں ہیں، جو کہ زیادہ پیسے دینے پر، زیادہ بھینٹ چڑھانے پر زیادہ خوش ہوتا ہے۔ اور پھر رہا انسان کی بات، کہ ہم انسان بھی عجیب ہیں، ہم کبھی کون سی پوجا کرتے ہیں، اور ہم کبھی کون سے دربار پر ان گنت دےگے دیتے ہیں۔ تو در حقیقت خدا ہے کیا؟ خدا تو کہیں ہے موجود، ہمارے اندر یا ہمارے بعد، ایسا خدا جس کے اندر ہماری طرح ایک لالچ بھی ہے، جس نے انسان کو اسی لیے بنایا کہ وہ اس کی عبادت کرے، اس کی تعریف کرے۔ تو یہ تو خوشامتی خدا ہوا۔ خدا ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے یا تو خدا کے نام کو بدل دیا گیا ہے، یا خدا کو ہی بدل دیا گیا ہے، یا ہمیں جو چہرہ دکھایا گیا، وہ کسی خدا کا نہیں، وہ خدا جو بچوں کو مار دیتا ہے، وہ خدا جو ظلم و ستم پر خاموش رہتا ہے، وہ خدا جو حق کے روندے جانے پر کچھ نہیں کرتا، وہ خدا صرف اپنی عبادت کرنا چاہتا ہے اور اپنی عبادت کروانا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم سجدے پہ سجدہ کریں
رات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی، مگر شہر پر صبح اترنے سے پہلے ہی موت اتر چکی تھی۔ ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے درمیان دھواں ایسے اٹھ رہا تھا جیسے زمین نے آسمان کے نام کوئی سیاہ خط لکھا ہو۔ ایک عورت ملبے کے کنارے بیٹھی تھی۔ اس کی گود میں ایک بچہ تھا، مگر اب وہ بچہ نہیں رہا تھا؛ وہ ایک سوال بن چکا تھا۔ اس کی پیشانی پر گرد تھی، ہونٹوں پر خون کی ایک سوکھی ہوئی لکیر، اور انگلیاں ایسی بند تھیں جیسے آخری لمحے میں اس نے زندگی کو مٹھی میں پکڑنے کی کوشش کی ہو۔ ماں اس کا نام لے رہی تھی، حالانکہ نام اب کسی کو واپس نہیں بلا سکتے تھے۔ وہ کبھی بچے کا چہرہ دیکھتی، کبھی آسمان کو، اور ان دونوں کے درمیان ایک ایسی خاموشی پھیلی ہوئی تھی جسے کسی مذہبی کتاب کا جواب پر نہیں کر سکتا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ خدا انسان کے دل سے بھی زیادہ قریب ہے۔ مگر اس عورت کے دل میں اس لمحے صرف ایک لاش تھی، خدا نہیں۔ شاید خدا قریب تھا، مگر قربت اگر محسوس نہ ہو تو فاصلے سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ ایک ایسی موجودگی جو دکھائی نہ دے، سنائی نہ دے، ہاتھ نہ تھامے، اور صرف عقیدے کے ذریعے تسلیم کی جائے، مصیبت کے لمحے میں رحمت کم اور امتحان زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ انسان خدا کی عدم موجودگی سے اتنا نہیں ٹوٹتا جتنا اس خیال سے کہ وہ موجود تھا، دیکھ رہا تھا، روک سکتا تھا، مگر اس نے روکا نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کے نرم جملے سخت سوالوں میں بدل جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا آزمائش ہے۔ لیکن آزمائش اور ظلم میں فرق کون طے کرے گا؟ ایک طالب علم کو امتحان میں مشکل سوال دیا جا سکتا ہے، مگر اس کے ہاتھ کاٹ کر قلم تھمانا امتحان نہیں ہوتا۔ اگر ایک انسان دولت، تعلیم، محفوظ گھر، صحت مند جسم اور محبت کرنے والے خاندان میں پیدا ہو، جبکہ دوسرا بچہ جنگ، بھوک، بیماری، خوف اور بے نام قبر کے درمیان آنکھ کھولے، تو دونوں کے امتحان کو ایک ہی اخلاقی ترازو میں کیسے تولا جائے گا؟ کیا آسمان کے حساب میں حالات کا فرق اتنی باریکی سے لکھا جاتا ہے جتنی آسانی سے زمین کے واعظ اسے "تقدیر" کہہ کر گزر جاتے ہیں؟
اس مردہ بچے کا امتحان کس بات کا تھا؟ اس نے ابھی کسی نظریے کو رد نہیں کیا تھا، کسی عبادت سے انکار نہیں کیا تھا، کسی انسان کا حق نہیں مارا تھا۔ اسے تو خدا کا پورا نام بھی معلوم نہ تھا۔ وہ نہ مومن تھا، نہ کافر؛ وہ صرف زندہ تھا۔ پھر وہ مر گیا۔ شاید مذہبی ذہن فوراً کہے کہ اسے بہتر جگہ مل گئی، مگر یہ جواب بچے کے لیے نہیں، زندہ رہ جانے والوں کے لیے گھڑا جاتا ہے۔ جنت کا وعدہ شاید مرنے والے کی تقدیر بیان کرے، مگر یہ اس گولی کی اخلاقی وضاحت نہیں جو اس کے سینے میں اتری۔ بعد از موت انعام، قبل از موت اذیت کو لازماً منصفانہ نہیں بنا دیتا۔
انسان نے صدیوں تک آسمان کی طرف دیکھا ہے۔ کبھی بارش مانگی، کبھی اولاد، کبھی فتح، کبھی شفا، کبھی صرف اتنی مہلت کہ کسی عزیز کی سانس صبح تک قائم رہے۔ آسمان نے کبھی بارش دی، کبھی قحط؛ کبھی بچہ پیدا ہوا، کبھی ماں مر گئی؛ کبھی لشکر بچ گیا، کبھی پورا شہر راکھ ہوگیا۔ مگر انسان نے ہر نتیجے کو خدا کی طرف منسوب کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیا۔ دعا پوری ہوئی تو رحمت، پوری نہ ہوئی تو حکمت؛ زندگی ملی تو فضل، موت آئی تو تقدیر؛ دروازہ کھلا تو کرم، بند ہوا تو آزمائش۔ خدا ہر صورت میں درست ثابت ہوا، کیونکہ انسان نے اپنے سوال کو ہی مجرم بنا دیا۔
شاید یہ ایمان کی قوت ہے۔ شاید یہ انسان کے ذہن کی دفاعی ترکیب ہے۔ شاید دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہے کہ مصیبت میں انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔
ایک ہسپتال کے نیم تاریک کمرے میں ایک بوڑھا آدمی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس کے خاندان نے اس کے گرد دعاؤں کا حصار بنا رکھا تھا۔ کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی، کسی کی آنکھ میں یقین، کسی کی آواز میں لرزش۔ سب خدا سے زندگی مانگ رہے تھے، حالانکہ مشینیں آہستہ آہستہ اس کی موت کا اعلان کر رہی تھیں۔ بوڑھے نے آنکھیں کھولیں، چھت کو دیکھا، پھر اپنے بیٹے کی طرف۔ اس کی زبان پر کوئی عظیم فلسفیانہ جملہ نہ آیا۔ اس نے صرف پانی مانگا۔ شاید انسان کی پوری الٰہیات آخری لمحے میں ایک گھونٹ پانی سے چھوٹی ہوجاتی ہے۔
جب وہ مر گیا تو ایک شخص نے کہا، "خدا کو یہی منظور تھا۔" یہ جملہ کمرے میں ایسے گرا جیسے موت کے بعد ایک دوسری موت واقع ہوگئی ہو۔ کیا واقعی یہی منظور تھا، یا یہ جملہ ہماری بے بسی کو قابلِ برداشت بنانے کا طریقہ تھا؟ انسان جب کسی حادثے کا سبب نہیں سمجھ پاتا تو اسے ارادہ کہہ دیتا ہے۔ جب نظام نظر نہیں آتا تو اسے منصوبہ کہتا ہے۔ جب جواب نہیں ملتا تو خاموشی کو حکمت کا نام دیتا ہے۔ شاید ہم خدا کو نہیں سمجھتے؛ شاید ہم صرف اپنی لاعلمی کو مقدس الفاظ پہنا دیتے ہیں۔
مگر سوال یہ نہیں کہ مذہبی جواب ہمیشہ غلط ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انہیں درست ماننے کی قیمت کیا ہے۔ اگر ہر ناقابلِ فہم ظلم کسی پوشیدہ حکمت کا حصہ ہے، تو پھر انسان ظلم کے خلاف اخلاقی احتجاج کس بنیاد پر کرے؟ اگر ایک بچے کی موت کائناتی منصوبے میں ضروری تھی، تو قاتل کتنا ذمہ دار رہ جاتا ہے؟ ہم قاتل کو مجرم کہتے ہیں کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ وہ مختلف فیصلہ کرسکتا تھا۔ لیکن اگر سب کچھ پہلے ہی ایک کامل ارادے میں لکھا جا چکا تھا، تو انسانی جرم اور خدائی منصوبے کے درمیان حد کہاں قائم ہوتی ہے؟
یہ سوال خدا سے نفرت کے سبب پیدا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سوال اسی شخص کے دل میں سب سے شدت سے اٹھتا ہے جو خدا سے سب سے زیادہ محبت کرنا چاہتا تھا۔ ملحد شاید خدا کی خاموشی پر ہنس کر گزر جائے، مگر ایک مومن اس خاموشی میں اپنی پوری روح ٹوٹتے ہوئے سنتا ہے۔ خدا نہ ہونے کا دکھ ایک خلا ہے؛ خدا کے ہوتے ہوئے دکھ کا واقع ہونا ایک الزام بن جاتا ہے۔
رات کے آخری حصے میں وہ ماں اب بھی ملبے کے پاس بیٹھی تھی۔ لوگ اسے تسلی دے رہے تھے، مگر تسلی اکثر وہ زبان ہے جس سے محفوظ لوگ مصیبت زدہ انسان کی حقیقت کو چھوٹا کرتے ہیں۔ کسی نے کہا صبر کرو۔ کسی نے کہا خدا بہتر جانتا ہے۔ کسی نے کہا تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ مگر اس کے چہرے پر ایک ایسا سوال تھا جو الفاظ میں نہیں آیا:
اگر خدا بہتر جانتا تھا، تو کیا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ایک ماں اپنے مردہ بچے کا وزن زندگی بھر اٹھاتی ہے؟
اور اگر اسے معلوم تھا، تو کیا علم کے ساتھ درد بھی تھا؟
یا خدا کا علم انسانی آنسوؤں کو دیکھتا تو ہے، مگر بھیگتا نہیں؟
خدا کے متعلق انسان نے دو عظیم دعوے کیے: وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور وہ سراپا رحمت ہے۔ یہ دونوں تصورات الگ الگ دیکھے جائیں تو روح کو سکون دیتے ہیں، مگر انسانی تاریخ کے خون آلود صفحوں کے سامنے انہیں ایک ساتھ رکھ دیا جائے تو ایک ایسا تضاد پیدا ہوتا ہے جس سے مذہب صدیوں سے مکالمہ کرتا آیا ہے۔
اگر خدا دکھ کو روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا، تو اس کی قدرت محدود معلوم ہوتی ہے۔ اگر وہ روک سکتا ہے مگر روکنا نہیں چاہتا، تو اس کی رحمت سوال بن جاتی ہے۔ اگر وہ روک سکتا بھی ہے اور چاہتا بھی ہے، تو دکھ کی مسلسل موجودگی کی کیا توجیہ ہے؟ اور اگر نہ روک سکتا ہے نہ چاہتا ہے، تو پھر اس ہستی کو خدا کہنے کا مفہوم کیا باقی رہ جاتا ہے؟
اس استدلال کا جواب اکثر انسانی آزادی سے دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا، اور ظلم اسی آزادی کا نتیجہ ہے۔ مگر آزادی کی وضاحت جنگ شروع کرنے والے انسان کو تو کسی حد تک سمجھا سکتی ہے، جنگ میں مرنے والے بچے کو نہیں۔ قاتل کی آزادی مقتول کے حقِ زندگی سے بڑی کیوں ہوگئی؟ ایک انسان کو اخلاقی اختیار دینے کے لیے دوسرے انسان کو اس اختیار کی قیمت کیوں بننا پڑا؟ کیا ایسی آزادی جو بے گناہ کے خون پر قائم ہو، خدائی عطیہ ہے یا ایک ہولناک خطرہ؟
پھر ہر دکھ انسانی آزادی سے پیدا بھی نہیں ہوتا۔ زلزلہ کسی اخلاقی فیصلے کا نتیجہ نہیں، کینسر کسی ظالم کا انتخاب نہیں، پیدائشی بیماری کسی فوجی کا حکم نہیں۔ ایک شیر ہرن کے بچے کو چیرتا ہے تو وہاں گناہ نہیں، صرف فطرت ہوتی ہے۔ سمندر ایک گاؤں نگل لیتا ہے تو وہاں بدنیتی نہیں، صرف حرکت کرتی ہوئی زمین اور پانی ہوتے ہیں۔ اگر فطرت خدا کی بنائی ہوئی ہے تو اس کے قوانین میں اتنی بے رحمی کیوں رکھی گئی کہ زندگی اکثر دوسری زندگی کو کھا کر باقی رہتی ہے؟
انسان نے فطرت کی خوبصورتی میں خدا کی صناعی دیکھی ہے۔ پھول کی ساخت، ستاروں کی ترتیب، بچے کی مسکراہٹ اور بارش کی خوشبو کو رحمت کی دلیل بنایا ہے۔ مگر اسی فطرت میں طفیلی کیڑا ایک زندہ جسم کے اندر پرورش پاتا ہے، بیماری ایک بچے کے خلیوں کو اس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتی ہے، اور بھوک جانور کو اپنے ہی کمزور بچے کو چھوڑ دینے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر حسن خالق کی طرف اشارہ ہے تو وحشت کس طرف اشارہ کرتی ہے؟ ہم پھول کو خدا کے نام لکھتے ہیں، مگر زہر کو محض فطرت کیوں کہتے ہیں؟
شاید انسان نے خدا کی رحمت کو اپنے تجربے کے منتخب حصوں سے اخذ کیا۔ جس دن اسے رزق ملا، اس نے شکر کیا؛ جس دن کسی دوسرے کا بچہ بھوک سے مر گیا، اس نے اسے خبر سمجھ کر اخبار بند کردیا۔ انسانی مذہب اکثر ذاتی نجات کے گرد گھومتا ہے۔ جو محفوظ ہے وہ دنیا کو امتحان کہتا ہے، کیونکہ امتحان کا کمرہ اس کے لیے نسبتاً روشن ہے۔ جس کے گھر پر بم گرا ہو، اس سے دنیا کی حکمت پر گفتگو کرنا اخلاقی جرأت نہیں، کبھی کبھی جذباتی بے حسی ہوتی ہے۔
کیا ممکن ہے کہ خدا کی رحمت انسانی تصورِ رحمت سے بالکل مختلف ہو؟ مذہبی مفکر کہہ سکتا ہے کہ خدا کی نگاہ ابدیت پر ہے، جبکہ انسان چند لمحوں کو دیکھتا ہے۔ مگر پھر ایک مشکل پیدا ہوتی ہے۔ اگر خدائی رحمت کا مفہوم انسانی رحم سے اس قدر مختلف ہے کہ بچے کی اذیت بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے، تو ہم خدا کو رحیم کہتے وقت کس معنی میں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں؟ اگر "رحمت" کا وہ مطلب نہیں جو انسان دکھ کم کرنے، کمزور کو بچانے اور زخم پر ہاتھ رکھنے سے سمجھتا ہے، تو شاید لفظ وہی ہے مگر تصور بدل چکا ہے۔
ایک باپ اپنے بچے کو آگ میں جلتے دیکھے اور اسے بچا سکتا ہو، مگر یہ کہہ کر نہ بچائے کہ اس درد سے ایک بڑی حکمت جنم لے گی، تو ہم اسے ظالم کہیں گے۔ مگر یہی استدلال خدا کے متعلق آئے تو ہم اپنی اخلاقی زبان تبدیل کردیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں خالق کے فیصلے انسانی پیمانوں سے بلند ہیں۔ شاید واقعی بلند ہوں۔ لیکن پھر انسانی عقل خدا کی نیکی کو پہچانتی کیسے ہے؟ اگر ہم شر کو شر کہنے کے لیے عقل استعمال کرتے ہیں مگر خدا کے عمل کو اچھا ثابت کرنے کے لیے اسی عقل کو معطل کردیتے ہیں، تو یہ ایمان ہے یا فکری رعایت؟
یہاں ایک اور خوفناک امکان پیدا ہوتا ہے: شاید انسان خدا کو اچھا اس لیے نہیں کہتا کہ اسے خدائی نیکی کا ثبوت مل گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کو برا کہنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ مطلق طاقت کے سامنے اخلاقی زبان اکثر عبادت میں بدل جاتی ہے۔ انسان بادشاہ کے ظلم کو بھی حکمت کہتا رہا ہے، کیونکہ طاقت سوال کو گستاخی بنا دیتی ہے۔ کیا ہماری الٰہیات میں بھی کہیں طاقت اور نیکی ایک دوسرے میں خلط ہوگئے ہیں؟ کیا ہم خدا کو اس لیے حق مانتے ہیں کہ وہ حق ہے، یا اس لیے کہ وہ خدا ہے؟
لیکن ان سوالوں کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر کائنات میں کوئی خدا نہیں، تو پھر دکھ کسی منصوبے کی خرابی نہیں، بلکہ اندھی فطرت کا نتیجہ ہے۔ تب بچے کی موت المناک تو ہے، مگر کائناتی ناانصافی نہیں، کیونکہ ناانصافی کے لیے ایک اخلاقی حاکم درکار ہوتا ہے۔ الحاد مسئلۂ شر کو حل نہیں کرتا؛ وہ صرف اس عدالت کو ختم کردیتا ہے جہاں شکایت پیش کی جاسکتی تھی۔ خدا کے بغیر انسان دکھ سے آزاد نہیں ہوتا، صرف اس امکان سے محروم ہوجاتا ہے کہ کسی سطح پر اس دکھ کا جواب موجود ہو۔
یہی وجہ ہے کہ انسان خدا سے لڑتے ہوئے بھی اسے مکمل طور پر چھوڑ نہیں پاتا۔ خدا کے وجود میں درد کا مسئلہ ہے، مگر خدا کی عدم موجودگی میں معنی کا مسئلہ۔ ایک طرف ایسا خدا ہے جو شاید جواب نہیں دیتا؛ دوسری طرف ایسی کائنات ہے جس میں جواب دینے والا کوئی ہے ہی نہیں۔ انسان ان دونوں اندھیروں کے درمیان کھڑا ہے، اور دونوں کو روشنی کہنے سے انکار کرتا ہے۔
ایک مذہبی شخص نے اپنی بیٹی کی بیماری کے دوران ہر رات دعا کی۔ اس نے صدقہ دیا، روزے رکھے، اپنے گناہوں پر رویا، دوسروں سے دعائیں کروائیں۔ جب بیٹی مر گئی تو لوگوں نے کہا خدا نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ مگر باپ کے دل میں پہلی بار یہ خیال آیا کہ شاید خدا نے نہیں بلایا، شاید بیماری نے صرف اپنا کام کیا۔ وہ اس خیال سے ڈر گیا۔ اسے اپنی بیٹی کی موت سے کم، اس امکان سے زیادہ خوف آیا کہ شاید اس کی تمام دعائیں کمرے کی چھت سے ٹکرا کر اسی کے سینے میں واپس آتی رہی تھیں۔
وہ نماز کے لیے کھڑا ہوا، مگر الفاظ اس کے منہ میں اجنبی ہوگئے۔ اسے لگا وہ ایک ایسی ہستی سے گفتگو کررہا ہے جس کے سامنے اس کی بیٹی کی موت ایک واقعہ تھی، جبکہ اس کے لیے پوری کائنات کا خاتمہ۔ اس نے ہاتھ اٹھائے، مگر دعا نہ کرسکا۔ پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ ایمان کا ٹوٹنا شور سے نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی ایک انسان خاموشی سے خدا کو پکارتا ہے، اور جب جواب نہیں آتا تو اسی خاموشی میں اس کا یقین مر جاتا ہے۔
انسان دعا کیوں کرتا ہے؟ شاید اس لیے کہ حقیقت ہمیشہ اس کے قابو میں نہیں ہوتی۔ جہاں اختیار ختم ہوتا ہے، وہاں دعا شروع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر علاج کرتا ہے، مگر شفا کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ کسان بیج بوتا ہے، مگر بارش کے لیے آسمان دیکھتا ہے۔ ماں بچے کو دوا دیتی ہے، پھر اس کے سرہانے بیٹھ کر ایسی ہستی کو پکارتی ہے جسے اس نے کبھی دیکھا نہیں۔ دعا انسانی بے بسی کی سب سے خوبصورت اور سب سے دردناک زبان ہے۔
لیکن تقدیر کے تصور کے سامنے دعا ایک پیچیدہ سوال بن جاتی ہے۔ اگر مستقبل پہلے ہی ایک کامل علم میں متعین ہے، تو دعا کس واقعے کو تبدیل کرتی ہے؟ اگر دعا تقدیر بدل دیتی ہے تو پہلی تقدیر کیوں لکھی گئی؟ اور اگر دعا خود اسی تقدیر کا حصہ تھی تو انسان کی درخواست اور خدائی فیصلے میں حقیقی فرق کیا رہا؟ شاید سب کچھ پہلے سے طے تھا: مصیبت، دعا، آنسو اور نتیجہ۔ پھر انسان دعا نہیں کررہا؛ وہ صرف ایک پہلے سے لکھے گئے منظر میں اپنے مکالمے ادا کررہا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ خدا کا علم انسانی آزادی کو مجبور نہیں کرتا۔ کسی واقعے کا پہلے سے جاننا، اسے واقع کرنے کے برابر نہیں۔ مگر خدا کا علم عام انسانی پیش گوئی نہیں۔ اگر خدا کا علم غلط نہیں ہوسکتا، تو انسان وہ فیصلہ کیسے کرے گا جو خدائی علم کے خلاف ہو؟ اگر خدا ازل سے جانتا ہے کہ ایک شخص کل جرم کرے گا، تو کیا وہ شخص حقیقتاً جرم نہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے؟ اگر رکھتا ہے تو خدائی علم کے غلط ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے؛ اگر نہیں رکھتا تو اخلاقی جواب دہی کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
انسان کو آزاد بھی کہنا ہے اور خدا کے علم کو کامل بھی۔ دونوں دعوے مذہبی فکر میں ساتھ رہتے ہیں، مگر ان کے درمیان تناؤ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ شاید انسانی عقل وقت کے باہر موجود علم کو سمجھنے سے عاجز ہے۔ یہ امکان تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ مگر لاعلمی کو جواب کہنا اور جواب نہ ہونے کا اعتراف کرنا ایک جیسی چیزیں نہیں۔ "یہ راز ہے" کبھی دیانت دارانہ اعتراف ہوتا ہے، اور کبھی ایک ایسے دروازے پر مذہبی پردہ جس کے پیچھے کوئی واضح تصور موجود نہیں ہوتا۔
عبادت کا سوال بھی اسی طرح پیچیدہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خدا کو انسان کے سجدوں کی ضرورت نہیں، انسان کو عبادت کی ضرورت ہے۔ یہ بات نفسیاتی طور پر معنی رکھ سکتی ہے۔ عبادت نظم، تواضع، شکر اور خود احتسابی پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن پھر عبادت نہ کرنے پر سزا کا تصور کیوں؟ اگر ایک عمل صرف انسان کے فائدے کے لیے ہے تو اس سے محرومی اپنی فطری قیمت رکھتی ہے؛ اضافی عذاب کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ایک ڈاکٹر مریض کو دوا تجویز کرتا ہے، مگر دوا نہ لینے پر اسے آگ میں نہیں ڈالتا۔
شاید عبادت محض فائدہ نہیں بلکہ حقیقت کے سامنے انسان کا اخلاقی اعتراف ہے۔ لیکن وہ انسان جو مخلصانہ تحقیق کے بعد بھی خدا کے وجود پر یقین نہ کرسکے، کیا اس کا عدمِ یقین اخلاقی جرم ہے؟ یقین ہمیشہ ارادے سے پیدا نہیں ہوتا۔ انسان اپنے آپ کو حکم دے کر کسی تصور کو سچا محسوس نہیں کرسکتا۔ اگر ثبوت ایک شخص کو قائل نہ کرے تو وہ صرف خوف کے تحت الفاظ دہرا سکتا ہے، ایمان پیدا نہیں کرسکتا۔ کیا ایک عادل خدا ظاہری اطاعت کو فکری دیانت پر ترجیح دے گا؟
ایک شخص ایسے علاقے میں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک مذہب کو آخری سچ سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا شخص کسی اور تہذیب میں آنکھ کھولتا ہے، جہاں بالکل مختلف عقیدہ مقدس حقیقت ہے۔ دونوں اپنے والدین، اساتذہ، عبادت گاہوں، زبان اور معاشرے سے اپنے اپنے خدا کا تعارف حاصل کرتے ہیں۔ دونوں مخلص ہیں، دونوں دعا کرتے ہیں، دونوں اپنے مذہبی تجربات کو حقیقت سمجھتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کو گمراہ کہہ سکتے ہیں۔ اگر ایک ہی خدا ہے، تو اس کی طرف جانے والے راستوں میں اتنی متضاد نشانیاں کیوں ہیں؟
ایک مولوی مسجد میں کھڑا تھا۔ اس نے خدا کی وحدانیت، اس کے عدل اور آخرت کی جواب دہی پر تقریر کی۔ اس کے الفاظ میں یقین تھا، مگر رات کو جب وہ تنہا ہوا تو اسے اپنے بیٹے کی قبر یاد آئی۔ اس نے برسوں دعا کی تھی کہ بچہ بچ جائے۔ وہ دوسروں کو بتاتا رہا کہ دعا کبھی ضائع نہیں ہوتی، مگر اپنے دل میں اسے معلوم تھا کہ کچھ دعائیں قبول نہ ہونے سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں؛ وہ انسان کے اندر خدا کی تصویر بدل دیتی ہیں۔ اس نے تسبیح اٹھائی، پھر رکھ دی۔ اسے ڈر تھا کہ اس کا اگلا سوال عبادت نہیں، بغاوت بن جائے گا۔
ایک پنڈت نے مندر میں دودھ، پھول اور خوشبو چڑھتے دیکھے۔ دروازے کے باہر ایک بھوکی لڑکی بیٹھی تھی۔ عقیدت مند دیوتا کے سامنے سر جھکا کر نکلتے اور اسے نظر انداز کرتے جاتے۔ پنڈت نے پہلی بار سوچا کہ اگر مقدس ہستی کو دودھ کی ضرورت نہیں، اور بچے کو ہے، تو اصل عبادت کس مقام پر ہونی چاہیے؟ وہ برسوں رسوم کی حفاظت کرتا رہا تھا، مگر اس دن اسے شبہ ہوا کہ کہیں انسان نے خدا کو خوش کرنے کے نام پر انسان کو بھلا تو نہیں دیا۔
ایک پادری نے صلیب کے نیچے محبت اور قربانی کی بات کی۔ اس کے سامنے بیٹھے لوگ نجات کے متعلق سن رہے تھے، مگر اسی شہر میں پناہ گزین خاندان سردی میں سو رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ مذہبی زبان بعض اوقات انسان کو آسمان کی طرف اتنا دیکھنا سکھاتی ہے کہ وہ زمین پر پڑے زخمی کو دیکھنا بھول جاتا ہے۔ اس نے اپنی تقریر روک دی۔ کچھ لمحوں کے لیے عبادت گاہ میں خاموشی چھا گئی۔ شاید اس دن اس کا سب سے سچا وعظ وہ تھا جو اس نے نہیں دیا۔
مذہبی نظام ہمیشہ خدا کی تلاش نہیں ہوتے؛ کبھی وہ انسانی طاقت کی تنظیم بھی بن جاتے ہیں۔ جو شخص خدا کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے، وہ دوسروں کے خوف، گناہ، نجات اور آخرت پر اثر حاصل کرلیتا ہے۔ مذہب مظلوم کو زبان دے سکتا ہے، مگر حاکم کے ہاتھ میں وہ خاموشی کا ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔ وہ ظلم کے خلاف انقلاب بن سکتا ہے، اور ظلم برداشت کرنے کا نسخہ بھی۔ مسئلہ شاید مذہب کے اندر ہی نہیں، انسان کے اندر ہے، جو ہر مقدس تصور کو بھی اقتدار، شناخت اور برتری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر مذہب اخلاق سکھاتا ہے تو مذہبی معاشرے ہمیشہ اخلاقی کیوں نہیں؟ شاید اس لیے کہ عقیدہ کردار کی ضمانت نہیں۔ انسان خدا پر یقین رکھ سکتا ہے اور پھر بھی اپنے مفاد کو مقدس بنا سکتا ہے۔ وہ عبادت کرسکتا ہے مگر انصاف سے فرار؛ مقدس الفاظ دہرا سکتا ہے مگر کمزور کو کچل سکتا ہے؛ گناہ سے نفرت کا اعلان کرسکتا ہے مگر اپنے ظلم کو دینی جواز دے سکتا ہے۔ بعض اوقات مذہب انسان کو نہیں بدلتا، انسان مذہب کی زبان کو اپنے دفاع کے لیے بدل لیتا ہے۔
شاید خدا کے نام پر سب سے بڑا جرم خدا کا انکار نہیں، بلکہ اپنے مفاد کو خدا کی مرضی کہنا ہے۔
رات کے دو بجے ایک تنہا شخص اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ شہر کی روشنیاں کھڑکی کے شیشے پر لرز رہی تھیں، مگر کمرے کے اندر اندھیرا اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ موجود تھا۔ اس نے خدا کو پکارا۔ بلند آواز سے نہیں، کیونکہ بعض دعائیں زبان سے نہیں نکلتیں؛ وہ صرف سینے کے اندر ایک دباؤ کی صورت پیدا ہوتی ہیں۔ اسے کوئی آواز نہ سنائی دی، مگر کچھ دیر بعد اسے سکون محسوس ہوا۔ کیا یہ خدا تھا؟ یا اس کا دماغ، جو بے بسی کے لمحے میں ایک عظیم موجودگی کا تصور پیدا کرکے خود کو ٹوٹنے سے بچا رہا تھا؟
روحانی تجربہ انسانی تاریخ کے سب سے طاقتور تجربات میں سے ایک ہے۔ صوفی فنا کی کیفیت بیان کرتا ہے، راہب الٰہی حضور کی، یوگی وحدت کی، عابد قرب کی، اور عاشق ایک ایسی روشنی کی جو الفاظ سے باہر ہے۔ مختلف مذاہب کے انسان متضاد عقائد رکھتے ہوئے بھی اپنی باطنی کیفیات کو آخری حقیقت کا تجربہ کہتے ہیں۔ اگر یہ تمام تجربات ایک ہی حقیقت کی مختلف جھلکیاں ہیں تو مذاہب کے ظاہری تضادات ثانوی ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر ہر تجربہ اپنے مذہبی تصور کی تصدیق کرتا ہے، تو کیا دماغ پہلے سے موجود عقیدے کو تجربے کی شکل نہیں دے رہا؟
انسان کا دماغ محض حقیقت کو دیکھتا نہیں، اسے تشکیل بھی دیتا ہے۔ خوف سایوں کو چہرے بنا دیتا ہے، محبت خامیوں کو حسن میں بدل دیتی ہے، یادداشت ماضی کو جوں کا توں محفوظ نہیں رکھتی بلکہ ہر یاد کے ساتھ اسے دوبارہ بناتی ہے۔ پھر یہ کیوں ناممکن ہو کہ تنہائی، مراقبہ، مسلسل عبادت، نیند کی کمی، موسیقی، اجتماعی جذبات یا شدید غم ایک ایسی کیفیت پیدا کریں جسے انسان خدا کی موجودگی سمجھ لے؟
مگر یہ وضاحت بھی فیصلہ کن نہیں۔ کسی تجربے کے عصبی اسباب جان لینا اس کے موضوع کو لازماً باطل نہیں کرتا۔ محبت بھی دماغ میں کیمیائی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے، مگر اس سے محبوب کا وجود جھوٹا نہیں ہوجاتا۔ آنکھ روشنی کو برقی اشاروں میں بدلتی ہے، مگر اس سے بیرونی دنیا معدوم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے دماغ خدا کو تخلیق نہ کرتا ہو بلکہ اسے محسوس کرنے کا آلہ ہو۔ اور ممکن ہے وہ صرف اپنی ہی گہرائی کو خدا کا نام دیتا ہو۔ دونوں امکانات کے درمیان سائنس ابھی ایسی خاموشی میں کھڑی ہے جسے ہر فریق اپنی فتح سمجھنے کے لیے بے تاب ہے۔
کیا انسان خدا کو تلاش کرتا ہے، یا خدا کا تصور تخلیق کرتا ہے؟ شاید یہ سوال بھی اتنا سادہ نہیں۔ انسان اپنی موت جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جس جسم کے ذریعے وہ دنیا کو محسوس کرتا ہے، ایک دن مٹی میں بدل جائے گا۔ وہ اپنے پیاروں کو کھوتا ہے، اپنی بے بسی دیکھتا ہے، ناانصافی کا سامنا کرتا ہے اور پھر ایسی حقیقت کی خواہش کرتا ہے جہاں موت آخری نہ ہو، ظلم بے حساب نہ رہے، اور محبت فنا نہ ہو۔ خدا اس خواہش کا جواب بھی ہوسکتا ہے، اور اسی خواہش کی تخلیق بھی۔
انسان نے آسمان پر ایک ایسی ہستی کا تصور کیا جو اسے دیکھتی ہے، کیونکہ تنہائی ناقابلِ برداشت تھی۔ اس نے آخرت کا تصور کیا، کیونکہ موت ناقابلِ قبول تھی۔ اس نے عدالتِ الٰہی کا تصور کیا، کیونکہ دنیا کی عدالتیں ناکام تھیں۔ اس نے دعا ایجاد کی، کیونکہ خاموشی میں کسی مخاطب کی ضرورت تھی۔ مگر کسی تصور کی نفسیاتی ضرورت اس کے جھوٹا ہونے کا ثبوت نہیں۔ بھوک کھانے کی خواہش پیدا کرتی ہے، اور کھانا واقعی موجود ہے۔ پیاس پانی کی ضرورت پیدا کرتی ہے، اور پانی حقیقت ہے۔ مگر انسان لافانی ہونے کی خواہش بھی رکھتا ہے، اور خواہش ہر بار حقیقت کی ضمانت نہیں۔
یہاں ایمان اور الحاد دونوں کو اپنی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مومن خدا کے وجود کو تجربہ، وحی، کائناتی نظم اور اخلاقی شعور سے اخذ کرتا ہے، مگر اسے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کی تعبیر انسانی ذہن سے گزرتی ہے۔ ملحد خدا کے تصور کو نفسیات، ارتقا، سماج اور خوف سے سمجھاتا ہے، مگر اسے بھی ماننا پڑتا ہے کہ کسی عقیدے کی پیدائش کا سبب بتانا اس کے موضوع کو لازماً غلط ثابت نہیں کرتا۔
شاید خدا انسانی دماغ کی ضرورت ہے۔ شاید انسانی دماغ خدا کی ضرورت کے مطابق بنا ہے۔ شاید دونوں جملے ایک ہی حقیقت کو مختلف سمتوں سے دیکھتے ہیں۔ اور شاید دونوں محض ایسی زبانیں ہیں جن سے محدود انسان نامحدود نامعلوم کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک ملحد رات کو چھت پر بیٹھا تھا۔ وہ برسوں سے کہتا آیا تھا کہ خدا انسان کی ایجاد ہے۔ اس کے دلائل مضبوط تھے، اس کی زبان صاف، اور مذہبی تضادات پر اس کی گرفت گہری۔ مگر اس رات اس کی ماں ہسپتال میں تھی۔ اس نے خود کو دعا کرتے ہوئے پایا۔ وہ فوراً رک گیا، جیسے اس نے اپنے ہی نظریے سے غداری کی ہو۔ پھر اس نے سوچا: کیا میں خدا کو پکار رہا ہوں، یا اپنی بے بسی کو آواز دے رہا ہوں؟ کیا یہ دعا ہے، یا بچپن کی وہ عادت جو خوف کے وقت دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے؟
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔ مگر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا، مگر اس کی عدم موجودگی کو قبول کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ وہ خدا کو نہیں مانتا تھا، پھر بھی اس سے ناراض تھا۔ یہ تضاد اسے مضحکہ خیز نہیں، المناک لگا۔ انسان بعض اوقات اسی ہستی کے خلاف احتجاج کرتا ہے جسے وہ نظریاتی طور پر موجود نہیں مانتا، کیونکہ دل منطق کے فیصلے ہمیشہ تسلیم نہیں کرتا۔
تصوف کہتا ہے کہ خدا کو عقل سے نہیں، تجربے سے جانا جاتا ہے۔ مگر تجربہ کس کا؟ انسانی شعور کا۔ اور انسانی شعور خود ایک معمہ ہے۔ ہم ابھی پوری طرح نہیں جانتے کہ مادی دماغ سے احساسِ ذات کیسے پیدا ہوتا ہے، پھر ہم یہ فیصلہ کس یقین سے کریں کہ شعور صرف مادہ ہے یا کسی زیادہ گہری حقیقت کی کھڑکی؟ شاید خدا کا سوال کائنات سے پہلے شعور کا سوال ہے۔ وہ آنکھ جو خدا کو تلاش کررہی ہے، خود اپنی حقیقت سے ناواقف ہے۔
ممکن ہے انسان خدا کو باہر اس لیے نہیں پاتا کہ وہ اسے غلط سمت میں تلاش کرتا ہے۔ ممکن ہے خدا کوئی شخصی بادشاہ نہ ہو جو واقعات میں مداخلت کرتا ہے، بلکہ وجود کی وہ بنیاد ہو جس کے بغیر کچھ بھی موجود نہ ہو۔ مگر ایسا خدا دعائیں سنتا ہے یا نہیں؟ محبت کرتا ہے یا نہیں؟ انصاف کرتا ہے یا نہیں؟ فلسفیانہ خدا کائنات کی وضاحت تو بن سکتا ہے، مگر غم زدہ ماں کے آنسو نہیں پونچھتا۔ عبادت کا خدا انسانی دل کے قریب ہے، مگر مسئلۂ شر میں زیادہ مشکل پیدا کرتا ہے۔ عقل ایک دور خدا تک پہنچتی ہے؛ دل ایک قریب خدا چاہتا ہے۔ انسان کی مصیبت یہ ہے کہ اسے شاید دونوں ایک ساتھ درکار ہیں۔
صبح ہونے والی تھی۔ شہر کے ملبے پر ہلکی روشنی اتر رہی تھی۔ وہ ماں، جو رات بھر اپنے مردہ بچے کے پاس بیٹھی رہی، اب خاموش تھی۔ اس کے آنسو شاید ختم نہیں ہوئے تھے؛ جسم صرف مزید رونے کی قوت کھو چکا تھا۔ قریب ہی مولوی، پنڈت اور پادری کھڑے تھے۔ تینوں کے پاس اپنے اپنے مذہب کی زبان تھی، مگر اس لمحے ہر زبان چھوٹی محسوس ہورہی تھی۔
مولوی نے صبر کا لفظ سوچا، مگر کہا نہیں۔ پنڈت نے روح اور نئے جنم کا تصور یاد کیا، مگر اس کے ہونٹ نہ کھلے۔ پادری نے نجات اور ابدی زندگی کا خیال کیا، مگر اسے لگا کہ ایک ماں سے اس کے بچے کے بدلے ابدیت کی بات کرنا اس کے زخم کے سامنے فلسفیانہ تجارت ہوگی۔ تینوں نے پہلی بار سمجھا کہ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے مذہبی جواب دینا خدا کا دفاع نہیں، انسان کی بے حسی ہوسکتی ہے۔
شاید اس وقت ان تینوں کا خاموش کھڑا رہنا ان کی سب سے سچی عبادت تھی۔
انسان ہمیشہ جواب چاہتا ہے۔ جواب اسے حقیقت پر اختیار کا احساس دیتا ہے۔ مذہب جواب دیتا ہے، فلسفہ سوال کو منظم کرتا ہے، سائنس سبب تلاش کرتی ہے، نفسیات معنی کی ضرورت کو سمجھاتی ہے۔ مگر کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں یہ سب زبانیں تھک جاتی ہیں۔ ایک بچے کی موت کو طبی، سیاسی، فوجی، نفسیاتی اور مذہبی اصطلاحات میں بیان کیا جاسکتا ہے، مگر کوئی اصطلاح اس خلا کو نہیں بھر سکتی جو اس کے جانے سے پیدا ہوا۔
اگر خدا موجود ہے تو شاید وہ ہماری تشریحات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ شاید ہم نے اسے اپنے اخلاق، اپنی سیاست، اپنے خوف اور اپنی خواہشات کے مطابق چھوٹا کردیا۔ ہم نے اسے اپنے فرقے کا محافظ، اپنی قوم کا حامی، اپنی جنگ کا جواز، اپنی کامیابی کا شریک اور اپنے دشمن کی سزا بنا دیا۔ ممکن ہے انسان نے خدا کا انکار کرنے سے پہلے خدا کے نام پر بنائی گئی ہزاروں انسانی تصویروں کا انکار کیا ہو۔
اور اگر خدا موجود نہیں، تو انسان پر ایک اور بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پھر کوئی آخری عدالت ہماری ناانصافی درست نہیں کرے گی، کوئی آسمانی ہاتھ بھوکے کو روٹی نہیں دے گا، کوئی غیبی قوت جنگ نہیں روکے گی۔ پھر انسان ہی انسان کا واحد سہارا ہے۔ الحاد آزادی دیتا ہے، مگر اس آزادی کے ساتھ ایک ہولناک تنہائی بھی آتی ہے: جو کام ہم نے نہ کیا، شاید اسے کرنے والا کوئی اور نہیں۔
مگر ایمان بھی انسان کو ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔ جو شخص خدا پر یقین رکھتا ہے، وہ دنیا کے زخموں کو صرف امتحان کہہ کر نہیں گزر سکتا۔ اگر وہ خدا کی رحمت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے اس رحمت کا انسانی وسیلہ بننا ہوگا۔ بھوکے کے سامنے دعا سے پہلے روٹی، زخمی کے سامنے وعظ سے پہلے مرہم، مظلوم کے سامنے صبر کی تلقین سے پہلے انصاف ضروری ہے۔ شاید خدا پر ایمان کا سب سے بڑا ثبوت خدا کے بارے میں بولنا نہیں، اس انسان کے پاس کھڑا ہونا ہے جسے دنیا نے تنہا چھوڑ دیا۔
ممکن ہے خدا کی خاموشی انسان کے لیے حکم ہو کہ اب تم بولو۔ ممکن ہے اس کی غیر مرئی موجودگی انسان کو مجبور کرتی ہو کہ وہ مرئی رحمت بنے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خدا کی خاموشی کو معنی دے کر اپنے خوف کو کم کررہے ہوں۔ دونوں امکانات باقی ہیں۔ انسان کے پاس یقین سے زیادہ آثار ہیں، دلائل سے زیادہ تعبیرات، اور جوابات سے زیادہ زخم۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ خدا کا سوال عقل کا نہیں، برداشت کا سوال ہے۔ کچھ لوگ کائنات کی بے معنویت برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے ایمان لاتے ہیں۔ کچھ لوگ الٰہی خاموشی برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے انکار کرتے ہیں۔ ایک خدا کے بغیر نہیں جی سکتا؛ دوسرا ایسے خدا کے ساتھ نہیں جی سکتا جو معصوم کی چیخ سنتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔ دونوں شاید کمزور نہیں، صرف مختلف زخموں کے قیدی ہیں۔
میں نے مومن کو سجدے میں ٹوٹتے دیکھا ہے، اور ملحد کو رات کی تنہائی میں آسمان دیکھتے ہوئے۔ دونوں کے درمیان فرق شاید اتنا واضح نہیں جتنا ان کی زبانیں ظاہر کرتی ہیں۔ مومن کہتا ہے، "تو کہاں ہے؟" ملحد کہتا ہے، "تو ہے ہی نہیں۔" مگر کبھی کبھی ان دونوں جملوں کے نیچے ایک ہی درد دھڑک رہا ہوتا ہے: اگر کوئی ہے، تو سامنے کیوں نہیں آتا؟
شاید انکار ہمیشہ نفرت نہیں ہوتا۔ کبھی انکار ایک زخمی محبت کی آخری شکل ہوتا ہے۔ انسان جس خدا سے کوئی توقع نہ رکھتا ہو، اس سے ناراض بھی نہیں ہوتا۔ شکایت اسی سے ہوتی ہے جسے دل نے کبھی اپنا سمجھا ہو۔ ملحد کا احتجاج کبھی اس خدا کے خلاف نہیں ہوتا جو اس کے نزدیک موجود نہیں، بلکہ اس تصور کے خلاف ہوتا ہے جس نے اسے انصاف، محبت اور قربت کا وعدہ دیا تھا، پھر مصیبت میں خاموش رہا۔
اور شاید ایمان ہمیشہ یقین نہیں ہوتا۔ کبھی ایمان صرف یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ انسان خاموش آسمان کے باوجود اپنا چراغ بجھنے نہیں دے گا۔ وہ ثبوت سے نہیں، امید سے جیتا ہے۔ اسے جواب نہیں ملا، پھر بھی وہ سوال کرتے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھا رہتا ہے۔ شاید یہی اس کی قوت ہے، اور شاید یہی اس کی خود فریبی۔
ہم نہیں جانتے۔
یہ تین الفاظ شاید پوری الٰہیات سے زیادہ دیانت دار ہیں۔
ہم نہیں جانتے کہ کائنات کے پیچھے کوئی شعور ہے یا نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری دعائیں کسی تک پہنچتی ہیں یا صرف ہمیں اندر سے بدلتی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ موت کے بعد کوئی عدالت ہے یا صرف خاموشی۔ ہم نہیں جانتے کہ روحانی تجربات حقیقت کی کھڑکیاں ہیں یا دماغ کے آئینے۔ ہم نہیں جانتے کہ خدا خاموش ہے، غیر موجود ہے، یا ایسی زبان میں بول رہا ہے جسے انسانی شعور ابھی سن نہیں سکتا۔
لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ دکھ حقیقی ہے۔ بھوک حقیقی ہے۔ ماں کا خالی دامن حقیقی ہے۔ تنہائی، خوف، محبت اور موت حقیقی ہیں۔ شاید انسان کی پہلی اخلاقی ذمہ داری نامعلوم خدا کا دفاع نہیں، معلوم انسان کی حفاظت ہے۔ اگر خدا موجود ہے تو شاید وہ اس دفاع سے ناراض نہیں ہوگا۔ اور اگر وہ موجود نہیں، تب بھی ایک انسان کا دوسرے انسان کے زخم پر ہاتھ رکھنا کائنات کی سب سے مقدس حرکت رہے گی۔
صبح کی روشنی اب بچے کے چہرے تک پہنچ چکی تھی۔ ماں نے اسے آخری بار دیکھا، پھر اپنی چادر سے اس کا چہرہ ڈھانپ دیا۔ آسمان بدستور خاموش تھا۔ مگر اس کے قریب کھڑے ایک اجنبی نے جھک کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ یہ خدا تھا یا صرف ایک انسان، کوئی نہیں جانتا تھا۔ شاید فرق ہمیشہ اتنا واضح نہیں ہوتا۔
میں خدا کا انکار کرنا چاہتا ہوں، مگر ہر انکار کے بعد ایک نامعلوم دروازہ باقی رہ جاتا ہے۔ میں اس دروازے کو وہم کہتا ہوں، مگر رات میں کبھی کبھی اسی کی طرف دیکھتا ہوں۔ میں خدا کی خاموشی پر احتجاج کرتا ہوں، مگر احتجاج کے لیے بھی اسی کو مخاطب بناتا ہوں۔ میں کہتا ہوں وہ موجود نہیں، پھر پوچھتا ہوں کہ وہ جواب کیوں نہیں دیتا۔
شاید میں خدا کو نہیں ڈھونڈ رہا۔ شاید میں اس خاموشی کا مطلب ڈھونڈ رہا ہوں جو اس کے نام کے بعد شروع ہوتی ہے۔
اور شاید آخری سوال یہ نہیں کہ خدا ہے یا نہیں۔
رات کے آخری جملے کے بعد بھی سوال ختم نہیں ہوا تھا۔ سوال کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی شکل بدلتے ہیں۔ پہلے انسان آسمان کی طرف دیکھ کر پوچھتا ہے: "خدا کہاں ہے؟" پھر ایک وقت آتا ہے جب آسمان خاموش رہتا ہے اور سوال پلٹ کر انسان کی طرف دیکھتا ہے: "تم کہاں تھے؟"
ایک بچہ بھوک سے مر رہا تھا۔ اس کے شہر میں کھانا کم نہیں تھا، مگر اس کے گھر میں روٹی نہیں تھی۔ چند میل دور ایک شادی میں اتنا کھانا پھینکا گیا کہ اس سے کئی خاندانوں کا ہفتہ گزر سکتا تھا۔ شہر کے مذہبی لوگ خدا سے رزق مانگ رہے تھے، سرمایہ دار قیمتیں بڑھا رہے تھے، سیاست دان تقریریں کررہے تھے، اور غریب ماں بچے کو پانی پلا کر سلا رہی تھی تاکہ پیٹ کچھ دیر کے لیے دھوکا کھا جائے۔
بچہ مر گیا۔ لوگوں نے کہا: "خدا کی مرضی تھی۔"
مگر کیا یہ واقعی خدا کی مرضی تھی، یا انسانوں کی تقسیم، لالچ، بے حسی اور خاموشی کا نتیجہ؟ ہم ہر اجتماعی جرم کے بعد آسمان کی طرف کیوں دیکھتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خدا کو ذمہ دار ٹھہرانا اپنے ہاتھوں کو دیکھنے سے آسان ہے۔ آسمان دور ہے، ضمیر قریب۔ دور کے خدا پر الزام لگایا جاسکتا ہے، قریب کے انسان کو بدلنا پڑتا ہے۔
دنیا کی بہت سی مصیبتیں فطرت کی نہیں، انسانی فیصلوں کی پیداوار ہیں۔ بھوک اکثر خوراک کی کمی سے نہیں، انصاف کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ جنگیں اکثر خدا شروع نہیں کرتا، انسان اپنی سرحدوں، مفاد، تیل، زمین، نسل اور اقتدار کے لیے شروع کرتا ہے۔ مذہبی نفرت آسمان سے نہیں اترتی، اسے واعظ، سیاست دان، خاندان، نصاب اور خوف مل کر انسان کے اندر اگاتے ہیں۔ ظلم کا ہاتھ انسانی ہوتا ہے، مگر جب خون بہتا ہے تو ہم پوچھتے ہیں خدا نے روکا کیوں نہیں۔
سوال درست ہے، مگر ادھورا۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے: ہم نے روکا کیوں نہیں؟
ایک محلے میں عورت برسوں تشدد برداشت کرتی رہی۔ آس پاس کے لوگ جانتے تھے۔ رشتہ دار جانتے تھے۔ مذہبی رہنما جانتا تھا۔ سب نے اسے صبر، گھر بچانے، عزت قائم رکھنے اور خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔ ایک رات وہ مار دی گئی۔ جنازے میں سب نے خدا سے مغفرت مانگی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس کی زندگی میں کون سا دروازہ کھولا گیا تھا۔
شاید خدا کی خاموشی سے پہلے معاشرے کی خاموشی تھی۔ شاید خدا کا ہاتھ نہیں آیا، کیونکہ انسانوں نے اپنے ہاتھ پیچھے باندھ رکھے تھے۔
مگر یہ جواب بھی مکمل نہیں۔ کیونکہ انسان خود بھی اسی خدا کی تخلیق کہا جاتا ہے۔ اگر انسان اتنا ظالم، کمزور، خود غرض اور اندھا ہے تو اس کی تخلیق کی ذمہ داری کہاں تک انسان پر اور کہاں سے خالق پر آتی ہے؟ ایک کاریگر اپنی بنائی ہوئی مشین کی خامی کا ذمہ دار ہوتا ہے، مگر انسان مشین نہیں۔ اسے شعور، خواہش، اختیار اور اخلاقی فہم دیا گیا ہے۔ شاید یہی فرق ذمہ داری کا آغاز ہے۔
مگر اختیار بھی برابر نہیں بانٹا گیا۔
ایک بچہ محبت میں پیدا ہوتا ہے، دوسرا تشدد میں۔ ایک کو سچ بولنے کی تربیت ملتی ہے، دوسرے کو زندہ رہنے کے لیے جھوٹ سیکھنا پڑتا ہے۔ ایک کو تعلیم، تحفظ اور موقع ملتا ہے، دوسرے کو گلی، گالی اور خوف۔ پھر دونوں بڑے ہوکر اپنے فیصلے کرتے ہیں، مگر ان کے اندر فیصلہ کرنے والا انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔
ہم کہتے ہیں ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے۔ مگر ذمہ داری کو حالات سے جدا کرنا انصاف نہیں۔ انسان اپنے انتخاب کرتا ہے، مگر وہ اپنے انتخاب کرنے والی شخصیت خود مکمل طور پر نہیں بناتا۔ اس کے اندر والدین کی آوازیں، معاشرے کی تربیت، بچپن کے زخم، خوف، جین، غربت، تعلیم، محبت اور محرومی بولتی ہیں۔
پھر خدا کی عدالت کیسی ہوگی؟
کیا وہ صرف عمل دیکھے گی یا اس انسان کی پوری کہانی بھی جس نے عمل کیا؟ کیا قاتل کے ہاتھ کے ساتھ وہ اس بچپن کو بھی دیکھے گی جس میں اسے روز مارا گیا؟ کیا وہ مظلوم کے صبر کے ساتھ ان لوگوں کی خاموشی بھی لکھے گی جو اسے بچا سکتے تھے؟ کیا وہ مذہبی رہنما کے الفاظ کے ساتھ اس کی نیت، مفاد اور خوف بھی تولے گی؟
اگر خدا عادل ہے تو اس کا انصاف انسانی عدالتوں کی طرح سطحی نہیں ہوسکتا۔ شاید وہ گناہ سے پہلے زخم دیکھتا ہوگا۔ شاید وہ جرم سے پہلے وہ تمام دروازے گنتا ہوگا جو انسان کے سامنے بند کیے گئے۔ شاید وہ کسی ایک فعل کو پوری شخصیت سے الگ کرکے فیصلہ نہیں کرتا ہوگا۔
لیکن پھر جہنم کا تصور مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
اگر انسان اپنے حالات کا بھی نتیجہ ہے تو دائمی سزا کس اصول پر ہوگی؟ محدود زندگی کے محدود اعمال کی لامحدود سزا کیسے عادلانہ ہوسکتی ہے؟ اگر ایک شخص ستر سال جیا اور غلط عقیدہ اختیار کیا، تو کیا ابدیت کی آگ اس غلطی کا متناسب نتیجہ ہے؟ سزا کا مقصد اصلاح، تحفظ یا انتقام ہوتا ہے۔ ابدی سزا میں اصلاح کا امکان نہیں، کیونکہ اس کا اختتام نہیں۔ پھر وہ صرف مسلسل درد رہ جاتی ہے۔
یہاں بہت سے مومن کہتے ہیں کہ انسان خود خدا سے دوری منتخب کرتا ہے۔ ممکن ہے جہنم بیرونی آگ نہیں، خدا سے دائمی جدائی ہو۔ لیکن وہ شخص جو خدا کو پہچان ہی نہ سکا، جسے متضاد دلائل ملے، جس کا مذہب اس کے لیے ظلم کا ذریعہ بنا، کیا اس کی دوری واقعی آزاد انتخاب تھی؟
شاید انسان خدا کو رد نہیں کرتا، وہ اس تصویر کو رد کرتا ہے جو اسے خدا کے نام پر دی گئی۔
ایک بچہ ایسے گھر میں پیدا ہوا جہاں باپ ہر تشدد کے بعد مذہبی جملہ بولتا تھا۔ ماں کو مارنے سے پہلے خدا کا نام لیتا، بچوں کو ڈرانے کے لیے جہنم سناتا، اپنی خواہش کو حکمِ الٰہی کہتا۔ بچہ بڑا ہوا اور اس نے خدا کا انکار کردیا۔ کیا اس نے حقیقتاً خدا کو رد کیا، یا اپنے باپ کے چہرے پر چڑھے ہوئے خدا کو؟
کیا خدا ایسے انکار پر ناراض ہوگا، یا شاید وہ خود بھی اس جھوٹے خدا کے انکار میں اس انسان کے ساتھ ہوگا؟
شاید کچھ الحاد خدا کے خلاف بغاوت نہیں، مذہبی ظلم کے خلاف اخلاقی دفاع ہے۔ اور شاید کچھ ایمان خدا کی تلاش نہیں، خوف کی تربیت ہے۔ ہمیں دونوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہر سجدہ محبت سے نہیں ہوتا۔ اور ہر انکار تکبر سے نہیں۔
خدا کا نام زمین پر شاید سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اور سب سے زیادہ چرایا جانے والا نام ہے۔ بادشاہوں نے اسے اپنے تاج کے نیچے لکھا، فوجوں نے اپنے جھنڈوں پر، مذہبی رہنماؤں نے اپنے فتووں میں، تاجروں نے اپنی دکانوں پر، سیاست دانوں نے اپنے منشور میں، اور ظالموں نے اپنے جرائم کے بعد۔
انسان نے خدا کو صرف پوجا نہیں، استعمال بھی کیا۔
خدا کا نام ایک ایسی مہر بن گیا جس سے انسانی خواہش کو آسمانی حکم بنایا جاسکتا تھا۔ کوئی زمین چاہتا تھا تو اسے مقدس حق کہا۔ کوئی اقتدار چاہتا تھا تو اسے دینی خدمت کہا۔ کوئی عورت پر اختیار چاہتا تھا تو اسے اخلاق کہا۔ کوئی مخالف کو خاموش کرنا چاہتا تھا تو اسے گستاخی، گمراہی یا کفر کا نام دے دیا۔
خدا ہمیشہ خاموش تھا، اس لیے سب اس کی طرف سے بولنے لگے۔
یہ مذہبی تاریخ کا سب سے خطرناک لمحہ تھا: جب انسان نے یہ کہنا شروع کیا کہ "خدا چاہتا ہے"، حالانکہ اکثر اس جملے کے پیچھے انسان کی اپنی خواہش چھپی ہوتی تھی۔
ایک مولوی منبر پر کھڑا تھا۔ وہ غریبوں کو صبر، حکمرانوں کی اطاعت اور دنیا کی بے ثباتی سکھا رہا تھا۔ مسجد کے باہر مزدور کئی ماہ کی تنخواہ کے لیے احتجاج کررہے تھے۔ مالک پہلی صف میں بیٹھا تھا اور مولوی کی بات پر سر ہلا رہا تھا۔ وعظ ختم ہوا تو مالک نے بڑی رقم چندے میں دی۔ مزدور خالی ہاتھ گھر لوٹے۔
اس رات مولوی نے اپنے آپ سے پوچھا: کیا میں نے دین بیان کیا، یا طاقت کی حفاظت کی؟
ایک پنڈت بڑے مندر میں رسومات کرا رہا تھا۔ باہر ایک نچلی ذات کا سمجھا جانے والا انسان دروازے سے دور کھڑا تھا۔ اسے اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔ پنڈت نے مقدس کتابوں میں روح کی وحدت پڑھی تھی، مگر معاشرتی روایت کے سامنے خاموش تھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ انسان کتاب میں سب کو ایک کہہ سکتا ہے اور دروازے پر انہیں الگ کرسکتا ہے۔
ایک پادری محبت کے خدا پر وعظ کررہا تھا، مگر اس کی جماعت ایسے لوگوں کو حقیر سمجھتی تھی جو ان جیسے نہیں تھے۔ وہ محبت کی بات کرتے تھے، مگر ان کی محبت کے گرد نظریاتی سرحدیں تھیں۔ وہ کہتے تھے خدا سب سے محبت کرتا ہے، مگر کچھ انسانوں سے نفرت کو مذہبی اصول بنا لیتے تھے۔
مذہب کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ لازماً انسان کو برا بناتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسان کی نیکی اور بدی دونوں کو غیر معمولی طاقت دے سکتا ہے۔ رحمدل انسان مذہب سے خدمت، قربانی، صبر اور انصاف سیکھ سکتا ہے۔ خود غرض انسان اسی مذہب سے برتری، اختیار، سزا اور جواز حاصل کرسکتا ہے۔
چاقو روٹی بھی کاٹتا ہے اور گلا بھی۔ مگر مذہب چاقو سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ابدیت کا دعویٰ جڑا ہوتا ہے۔
جب کوئی شخص اپنے ذاتی غصے کو خدا کا غضب سمجھنے لگے تو وہ خود کو غلط نہیں سمجھتا۔ جب وہ مخالف کو صرف دشمن نہیں، خدا کا دشمن تصور کرے تو ظلم عبادت بن سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاق مر جاتا ہے اور مقدس تشدد پیدا ہوتا ہے۔
انسان عام جرم کرتے وقت شاید شرمندہ ہو، مگر مقدس جرم کرتے وقت خود کو نیک سمجھتا ہے۔
اسی لیے مذہب کی سب سے بڑی حفاظت ایمان سے نہیں، خود تنقیدی سے ہوتی ہے۔
جو مذہب اپنے ماننے والوں کو خود پر سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ خدا سے زیادہ اپنے ادارے سے محبت کرتا ہے۔ جو مذہبی رہنما سوال سے خوف کھاتا ہے، شاید اسے اپنے جواب پر یقین نہیں۔ جو عقیدہ تنقید سے ٹوٹ جائے، وہ سچائی نہیں، نازک شناخت ہے۔
مگر انسان مذہب سے اپنی شناخت بناتا ہے۔ اس لیے مذہب پر سوال اسے نظریاتی اختلاف نہیں لگتا، ذاتی حملہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے خدا، خاندان، آباؤ اجداد، تہذیب اور عزت کو ایک ہی جگہ رکھ دیتا ہے۔ پھر ایک سوال اس کی پوری شخصیت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ دلائل کا جواب دلیل سے نہیں، غصے سے دیتے ہیں۔ غصہ اکثر یقین کی طاقت نہیں، عدمِ تحفظ کی آواز ہوتا ہے۔
جو شخص اندر سے مطمئن ہو، وہ سوال سن سکتا ہے۔ جو ڈرتا ہو کہ ایک سوال اس کی پوری دنیا گرا دے گا، وہ سوال کرنے والے کو گرانا چاہتا ہے۔
شاید مذہبی تشدد عقیدے کی شدت سے کم اور شناخت کے خوف سے زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
انسان اپنے خدا کو بچاتے بچاتے انسان کو مار دیتا ہے، حالانکہ اگر خدا واقعی خدا ہے تو اسے انسانی تشدد سے دفاع کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
خدا کے نام پر قتل شاید خدا پر سب سے بڑا عدمِ اعتماد ہے۔ کیونکہ قاتل اپنے عمل سے کہتا ہے: میرا خدا خود اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔
مگر مذہب صرف ظلم کی کہانی نہیں۔ یہی مکمل سچ نہیں ہوگا۔ تاریخ میں ایسے لوگ بھی گزرے جنہوں نے مذہبی یقین کے سبب غلام آزاد کیے، بیماروں کی خدمت کی، جنگوں کے خلاف کھڑے ہوئے، ظالم حکمرانوں کو للکارا، اپنی دولت غریبوں کو دی اور اپنی جان دوسروں کے لیے قربان کردی۔
تو پھر سوال مذہب سے زیادہ انسان کا ہے۔
ایک ہی کتاب کسی کو رحمت بناتی ہے اور دوسرے کو ہتھیار کیوں؟
شاید کتاب وہی دیتی ہے جو قاری اپنے اندر لے کر آتا ہے۔ ظالم حکم تلاش کرتا ہے، رحمدل روح تلاش کرتا ہے۔ طاقت کا بھوکا اطاعت کی آیات چنتا ہے، مظلوم انصاف کے جملے۔ ہر شخص مقدس متن میں کسی حد تک اپنا چہرہ دیکھتا ہے۔
کیا خدا نے انسان سے بات کی، یا انسان نے متن کے اندر اپنی آواز کو خدا سمجھ لیا؟
یہ سوال آسانی سے حل نہیں ہوتا۔
مگر ایک بات واضح ہے: جب کوئی شخص خدا کے نام پر دوسرے انسان کی توہین، استحصال یا قتل کرے، تو مسئلہ صرف اس کی تشریح نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنے ضمیر کو مذہبی اختیار کے حوالے کردیا۔
ضمیر کے بغیر مذہب خطرناک ہے۔ اور مذہب کے بغیر ضمیر بھی ہمیشہ محفوظ نہیں۔ انسان کو دونوں کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر دونوں کو ایک دوسرے کا نگران رہنا ہوگا۔
اگر خدا نہ ہو تو کیا اچھائی اور برائی باقی رہتے ہیں؟
یہ سوال مومن اکثر ملحد سے پوچھتا ہے، جیسے خدا کے بغیر قتل صرف ذاتی ناپسند اور رحم محض پسند کا معاملہ رہ جائے گا۔ مگر ملحد جواب دیتا ہے کہ انسان درد کو جانتا ہے، اسی لیے دوسروں کے درد کو برا سمجھ سکتا ہے۔ اخلاق آسمانی حکم کے بغیر بھی ہمدردی، سماجی زندگی، عقل اور مشترک انسانی ضرورت سے پیدا ہوسکتا ہے۔
لیکن پھر سوال اٹھتا ہے: اگر اخلاق صرف انسانی اتفاق ہے تو کوئی طاقتور شخص اس اتفاق کو کیوں مانے؟ اگر وہ ظلم کرکے بچ سکتا ہے، اگر اسے کوئی آخری حساب نہیں، تو اسے نیکی پر کیا مجبور کرے گا؟
شاید جواب یہ ہے کہ نیکی سزا کے خوف سے نہیں، دوسرے کی انسانیت پہچاننے سے پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص صرف جہنم کے خوف سے قتل نہیں کرتا، وہ اخلاقی نہیں، قابو میں رکھا ہوا خطرہ ہے۔ حقیقی اخلاق تب شروع ہوتا ہے جب انسان ظلم کرسکتا ہو، بچ بھی سکتا ہو، مگر پھر بھی نہ کرے کیونکہ اسے دوسرے کے درد کی حقیقت محسوس ہوتی ہے۔
اگر خدا کا خوف ہٹتے ہی انسان ظالم بن جائے تو مسئلہ الحاد نہیں، اس انسان کا کردار ہے۔
مگر خدا پر ایمان رکھنے والا بھی ظلم کرتا ہے۔ پھر ایمان اخلاق کی ضمانت نہیں۔ شاید اخلاق کا سرچشمہ صرف حکم نہیں، شعور ہے۔ انسان جب دوسرے میں خود کو دیکھتا ہے تو رحم پیدا ہوتا ہے۔ جب اسے دوسرے کی چیخ اپنی چیخ محسوس ہو تو اخلاق جنم لیتا ہے۔
بچہ کسی مذہبی نظریے کے بغیر دوسرے روتے بچے کو دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔ شاید ہمدردی انسان کی فطرت میں کسی ابتدائی صورت میں موجود ہے۔ مگر اسی بچے کو معاشرہ سکھاتا ہے کہ کچھ لوگ "ہم" ہیں اور کچھ "وہ"۔ پھر رحم شناخت کے مطابق تقسیم ہونے لگتا ہے۔
انسان قدرتی طور پر ہمدرد بھی ہے اور قبائلی بھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے جان دے سکتا ہے اور دوسرے قبیلے کے بچے کو دشمن سمجھ سکتا ہے۔
مذہب اس دائرے کو وسیع بھی کرسکتا ہے اور تنگ بھی۔ وہ کہہ سکتا ہے تمام انسان ایک خالق کی مخلوق ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے صرف ہمارا گروہ حق پر ہے۔ یہی مذہب کا اخلاقی امتحان ہے: کیا وہ انسان کو اپنے قبیلے سے باہر محبت کرنا سکھاتا ہے، یا صرف قبیلے کو مقدس بناتا ہے؟
اگر خدا اخلاق کا منبع ہے تو کیا کوئی عمل اس لیے اچھا ہے کہ خدا نے حکم دیا، یا خدا نے اس لیے حکم دیا کہ وہ پہلے سے اچھا تھا؟
اگر صرف حکم اسے اچھا بناتا ہے تو اخلاق طاقت کا دوسرا نام بن جاتا ہے۔ پھر کوئی بھی عمل، صرف خدائی حکم کے سبب، نیکی بن سکتا ہے۔ اور اگر خدا اس لیے حکم دیتا ہے کہ عمل بذاتِ خود اچھا ہے، تو اچھائی کا معیار حکم سے الگ موجود معلوم ہوتا ہے۔
شاید جواب یہ ہو کہ خدا خود خیر کی حقیقت ہے، اس لیے اس کا حکم اور اچھائی الگ نہیں۔ یہ فلسفیانہ جواب مضبوط محسوس ہوتا ہے، مگر پھر ہم خدا کو خیر کیسے پہچانتے ہیں؟ ہمیں کسی نہ کسی اخلاقی فہم سے خدائی دعووں کو پرکھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی متن ظلم کا حکم دیتا ہوا محسوس ہو تو ہم یا تو اسے خدا کی طرف منسوب کریں گے یا اپنی تشریح پر سوال اٹھائیں گے۔
یہاں انسانی ضمیر مذہبی متن کا دشمن نہیں، اس کا امتحان بن جاتا ہے۔
مگر ضمیر بھی ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں۔ معاشرے غلامی کو معمول سمجھتے رہے۔ نسل پرستی، عورتوں کی محرومی، طبقاتی ظلم اور جنگیں اخلاقی جواز کے ساتھ چلتی رہیں۔ ضمیر تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ جو ظلم نسلوں تک معمول رہے، انسان اسے ظلم سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔
تو پھر اخلاق کہاں محفوظ ہے؟ نہ صرف مذہبی حکم میں، نہ صرف ذاتی احساس میں۔
شاید اخلاق مسلسل مکالمہ ہے: عقل، ہمدردی، تجربہ، انسانی وقار، نتائج اور طاقت کے احتساب کے درمیان۔
شاید اخلاق کوئی تیار شدہ فہرست نہیں، دوسرے انسان کی حقیقت کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہے۔
ایک سپاہی کو حکم دیا گیا کہ وہ گھر میں داخل ہو۔ اسے بتایا گیا اندر دشمن ہیں۔ دروازہ کھلا تو سامنے ایک بوڑھی عورت اور دو بچے تھے۔ اس کے پاس حکم تھا، ہتھیار تھا، اور سزا کا خوف بھی۔ اس لمحے مذہب، قوم، فوج، سیاست سب ایک طرف تھے، اور سامنے تین انسان۔
اس نے گولی نہیں چلائی۔
شاید یہی اخلاق تھا۔ نہ کسی کتاب کا مکمل باب، نہ کسی فلسفی کا نظریہ۔ صرف ایک لمحہ جس میں اس نے دوسرے کو چیز نہیں، انسان سمجھا۔
ممکن ہے خدا اسی لمحے موجود تھا۔ ممکن ہے خدا کہیں نہ تھا، صرف انسانی ضمیر تھا۔ مگر اگر ضمیر نے جان بچائی، تو نام کا اختلاف اس عمل کی عظمت کم نہیں کرتا۔
شاید خدا اس شخص کے عقیدے سے پہلے اس کے رحم میں ظاہر ہوتا ہے۔
اور شاید وہ انسان جو خدا کا نام لیتا ہے مگر رحم نہیں کرتا، خدا سے زیادہ اپنے مذہبی عکس کی عبادت کرتا ہے۔
اخلاق کا سب سے گہرا سوال یہ نہیں کہ تم کس خدا کو مانتے ہو۔ سوال یہ ہے کہ تمہارے سامنے کمزور انسان آئے تو تم کیا کرتے ہو۔
انسان جانتا ہے کہ وہ مرے گا۔ یہی علم اسے باقی جانوروں سے الگ ایک خاص قسم کی اذیت دیتا ہے۔ وہ صرف موت سے نہیں ڈرتا، وہ زندگی کے بے معنی ہوجانے سے ڈرتا ہے۔ اگر سب کچھ ختم ہوجائے گا تو محبت، قربانی، یاد، فن، جدوجہد اور انصاف کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟
ایک شخص نے پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے محنت کی۔ ان کے لیے گھر بنایا، تعلیم دی، خواب قربان کیے۔ پھر ایک دن وہ مر گیا۔ چند دہائیوں بعد شاید اس کا نام بھی خاندان کی یاد سے مٹ جائے۔ صدیوں بعد اس کے وجود کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔ کائنات کے پیمانے پر اس کی پوری زندگی ایک لمحے سے بھی کم تھی۔
کیا مختصر ہونا بے معنی ہونا ہے؟
ایک گیت ختم ہوجاتا ہے، مگر اس کا حسن جھوٹا نہیں ہوتا۔ پھول مرجھاتا ہے، مگر اس کی خوشبو بے معنی نہیں۔ محبت کا اختتام اس کے سابق وجود کو منسوخ نہیں کرتا۔ ممکن ہے زندگی ابدی نہ ہو، پھر بھی قیمتی ہو۔ بلکہ شاید محدود ہونا ہی اسے قیمتی بناتا ہے۔
لیکن انسان کا دل اس جواب سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ صرف یہ نہیں چاہتا کہ محبت کبھی تھی۔ وہ چاہتا ہے کہ محبت کسی طرح باقی بھی رہے۔ وہ اپنی ماں، باپ، بچے، دوست اور محبوب کو محض یاد میں نہیں، حقیقت میں دوبارہ دیکھنا چاہتا ہے۔
آخرت کا تصور اسی انسانی آرزو کو ایک کائناتی زبان دیتا ہے۔
مگر کیا آرزو حقیقت کی دلیل ہے؟ نہیں۔ کیا آرزو کو محض کمزوری کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے؟ یہ بھی نہیں۔
موت کے سامنے فلسفہ اکثر سرد محسوس ہوتا ہے۔ ایک شخص جس نے اپنا بچہ کھویا ہو، اسے یہ کہنا کہ زندگی کی عارضی خوبصورتی کافی ہے، شاید درست مگر ظالمانہ لگے۔ غم منطق سے زیادہ مانگتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ موت غلط ثابت ہو۔
شاید مذہب انسان کو یہی وعدہ دیتا ہے: موت آخری حقیقت نہیں۔
ملحد کہتا ہے ہمارے پاس اس وعدے کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں۔ مومن کہتا ہے انسانی شعور، اخلاق، وحی اور روحانی تجربہ کسی بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دونوں کے پاس دلائل ہیں، دونوں کے پاس خلا بھی۔
انسان قبر کے سامنے کھڑا ہوکر نظریاتی نہیں رہتا۔
ایک باپ اپنے بچے کی قبر پر مٹی رکھ رہا تھا۔ لوگوں نے اسے تسلی دی کہ دوبارہ ملاقات ہوگی۔ اس نے سر ہلایا، مگر اندر سے پوچھا: کیا میں یقین رکھتا ہوں، یا مجھے اس یقین کی ضرورت ہے؟ پھر اسے شرمندگی ہوئی کہ اس نے سوال کیوں کیا۔ جیسے شک محبت کی بے وفائی ہو۔
مگر شک محبت کی نفی نہیں۔ کبھی شک اسی لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ انسان جھوٹی تسلی قبول نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اپنے مرنے والے عزیز کے نام پر سچ چاہتا ہے، خواہ سچ اسے توڑ دے۔
یہ فکری دیانت کی سب سے بھاری قیمت ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں سچ آزاد کرتا ہے۔ مگر کچھ سچ انسان کو پہلے تباہ کرتے ہیں، پھر شاید آزاد کریں۔ اور کچھ یقین انسان کو قید کرتے ہیں، مگر اسی قید میں اسے زندہ بھی رکھتے ہیں۔
کیا انسان کو ایسا یقین چھین لینا چاہیے جو اسے غم میں سہارا دیتا ہے، اگر وہ یقین ثابت نہیں؟ شاید نہیں۔ مگر کیا سہارا ہونے سے وہ یقین سچ بن جاتا ہے؟ یہ بھی نہیں۔
رحم اور سچ کے درمیان یہ کشمکش آسان نہیں۔
بعض اوقات فلسفی درست ہوتا ہے، مگر انسان نہیں رہتا۔ بعض اوقات مذہبی شخص مہربان ہوتا ہے، مگر سچائی سے فرار کرتا ہے۔
ہمیں شاید ایسی زبان چاہیے جو جھوٹی یقین دہانی نہ دے، مگر غم زدہ انسان کو تنہا بھی نہ چھوڑے۔
"میں نہیں جانتا کہ موت کے بعد کیا ہے، مگر میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
شاید یہ جملہ بعض عظیم مذہبی دعووں سے زیادہ دیانت دار اور زیادہ مقدس ہے۔
انسان کی بغاوت بھی نامکمل ہے۔ وہ خدا سے ناراض ہوتا ہے، مگر آخرت کا امکان چھوڑ نہیں پاتا۔ وہ کائنات کو بے معنی کہتا ہے، مگر اپنی زندگی میں معنی بناتا ہے۔ وہ کہتا ہے اخلاق انسانی تخلیق ہے، پھر ظلم دیکھ کر ایسے غصے میں آتا ہے جیسے کائنات نے کوئی قانون توڑا ہو۔
شاید انسان کے اندر کوئی ایسی طلب ہے جو محض بقا سے بڑی ہے۔
وہ صرف زندہ نہیں رہنا چاہتا، وہ چاہتا ہے کہ زندگی درست بھی ہو۔ وہ صرف محبت نہیں کرنا چاہتا، چاہتا ہے محبت فنا نہ ہو۔ وہ صرف انصاف نہیں چاہتا، چاہتا ہے کہ آخرکار انصاف مکمل ہو۔
کیا یہ طلب خدا کی طرف اشارہ ہے، یا ایک ایسی مخلوق کی نفسیاتی چیخ جو اپنی حدود قبول نہیں کرسکتی؟
ہم پھر "شاید" پر آکر رک جاتے ہیں۔ انسان کی پوری روح شاید اسی لفظ کے اندر معلق ہے۔
کئی دن گزر چکے تھے۔ ہسپتال کی وہ عورت گھر واپس آچکی تھی۔ بچے کا کمرہ ویسا ہی تھا۔ دیوار پر تصویریں، میز پر کھلونے، بستر پر تہہ کیا ہوا کمبل۔ وہ دروازے پر کھڑی رہی، اندر داخل نہ ہوسکی۔ بعض کمرے جگہ نہیں رہتے، وقت بن جاتے ہیں۔ ان میں داخل ہونا ماضی میں داخل ہونا ہوتا ہے، جہاں سے واپسی آسان نہیں۔
اس نے خدا سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔
پہلے وہ شکایت کرتی تھی، پھر سوال، پھر خاموشی۔ اب اس کے اندر نہ ایمان باقی تھا، نہ مکمل انکار۔ صرف تھکن تھی۔ خدا کا سوال بھی توانائی مانگتا ہے، اور بعض زخم انسان کو اتنا خالی کردیتے ہیں کہ وہ خدا سے ناراض رہنے کی قوت بھی کھو دیتا ہے۔
ایک دن دروازے پر دستک ہوئی۔ محلے کی ایک عورت کھانا لے کر آئی۔ دوسری نے گھر صاف کیا۔ ایک نوجوان نے بچے کی یاد میں غریب بچوں کے لیے کتابیں جمع کیں۔ کسی نے فلسفہ نہیں دیا، کسی نے تقدیر نہیں سمجھائی، کسی نے خدا کا دفاع نہیں کیا۔
انہوں نے صرف اس کا بوجھ تھوڑا اٹھایا۔
اس رات عورت نے پہلی بار سوچا: اگر خدا ہے تو شاید وہ جواب کی صورت نہیں آیا۔ شاید وہ ان انسانوں کے ہاتھوں میں آیا جنہوں نے میرے زخم کو نظریہ نہیں بنایا۔
پھر اس نے خود کو ڈانٹا۔ شاید وہ دوبارہ معنی گھڑ رہی تھی۔ شاید انسانوں کی مہربانی کو خدا سے جوڑنا صرف پرانی عادت تھی۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوا: اگر محبت واقعی موجود ہے، تو اس کا آخری سرچشمہ کیا ہے؟ کیا یہ صرف حیاتیاتی تعاون ہے؟ کیا ماں کی قربانی، اجنبی کی مدد، ظالم کے سامنے سچ بولنا اور مرنے والے کے ہاتھ کو پکڑے رکھنا صرف بقا کی پیچیدہ حکمتیں ہیں؟
ممکن ہے۔ مگر انسان ان تجربات میں محض حیاتیات سے زیادہ کچھ محسوس کرتا ہے۔ شاید اسی "زیادہ" کو اس نے خدا کہا۔
شاید خدا آسمان میں بیٹھا ہوا حاکم نہیں، وہ معنی ہے جو انسان کی خود غرضی کے خلاف پیدا ہوتا ہے۔ شاید خدا کوئی آواز نہیں، وہ اندرونی مزاحمت ہے جو کہتی ہے کمزور کو مت کچلو۔ شاید خدا معجزے میں نہیں، اس فیصلے میں ہے جہاں انسان اپنے فائدے کے خلاف انصاف چنتا ہے۔
مگر اگر خدا کو اخلاق، محبت اور معنی میں تحلیل کردیا جائے تو کیا وہ اب بھی خدا رہتا ہے، یا صرف انسانی اقدار کا شاعرانہ نام بن جاتا ہے؟
یہ خطرہ حقیقی ہے۔
انسان اکثر نامعلوم کو قابلِ قبول بنانے کے لیے اس کی تعریف بدلتا رہتا ہے۔ جب معجزاتی خدا مشکل میں پڑتا ہے، ہم اسے فلسفیانہ حقیقت بنا دیتے ہیں۔ جب شخصی خدا کے افعال پر سوال اٹھتے ہیں، ہم اسے وجود کی بنیاد کہتے ہیں۔ جب دعا کا جواب نہیں ملتا، ہم کہتے ہیں خدا نے انسان کو بدل دیا۔ شاید یہ گہری بصیرت ہے۔ شاید نظریے کو شکست سے بچانے کا طریقہ۔
ہمیں دونوں امکانات کھلے رکھنے ہوں گے۔
فکری دیانت یہی ہے کہ انسان اپنی پسندیدہ تشریح کو آخری حقیقت نہ بنائے۔
ممکن ہے خدا ہماری ہر تعریف سے بڑا ہو۔ ممکن ہے ہماری ہر تعریف کے پیچھے کوئی خدا نہ ہو۔
لیکن ایک بات اب زیادہ واضح تھی: انسان خدا کے وجود کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں کرسکتا۔ چاہے خدا ہو یا نہ ہو، بھوکا انسان روٹی مانگتا ہے۔ چاہے آخرت ہو یا نہ ہو، مظلوم کو موجودہ انصاف چاہیے۔ چاہے دعا سنی جائے یا نہ جائے، تنہا شخص کو کسی انسانی آواز کی ضرورت ہے۔
ہم خدا کے مسئلے کو حل کیے بغیر بھی انسان کا درد کم کرسکتے ہیں۔
شاید یہی پہلا ضروری قدم ہے۔
کیونکہ دنیا کو اکثر ملحد کے دلیل اور مومن کے وعظ سے پہلے ایک ایماندار انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک ایسا انسان جو یہ نہ پوچھے کہ تم کس مذہب کے ہو، بلکہ یہ پوچھے کہ تمہیں زخم کہاں ہے۔
جو یہ نہ سوچے کہ تمہاری مصیبت تقدیر ہے، بلکہ یہ دیکھے کہ وہ کیا کرسکتا ہے۔
جو خدا کے نام پر تمہیں خاموش نہ کرے، اور خدا کے انکار کے نام پر تمہارے روحانی درد کا مذاق نہ اڑائے۔
جو اتنا بالغ ہو کہ کہہ سکے: "مجھے معلوم نہیں، مگر میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔"
شاید انسانی تہذیب کا سب سے مقدس جملہ یہی ہے۔
ہم نے خدا کے نام پر بڑے بڑے معبد بنائے، مگر شاید خدا کے لیے سب سے مناسب جگہ وہ لمحہ ہے جہاں ایک انسان دوسرے انسان کو تنہائی سے بچاتا ہے۔
ہم نے خدا کو آسمانوں میں تلاش کیا، جبکہ ممکن ہے وہ ہمیشہ دو انسانوں کے درمیان اخلاقی فاصلے میں انتظار کرتا رہا ہو۔
یا شاید وہاں بھی صرف انسان تھا۔
مگر اگر صرف انسان تھا، تو انسان کی ذمہ داری مزید عظیم ہوجاتی ہے۔
اسے خود وہ رحمت بننا ہوگا جس کا اسے آسمان سے انتظار تھا۔ اسے خود وہ انصاف بننا ہوگا جس کی وہ آخرت سے امید رکھتا تھا۔ اسے خود وہ جواب بننا ہوگا جو اس کی دعا کو نہیں ملا۔
اور شاید یہی انسان کی سب سے بالغ بغاوت ہے: وہ خدا کی خاموشی کو ظلم کی اجازت نہ بننے دے۔ وہ آسمان سے جواب نہ آنے پر زمین کو جہنم نہ ہونے دے۔ وہ اپنے شک کو بے رحمی اور اپنے ایمان کو غرور نہ بننے دے۔ وہ نامعلوم کے سامنے جھکے، مگر معلوم ظلم کے سامنے نہیں۔
رات پھر اتر آئی تھی۔ عورت بچے کے کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے کھلونا اٹھایا، سینے سے لگایا، اور برسوں کے برابر روئی۔ پھر اس نے کھڑکی کھولی۔ باہر شہر کی روشنیاں تھیں۔ کہیں اذان ہورہی تھی، کہیں گھنٹی بج رہی تھی، کہیں کوئی دعا، کہیں کوئی انکار۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اس بار اس نے خدا سے یہ نہیں پوچھا کہ تم کہاں تھے۔
اس نے آہستہ سے کہا: "میں نہیں جانتی تم ہو یا نہیں۔ مگر اگر تم ہو، تو مجھے ایسا انسان بنا دو جو کسی دوسری ماں کو اس تنہائی میں اکیلا نہ چھوڑے۔"
کوئی آواز نہیں آئی۔
مگر اگلی صبح وہ ایک ہسپتال گئی اور ایک اجنبی عورت کے پاس بیٹھ گئی جس کا بچہ موت سے لڑ رہا تھا۔
شاید خدا نے جواب دیا تھا۔ شاید نہیں۔ مگر ایک انسان نے دیا۔
اور اس لمحے، کم از کم زمین پر، یہی کافی تھا۔
شہر کے ایک پرانے ہسپتال کے باہر ایک کتا تین دن سے بیٹھا تھا۔ اس کا رنگ مٹی اور بارش کے درمیان کہیں کھو چکا تھا۔ اس کی پسلیاں جلد کے نیچے واضح تھیں، مگر وہ کھانے کی تلاش میں نہیں جاتا تھا۔ ہر بار خودکار دروازہ کھلتا، وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوتا، گردن آگے کرتا اور اندر آنے والے ہر شخص کے چہرے کو غور سے دیکھتا۔ پھر دروازہ بند ہوجاتا، اور وہ دوبارہ زمین پر بیٹھ جاتا۔
وہ اپنے مالک کا انتظار کررہا تھا۔
مالک ایک بوڑھا مزدور تھا جو اچانک گر پڑا تھا۔ ایمبولینس اسے اسی ہسپتال میں لائی تھی۔ کتا گاڑی کے پیچھے کئی گلیاں دوڑتا رہا، یہاں تک کہ اس کے پنجے زخمی ہوگئے۔ ہسپتال کے محافظوں نے اسے اندر نہیں جانے دیا۔ اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ اندر مشینیں انسان کی سانسوں کا حساب رکھتی ہیں، ڈاکٹر موت سے مذاکرات کرتے ہیں، اور بعض دروازوں کے پیچھے واپس آنے کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔
تیسرے دن بوڑھا مر گیا۔
کتا اب بھی دروازے کے سامنے بیٹھا رہا۔
اسے موت کا فلسفہ معلوم نہیں تھا۔ وہ روح، جنت، تقدیر، آزمائش یا ابدیت کے الفاظ نہیں جانتا تھا۔ اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک خاص بو، ایک خاص آواز اور ایک خاص ہاتھ اس کی پوری دنیا تھا۔ وہ ہاتھ اب دروازے سے باہر نہیں آرہا تھا۔
ہسپتال کے ایک ملازم نے اسے روٹی دی۔ کتے نے سونگھی، مگر کھائی نہیں۔ محبت جب انتظار میں بدل جائے تو بھوک بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ وہ ہر آنے والے شخص کو دیکھتا رہا، جیسے حقیقت نے ابھی صرف دیر کی ہو، انکار نہ کیا ہو۔
انسان اکثر سمجھتا ہے کہ فلسفہ صرف اس کا حق ہے، کیونکہ سوال صرف وہ زبان میں بیان کرسکتا ہے۔ مگر سوال زبان سے پہلے بھی موجود ہوسکتا ہے۔ ایک جانور جو مردہ ساتھی کے پاس بیٹھا رہے، ایک ہاتھی جو ہڈیوں کو سونڈ سے چھوئے، ایک پرندہ جو کھوئے ہوئے جوڑے کو آواز دیتا رہے، شاید وہ الفاظ کے بغیر وہی سوال کررہا ہوتا ہے جو انسان قبر کے سامنے کرتا ہے:
جو میرا تھا، وہ کہاں گیا؟
ہم جانوروں کے درد کو اکثر اس لیے کمتر سمجھتے ہیں کہ وہ اسے ہماری زبان میں بیان نہیں کرسکتے۔ مگر درد کو معتبر ہونے کے لیے فلسفیانہ جملہ بننا ضروری نہیں۔ ایک چیخ دلیل نہیں ہوتی، لیکن وہ حقیقت ہوتی ہے۔ ایک زخمی جانور کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا شعور پیچیدہ ہے۔ اس کا جسم درد سے پیچھے ہٹتا ہے، آنکھ خوف سے پھیلتی ہے، دل تیز دھڑکتا ہے، اور وہ زندگی کی طرف اسی شدت سے لپکتا ہے جس سے انسان۔
پھر انسان خود کو اخلاقی مخلوق کہتا ہے، مگر اکثر انہی مخلوقات کے دکھ کو نظر انداز کرتا ہے جن کے پاس اپنے دفاع کے لیے قانون، زبان، مذہب یا عدالت نہیں۔
ہم نے اخلاق کو زیادہ تر انسانی حدود میں قید رکھا۔ ہم کہتے ہیں انسان کی جان مقدس ہے، مگر جانور کی جان کو ضرورت، ذائقے، تفریح، تجارت اور عادت کے پیمانوں میں تولتے ہیں۔ شاید انسان کی برتری اسے اختیار دیتی ہو، مگر کیا اختیار ہمیشہ حق بن جاتا ہے؟ طاقت کسی عمل کو ممکن بناتی ہے، اخلاقی نہیں۔
ایک بچہ اگر چیونٹی کو پاؤں سے کچل دے تو ہم اسے سمجھاتے ہیں کہ کمزور کو بلاوجہ تکلیف نہ دو۔ مگر ایک بالغ انسان اگر کسی جانور کو محض تفریح، غصے یا بے حسی سے اذیت دے تو وہ اسے اپنی ملکیت یا معمول کہہ سکتا ہے۔ انسان نے اخلاق کا درس ہمیشہ نیچے کی طرف دیا، مگر خود کو اس سے اوپر رکھا۔
یہی شاید انسانی غرور کی سب سے پرانی شکل ہے: جو بول نہیں سکتا، اس کی تکلیف کم اہم ہے۔
مگر اگر خدا تمام جانداروں کا خالق ہے تو کیا جانور صرف انسانی استعمال کے لیے بنائے گئے؟ کیا ان کی زندگی کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں؟ ایک ہرن اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتا ہے۔ ایک پرندہ اپنے بچوں کے لیے گھونسلہ بناتا ہے۔ ایک گائے اپنے بچھڑے کو ڈھونڈتے ہوئے آواز دیتی ہے۔ ایک کتا مرنے والے مالک کا انتظار کرتا ہے۔ یہ تمام حرکات بتاتی ہیں کہ زندگی ہر مخلوق کے لیے اندر سے قیمتی ہے۔
جانور شاید "زندگی کے حق" کا تصور نہیں جانتے، مگر وہ اپنی زندگی چھوڑنا نہیں چاہتے۔
کیا یہی کافی نہیں؟
خدا کے عدل کا سوال جانوروں کے سامنے اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ انسان کے دکھ کو آزادی، گناہ، امتحان اور اخلاقی تربیت سے جوڑا جاسکتا ہے۔ مگر جانور کس اخلاقی امتحان میں ہیں؟ ایک ہرن جسے زندہ کھایا جاتا ہے، اس کا کردار کیا بن رہا ہے؟ ایک بیمار پرندہ جو سردی میں مرجاتا ہے، اسے کون سی روحانی بصیرت مل رہی ہے؟ ایک بچہ جانور جو ماں سے الگ کردیا جاتا ہے، اس کے درد کا کائناتی مقصد کیا ہے؟
اگر فطرت کا نظام ہی ایسا ہے کہ ایک زندگی دوسری زندگی کو کھائے، تو کیا درد تخلیق کی بنیاد میں شامل ہے؟
اور اگر خدا نے یہ نظام بنایا، تو کیا رحمت صرف انسانی زبان کا لفظ ہے؟
ہم کہتے ہیں شکاری جانور برا نہیں، وہ اپنی فطرت کے مطابق ہے۔ درست۔ مگر سوال جانور کے اخلاق کا نہیں، نظام کے ڈیزائن کا ہے۔ کیوں زندگی کو زندہ رہنے کے لیے زندگی کو ختم کرنا پڑا؟ کیوں بھوک کو جسم میں اس طرح رکھا گیا کہ ایک مخلوق کی بقا دوسری کی دہشت بن جائے؟
شاید یہ سوال انسان کی محدود عقل سے باہر ہو۔ مگر محدود عقل ہی وہ چیز ہے جس سے ہم خدا کو رحیم کہتے ہیں۔ اگر عقل سوال اٹھانے کے لیے ناکافی ہے تو تعریف کرنے کے لیے کافی کیسے؟
ہسپتال کا دروازہ پھر کھلا۔ بوڑھے کی لاش باہر لائی گئی، سفید چادر میں لپٹی ہوئی۔ کتا اچانک اٹھا، تیزی سے آگے بڑھا، اور چادر کے قریب جاکر رک گیا۔ اس نے بو سونگھی۔ پھر ایک ایسی آواز نکالی جو نہ مکمل چیخ تھی، نہ بھونک۔ جیسے کسی مخلوق نے پہلی بار سمجھا ہو کہ انتظار کا بھی اختتام ہوتا ہے۔
وہ گاڑی کے پیچھے کچھ دور تک دوڑا، پھر رک گیا۔
اس شام وہ دروازے کے سامنے نہیں بیٹھا۔
شاید اس نے موت کو سمجھ لیا تھا۔ یا شاید صرف امید ختم ہوگئی تھی۔ دونوں میں فرق بعض اوقات صرف زبان کا ہوتا ہے۔
انسان فطرت کو دور سے دیکھتا ہے تو اسے خوبصورت کہتا ہے۔ پہاڑ، دریا، جنگل، پرندوں کی آواز، سورج کا غروب۔ مگر فطرت کے اندر رہنے والی مخلوق کے لیے وہی منظر اکثر بقا کی جنگ ہوتا ہے۔ جس جنگل کو انسان سکون کا مقام سمجھتا ہے، وہاں ہر رات کوئی مخلوق بھوک سے مرتی ہے، کوئی شکار بنتی ہے، کوئی بچہ ماں سے جدا ہوتا ہے، کوئی زخم کے ساتھ کئی دن چلتا ہے۔
فطرت خوبصورت ہے، مگر مہربان نہیں۔
ہم نے خوبصورتی کو نیکی سمجھ لیا، حالانکہ ایک زہریلا پھول بھی حسین ہوسکتا ہے۔ کائنات کا حسن اس کے اخلاقی ہونے کی ضمانت نہیں۔ ستارے خوبصورت ہیں، مگر وہ پوری دنیا جلا سکتے ہیں۔ سمندر دلکش ہے، مگر کسی کشتی کو پہچانتا نہیں۔ برف پاکیزہ لگتی ہے، مگر اسی برف میں کوئی جانور آہستہ آہستہ جم کر مرسکتا ہے۔
فطرت کسی سے نفرت نہیں کرتی، مگر کسی سے محبت بھی نہیں کرتی۔
شاید یہی اس کی سب سے خوفناک غیر جانب داری ہے۔
انسان اس غیر جانب داری کو کبھی خدائی عدل سمجھتا ہے، کبھی اندھی فطرت۔ مگر جو مخلوق درد میں ہے، اس کے لیے دونوں تعبیرات ایک جیسی ہوسکتی ہیں۔ زخمی ہرن کو فرق نہیں پڑتا کہ اسے کسی منصوبے نے زخمی کیا یا بے مقصد حادثے نے۔ اس کے لیے درد صرف درد ہے۔
ایک جنگل میں آگ لگی۔ پرندے دھوئیں سے گرتے گئے۔ ایک مادہ ہرن اپنے بچے کے ساتھ بھاگی۔ بچہ کمزور تھا، پیچھے رہ گیا۔ ماں چند قدم آگے گئی، پھر واپس آئی۔ آگ قریب آتی رہی۔ وہ اسے دھکیلتی، چاٹتی، سینگ سے اٹھانے کی کوشش کرتی۔ بچہ کھڑا ہوا، پھر گر گیا۔
ماں کے پاس ایک انتخاب تھا: خود بچ جائے یا بچے کے ساتھ رہے۔
وہ واپس نہ گئی۔
اگلی صبح دونوں کی جلی ہوئی لاشیں ایک دوسرے کے قریب ملیں۔
ہم جانوروں کو جبلت کا قیدی کہتے ہیں، جیسے جبلت محبت کو کمتر بنا دیتی ہو۔ مگر انسان کی محبت بھی حیاتیات، یاد، تعلق اور خوف سے بنی ہوتی ہے۔ اگر ایک جانور اپنی جان بچانے کے بجائے بچے کے پاس رہتا ہے، تو کیا یہ صرف جبلت ہے؟ اور اگر ہے، تو کیا قربانی کا حیاتیاتی ہونا اسے کم عظیم بناتا ہے؟
شاید اخلاق کا پہلا بیج انسان سے پہلے پیدا ہوا تھا۔
شاید ماں کا اپنے بچے کے لیے خطرہ مول لینا کسی مذہبی حکم سے پرانا ہے۔
شاید رحم خدا کے تصور سے بھی پہلے زندگی کے اندر موجود تھا۔
اگر ایسا ہے تو اخلاق صرف آسمان سے نازل نہیں ہوا۔ وہ زمین کے جسم میں بھی اگا۔ تعاون، پرورش، وفاداری، غم، دفاع اور تعلق انسانی تہذیب سے پہلے جانوروں میں موجود تھے۔ انسان نے ان جذبات کو زبان، قانون اور فلسفہ دیا، مگر ان کی ابتدا شاید اس سے پہلے تھی۔
یہ مذہب کے خلاف دلیل نہیں، مگر انسانی غرور کے خلاف ضرور ہے۔
شاید خدا نے اخلاق کو کتاب میں لکھنے سے پہلے زندگی کے اندر رکھا۔
یا شاید اخلاق ارتقا کی پیداوار ہے، جسے انسان نے بعد میں مقدس نام دیا۔
دونوں صورتوں میں ایک جانور کی تکلیف اخلاقی اہمیت رکھتی ہے۔
اگر اخلاق صرف اس مخلوق تک محدود ہو جو فلسفہ لکھ سکتی ہے، تو ایک نومولود بچہ بھی فلسفہ نہیں لکھ سکتا۔ ہم اس کا حق اس لیے مانتے ہیں کہ وہ درد محسوس کرتا ہے، کمزور ہے، زندہ ہے اور اس کی زندگی اس کے لیے قیمتی ہے۔ یہی اصول جانور پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
شاید ہم عقل کو اخلاقی قدر کا معیار اس لیے بناتے ہیں کیونکہ اس پیمانے پر ہم جیتتے ہیں۔
اگر طاقت معیار ہو تو انسان غالب ہے۔ اگر زبان معیار ہو تو انسان غالب ہے۔ اگر ٹیکنالوجی معیار ہو تو انسان غالب ہے۔
مگر اگر درد معیار ہو، تو انسان اکیلا نہیں۔
اور اگر کمزوری اخلاقی ذمہ داری پیدا کرتی ہے، تو جانور ہمارے نیچے نہیں، ہمارے سپرد ہیں۔
یہ خیال انسانی برتری کو خدمت میں بدل دیتا ہے۔
مگر انسان نے اکثر برتری کو ملکیت سمجھا۔
ہم نے جانور کے جسم کو چیز، اس کی تکلیف کو پیداوار کا خرچ، اس کی زندگی کو وزن، اور اس کی موت کو قیمت میں بدل دیا۔ صنعتی نظام میں جانور فرد نہیں رہتا، اکائی بن جاتا ہے۔ اسے نام نہیں دیا جاتا، نمبر دیا جاتا ہے، کیونکہ نام تعلق پیدا کرتا ہے اور نمبر ضمیر کو خاموش رکھتا ہے۔
ایک بچھڑا اپنی ماں سے جدا کیا گیا۔ وہ کئی گھنٹے تک آواز دیتا رہا۔ ماں دوسری طرف بندھی ہوئی تھی۔ وہ رسی کھینچتی، دیوار سے ٹکراتی اور جواب دیتی رہی۔ دونوں ایک دوسرے کو سن سکتے تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے۔
انسانوں نے کام جاری رکھا۔
کیونکہ کام رکتا تو نقصان ہوتا۔
شاید ظلم ہمیشہ نفرت سے نہیں ہوتا۔ اکثر وہ معمول سے ہوتا ہے۔ انسان کسی جانور سے نفرت نہیں کرتا، بس اسے مکمل مخلوق سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب کوئی وجود "پیداوار" بن جائے تو اس کی چیخ شور بن جاتی ہے۔
یہی طریقہ انسان نے انسانوں کے ساتھ بھی استعمال کیا۔ غلام، دشمن، غیر قوم، کمتر ذات، غیر قانونی، مزدور، تعداد۔ پہلے فرد سے نام چھینو، پھر اس کے درد کو انتظامی مسئلہ بنادو۔
جانوروں کے ساتھ ہمارا سلوک شاید انسانی اخلاق کا حاشیہ نہیں، آئینہ ہے۔
جو طاقتور کمزور کے ساتھ کرتا ہے، وہی اس کے اخلاق کی اصل شکل ہے۔ اور جانور سے زیادہ کمزور کون ہے، جسے نہ ہماری عدالت سمجھ آتی ہے، نہ ہماری زبان، نہ ہمارے ہتھیار؟
ایک فلسفیانہ غلطی صدیوں سے ہمارے ساتھ چلتی رہی: انسان کو کائنات کا مرکز سمجھنا۔ ہم نے زمین کو مرکز سمجھا، پھر معلوم ہوا وہ نہیں۔ ہم نے اپنی نسل کو تخلیق کا آخری مقصد سمجھا، پھر دریافت کیا کہ زندگی کا درخت بہت وسیع ہے۔ ہم نے شعور کو صرف اپنا سمجھا، پھر جانوروں کے رویوں میں یاد، منصوبہ، غم، کھیل، حسد، تعاون اور تعلق کے آثار دیکھے۔
مگر اخلاقی مرکز ابھی بھی انسان ہے۔
ہم کہتے ہیں انسانی جان بے قیمت ہے۔ یہ خوبصورت اصول ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا دوسری جان صرف اس لیے کم قیمت ہے کہ وہ انسانی نہیں؟ نسل کا فرق اخلاقی فرق کیوں بن جائے؟
اگر کسی مخلوق کی تکلیف حقیقی ہے، تو اس کی نوع اس درد کو کم حقیقی نہیں بناتی۔
ایک کتا آگ میں جلتے ہوئے اتنا ہی درد محسوس کرتا ہے جتنا انسان، اگرچہ وہ اس درد پر نظم نہیں لکھ سکتا۔ ایک گائے اپنے بچے سے جدائی پر اضطراب محسوس کرتی ہے، اگرچہ وہ ماں کے غم کا فلسفہ بیان نہیں کرسکتی۔ ایک بندر اپنے مردہ بچے کو کئی دن اٹھائے پھرتا ہے، اگرچہ اسے موت کے بعد کی زندگی کا تصور معلوم نہیں۔
ہم جانوروں کے شعور پر اس لیے شک کرتے ہیں کیونکہ وہ ہماری زبان نہیں بولتے۔ مگر اگر کوئی غیر انسانی مخلوق زمین پر آئے اور ہماری زبان نہ سمجھے، تو کیا اسے حق ہوگا کہ وہ ہمارے درد کو کمتر مان لے؟
زبان تجربے کا ثبوت نہیں، اس کا اظہار ہے۔
خاموشی عدمِ شعور نہیں۔
ایک انسان جو بول نہیں سکتا، پھر بھی مکمل درد محسوس کرتا ہے۔ ہم اس کے حق کو زبان سے نہیں جوڑتے۔ پھر جانور کے معاملے میں یہ اصول کیوں بدل جاتا ہے؟
شاید ہم اخلاق کو اس طرح بناتے ہیں کہ ہماری سہولت محفوظ رہے۔
ہم جانور سے محبت بھی کرتے ہیں اور اسے کھاتے بھی ہیں۔ ایک نسل کو خاندان کہتے ہیں، دوسری کو خوراک۔ ایک کتے پر ظلم کی ویڈیو دیکھ کر غصہ آتا ہے، مگر دوسرے جانور کی اذیت کو پلیٹ پر دیکھ کر معمول۔ فرق درد میں نہیں، ثقافت میں ہے۔
اخلاق اکثر اصول سے کم اور عادت سے زیادہ بنتا ہے۔
جو ظلم چھپ کر ہوتا ہے، وہ ضمیر کو کم پریشان کرتا ہے۔ انسان اگر اپنی خوراک کے لیے جانور کی آنکھوں میں دیکھ کر خود اسے مارنے پر مجبور ہو، تو شاید اس کے انتخاب بدل جائیں۔ مگر صنعتی زندگی نے نتیجے کو سبب سے جدا کردیا ہے۔ صاف پیکٹ میں بند گوشت کے پیچھے کوئی چہرہ نظر نہیں آتا۔
شاید تہذیب نے انسان کو ظلم سے نہیں، ظلم کے منظر سے دور کیا ہے۔
اور فاصلے نے ضمیر کو آرام دیا۔
یہاں سوال صرف خوراک کا نہیں، اخلاقی سچائی کا ہے۔ کیا ہم ایسی تکلیف کو معمول کہہ سکتے ہیں جسے ہم خود دیکھنا پسند نہیں کرتے؟ اگر کوئی عمل اتنا تکلیف دہ ہے کہ اسے چھپانا ضروری ہو، تو شاید مسئلہ صرف منظر نہیں، عمل بھی ہے۔
مگر انسانی زندگی پیچیدہ ہے۔ ہر شخص کے حالات، صحت، جغرافیہ اور دستیاب وسائل مختلف ہیں۔ اخلاقی گفتگو اگر تکبر بن جائے تو وہ بھی ظلم پیدا کرتی ہے۔ مقصد انسان کو شرمندہ کرنا نہیں، اس کے دائرۂ رحم کو وسیع کرنا ہے۔
اخلاقی ترقی شاید یہی ہے: وہ مخلوق جو پہلے "چیز" تھی، آہستہ آہستہ "کوئی" بن جائے۔
غلام کبھی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ عورت کبھی مرد کی تابع چیز۔ بچے کبھی خاموش ملکیت۔ دوسری نسلیں کبھی کم انسان۔
اخلاق کا دائرہ ہمیشہ دیر سے وسیع ہوا۔
شاید اگلا قدم غیر انسانی مخلوق کی طرف ہے۔
یہ کہنا کہ جانور کا درد اہم ہے، انسان کو کمتر کرنا نہیں۔ رحم تقسیم ہونے سے کم نہیں ہوتا۔ جو انسان جانور کے لیے نرم ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ انسان سے دور ہو؛ شاید اس نے کمزوری کو زیادہ گہرائی سے سمجھا ہے۔
ایک قصائی کے پاس ایک بوڑھی گائے لائی گئی۔ وہ چلنے سے انکار کررہی تھی۔ لوگ اسے دھکیلتے، کھینچتے، مارتے۔ قریب ایک چھوٹا بچہ کھڑا تھا۔ اس نے گائے کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنے باپ سے پوچھا: "یہ رو کیوں رہی ہے؟"
باپ نے کہا: "جانور ایسے ہی ہوتے ہیں۔"
یہ جواب بچے کے سوال کا نہیں تھا۔ یہ بالغ ضمیر کا دفاع تھا۔
بچہ جانتا تھا کہ آنکھ میں خوف ہے۔
بالغ جانتا تھا کہ اگر وہ اسے تسلیم کرے گا تو اس کا عمل مشکل ہوجائے گا۔
بعض اوقات بچے اخلاقی حقیقت کو فوراً دیکھ لیتے ہیں، اور بڑے اسے معاشرتی زبان میں چھپا دیتے ہیں۔
شاید معصومیت عقل کی کمی نہیں، بے حسی کی کمی ہے۔ ہم بڑے ہوتے ہیں، دنیا کو سمجھتے ہیں، مگر کبھی کبھی درد کو نہ دیکھنے کی مہارت بھی سیکھ لیتے ہیں۔ یہ مہارت تہذیب نہیں۔ یہ روح کی تھکن ہے۔
انسان دکھ میں خدا کو پکارتا ہے کیونکہ اسے سبب، مقصد اور مخاطب چاہیے۔ جانور درد میں چیختا ہے، مگر شاید کسی مابعدالطبیعی ہستی کو نہیں پکارتا۔ وہ صرف بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے یہ سوال نہیں کہ "یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟" شاید اسی لیے اس کا درد فلسفیانہ کم، مگر خالص زیادہ ہے۔
انسان دو بار دکھ سہتا ہے۔ ایک بار جسم میں۔ دوسری بار معنی میں۔
جانور شاید پہلی اذیت سہتا ہے، انسان دونوں۔
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جانور کا درد چھوٹا ہے۔ بعض اوقات معنی کی عدم موجودگی درد کو اور بھی بے دفاع بنا دیتی ہے۔ انسان کم از کم امید بنا سکتا ہے، جانور صرف لمحہ جھیلتا ہے۔
ایک زخمی گھوڑا سڑک کے کنارے گرا تھا۔ اس کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی۔ گاڑیاں گزرتی رہیں۔ وہ بار بار اٹھنے کی کوشش کرتا، پھر گر جاتا۔ اس کے جسم کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جو حرکت ہمیشہ ممکن تھی، اب کیوں نہیں۔ اس کی آنکھوں میں وہ گھبراہٹ تھی جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم پہلی بار اپنی حد سے واقف ہوتا ہے۔
ایک نوجوان گاڑی روک کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ گھوڑا خوف سے پیچھے ہٹنا چاہتا تھا مگر ہٹ نہ سکا۔ نوجوان نے کچھ نہیں کہا۔ صرف ہاتھ اس کی گردن پر رکھا۔
گھوڑا آہستہ آہستہ پرسکون ہوگیا۔
وہ نوجوان اسے بچا نہ سکا۔ ڈاکٹر نے بتایا چوٹ بہت شدید ہے۔ کچھ دیر بعد گھوڑے کو موت کی دوا دی گئی۔ آخری لمحے میں اس کی گردن اسی نوجوان کے ہاتھ کے نیچے تھی۔
کیا اس لمس نے موت کا مسئلہ حل کردیا؟ نہیں۔ کیا اس نے درد کو بے معنی ہونے سے روکا؟ شاید کچھ لمحوں کے لیے۔
یہی انسانی موجودگی کی عجیب طاقت ہے۔ ہم ہمیشہ زندگی نہیں بچا سکتے، مگر تنہائی کم کرسکتے ہیں۔ شاید رحم کا مقصد ہر موت روکنا نہیں، ہر درد کو اکیلا نہ رہنے دینا ہے۔
یہ فلسفہ خدا کے مسئلے کو حل نہیں کرتا، مگر انسان کے کردار کو واضح کرتا ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ خدا نے جانوروں کو انسانی خدمت کے لیے بنایا۔ مگر شاید سوال الٹا ہے: ممکن ہے جانور انسان کی اخلاقی آزمائش ہوں۔ وہ اس لیے ہمارے اختیار میں نہیں کہ ہم جو چاہیں کریں، بلکہ اس لیے کہ دیکھا جائے طاقت ہمارے اندر کیا پیدا کرتی ہے۔
رحم طاقتور کی کمزوری نہیں، اس کی اخلاقی پختگی ہے۔
جو صرف برابر والے کے ساتھ انصاف کرے، وہ ابھی مکمل عادل نہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہے جب سامنے وہ ہو جو بدلہ نہیں لے سکتا۔
جانور انسان کے لیے یہی خاموش امتحان ہیں۔
وہ عدالت نہیں جاسکتے۔ وہ خبر نہیں لکھ سکتے۔ وہ خدا کے نام پر بددعا بھی نہیں کرسکتے۔ ان کے پاس صرف جسم ہے، خوف ہے، اور ہماری طرف دیکھتی ہوئی آنکھیں۔
کیا خدا ان کی چیخ سنتا ہے؟
اگر سنتا ہے تو ہمیں کیوں نہیں روکتا؟
شاید اس نے ہمیں روکنے کے لیے ضمیر دیا۔
مگر ضمیر کمزور کیوں ہے؟
شاید آزادی کی قیمت ہے۔
مگر جانور ہماری آزادی کی قیمت کیوں ادا کریں؟
ہم پھر اسی دائرے میں آجاتے ہیں جہاں ہر جواب ایک نیا سوال پیدا کرتا ہے۔
کیا خدا ایسا نظام بنا سکتا تھا جہاں آزادی ہو مگر بے گناہ پر ظلم ممکن نہ ہو؟ شاید منطقی طور پر آزادی میں غلطی کا امکان ضروری ہے۔ مگر کیا ہر درجے کی اذیت ضروری تھی؟ کیا انسان کو انتخاب دینے کے لیے جانوروں کو صنعتی قید میں رکھنا ناگزیر تھا؟ نہیں۔ یہ خدائی ضرورت نہیں، انسانی فیصلہ ہے۔
یہاں انسان خدا کے پیچھے نہیں چھپ سکتا۔
فطری درد ایک فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ انسانی ظلم ایک اخلاقی جرم۔ دونوں کو ایک ہی لفظ "تقدیر" میں چھپا دینا بے ایمانی ہے۔
ایک کتا گاڑی کے نیچے آیا۔ ڈرائیور رکا نہیں۔ پیچھے آنے والی عورت نے گاڑی روکی۔ کتا سڑک پر تڑپ رہا تھا۔ وہ اسے اٹھانے سے ڈر رہی تھی، مگر پھر بھی جھکی۔ خون اس کے کپڑوں پر لگا۔ کتا درد میں اس کے ہاتھ پر دانت رکھ سکتا تھا، مگر اس نے صرف سر اس کی گود میں رکھ دیا۔
چند منٹ بعد وہ مر گیا۔
عورت دیر تک سڑک کے کنارے بیٹھی رہی۔
اس نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
پھر بھی اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
یہ کون سا تعلق تھا؟ نہ نسل، نہ ملکیت، نہ فائدہ، نہ مذہب۔
صرف ایک زندہ مخلوق کا دوسری زندہ مخلوق کے درد کو پہچان لینا۔ شاید اخلاق کا آغاز اسی پہچان سے ہوا تھا۔ اور شاید خدا کا تصور بھی۔
کئی مہینوں بعد ہسپتال کے باہر بیٹھنے والے کتے کی کہانی شہر میں پھیل گئی۔ کسی نے اسے اپنے گھر لے جانے کی کوشش کی، مگر وہ بار بار اسی محلے کی طرف بھاگ جاتا جہاں بوڑھا مزدور رہتا تھا۔ آخرکار ایک نوجوان اسے اسی گھر کے قریب لے گیا۔
دروازہ بند تھا۔
کتا دیر تک دہلیز سونگھتا رہا۔ پھر وہ دروازے کے سامنے بیٹھ گیا، بالکل اسی طرح جیسے ہسپتال کے سامنے بیٹھتا تھا۔
بوڑھے کی بیٹی کئی دن بعد وہاں آئی۔ اس نے کتے کو دیکھا تو رک گئی۔ باپ کی موت کے بعد وہ اس گھر میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کرسکی تھی۔ کتا اسے پہچانتا نہیں تھا، مگر اس کے کپڑوں میں شاید وہی پرانی بو تھی۔ وہ آہستہ سے اس کے قریب آیا، پھر سر اس کے گھٹنے سے لگا دیا۔
عورت زمین پر بیٹھ گئی۔
اس نے کتے کو گلے لگایا اور پہلی بار باپ کی موت کے بعد کھل کر روئی۔
شاید دونوں ایک ہی انسان کو کھو چکے تھے۔ ایک نے باپ۔ ایک نے پوری دنیا۔
غم نے ان کے درمیان وہ زبان پیدا کردی جو کسی مذہب، نسل یا نوع کی محتاج نہیں تھی۔
عورت اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
اس رات کتا پہلی بار ایک نئے گھر میں سویا، مگر بوڑھے کی پرانی قمیص کے اوپر۔
کیا جانور یاد رکھتے ہیں؟ ہاں، اپنے طریقے سے۔
کیا وہ محبت کرتے ہیں؟ اگر محبت کا مطلب تعلق، انتظار، وفاداری، قربت اور جدائی میں درد ہے، تو شاید یہ سوال ہی غلط ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے: ہم نے اتنی دیر تک ان کی محبت کو محبت ماننے سے انکار کیوں کیا؟
شاید کیونکہ محبت کو صرف انسانی ملکیت سمجھنا ہمیں برتر محسوس کراتا ہے۔
مگر برتری اکثر حقیقت نہیں، تنہائی پیدا کرتی ہے۔
انسان خود کو فطرت سے الگ سمجھتا رہا، حالانکہ وہ اسی جسمانی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے خون میں وہی عناصر، خلیوں میں وہی بنیادی زبان، خوف میں وہی لرزش، محبت میں وہی وابستگی، موت میں وہی خاموشی۔
ہم جانوروں سے مختلف ہیں، مگر مکمل طور پر جدا نہیں۔
شاید انسانیت کا مطلب جانوریت سے فرار نہیں، اس شعور کا اضافہ ہے جو اپنی طاقت کو رحم میں بدل سکے۔
اگر انسان صرف ذہانت میں بڑا ہے تو وہ زیادہ خطرناک جانور ہے۔ اگر وہ اخلاق میں بڑا ہے تو اسے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔
مگر ہماری تہذیب نے ذہانت کو بڑھایا، رحم کو ہمیشہ نہیں۔ ہم نے ایسے آلات بنائے جو ہزاروں جانیں ایک لمحے میں ختم کرسکتے ہیں، مگر ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ کمزور مخلوق کا درد ہمارے فائدے سے کتنا اہم ہے۔
انسان کا دماغ چاند تک پہنچ گیا۔
اس کا ضمیر اکثر اپنے قدموں کے نیچے دیکھنے سے قاصر ہے۔
ہم خدا کی تلاش میں کہکشاؤں کا مطالعہ کرتے ہیں، مگر شاید خدا کا سب سے مشکل سوال ایک زخمی جانور کی آنکھ میں موجود ہے: تم طاقتور تھے، تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟
اگر آخری عدالت ہے تو شاید وہاں صرف انسانوں کے مقدمے نہ ہوں۔ شاید وہاں وہ جنگل بھی گواہی دے گا جسے ہم نے جلایا، وہ دریا جسے زہر دیا، وہ جانور جسے تفریح کے لیے مارا، وہ پرندہ جس کا آسمان چھینا، وہ زمین جسے ملکیت سمجھ کر زخمی کیا۔
شاید قیامت صرف مردوں کے اٹھنے کا نام نہیں۔
شاید وہ دن ہے جب بے زبان مخلوقات کو زبان ملے گی۔
اور انسان پہلی بار اپنی تہذیب کو ان کی آنکھوں سے دیکھے گا۔
ہم اپنی تاریخ کو ترقی کہتے ہیں۔ جانور شاید اسے قبضہ کہیں۔ ہم شہروں کو کامیابی کہتے ہیں، وہ انہیں کھوئے ہوئے جنگل کہیں۔ ہم پیداوار بڑھاتے ہیں، ان کے لیے قید بڑھتی ہے۔ ہم سہولت حاصل کرتے ہیں، ان کا جسم قیمت دیتا ہے۔
یہ الزام انسان کے وجود کے خلاف نہیں، اس کے غرور کے خلاف ہے۔
انسان رحم کرسکتا ہے۔ یہی امید ہے۔
وہ زخمی پرندے کو اٹھاتا ہے، بے گھر جانور کو پناہ دیتا ہے، جنگل بچاتا ہے، شکار چھوڑتا ہے، ظلم کے خلاف قانون بناتا ہے، اور کبھی صرف سڑک کے کنارے بیٹھ کر مرتی ہوئی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
شاید انسان کی نجات اس کے عقیدے سے پہلے اس کی وسعتِ رحم میں ہے۔
جو رحم صرف اپنے خاندان تک محدود ہو، محبت ہے مگر اخلاق نہیں۔ جو اپنی قوم تک پہنچے، وفاداری ہے مگر انسانیت نہیں۔ جو ہر انسان تک پھیلے، عظیم ہے۔
مگر جو بے زبان زندگی تک پہنچ جائے، شاید وہ پہلی بار واقعی آفاقی بنتا ہے۔
خدا اگر موجود ہے تو شاید اسے ہمارے الفاظ سے زیادہ یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اس کی کمزور مخلوق کے ساتھ کیا کیا۔
اور اگر خدا موجود نہیں، تب بھی ان کا درد حقیقی ہے۔
اخلاق کو آسمانی نگران کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تاکہ ہم اذیت کو غلط سمجھیں۔
ایک چیخ اس لیے اہم نہیں کہ خدا اسے سنتا ہے۔ وہ اس لیے اہم ہے کہ کوئی درد میں ہے۔
یہ شاید اخلاق کی سب سے خالص بنیاد ہے۔
درد کو غلط سمجھنے کے لیے مذہبی حکم کی ضرورت نہیں۔ صرف بیدار دل چاہیے۔
رات کے وقت بوڑھے کی بیٹی جاگی۔ کتا دروازے کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ خواب میں ہلکی آواز نکال رہا تھا، جیسے کسی پرانی جگہ کی طرف واپس گیا ہو۔ عورت اس کے قریب بیٹھی اور اس کی گردن پر ہاتھ رکھا۔
کتا پرسکون ہوگیا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو بچا نہیں سکتے تھے۔
مگر دونوں ایک دوسرے کی تنہائی کم کرسکتے تھے۔
شاید زندگی کا بیشتر رحم یہی ہے۔
ہم موت ختم نہیں کرسکتے۔ ہم ہر زخم بھر نہیں سکتے۔ ہم خدا کی خاموشی کا راز نہیں جان سکتے۔
مگر ہم اس خاموشی میں کسی کے پاس بیٹھ سکتے ہیں۔
چاہے وہ انسان ہو یا جانور۔ چاہے وہ ہماری زبان سمجھے یا نہ سمجھے۔ چاہے وہ ہمیں بدلے میں کچھ دے سکے یا نہیں۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار اپنی برتری ثابت نہیں کرتا، اپنی انسانیت ثابت کرتا ہے۔
اور شاید ایک جانور کی آنکھ میں خدا کا سب سے مشکل سوال ہمیشہ سے یہی تھا: تم مجھے کمتر کہتے رہے، مگر درد میں ہم دونوں ایک جیسے کیوں تھے؟
شہر کی ایک پرانی عمارت کو گرانے سے پہلے مزدوروں نے اس کی دیواروں پر سرخ نشان لگائے تھے۔ عمارت خطرناک قرار دی جاچکی تھی۔ اس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، چھت کے کئی حصے گر چکے تھے، اور دیواروں کی دراڑوں میں برسوں کی بارش، دھول اور فراموشی جمع تھی۔ انسانوں کے لیے وہ عمارت اب صرف ملبہ تھی، مگر ایک چھوٹی چڑیا کے لیے وہ گھر تھا۔
اس نے چھت کے نیچے ایک تنگ درز میں گھونسلہ بنایا تھا۔ گھاس کے باریک تنکے، دھاگے کے ٹکڑے، کسی پھٹے کپڑے کی روئیں، اور شہر کے کوڑے سے چنی ہوئی نرم چیزیں۔ انسان جسے فضلہ سمجھتا تھا، اس نے اسی سے پناہ بنا لی تھی۔ شاید گھر کا فلسفہ یہی ہے: جگہ کی قیمت اینٹ سے نہیں، واپسی کے امکان سے بنتی ہے۔
چڑیا کے تین بچے تھے۔ ان کے جسم پر پورے پر بھی نہیں آئے تھے۔ وہ روشنی اور آواز کے درمیان اپنی گردنیں اٹھاتے، چونچیں کھولتے، اور ہر سایے کو ماں کی واپسی سمجھتے۔ انہیں دنیا کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ان کے لیے کائنات ایک چھوٹا سا گھونسلا تھا، اس کی گول دیواریں، اوپر جھکا ہوا مادہ پرندہ، اور چونچ میں آتا ہوا دانہ۔
پھر مشین آئی۔
مزدوروں نے حفاظتی رسی لگائی، شور بڑھا، دھات کی ایک بھاری ضرب دیوار پر پڑی، اور کئی سال پرانی اینٹیں ایک لمحے میں گرنے لگیں۔ کسی نے گھونسلہ نہیں دیکھا۔ کسی نے چڑیا کی بے چینی نہیں سنی۔ انسانی ترقی کے شور میں چھوٹی آوازیں ہمیشہ پہلے غائب ہوتی ہیں۔
چڑیا دور بجلی کے تار پر بیٹھی چیختی رہی۔ وہ بار بار ملبے کی طرف اڑتی، پھر مشین کے خوف سے واپس جاتی۔ شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ دیوار کیوں گر رہی ہے۔ شاید وہ یہ بھی نہیں سمجھتی تھی کہ جس قوت نے اس کا گھر توڑا، وہ کسی دشمن پرندے کی نہیں بلکہ ایک منظم انسانی فیصلے کی قوت تھی۔
کچھ دیر بعد سب خاموش ہوگیا۔
چڑیا ملبے پر اتری۔ اس نے ایک اینٹ سے دوسری اینٹ تک چھلانگ لگائی۔ وہ اس جگہ کو پہچاننے کی کوشش کررہی تھی جہاں چند لمحے پہلے اس کی پوری دنیا تھی۔ اس نے چونچ سے گرد ہٹائی، تنکوں کے ٹکڑے تلاش کیے، پھر ایک ایسی آواز نکالی جو انسان کے لیے محض چہچہاہٹ تھی، مگر شاید اس کے اندر ماں کا وہی سوال تھا جو ہر زبان میں ایک جیسا ہوتا ہے:
میرے بچے کہاں ہیں؟
انسان اکثر گھر کے تصور کو اپنی تہذیب سے جوڑتا ہے۔ ملک، سرحد، زمین، مکان، کاغذات، ملکیت۔ مگر گھر انسان سے پہلے پرندوں نے بنایا تھا۔ گھونسلا کسی فلسفے سے نہیں بنتا، مگر تعلق سے بنتا ہے۔ ایک پرندہ ہزاروں میل اڑ کر اسی درخت، اسی شاخ، اسی چھجے، اسی وادی میں واپس آتا ہے۔ اسے نقشہ پڑھنا نہیں آتا، مگر واپسی کی یاد اس کے جسم میں لکھی ہوتی ہے۔
کیا گھر صرف شعوری خیال ہے، یا جسم کی گہری یاد؟
انسان بھی ایسا ہی ہے۔ وہ شہر بدل لیتا ہے، زبان بدل لیتا ہے، پاسپورٹ بدل لیتا ہے، مگر بعض خوشبوئیں، آوازیں، گلیاں اور دروازے اس کے اندر ایسے محفوظ رہتے ہیں جیسے ہجرت کے باوجود روح نے اپنا گھونسلا وہیں چھوڑ دیا ہو۔
شاید پرندہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ گھر وہ جگہ نہیں جہاں ہم رہتے ہیں، بلکہ وہ جگہ ہے جس کی تباہی ہمارے اندر کچھ توڑ دیتی ہے۔
مگر انسان پرندے کے گھر کو گھر نہیں سمجھتا۔ وہ درخت کو لکڑی، گھونسلے کو رکاوٹ، آسمان کو فضائی راستہ، زمین کو منصوبہ، اور خاموش مخلوق کو "ماحولیاتی اثر" کہتا ہے۔ زبان بدلتے ہی جرم انتظامی فیصلہ بن جاتا ہے۔
یہی انسانی عقل کی عجیب چال ہے۔ وہ حقیقت کو نام دیتی ہے، پھر نام کے ذریعے اپنی بے حسی کو جائز بناتی ہے۔
جنگ میں گھر تباہ ہو تو اسے نقصان کہتے ہیں۔ جنگل کاٹ دیا جائے تو ترقی۔ پرندوں کی نسل کم ہو تو اعداد و شمار۔ دریا مر جائے تو آلودگی۔
انسان کو لفظوں سے اتنا پیار ہے کہ بعض اوقات وہ لفظ بنا کر زخم کو دیکھنے سے بچ جاتا ہے۔
چڑیا دیر تک ملبے پر بیٹھی رہی۔ مزدور جا چکے تھے۔ شام اتر رہی تھی۔ شہر کے لوگ اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے۔ کسی نے اس پرندے سے نہیں پوچھا کہ وہ کہاں جائے گی۔
شاید دنیا میں بے گھری صرف انسانی مسئلہ نہیں۔
شاید ہر وہ مخلوق بے گھر ہے جس کی پناہ کسی طاقتور کے منصوبے میں جگہ نہیں رکھتی۔
اس رات چڑیا ایک ٹوٹی ہوئی تار پر سوئی۔ بارش شروع ہوئی۔ اس کے پاس چھت نہیں تھی، بچے نہیں تھے، اور واپسی کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ پھر بھی صبح وہ دوبارہ ملبے پر آئی۔
یہ امید تھی یا یاد کی بیماری؟ شاید دونوں۔
انسان بھی تو قبرستان واپس جاتا ہے، حالانکہ جانتا ہے کہ مردہ دروازہ نہیں کھولے گا۔ وہ خالی کمرے میں کپڑے سونگھتا ہے، پرانی آوازیں سنتا ہے، تصویروں سے بات کرتا ہے۔ شاید غم عقل سے نہیں، واپسی کی ناممکن خواہش سے بنتا ہے۔
چڑیا بھی واپس آئی۔
کیونکہ محبت ہمیشہ حقیقت کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی وہ تب بھی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے جب گھر باقی نہیں رہتا۔
انسان نے ہمیشہ پرندے کو آزادی کی علامت بنایا۔ شاعروں نے پرواز کو رهایی کہا، صوفیوں نے روح کی بلندی، فلسفیوں نے حدود سے نکلنے کا استعارہ۔ مگر شاید ہم پرندوں کو زمین سے دیکھتے رہے، آسمان سے نہیں۔
پرواز خوبصورت ہے، مگر آسان نہیں۔
ایک چھوٹا پرندہ ہزاروں میل ہجرت کرتا ہے۔ سمندر، طوفان، بھوک، شکاری، تھکن، بدلتے موسم۔ اس کے جسم میں سمت کا ایک خاموش علم ہوتا ہے، مگر راستے میں کوئی ضمانت نہیں۔ بہت سے پرندے منزل تک نہیں پہنچتے۔ کچھ روشنیوں سے بھٹک جاتے ہیں، کچھ شیشے سے ٹکرا کر مرجاتے ہیں، کچھ طوفان میں گم، کچھ بھوک سے کمزور، کچھ انسان کے جال میں۔
انسان نیچے سے انہیں دیکھتا ہے اور کہتا ہے: کاش میں بھی آزاد ہوتا۔
پرندہ شاید اوپر سے زمین کو دیکھ کر کہتا ہو: کاش کہیں محفوظ جگہ ہوتی۔
آزادی اور تحفظ ہمیشہ ایک دوسرے کے دوست نہیں۔ جو قید سے نکلتا ہے، خطرے میں داخل ہوتا ہے۔ جو محفوظ رہتا ہے، کبھی کبھی آسمان کھو دیتا ہے۔
یہی انسانی زندگی کا بھی مسئلہ ہے۔ ہم آزادی چاہتے ہیں، مگر اس کے نتائج سے ڈرتے ہیں۔ ہم انتخاب چاہتے ہیں، مگر غلطی کی قیمت نہیں۔ ہم خدا سے آزاد ارادہ مانگتے ہیں، پھر سوال کرتے ہیں کہ اس نے ظلم کیوں ہونے دیا۔ ہم قید سے نفرت کرتے ہیں، مگر ایسی کائنات چاہتے ہیں جہاں ہماری آزادی دوسرے کے لیے خطرہ نہ بنے۔
کیا کامل آزادی ممکن ہے؟ شاید نہیں۔
ہر پرواز ہوا، جسم، موسم اور سمت کی حدود میں ہوتی ہے۔ پرندہ آسمان میں ہے، مگر قانونِ فطرت سے باہر نہیں۔ انسان بھی انتخاب کرتا ہے، مگر اپنی تاریخ، جسم، خوف، سماج اور حالات کے اندر۔
شاید آزادی کا مطلب حدود کا نہ ہونا نہیں، حدود کے اندر معنی خیز انتخاب کرنا ہے۔
مگر پھر خدا کی عدالت کو ان حدود کا پورا علم ہونا چاہیے۔
ایک پرندہ جو طوفان میں راستہ کھو دے، اسے منزل نہ پہنچنے پر مجرم نہیں کہا جاسکتا۔ ایک انسان جو تشدد، لاعلمی، غربت اور نفسیاتی زخموں کے اندر فیصلہ کرے، اسے بھی محض نتیجے سے نہیں پرکھا جاسکتا۔
اگر خدا عادل ہے تو شاید وہ ہماری پرواز سے پہلے ہماری ہوا دیکھے گا۔
مگر مذہبی معاشرے اکثر صرف منزل دیکھتے ہیں۔ کون ہمارے عقیدے تک پہنچا، کون نہیں۔ کون ہماری عبادت کرتا ہے، کون نہیں۔ جیسے سب انسان ایک ہی موسم، ایک ہی نقشے اور ایک ہی پروں کے ساتھ نکلے ہوں۔
ایک پرندہ شہر کی بلند عمارت کے شیشے سے ٹکرا کر گرا۔ اسے آسمان کا عکس نظر آیا تھا۔ اس نے شیشہ نہیں دیکھا، صرف کھلا نیلا منظر۔ وہ آزادی کی طرف اڑا، مگر ایک انسانی سطح نے اسے روک دیا جو دکھائی نہیں دیتی تھی۔
یہ منظر انسانی زندگی کا کتنا گہرا استعارہ ہے۔
بعض قیدیں سلاخوں کی نہیں ہوتیں۔ وہ شفاف ہوتی ہیں۔ انسان سمجھتا ہے راستہ کھلا ہے، مگر کسی نظر نہ آنے والی دیوار سے ٹکرا جاتا ہے: طبقہ، نسل، غربت، ذہنی صدمہ، مذہبی خوف، سماجی شرم، خاندان کی توقع، ریاستی طاقت۔
ہم پھر بھی کہتے ہیں: سب کو برابر موقع ملا تھا۔
نہیں۔
کچھ لوگوں کے آسمان میں شیشہ ہوتا ہے۔
انہیں صرف اس لیے کمزور نہیں کہنا چاہیے کہ وہ اڑتے ہوئے گر گئے۔
پرندہ سڑک کے کنارے پڑا تھا۔ اس کے پر ہل رہے تھے، مگر جسم اٹھ نہیں رہا تھا۔ ایک لڑکی اسکول جاتے ہوئے رکی۔ لوگ گزر رہے تھے۔ کسی نے کہا ہاتھ نہ لگاؤ، مر جائے گا۔ کسی نے کہا دیر ہورہی ہے۔ لڑکی نے اپنا رومال نکالا، پرندے کو آہستہ سے اٹھایا اور ایک ڈبے میں رکھ لیا۔
وہ اسکول دیر سے پہنچی۔
استاد نے وجہ پوچھی۔
اس نے کہا: "وہ اکیلا مر رہا تھا۔"
یہ جملہ کسی عظیم فلسفے سے کم نہیں تھا۔
شاید رحم کا آغاز یہی ہے: انسان اپنی منزل کی رفتار کسی دوسرے کی تنہائی کے لیے کم کردے۔
دنیا ہمیں ہمیشہ جلدی سکھاتی ہے۔ کامیابی، وقت، کام، فائدہ۔ مگر اخلاق اکثر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان جلدی روک دیتا ہے۔
لڑکی نے پرندے کو ایک مرکز پہنچایا۔ وہ بچ نہ سکا۔ شام کو اسے بتایا گیا کہ وہ مر گیا ہے۔ لڑکی روئی۔ کسی نے کہا: "وہ تو صرف ایک پرندہ تھا۔"
صرف؟
یہ لفظ انسانی بے حسی کا سب سے چھوٹا اور سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
صرف جانور۔ صرف پرندہ۔ صرف غریب۔ صرف اجنبی۔ صرف ایک موت۔
ہر ظلم سے پہلے کسی وجود کو "صرف" بنایا جاتا ہے۔
پھر اس کا درد آسان ہوجاتا ہے۔
مگر لڑکی نے اسے صرف پرندہ نہیں سمجھا تھا۔ اس نے ایک زخمی زندگی دیکھی تھی جو اپنی پوری طاقت سے زندہ رہنا چاہتی تھی۔
شاید اخلاق اسی دن شروع ہوتا ہے جب "صرف" کا لفظ ختم ہوجائے۔
ایک بڑے بازار میں رنگ برنگے پرندوں کی دکان تھی۔ چھوٹے چھوٹے پنجروں میں طوطے، فنچ، مینا اور دوسرے پرندے بند تھے۔ لوگ رک کر ان کے رنگ دیکھتے، قیمت پوچھتے، بچوں کے لیے خریدتے۔ پرندے کبھی ایک ڈنڈے سے دوسرے ڈنڈے تک جاتے، کبھی سلاخوں سے چونچ ٹکراتے، کبھی خاموش بیٹھے رہتے۔
دکاندار کہتا تھا: "یہ خوش ہیں، انہیں کھانا ملتا ہے، خطرہ نہیں، موسم سے بچاؤ ہے۔"
شاید یہی ہر قید کا پہلا دفاع ہوتا ہے: حفاظت۔
غلامی کو نظم کہا گیا۔ عورت کی پابندی کو عزت۔ بچے کی خاموشی کو تربیت۔ شہری نگرانی کو سلامتی۔ اور پرندے کے پنجرے کو محبت۔
انسان جسے قابو میں رکھنا چاہتا ہے، پہلے اس کے لیے اپنی قید کو فائدہ ثابت کرتا ہے۔
مگر کیا تحفظ آزادی کا بدل ہوسکتا ہے؟
ایک پرندہ جو پنجرے میں پیدا ہوا ہو، شاید کھلے آسمان سے ڈرے۔ اسے پرواز کی پوری طاقت بھی معلوم نہ ہو۔ وہ سلاخوں کو دنیا کی حد سمجھ سکتا ہے۔ اگر دروازہ کھولا جائے تو وہ باہر نہ نکلے۔
کیا اس کا نہ نکلنا قید کی رضامندی ہے؟ یا تربیت کی کامیابی؟
انسان بھی بعض اوقات اپنی قید سے محبت کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ قید صرف حرکت محدود نہیں کرتی، تخیل بھی محدود کرتی ہے۔ جو انسان ہمیشہ ایک ہی نظریے، سماج، خوف یا اختیار میں رہا ہو، اسے آزادی خطرہ لگ سکتی ہے۔ وہ پنجرے کا دفاع اس لیے نہیں کرتا کہ پنجرہ اچھا ہے، بلکہ اس لیے کہ آسمان نامعلوم ہے۔
مذہب بھی کبھی آسمان بنتا ہے، کبھی پنجرہ۔
وہ انسان کو خوف سے نکال سکتا ہے، مگر سوال سے روک بھی سکتا ہے۔ وہ دل کو وسعت دے سکتا ہے، مگر ذہن کے گرد سلاخیں بھی کھڑی کرسکتا ہے۔ اصل فرق شاید عقیدے میں نہیں، اس کے استعمال میں ہے۔
جو مذہب انسان کو حقیقت سے محبت سکھائے، وہ پرواز ہے۔ جو مذہب انسان کو سوال سے ڈرائے، وہ پنجرہ۔ جو خدا کو تلاش کرنے دے، وہ آسمان۔ جو خدا کی ایک انسانی تشریح کو آخری حد بنادے، وہ سلاخ۔
ایک بوڑھا شخص روز بازار کی دکان کے سامنے رکتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک چھوٹا پرندہ خریدا۔ دکاندار نے سمجھا وہ گھر میں رکھے گا۔ بوڑھا اسے پارک لے گیا، پنجرہ زمین پر رکھا اور دروازہ کھول دیا۔
پرندہ باہر نہیں نکلا۔
وہ کئی منٹ اندر بیٹھا رہا۔
بوڑھے نے کوئی زبردستی نہیں کی۔ وہ خاموش انتظار کرتا رہا۔
آخر پرندہ دروازے تک آیا، باہر دیکھا، پھر واپس چلا گیا۔
بوڑھے کی آنکھیں بھر آئیں۔
شاید اسے اپنے بارے میں کچھ یاد آگیا تھا۔
ممکن ہے اس نے پوری زندگی کسی ایسی قید میں گزاری ہو جس کا دروازہ کھلنے کے بعد بھی وہ باہر نہ نکل سکا۔ خاندان، روایت، خوف، شرم، ناکامی، یا خود اپنی بنائی ہوئی شناخت۔
انسان ہمیشہ سلاخوں سے آزاد نہیں ہوتا۔ کبھی سلاخیں ہٹ جاتی ہیں، مگر اندر قید باقی رہتی ہے۔
کچھ دیر بعد پرندہ پھر دروازے پر آیا۔ اس نے ایک چھوٹی سی چھلانگ لگائی، گھاس پر اترا، پھر فوراً واپس پنجرے میں چلا گیا۔
آزادی بھی تربیت مانگتی ہے۔
انسان کو صرف دروازہ کھول دینا کافی نہیں۔ اسے اپنے پروں پر دوبارہ یقین بھی دلانا پڑتا ہے۔
بوڑھا وہیں بیٹھا رہا۔ سورج نیچے جارہا تھا۔ آخرکار پرندہ باہر نکلا، چند قدم چلا، پھر اچانک اڑا۔ پہلے نیچے، پھر ایک درخت کی شاخ، پھر دوسری، پھر اوپر۔
بوڑھا اسے دیکھتا رہا۔
اس نے نہ دعا پڑھی، نہ فلسفہ بولا۔
صرف رویا۔
شاید بعض اوقات انسان دوسرے کی آزادی میں اپنی کھوئی ہوئی زندگی دیکھ لیتا ہے۔
مگر ہر آزاد کیا گیا پرندہ زندہ نہیں رہتا۔ پنجرے میں پلے ہوئے پرندے کو باہر خوراک، خطرے اور موسم کا علم نہیں ہوتا۔ آزادی رومانوی تصور نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔ کسی مخلوق کو آزاد کرنا اور اس کی تیاری نہ کرنا کبھی دوسری قسم کی بے رحمی ہوسکتی ہے۔
یہی فلسفہ انسانی انقلابوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ نظام توڑنا آسان، آزاد انسان بنانا مشکل۔ پرانی قید ختم ہوسکتی ہے، مگر خوف، عادت، اطاعت اور طاقت کی خواہش نئی سلاخیں بنا لیتی ہے۔
انسان پنجرہ توڑ کر اکثر نیا پنجرہ بناتا ہے۔
صرف مالک بدلتا ہے۔
اس لیے حقیقی آزادی صرف باہر کی رکاوٹ ہٹانے کا نام نہیں، اندر کی غلامی پہچاننے کا نام ہے۔
پرندہ آسمان میں غائب ہوگیا۔
بوڑھے نے خالی پنجرہ اٹھایا۔
خالی پنجرہ عجیب چیز ہے۔ وہ ایک ساتھ آزادی کا ثبوت بھی ہوتا ہے اور سابقہ قید کا اعتراف بھی۔
شاید انسان کی روح بھی ایسی ہی ہے۔ جب وہ آزاد ہوتی ہے تو اپنے پیچھے ایک خالی ڈھانچہ چھوڑ جاتی ہے، جسے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہم کتنے عرصے سے اسے گھر کہتے رہے تھے۔
ہر سال سردیوں سے پہلے پرندوں کے جھنڈ آسمان پر لمبی شکلیں بناتے ہوئے گزرتے ہیں۔ انسان انہیں دیکھ کر موسم بدلنے کا اندازہ لگاتا ہے۔ مگر ہر پرندہ ایک سفر میں داخل ہوتا ہے جس میں منزل جسم کے اندر لکھی ہوتی ہے، راستہ آسمان میں، اور موت ہر موڑ پر۔
ہجرت صرف جگہ بدلنا نہیں۔ ہجرت یاد اور ضرورت کے درمیان سمجھوتہ ہے۔ پرندہ اس جگہ کو چھوڑتا ہے جہاں وہ پیدا ہوا، کیونکہ وہاں رہنا ممکن نہیں رہتا۔ وہ ایسے راستے پر نکلتا ہے جسے اس نے شاید پہلے کبھی نہ دیکھا ہو، مگر نسلوں کی یاد اس کے جسم میں سمت بن جاتی ہے۔
انسان بھی ہجرت کرتا ہے۔
جنگ، غربت، خواب، خوف، روزگار، آزادی۔ وہ سرحد عبور کرتا ہے، زبان بدلتا ہے، اپنے بچوں کو نئی زمین پر بڑا کرتا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک پرانا آسمان باقی رہتا ہے۔
ہجرت کرنے والا انسان دو جگہوں میں مکمل نہیں رہتا۔
وہ جہاں سے آیا، وہاں اب ویسا نہیں۔
جہاں پہنچا، وہاں ابھی اپنا نہیں۔
پرندے شاید اس درمیانی وجود کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔
ایک مہاجر پرندہ شہر کی روشن عمارتوں کے درمیان بھٹک گیا۔ رات کی مصنوعی روشنی نے ستاروں کی سمت چھپا دی۔ وہ گول گول اڑتا رہا، تھکتا رہا، پھر ایک شیشے سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔
انسان نے اپنی روشنی بڑھائی، مگر کسی دوسری مخلوق کا راستہ بجھا دیا۔
یہ ترقی کا ایک غیر مرئی قانون ہے: ہماری سہولت کی قیمت اکثر وہ مخلوق دیتی ہے جو فیصلہ کرنے والی میز پر موجود نہیں ہوتی۔
دریا پر بند بنا تو بجلی آئی، مگر پرندوں کے ٹھکانے ڈوب گئے۔ جنگل کٹا تو شہر پھیلا، مگر گھونسلے ختم ہوئے۔ رات روشن ہوئی، مگر ہجرت کا نقشہ بگڑ گیا۔
انسان اپنی کامیابی کو صرف انسانی فائدے سے ناپتا ہے۔ شاید اسی لیے اسے اپنی ترقی بہت عظیم لگتی ہے۔
اگر فیصلے میں پرندے، جانور، دریا، جنگل اور آنے والی نسلیں بھی شریک ہوتیں، تو شاید ترقی کی تعریف بدل جاتی۔
ایک جھنڈ سفر میں تھا۔ ایک پرندہ کمزور پڑگیا۔ وہ پیچھے رہنے لگا۔ باقی پرندے آگے بڑھتے گئے، مگر دو پرندے اس کے ساتھ نیچے اتر آئے۔ وہ ایک کھیت میں رکے۔ کمزور پرندہ چند گھنٹے بعد مر گیا۔ دونوں کچھ دیر اس کے قریب رہے، پھر دوبارہ جھنڈ کی سمت اڑ گئے۔
کیا یہ غم تھا؟ کیا یہ سماجی تعلق؟ کیا یہ محض جبلت؟
انسان ہر غیر انسانی جذبے کو جبلت کہہ کر خود کو خاص ثابت کرتا ہے۔ مگر اپنی محبت کو روح، اخلاق اور شاعری کا نام دیتا ہے۔
ممکن ہے فرق درجے کا ہو، حقیقت کا نہیں۔
پرندے کا تعلق شاید ہماری محبت جتنا پیچیدہ نہ ہو، مگر اس کا سادہ ہونا اسے جھوٹا نہیں بناتا۔
ایک ماں پرندہ اپنے بچوں کے لیے بار بار خوراک لاتی ہے۔ وہ خود بھوکی رہ سکتی ہے، خطرہ مول لے سکتی ہے، شکاری کے سامنے زخمی ہونے کا ڈراما کرکے اسے گھونسلے سے دور لے جاسکتی ہے۔
ہم اسے جبلت کہتے ہیں۔
مگر اگر انسان یہی کرے تو قربانی۔
شاید لفظ بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔
ہم نے انسانی عمل کو عظیم اور جانور کے عمل کو حیاتیاتی کہہ کر ایک ایسا فلسفیانہ فاصلہ بنایا جو شاید قدرت میں اتنا بڑا نہیں۔
کیا محبت کو عظیم ہونے کے لیے اپنے بارے میں جاننا ضروری ہے؟
ایک ماں جو اپنے بچے کو بچاتی ہے، کیا اس کی قربانی کم ہوجاتی ہے اگر وہ قربانی کا نظریہ نہ جانتی ہو؟
شاید خالص ترین محبت وہ ہے جو اپنے عظیم ہونے سے واقف نہ ہو۔
پرندے واپس آتے ہیں، مگر سب نہیں۔
کچھ راستے میں مرجاتے ہیں۔ کچھ جگہیں تباہ ہوچکی ہوتی ہیں۔ کچھ درخت کٹ چکے ہوتے ہیں۔ کچھ جھیلیں سوکھ گئی ہوتی ہیں۔
وہ پرندہ جو ہزاروں میل بعد اپنی پرانی جگہ پہنچے اور وہاں کنکریٹ پائے، شاید پہلی بار سمجھتا ہو کہ یاد ہمیشہ حقیقت کی حفاظت نہیں کرتی۔
انسان بھی برسوں بعد اپنے شہر واپس جاتا ہے اور وہ گلی نہیں ملتی، وہ گھر فروخت ہوچکا، وہ لوگ مرچکے، وہ زبان بدل گئی۔ وہ جگہ موجود ہوتی ہے، مگر وطن نہیں۔
شاید وطن زمین نہیں، وقت ہوتا ہے۔
اور وقت میں واپسی کسی پرندے کے بس میں نہیں، انسان کے بھی نہیں۔ ہجرت کا سب سے بڑا دکھ فاصلہ نہیں، یہ حقیقت ہے کہ جس جگہ کی طرف تم لوٹ رہے ہو، وہ شاید صرف تمہارے اندر باقی ہو۔
صبح کے وقت شہر کی بلند عمارت پر ایک پرندہ بیٹھا تھا۔ نیچے سڑکیں، گاڑیاں، مسجد، مندر، گرجا، بازار، عدالت، جیل، محل اور جھونپڑیاں تھیں۔ انسانوں نے زمین کو دیواروں، کاغذوں، سرحدوں، ملکیت اور شناخت میں تقسیم کیا تھا۔
پرندے کے لیے یہ سب ایک سطح تھی۔
وہ نہ پاسپورٹ جانتا تھا، نہ قوم، نہ مذہبی حد، نہ نجی ملکیت۔ وہ ایک چھت سے دوسری، ایک ملک سے دوسرے، ایک درخت سے اگلے درخت تک اڑ سکتا تھا، جب تک انسان کی گولی، جال یا شیشہ اسے نہ روک دے۔
انسان نے آسمان کو آزادی کی علامت بنایا، پھر اسے بھی فضائی حدود میں تقسیم کردیا۔
یہ انسانی ذہن کی عجیب عادت ہے: وہ جس چیز کو چھوتا ہے، اسے نقشے میں بدل دیتا ہے۔ نقشہ انتظام دیتا ہے، مگر کبھی حقیقت کو ٹکڑوں میں بھی بانٹ دیتا ہے۔
زمین کسی قوم کے نام سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔ دریا کسی مذہب کا نہیں تھا۔ آسمان نے سرحد نہیں کھینچی۔ پرندہ کسی جھنڈے کے نیچے پیدا نہیں ہوا۔
مگر انسان اپنی شناخت کے لیے تقسیم چاہتا ہے۔ "ہم" بنانے کے لیے "وہ" ضروری ہوجاتا ہے۔ پھر دیوار صرف زمین پر نہیں، دل میں بھی بن جاتی ہے۔
پرندہ ہمیں ایک مختلف فلسفہ دیتا ہے: زندگی راستوں سے جڑی ہے، سرحدوں سے نہیں۔
مگر یہ فلسفہ بھی مکمل نہیں۔ پرندے بھی علاقے بناتے ہیں، دوسرے پر حملہ کرتے ہیں، اپنے گھونسلے کی حفاظت کرتے ہیں۔ فطرت صرف امن کی معلم نہیں۔ اس میں تنازع، مقابلہ اور قبضہ بھی ہے۔
انسان کا اخلاق فطرت کی نقل نہیں ہوسکتا۔
اگر ہم صرف فطری ہونے کو درست سمجھیں تو تشدد بھی فطری ہے، غلبہ بھی، ترک کرنا بھی۔ اخلاق شاید فطرت سے اوپر اٹھنے کی کوشش ہے، فطرت کا انکار نہیں۔
پرندہ ہمیں آزادی دکھاتا ہے، مگر انسان کو انصاف بنانا پڑتا ہے۔
پرندہ سرحد نہیں مانتا، مگر انسان کو اختلاف کے ساتھ رہنے کا اصول بنانا پڑتا ہے۔
پرندہ گاتا ہے، مگر انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس آواز کو خاموش نہیں کرنا۔
ایک بوڑھی عورت روز اپنی کھڑکی پر دانہ رکھتی تھی۔ کئی پرندے آتے تھے۔ ایک خاص چڑیا ہر صبح سب سے پہلے پہنچتی۔ عورت اسے پہچاننے لگی تھی۔ اس نے اس کا نام رکھ دیا، حالانکہ چڑیا کو نام کا علم نہیں تھا۔
کئی سال تک یہ معمول رہا۔
پھر ایک دن چڑیا نہ آئی۔
اگلے دن بھی نہیں۔
عورت نے دانہ پھر رکھا۔
ہفتہ گزر گیا۔
کسی نے کہا: "آپ کو کیسے معلوم، شاید وہی ہو اور آپ پہچان نہ سکیں۔"
عورت نے کہا: "نہیں، وہ دانہ اٹھانے سے پہلے میری طرف دیکھتی تھی۔"
یہ ایک چھوٹی سی بات تھی، مگر تعلق ہمیشہ بڑی علامتوں سے نہیں بنتا۔ ایک نظر، ایک معمول، ایک واپسی۔
عورت نے دانہ رکھنا بند نہیں کیا۔
شاید وہ دوسری چڑیوں کے لیے تھا۔
شاید اس امید کے لیے کہ ایک دن وہ واپس آئے گی۔
انسان اکثر جانتا ہے کہ کوئی واپس نہیں آئے گا، پھر بھی اپنی محبت کا معمول جاری رکھتا ہے۔ قبر پر پھول رکھتا ہے، خالی کرسی نہیں ہٹاتا، فون نمبر محفوظ رکھتا ہے، کھڑکی پر دانہ رکھتا ہے۔
یہ عقل کی شکست نہیں۔
یہ محبت کا انکار سے انکار ہے۔
کیا خدا بھی انسان کا انتظار ایسے ہی کرتا ہوگا؟ یا انسان خدا کا؟
ہم نے صدیوں سے دعائیں کھڑکی پر دانے کی طرح رکھی ہیں۔ ہر صبح، ہر رات۔ کچھ لوگ کہتے ہیں خدا آیا۔ کچھ کہتے ہیں صرف پرندے آئے، خدا نہیں۔
ممکن ہے دعا کا راز جواب میں نہیں، اس عمل میں ہو کہ انسان امید کا دانہ رکھنا بند نہیں کرتا۔
مگر امید بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ وہ انسان کو حقیقت بدلنے کے بجائے انتظار میں رکھ سکتی ہے۔ مظلوم اگر صرف آسمانی مدد کا انتظار کرے تو ظالم کی طاقت بڑھتی ہے۔
اس لیے امید کو عمل بننا چاہیے۔
دعا اگر ہاتھ نہ کھولے تو صرف زبان ہے۔ ایمان اگر کمزور کی حفاظت نہ کرے تو صرف شناخت۔ فلسفہ اگر آنکھ نم نہ کرے تو صرف ذہنی کھیل۔ اور محبت اگر دوسرے کی آزادی نہ چاہے تو پنجرہ۔
شاید پرندوں نے انسان کو یہی سکھانا تھا۔
گھونسلا بناؤ، مگر آسمان مت چھینو۔ محبت کرو، مگر قید نہ کرو۔ واپس آؤ، مگر مان لو کہ سب واپس نہیں آتے۔ پرواز کرو، مگر ان مخلوقات کو نہ بھولو جن کے پر زخمی ہیں۔
اور جب کوئی چھوٹا پرندہ تمہاری کھڑکی پر بیٹھے تو اسے محض خوبصورت منظر نہ سمجھو۔
وہ شاید ایک پوری زندگی ہے۔
اس کے پاس خوف ہے، بھوک ہے، راستہ ہے، تعلق ہے، گھر ہے، اور موت ہے۔
بالکل تمہاری طرح۔
فرق صرف اتنا ہے کہ تم نے اپنے دکھ کے لیے فلسفہ بنا لیا۔
وہ اب بھی آسمان میں اڑتے ہوئے خاموشی سے وہی سوال اٹھاتا ہے:
اگر آسمان واقعی سب کا ہے، تو انسان نے زمین پر اتنے پنجرے کیوں بنائے؟
صبح کی پہلی روشنی گھاس کے میدان پر پھیلی تو ایک بوڑھا شیر خشک درخت کے سائے میں پڑا تھا۔ اس کی ایال کبھی گھنی اور سنہری رہی ہوگی، مگر اب دھول، عمر اور زخموں نے اس کا رنگ چھین لیا تھا۔ ایک آنکھ کے اوپر پرانا نشان تھا۔ اگلی ٹانگ میں سوجن تھی۔ سانس بھاری، پسلیاں نمایاں، اور وہ جسم جس سے کبھی پورا میدان خوف کھاتا تھا، اب اپنے ہی وزن سے تھکا ہوا تھا۔
دور ہرنوں کا ایک جھنڈ گزر رہا تھا۔ شیر نے سر اٹھایا، انہیں دیکھا، پھر دوبارہ زمین پر رکھ دیا۔ بھوک اس کے اندر تھی، مگر طاقت اس کے پاس نہیں رہی تھی۔
انسان اسے جنگل کا بادشاہ کہتا ہے۔
مگر جنگل میں کوئی تاج نہیں ہوتا۔ کوئی تخت نہیں۔ کوئی دربار نہیں۔
شیر کو اپنی بادشاہت کا علم نہیں۔ وہ صرف بھوک، موسم، علاقے، خطرے اور جسم کی حدود جانتا ہے۔ بادشاہت انسان کا دیا ہوا تصور ہے، کیونکہ انسان ہر طاقتور وجود کو اپنے سیاسی خوابوں میں ترجمہ کرتا ہے۔
ہم شیر میں وقار دیکھتے ہیں، مگر وہ خود شاید صرف زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔
ہم اس کی دھاڑ میں سلطنت سنتے ہیں، مگر ممکن ہے وہ صرف اپنی موجودگی کا اعلان ہو۔
ہم اس کے شکار کو طاقت کہتے ہیں، مگر اس کے لیے وہ غذا ہے۔
انسان ہر غیر انسانی زندگی کو اپنی علامت بناتا ہے، کیونکہ اسے چیزوں کو ان کی اپنی حقیقت میں دیکھنا مشکل لگتا ہے۔ وہ شیر کو جرات، لومڑی کو چالاکی، گدھے کو حماقت، بھیڑیے کو ظلم، کبوتر کو امن اور سانپ کو خیانت کا نشان بنا دیتا ہے۔ جانور اپنے وجود میں کچھ اور ہوتے ہیں، مگر انسانی زبان انہیں اخلاقی کردار بنا دیتی ہے۔
یہ انسان کی قدیم خود پسندی ہے: وہ پوری فطرت کو اپنے بارے میں ایک کتاب سمجھتا ہے۔
بوڑھے شیر نے کبھی خود کو بہادر نہیں سمجھا تھا۔ وہ ڈرتا بھی تھا۔ زخمی ہونے سے، علاقے سے بے دخل ہونے سے، بھوک سے، دوسرے نر سے، پانی کی کمی سے۔ طاقت خوف کو ختم نہیں کرتی، صرف اسے چھپا دیتی ہے۔
شاید یہی بات انسان کے بارے میں بھی سچ ہے۔
جو شخص سب سے زیادہ طاقتور نظر آتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اندر سے سب سے زیادہ محفوظ ہو۔ بعض بادشاہ اپنے تخت سے کم، تخت کے چھن جانے سے بندھے ہوتے ہیں۔ بعض حکمران قوم پر نہیں، اپنے خوف پر حکومت کررہے ہوتے ہیں۔ بعض بااثر انسان دوسروں کو اس لیے دباتے ہیں کیونکہ انہیں برابری سے خوف آتا ہے۔
طاقت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہ اکثر طاقتور کو آزاد نہیں کرتی، اس کا قیدی بنا دیتی ہے۔
شیر کے علاقے میں کبھی کوئی دوسرا نر داخل ہوتا تو وہ لڑتا تھا۔ یہ صرف زمین کی جنگ نہیں تھی۔ پانی، مادائیں، بچے، خوراک، بقا، سب اسی دائرے سے جڑے تھے۔ فطرت میں طاقت ایک نظریہ نہیں، زندگی کی شرط ہوسکتی ہے۔
مگر انسان نے طاقت کو ضرورت سے نکال کر شناخت بنادیا۔
وہ صرف زندہ رہنے کے لیے طاقتور نہیں ہونا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے دوسرے اس کی طاقت کو تسلیم کریں۔ شیر شکار کے بعد تقریر نہیں کرتا۔ انسان فتح کے بعد تاریخ لکھتا ہے۔
شیر اپنے مخالف کو شکست دے کر مجسمہ نہیں بنواتا۔
انسان اپنے خون آلود ہاتھ کو عظمت کا نام دے دیتا ہے۔
شاید انسان شیر سے زیادہ خطرناک اس لیے نہیں کہ اس کے دانت بڑے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے تشدد کو نظریہ دے سکتا ہے۔
ایک شیر بھوک کے لیے مارتا ہے۔
انسان پرچم، خدا، نسل، انتقام، عزت، ترقی اور نظریے کے لیے۔
اور پھر اپنے قتل کو ضرورت کہتا ہے۔
دور ایک کمزور ہرن جھنڈ سے پیچھے رہ گیا۔ بوڑھے شیر نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔ جسم نے ساتھ نہ دیا۔ وہ چند قدم چلا، پھر بیٹھ گیا۔
یہ منظر رحم کا نہیں، فطرت کا تھا۔ اگر شیر طاقتور ہوتا تو ہرن شاید مر جاتا۔ اگر ہرن تیز نہ ہوتا تو اس کی زندگی ختم۔ فطرت میں ایک کی کامیابی اکثر دوسرے کی موت ہوتی ہے۔
کیا یہی نظام زندگی کی بنیادی منطق ہے؟ کیا بقا ہمیشہ کسی نہ کسی قیمت پر قائم ہے؟
انسان نے تہذیب اس لیے بنائی کہ وہ اس منطق سے اوپر اٹھ سکے۔ کمزور کو مرنے کے لیے نہ چھوڑے۔ بیمار کو بوجھ نہ سمجھے۔ بوڑھے کو غیر ضروری نہ کہے۔ مگر کبھی کبھی ہماری معیشت، سیاست اور سماج جنگل سے بھی زیادہ بے رحم ہوجاتے ہیں، کیونکہ جنگل میں شیر کمزور ہرن کو اخلاقی درس نہیں دیتا۔ انسان پہلے کمزور کا حق چھینتا ہے، پھر اسے ناکامی کا ذمہ دار بھی ٹھہراتا ہے۔
شیر بھوک سے مارتا ہے۔
انسان منافع سے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ انسان خود کو مہذب کہتا ہے۔
بوڑھا شیر سایے میں پڑا رہا۔ دوپہر تک ہرن جاچکے تھے۔ اس نے آنکھیں بند کیں۔ شاید اسے اپنی پرانی طاقت یاد نہیں تھی۔ جانور ماضی کو انسان کی طرح داستان نہیں بناتے۔ وہ اپنی شکست پر کتاب نہیں لکھتے، اپنے زوال کو فلسفہ نہیں بناتے۔
مگر زوال دونوں پر آتا ہے۔
شیر پر بھی۔ بادشاہ پر بھی۔ فلسفی پر بھی۔
جس جسم سے دنیا ڈرتی تھی، ایک دن وہی جسم پانی تک جانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔
شاید موت کا پہلا انصاف یہی ہے کہ وہ طاقت کے تمام لقب اتار دیتی ہے۔
گھاس کے ایک اونچے حصے میں ایک شیرنی اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ بچے ابھی چھوٹے تھے۔ وہ اس کی دم سے کھیلتے، اس کی پیٹھ پر چڑھتے، ایک دوسرے کو گراتے، اور کبھی اس کے چہرے کو پنجوں سے چھوتے۔ وہ خاموشی سے انہیں برداشت کرتی، پھر زبان سے ان کے سر صاف کرتی۔
دور سے دیکھنے والا انسان اسے جنگلی جانور کہتا۔
قریب سے دیکھا جائے تو وہ ایک تھکی ہوئی ماں تھی۔
اسے شکار کرنا تھا، بچوں کی حفاظت، پانی تک لے جانا، دوسرے شکاریوں سے بچانا، اور ایسے نر سے بھی جو انہیں اپنا نہ سمجھے۔ فطرت نے اسے ماں بنایا، مگر رحم کے ساتھ آسانی نہیں دی۔
ایک شام وہ شکار کے لیے نکلی۔ کئی گھنٹے ناکام رہی۔ اس نے دو بار ہرن کا پیچھا کیا، دونوں بار جسم تھک گیا۔ رات گہری ہوئی تو اس نے ایک کمزور جانور گرا لیا۔ وہ خود کئی دن سے مناسب خوراک نہیں کھا سکی تھی، مگر گوشت بچوں کے پاس لے گئی۔
بچے پہلے کھانے لگے۔
وہ قریب بیٹھی دیکھتی رہی۔
انسان اسے جبلت کہتا ہے۔
مگر انسان اپنی ماں کی قربانی کو محبت کہتا ہے۔
کیا دونوں کے درمیان فرق صرف زبان کا ہے؟
شاید انسانی محبت خود آگاہ ہے۔ انسان جانتا ہے کہ وہ قربانی دے رہا ہے، یاد رکھتا ہے، معنی بناتا ہے۔ جانور شاید نہیں جانتا۔ مگر کیا کسی عمل کی عظمت اس بات پر منحصر ہے کہ کرنے والا اپنے عمل کو عظیم سمجھتا ہو؟
ممکن ہے بے خبر قربانی زیادہ خالص ہو۔
شیرنی کو کسی جنت کا وعدہ نہیں تھا۔ کسی مذہبی حکم کی پابندی نہیں۔ کسی معاشرتی تعریف کی خواہش نہیں۔
وہ صرف بچوں کو زندہ رکھنا چاہتی تھی۔
شاید اخلاق کی پہلی شکل یہی تھی: اپنی بھوک کے باوجود دوسرے کو کھلانا۔
انسانی فلسفہ اکثر اخلاق کو بہت پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اصول، نیت، فرض، نتیجہ، اختیار۔ مگر ایک ماں اپنے بچے کو خوراک دیتی ہے تو شاید اخلاق اپنے سب سے پرانے اور صاف روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔
زندگی خود کو آگے بڑھاتی ہے، مگر بعض اوقات اس عمل میں ایک جسم دوسرے کے لیے اپنی ضرورت مؤخر کردیتا ہے۔
کیا یہی محبت ہے؟
شاید محبت کا پہلا فلسفہ جسم نے لکھا، کتاب نے نہیں۔
اگلے دن ایک اجنبی نر شیر علاقے میں داخل ہوا۔ شیرنی نے اسے دور سے دیکھا۔ اس کے جسم کی سختی بدل گئی۔ بچے کھیل رہے تھے، بے خبر۔ اسے معلوم تھا کہ خطرہ صرف اس پر نہیں۔
فطرت میں نر شیر کبھی دوسرے نر کے بچوں کو مار دیتا ہے۔ انسان اسے سفاکی کہتا ہے۔ مگر فطرت اخلاقی قرارداد سے نہیں چلتی۔ وہاں نسل، بقا اور تولید کی منطق ہے۔
مگر اگر فطرت میں یہ سب موجود ہے، تو انسان اخلاق کہاں سے لایا؟
کیا اخلاق فطرت کے خلاف بغاوت ہے؟ شاید۔
انسان کے اندر غصہ، حسد، قبضہ، جنسی مقابلہ، قبائلی تعصب، تشدد، سب کی حیاتیاتی جڑیں ہوسکتی ہیں۔ مگر اخلاق اسے کہتا ہے کہ فطری ہونا کافی نہیں۔
بھوک فطری ہے، چوری لازماً درست نہیں۔ غصہ فطری ہے، قتل درست نہیں۔ طاقت فطری ہے، ظلم درست نہیں۔
اخلاق شاید وہ لمحہ ہے جب شعور اپنی جبلت کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے: میں تمہیں سمجھتا ہوں، مگر تمہارا غلام نہیں۔
شیرنی اپنے بچوں کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ نر قریب آیا۔ اس نے دھاڑ ماری۔ وہ اکیلی تھی، کمزور تھی، اور جانتی تھی کہ لڑائی میں مر سکتی ہے۔
پھر بھی پیچھے نہ ہٹی۔
یہ بہادری تھی یا جبلت؟
شاید دونوں کے درمیان فرق ہم نے ضرورت سے زیادہ بڑا بنایا ہے۔
بہادری خوف کا نہ ہونا نہیں۔ خوف کے باوجود کسی قیمتی چیز کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
شیرنی ڈر رہی تھی۔
اسی لیے اس کا کھڑا ہونا معنی رکھتا تھا۔
انسان طاقتور کو بہادر سمجھتا ہے، مگر شاید اصل بہادری کمزور کی ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ وہ ہار سکتا ہے۔
شیرنی نے حملہ کیا۔ لڑائی مختصر مگر شدید تھی۔ وہ زخمی ہوئی، مگر نر پیچھے ہٹ گیا۔ بچے گھاس میں چھپے رہے۔
جب خطرہ دور ہوا تو وہ لنگڑاتی ہوئی ان کے پاس آئی۔ ایک بچے نے اس کے خون کو سونگھا، پھر اس کے جسم سے لگ گیا۔
شیرنی زمین پر لیٹ گئی۔
اس کے پاس کوئی الفاظ نہیں تھے کہ بچوں کو بتائے: میں تمہارے لیے لڑتی رہی۔
شاید ضرورت بھی نہیں تھی۔
کچھ محبتیں بیان نہیں ہوتیں۔ وہ زخموں کی شکل میں جسم پر لکھی جاتی ہیں۔
ایک جوان نر شیر نے بوڑھے شیر کو شکست دے کر علاقہ حاصل کیا۔ اب پانی کے مقام، چراگاہ اور شیرنیوں کے قریب اس کی موجودگی تھی۔ وہ چٹان پر کھڑا ہوکر دھاڑتا، اور اس کی آواز کئی میل تک جاتی۔
انسان اسے فتح کہتا۔
مگر فتح کے فوراً بعد اس کی زندگی آسان نہیں ہوئی۔
اب اسے ہر اجنبی بو پر توجہ دینی تھی۔ ہر دور کی دھاڑ ممکنہ خطرہ۔ ہر زخم مستقبل کی شکست۔ ہر نوجوان نر آنے والے زوال کا اعلان۔
طاقت اپنے ساتھ نگرانی لاتی ہے۔
جو سب سے اوپر پہنچتا ہے، اسے سب سے زیادہ نیچے دیکھنا پڑتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حکمران سکون سے کم سوتے ہیں۔ جس شخص نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو دھوکا دیا ہو، وہ جانتا ہے کہ دوسرے بھی یہی کرسکتے ہیں۔ جو خوف کے ذریعے حکومت کرے، وہ ہر خاموش چہرے میں بغاوت دیکھتا ہے۔
تاج سر کو اونچا کرتا ہے، مگر گردن کو ہلکا نہیں۔
انسان طاقت کو آزادی سمجھتا ہے، مگر طاقتور اکثر اپنی شبیہ، مقام، دشمنوں، حامیوں اور زوال کے خوف کا قیدی ہوتا ہے۔
شیر کو اپنا علاقہ بار بار نشان زد کرنا پڑتا ہے۔ انسان کو اپنی طاقت بار بار دکھانی پڑتی ہے۔ جو طاقت حقیقی اعتماد سے خالی ہو، اسے مسلسل مظاہرہ چاہیے۔
اسی لیے بعض لوگ نرم نہیں ہوسکتے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ رحم کو کمزوری سمجھا جائے گا۔
مگر جو اپنی طاقت پر یقین رکھتا ہو، وہ ہر اختلاف کو حملہ نہیں سمجھتا۔
شاید رحم طاقت کی مخالفت نہیں، اس کا بلند ترین استعمال ہے۔
کمزور کے پاس کبھی ظلم نہ کرنے کی طاقت ہی نہیں ہوتی۔ طاقتور جب ظلم نہ کرے، تب اخلاقی انتخاب پیدا ہوتا ہے۔
ایک دن نوجوان شیر نے ایک زخمی چھوٹے شکاری کو دیکھا۔ وہ اسے آسانی سے مار سکتا تھا۔ مگر وہ بھوکا نہیں تھا۔ اس نے سونگھا، کچھ دیر دیکھا، پھر آگے بڑھ گیا۔
کیا یہ رحم تھا؟ یا صرف غیر ضروری توانائی بچانا؟
ہم جانور کے عمل میں نیت نہیں پڑھ سکتے۔ مگر انسان کے معاملے میں بھی نیت اکثر چھپی رہتی ہے۔ ہم اپنے اعمال کو بلند الفاظ دیتے ہیں، مگر اندر مفاد ہوسکتا ہے۔
شاید انسان جانور سے زیادہ اخلاقی نہیں، صرف اپنے بارے میں بہتر کہانیاں بناتا ہے۔
ہم خیرات کرتے ہیں، مگر نام چاہتے ہیں۔ معاف کرتے ہیں، مگر اخلاقی برتری محسوس کرتے ہیں۔ محبت کرتے ہیں، مگر ملکیت بھی۔ عبادت کرتے ہیں، مگر نجات کا فائدہ بھی۔
کیا خالص نیت ممکن ہے؟ شاید نہیں۔
انسانی عمل میں محبت، خوف، مفاد، عادت، تربیت اور انا ملے ہوتے ہیں۔ اخلاق کا مقصد شاید نیت کو مکمل پاک کرنا نہیں، خود فریبی کم کرنا ہے۔
جوان شیر کی طاقت بڑھتی رہی۔ مگر چند برس بعد ایک اور نر آیا۔ لڑائی ہوئی۔ وہ زخمی ہوا۔ اس کی آنکھ کے پاس گہرا زخم، پچھلی ٹانگ پر کٹ، اور پہلی بار اسے اپنا خاتمہ ممکن محسوس ہوا۔
کل تک وہ دھاڑ کے ذریعے دوسروں کو دور کرتا تھا۔
آج کسی اور کی دھاڑ نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔
طاقت ہمیشہ عارضی ہے۔
ہر فاتح کے پیچھے ایک زیادہ جوان جسم آرہا ہوتا ہے۔ ہر سلطنت کے نیچے وقت خاموشی سے دراڑ ڈال رہا ہوتا ہے۔ ہر خوبصورت چہرے میں بڑھاپا چھپا ہے۔ ہر مضبوط ہاتھ میں مستقبل کی لرزش۔
انسان پھر بھی ایسے جیتا ہے جیسے زوال دوسروں کے لیے بنایا گیا ہو۔
شاید موت کا علم ہونا اور موت کو قبول کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ہم مریں گے، مگر زندگی کی بیشتر خواہشیں اس طرح بناتے ہیں جیسے وقت ہمارے ساتھ کوئی خاص رعایت کرے گا۔
شیر شاید موت کا فلسفہ نہیں جانتا، مگر زخم کے لمحے جسم اسے خطرہ سمجھا دیتا ہے۔
انسان موت کا نام جانتا ہے، قبر بناتا ہے، کتابیں لکھتا ہے، آخرت کے نظریے بناتا ہے، مگر خوف پھر بھی باقی رہتا ہے۔
شاید علم ہمیشہ خوف ختم نہیں کرتا۔
کبھی وہ خوف کو زیادہ واضح بنا دیتا ہے۔
نوجوان شیر شکست کے بعد علاقے سے نکل گیا۔ وہی زمین جہاں کبھی اس کی دھاڑ قانون تھی، اب اس کے لیے خطرہ تھی۔
اقتدار میں انسان سمجھتا ہے زمین اس کی ہے۔
زوال میں معلوم ہوتا ہے وہ صرف کچھ عرصہ زمین پر تھا۔
شاید ملکیت انسانی وہم ہے۔
ہم زمین خریدتے ہیں، بیچتے ہیں، سرحد بناتے ہیں، کاغذ پر نام لکھتے ہیں۔ مگر آخر میں زمین ہمیں اپنے اندر لے لیتی ہے۔
شیر علاقے کا مالک نہیں تھا۔
علاقہ کچھ عرصہ اس کی زندگی کا امکان تھا۔
انسان بھی شاید دنیا کا مالک نہیں۔
صرف عارضی مہمان۔
مگر مہمان نے گھر کے کاغذات اپنے نام کرلیے اور اصل مالک بن بیٹھا۔
شام کے وقت ایک شیرنی نے ایک ہرن کے بچے کو پکڑ لیا۔ بچہ زمین پر گرا، اس کی ٹانگیں حرکت کرتی رہیں، اور چند لمحوں بعد سب خاموش ہوگیا۔ قریب اس کی ماں کچھ فاصلے پر کھڑی دیکھتی رہی، پھر جھنڈ کے ساتھ دور چلی گئی۔
یہ منظر انسانی آنکھ کے لیے تکلیف دہ ہے۔
مگر شیرنی کے بچوں کے لیے زندگی۔
ایک مخلوق کی موت دوسری کی بقا۔
اگر خدا دونوں کا خالق ہے تو وہ کس کے ساتھ ہے؟
ہرن کی ماں کے غم کے ساتھ؟ یا بھوکے شیر کے بچوں کی ضرورت کے ساتھ؟
فطرت ہمیں اخلاقی سادگی کی اجازت نہیں دیتی۔ یہاں ہمیشہ واضح ظالم اور مظلوم نہیں۔ شیر اگر نہ مارے تو اس کے بچے مر سکتے ہیں۔ ہرن اگر نہ بھاگے تو زندگی ختم۔ دونوں اپنی فطرت کے اندر ہیں۔
پھر شر کہاں ہے؟
شاید قدرتی دنیا میں شر نہیں، صرف درد ہے۔
شر وہاں شروع ہوتا ہے جہاں کوئی شعور غیر ضروری تکلیف کو جانتے ہوئے چنتا ہے۔
شیر ضرورت سے مارتا ہے۔
انسان کبھی لطف، نمائش، کھیل یا طاقت کے احساس کے لیے۔
اسی لیے انسانی شکار کو فطرت کے نام پر جائز نہیں کہا جاسکتا۔ فطرت میں شیر بندوق سے دور کھڑے جانور کو نہیں مارتا، تصویر کے لیے اس کے جسم پر پاؤں نہیں رکھتا، دیوار پر سر سجانے کے لیے جان نہیں لیتا۔
انسان جب اپنے تفریحی تشدد کو جنگل کی منطق کہتا ہے تو وہ جنگل کی توہین کرتا ہے۔
ایک شکاری نے دور سے شیر کو گولی ماری۔ شیر زخمی ہوا، بھاگا، کئی گھنٹے تک خون بہاتا رہا۔ شکاری اور اس کے ساتھی اسے تلاش کرتے رہے۔ جب ملا تو وہ ایک جھاڑی کے نیچے پڑا تھا، سانس تیز تھی، آنکھوں میں خوف اور غصہ۔
شکاری نے دوسری گولی چلائی۔
پھر تصویر بنائی۔
تصویر میں انسان مسکرا رہا تھا۔
شیر مردہ تھا۔
یہ مسکراہٹ کیا تھی؟ فتح؟ مردانگی؟ ملکیت؟
ایک انسان نے فاصلے، ہتھیار اور منصوبے سے ایک جانور کو مارا جو اس کے لیے خوراک یا فوری خطرہ نہیں تھا۔ پھر اس نے مرے ہوئے جسم کو اپنی طاقت کا ثبوت بنایا۔
شاید بعض انسان زندگی کو شکست دے کر خود کو زندہ محسوس کرتے ہیں۔
یہ طاقت نہیں، اندرونی خلا ہے۔
حقیقی طاقت کو بے دفاع جسم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جو اپنی عظمت ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے وجود کی موت چاہے، وہ شاید اپنے اندر بہت چھوٹا ہے۔
مگر انسان صرف قاتل نہیں۔ کچھ لوگ اسی شیر کو بچانے کے لیے جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ زخمی جانور کا علاج کرتے، غیر قانونی شکار روکتے، جنگل محفوظ کرتے، اپنے وقت اور دولت کو ایسی مخلوق کے لیے وقف کرتے ہیں جو ان کا نام بھی نہیں جانتی۔
انسان کے اندر قاتل اور محافظ دونوں رہتے ہیں۔
شاید اخلاق کا میدان باہر سے پہلے اندر ہے۔
ہر انسان میں ایک شیر بھی ہے: طاقت، غصہ، قبضہ، بھوک۔
اور ایک نگہبان بھی: رحم، ضبط، حفاظت۔
سوال یہ نہیں کہ اندر جانور کیوں ہے۔
سوال یہ ہے کہ شعور کس کو اختیار دیتا ہے۔
ہم اکثر اپنے ظلم کو "انسانی فطرت" کہہ کر بری ہونا چاہتے ہیں۔ مگر انسان کی فطرت میں رحم بھی ہے، تعاون بھی، قربانی بھی۔ فطرت کسی ایک عمل کا حکم نہیں دیتی؛ وہ امکانات دیتی ہے۔
اخلاق انتخاب ہے کہ ہم کس امکان کو اپنی شناخت بناتے ہیں۔
شکاری کے بیٹے نے تصویر دیکھی۔ وہ چھوٹا تھا۔ اس نے پوچھا: "یہ شیر آپ کو کھانے آیا تھا؟"
باپ نے کہا: "نہیں، ہم شکار کرنے گئے تھے۔"
بچے نے پھر پوچھا: "پھر آپ نے اسے کیوں مارا؟"
باپ چند لمحے خاموش رہا۔
بعض سوالوں کا جواب اس لیے مشکل نہیں کہ وہ فلسفیانہ ہیں، بلکہ اس لیے کہ سچ بولنے سے انسان اپنی ہی نظر میں چھوٹا ہوجاتا ہے۔
اس نے کہا: "یہ کھیل تھا۔"
بچے نے تصویر دوبارہ دیکھی اور آہستہ سے کہا: "اس کے لیے تو کھیل نہیں تھا۔"
ایک بچے نے ایک جملے میں پوری اخلاقی حقیقت کھول دی۔
طاقتور اکثر عمل کو اپنے تجربے سے نام دیتا ہے۔
کمزور کے لیے وہی عمل کچھ اور ہوتا ہے۔
فاتح کے لیے جنگ عظمت۔ مقتول کے لیے موت۔ مالک کے لیے کاروبار۔ مزدور کے لیے تھکن۔ شکاری کے لیے کھیل۔ شیر کے لیے آخری سانس۔
شاید انصاف یہی ہے کہ ہر عمل کو صرف طاقتور کی زبان سے نہ سمجھا جائے۔
بوڑھا شیر کئی دن سے اکیلا تھا۔ وہ پانی کے مقام تک نہیں پہنچ پارہا تھا۔ اس کی زبان خشک، سانس کمزور، اور آنکھوں میں اب غصے سے زیادہ تھکن تھی۔
کبھی اس کی دھاڑ سے جھنڈ سمت بدلتے تھے۔
اب پرندے اس کے قریب زمین پر دانہ چگ رہے تھے۔
طاقت کے خاتمے کا منظر ہمیشہ خاموش ہوتا ہے۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا کہ بادشاہ اب بادشاہ نہیں رہا۔ جسم آہستہ آہستہ اس سے وہ سب واپس لے لیتا ہے جسے دنیا اس کی شناخت سمجھتی تھی۔
پہلے رفتار۔ پھر قوت۔ پھر خوف پیدا کرنے کی صلاحیت۔ آخر میں صرف سانس۔
انسان بھی بوڑھا ہوکر اپنی سابقہ شناختوں سے جدا ہوتا ہے۔ عہدہ ختم، کاروبار دوسروں کے ہاتھ، بچے اپنی زندگیوں میں، جسم کمزور۔ جس شخص نے پوری عمر "میں کون ہوں" کا جواب طاقت، دولت، حسن یا مقام سے دیا ہو، بڑھاپا اس سے ایک سخت سوال پوچھتا ہے:
جب یہ سب نہیں رہے گا تو تم کون ہوگے؟
شیر اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔
وہ صرف مرجاتا ہے۔
انسان جواب بناتا ہے: روح، ورثہ، یاد، اولاد، خدا، تاریخ۔
شاید یہ جوابات سچ ہیں۔
شاید موت کے خوف کے خلاف انسانی تعمیرات۔
مگر انسان ان کے بغیر جی نہیں پاتا۔
بوڑھے شیر کے قریب ایک نوجوان محافظ گاڑی روک کر کھڑا ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ فطری موت ہے۔ اس نے فاصلے سے دیکھا۔ شیر نے سر اٹھانے کی کوشش کی، مگر نہ اٹھا سکا۔
محافظ کے پاس پانی تھا۔ مگر قریب جانا خطرناک بھی ہوسکتا تھا۔ اس نے ایک برتن میں پانی ڈال کر کچھ فاصلے پر رکھا، پھر پیچھے ہٹ گیا۔
شیر نے حرکت نہ کی۔
محافظ دیر تک بیٹھا رہا۔
اسے معلوم تھا کہ وہ اسے بچا نہیں سکتا۔
پھر بھی گیا نہیں۔
شاید انسان کی سب سے گہری انسانیت وہاں ظاہر ہوتی ہے جہاں فائدہ، کامیابی اور بچانے کا امکان بھی نہ ہو۔
کسی مرتے ہوئے وجود کے پاس صرف اس لیے بیٹھنا کہ وہ اکیلا نہ ہو۔
یہ عمل دنیا نہیں بدلتا۔
مگر ایک موت کی تنہائی بدل دیتا ہے۔
شیر نے کچھ دیر بعد آنکھ کھولی۔ اس نے انسان کی طرف دیکھا۔ اس نظر میں نہ بادشاہت تھی، نہ شکار، نہ جنگل کا غرور۔
صرف ایک تھکا ہوا جاندار۔
محافظ کی آنکھیں بھر آئیں۔
شاید پہلی بار اس نے شیر کو علامت نہیں، فرد دیکھا۔
انسان جب تک کسی مخلوق کو علامت سمجھتا ہے، وہ اس کے بارے میں بات کرتا ہے۔ جب فرد دیکھتا ہے، تو خاموش ہوجاتا ہے۔
شیر نے آخری بار سانس لی۔
کوئی دھاڑ نہیں۔
کوئی عظیم منظر نہیں۔
صرف جسم کی ایک معمولی سی حرکت، پھر سکون۔
جنگل کا بادشاہ مر گیا۔
جنگل نے اپنا کام جاری رکھا۔
ہوا چلی۔ گھاس ہلی۔ پرندے اڑے۔ ہرن پانی پینے آئے۔
کائنات کسی ایک موت پر نہیں رکتی۔
یہ حقیقت انسان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ہمارے لیے ایک عزیز کی موت پوری دنیا روک دیتی ہے، مگر دنیا نہیں رکتی۔ سورج اگلے دن نکلتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں، خبریں بدل جاتی ہیں۔
کیا یہ کائنات کی بے رحمی ہے؟ یا زندگی کی ضرورت؟
اگر ہر موت پر دنیا رک جائے تو زندگی چل نہیں سکتی۔ شاید فطرت بے حس نہیں، غیر شخصی ہے۔ وہ کسی ایک فرد کو مرکز نہیں بناتی۔
مگر محبت بناتی ہے۔
محافظ اگلے دن اسی مقام پر واپس آیا۔ شیر کا جسم وہاں نہیں تھا۔ قدرت نے اسے اپنے دائرے میں لے لیا تھا۔ اس نے زمین کو دیکھا اور پہلی بار سمجھا کہ طاقت کا انجام بھی مٹی ہے۔
شیر ہو یا انسان۔ بادشاہ ہو یا مزدور۔ فاتح ہو یا شکست خوردہ۔
جسم آخرکار کسی اور زندگی کا حصہ بنتا ہے۔
شاید موت ذلت نہیں۔
شاید وہ ملکیت کا خاتمہ ہے۔
زندگی کہتی ہے: یہ جسم کبھی صرف تمہارا نہیں تھا۔ تم نے اسے کچھ عرصہ استعمال کیا، پھر اسے واپس کرنا ہے۔
انسان اس واپسی سے ڈرتا ہے، کیونکہ اس نے خود کو جسم، نام اور یاد کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
اگر روح ہے تو شاید کچھ باقی رہتا ہے۔
اگر نہیں، تو عناصر، اثرات اور دوسروں کی یاد۔
مگر شیر کو ان میں سے کوئی تصور معلوم نہیں تھا۔
وہ پھر بھی مکمل زندگی تھا۔
اس کی زندگی کی قدر اس کے بعد کے علم پر منحصر نہیں تھی۔
شاید یہی انسان کے لیے بھی سچ ہے۔ ہماری قدر صرف اس لیے نہیں کہ ہم ابدی ہوں گے۔ شاید محدود زندگی بھی احترام کے قابل ہے۔
موت کے بعد کیا ہوگا، یہ بڑا سوال ہے۔
مگر موت سے پہلے ہم نے کیا کیا، شاید اس سے زیادہ فوری سوال۔
ہم نے اپنی طاقت سے کس کو بچایا؟ کسے دبایا؟ کس کے خوف کو کھیل سمجھا؟ کس کمزور جسم کو صرف وسیلہ بنایا؟
اگر خدا کی عدالت ہے تو شاید وہاں عقیدے سے پہلے طاقت کا حساب ہوگا۔
تمہیں جو اختیار ملا، تم نے اس سے کیا کیا؟
شیر کی دھاڑ ختم ہوگئی تھی۔
مگر اس کی موت ایک سوال چھوڑ گئی تھی: اگر طاقت کا آخری انجام خاموش مٹی ہے، تو انسان پوری زندگی دوسروں کو خوف میں رکھ کر کس بادشاہت کو بچاتا رہا؟
ایک نوجوان رات کے وقت پرانی کتابوں سے بھرے کمرے میں بیٹھا تھا۔ میز پر مذہبی کتاب بھی تھی، حیاتیات کی کتاب بھی، انسانی تاریخ کے نوٹس بھی، اور ایک پرانا خاندانی قرآن جس کے کنارے اس کی ماں نے انگلیوں سے چھو چھو کر نرم کردیے تھے۔ وہ خدا سے نفرت نہیں کرتا تھا۔ مسئلہ یہی تھا۔
اگر وہ نفرت کرتا، تو فیصلہ آسان ہوتا۔
مگر وہ محبت، خوف، وراثت، منطق اور شک کے درمیان پھنس گیا تھا۔
بچپن میں اسے بتایا گیا تھا کہ انسان کو ایک خاص مقصد سے پیدا کیا گیا۔ پھر اس نے ارتقا پڑھا۔ اسے معلوم ہوا کہ زندگی ایک طویل حیاتیاتی سفر سے گزری، انواع بدلتی رہیں، جسم ماحول کے مطابق ڈھلتے رہے، اور انسان کسی اچانک نمودار ہونے والی الگ مخلوق کے بجائے زندگی کے بہت پرانے درخت کی ایک شاخ ہے۔
اسے پہلی بار خوف محسوس ہوا۔
علم سے نہیں۔
اس امکان سے کہ شاید جس کہانی پر اس کا پورا ایمان کھڑا تھا، وہ علامت تھی، تاریخ نہیں۔
لیکن پھر اس نے خود سے پوچھا: اگر انسان ارتقا کے ذریعے آیا تو خدا ختم کیوں ہوجاتا ہے؟ کیا تخلیق صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ فوری ہو؟ کیا تدریجی عمل خالق کی نفی کرتا ہے، یا اس کے طریقے کے بارے میں ہمارے اندازے کی؟
سائنس نے اسے "کیسے" کے بارے میں بتایا۔
مگر "کیوں" کا سوال باقی رہا۔
تاہم مذہبی ذہن اکثر "کیوں" کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے "کیسے" کی ضرورت ہی نہ ہو۔ جب بیماری کو شیطانی اثر کہا گیا، سائنس نے جراثیم دکھائے۔ جب آسمانی گرج کو غضب سمجھا گیا، سائنس نے برقی عمل سمجھایا۔ جب وبا کو گناہ کی سزا کہا گیا، تحقیق نے وائرس، صفائی اور مدافعتی نظام کی زبان دی۔
ہر نئی سائنسی وضاحت کے بعد خدا پیچھے ہٹتا محسوس ہوا۔
یا شاید خدا نہیں، ہماری جہالت کی سرحد پیچھے ہٹ رہی تھی۔
انسان نے صدیوں تک جہاں سبب نہیں جانا، وہاں خدا لکھ دیا۔ بارش کیوں ہوئی؟ خدا۔ بیماری کیوں آئی؟ خدا۔ فتح کیوں ملی؟ خدا۔ بچہ کیوں پیدا ہوا؟ خدا۔ پھر جب اسباب معلوم ہوئے تو کچھ لوگوں نے سمجھا خدا غیر ضروری ہوگیا۔
مگر اگر خدا صرف نامعلوم خلا پُر کرنے کے لیے استعمال ہو، تو علم واقعی اسے کم کرتا ہے۔
ایسا خدا ہر تجربے، ہر دوربین، ہر خوردبین سے تھوڑا اور چھوٹا ہوجاتا ہے۔
شاید خدا کو جہالت میں رکھنا خود خدا کی توہین ہے۔
اگر وہ حقیقت ہے تو اسے علم سے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
مگر مذہبی اداروں کو خوف ہوسکتا ہے، کیونکہ علم خدا سے زیادہ ان کی تشریح کو چیلنج کرتا ہے۔
نوجوان نے زمین کی عمر پڑھی، فوسل دیکھے، قدیم انسانوں کے آثار پڑھے، اور اسے محسوس ہوا کہ تاریخ اس سے کہیں زیادہ پرانی، پیچیدہ اور غیر شخصی ہے جتنا اسے بچپن میں بتایا گیا تھا۔ لاکھوں سال تک انسان موجود ہی نہیں تھا۔ اس سے پہلے کروڑوں سال جانور آئے، بدلے، مرے، غائب ہوگئے۔
اگر کائنات انسان کے لیے بنائی گئی تھی، تو انسان اتنی دیر بعد کیوں آیا؟
اگر زمین تخلیق کا مرکز تھی، تو کائنات اتنی وسیع کیوں؟
اگر انسان آخری مقصد ہے، تو اس کے وجود سے پہلے اتنا بے حساب وقت اور اتنی بے شمار معدوم مخلوقات کیوں؟
مذہبی جواب دے سکتا ہے کہ خدائی منصوبہ انسانی گھڑی کا پابند نہیں۔ درست۔ مگر سوال پھر بھی باقی ہے: کیا انسان نے خود کو کائنات کا مقصد اس لیے سمجھا کیونکہ وہ واقعی مقصد تھا، یا اس لیے کہ وہ اپنی کہانی کا مرکزی کردار تھا؟
ہر مخلوق اگر شعور رکھتی، شاید خود کو مرکز سمجھتی۔
یہی انسان کا باطنی غرور ہے۔
وہ کہتا ہے ستارے اس کے لیے، زمین اس کے لیے، جانور اس کے لیے، زندگی اس کے لیے۔
مگر کائنات کی خاموش وسعت اس دعوے پر مسکراتی بھی نہیں۔
وہ صرف موجود رہتی ہے۔
نوجوان نے دوربین میں ایک تصویر دیکھی۔ روشنی جو لاکھوں سال کا سفر کرکے پہنچی تھی۔ اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ اس کے تمام مذہبی جھگڑے، فرقے، فتوے، نظریے اور انسانی غرور کائنات کے پیمانے پر کتنے چھوٹے ہیں۔
مگر پھر ایک اور خیال آیا۔
اگر انسان اتنا چھوٹا ہے، تو وہ اتنا بڑا سوال کیسے پوچھتا ہے؟
مٹی کا ایک جسم کائنات کے معنی پر غور کیسے کرتا ہے؟
کیا شعور محض مادے کی پیچیدہ ترتیب ہے؟
شاید۔
مگر یہ "شاید" معمولی نہیں۔
مادہ اپنے وجود پر حیران ہوگیا۔
یہ خود ایک عجیب واقعہ تھا۔
نوجوان نے خدا کا انکار ابھی نہیں کیا تھا۔
اس نے صرف بچپن کے خدا کو کھویا تھا۔
اور کبھی کبھی خدا کا انکار اصل میں خدا کے ایک پرانے تصور کی موت ہوتی ہے۔
مگر جو تصور مرے، اس کی جگہ خالی رہتی ہے۔
اسی خالی جگہ میں انسان یا تو زیادہ بالغ ایمان بناتا ہے، یا گہرا انکار۔ دونوں کے لیے ہمت چاہیے۔
انسان معجزہ اس واقعے کو کہتا ہے جس کا سبب اسے معلوم نہ ہو۔ مگر نامعلوم ہونا فوق الفطرت ہونے کا ثبوت نہیں۔
ایک زمانے میں سورج گرہن خوف تھا۔ پھر حساب بن گیا۔
بیماری بدروح تھی۔ پھر جرثومہ۔
بانجھ پن تقدیر تھا۔ پھر علاج۔
آسمانی بجلی غضب تھی۔ پھر طبیعیات۔
انسان نے ہر بار سبب دریافت کیا، مگر اس کے ساتھ ایک باطنی نقصان بھی ہوا۔ کائنات پراسرار کم اور قابلِ فہم زیادہ ہوگئی۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ آزادی تھی۔ کچھ کے لیے تنہائی۔
سائنس نے کہا: تمہاری بیماری کسی اخلاقی گناہ کی سزا نہیں، خلیوں کی خرابی ہوسکتی ہے۔
یہ جملہ خدا کے خلاف نہیں، مظلوم انسان کے حق میں تھا۔
کیونکہ جب بیماری کو گناہ کہا جاتا ہے تو مریض جسم کے ساتھ شرمندگی بھی اٹھاتا ہے۔
سائنس نے بہت سے انسانوں سے جھوٹا جرم چھینا۔
ایک عورت کا بچہ بار بار بیمار رہتا تھا۔ خاندان کہتا تھا اس کی دعا کمزور ہے۔ کوئی کہتا تھا نظر لگی، کوئی کہتا تھا گناہ ہے، کوئی آزمائش۔ ایک ڈاکٹر نے بیماری کی جینیاتی وجہ بتائی۔
عورت رو پڑی۔
بچے کی بیماری ختم نہیں ہوئی تھی، مگر اس کی روح پر لگا الزام ہٹ گیا تھا۔
کبھی علم علاج سے پہلے عزت واپس دیتا ہے۔
یہی سائنس کی اخلاقی عظمت ہے، جب وہ دیانت دار ہو۔
مگر سائنس بھی معصوم نہیں۔ وہ طریقہ ہے، اخلاق نہیں۔ وہ ایٹم سمجھ سکتی ہے، مگر فیصلہ نہیں کرتی کہ بم بنانا چاہیے یا دوا۔ وہ انسانی دماغ پڑھ سکتی ہے، مگر یہ حکم نہیں دیتی کہ انسان کو قابو کیا جائے یا آزاد۔
سائنس طاقت دیتی ہے۔
انسان طے کرتا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا ہوگا۔
اسی علم نے ویکسین بنائی، اسی نے زہریلی گیس۔ اسی نے سرجری بہتر کی، اسی نے جنگی ٹیکنالوجی۔ اسی نے فاصلے کم کیے، اسی نے نگرانی بڑھائی۔
اس لیے سائنس کو خدا کی جگہ رکھنا بھی ایک نئی قسم کا مذہب ہوسکتا ہے۔
سائنس "کیا ہے" اور "کیسے ہوتا ہے" پر غیر معمولی روشنی ڈالتی ہے، مگر "کیا ہونا چاہیے" کا مکمل جواب نہیں دیتی۔
وہ بتا سکتی ہے کہ ایک مخلوق درد محسوس کرتی ہے۔
مگر یہ نتیجہ کہ اسے بلاوجہ درد نہ دیا جائے، اخلاقی چھلانگ ہے۔
وہ بتا سکتی ہے کہ انسان ارتقائی رشتہ رکھتا ہے۔
مگر اس رشتے سے محبت، انصاف یا ذمہ داری نکالنا انسانی فلسفہ ہے۔
جو شخص سمجھتا ہے سائنس نے ہر سوال حل کردیا، وہ شاید سائنس کو نہیں سمجھتا۔
حقیقی سائنس یقین سے زیادہ طریقۂ شک ہے۔
وہ کہتی ہے: دکھاؤ، پرکھو، غلط ہونے کی گنجائش رکھو۔
یہی رویہ مذہب کے لیے بھی مفید ہوسکتا تھا۔
مگر مذہبی ادارے اکثر سوال کو ایمان کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ سائنس سوال کو آغاز سمجھتی ہے۔
فرق یہی نہیں کہ ایک کے پاس جواب ہے اور دوسرے کے پاس نہیں۔
فرق یہ ہے کہ ایک جواب کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے، دوسرا کبھی کبھی جواب کو مقدس بنا دیتا ہے۔
لیکن انسان سائنس میں بھی تعصب لے آتا ہے۔
تحقیق کرنے والا بھی انا رکھتا ہے۔ ادارہ بھی مفاد رکھتا ہے۔ اعداد بھی غلط استعمال ہوسکتے ہیں۔
تاریخ میں ایسے تجربات ہوئے جن میں کمزور انسانوں کو محض مواد سمجھا گیا۔ نسل، جنس، طبقہ، بیماری کے نام پر انسان پر ظلم کیا گیا۔
علم بغیر اخلاق کے بے رحم ہوسکتا ہے۔
مذہب بغیر عقل کے اندھا۔
دونوں کا خطرہ مختلف ہے، مگر دونوں انسان کے ہاتھ میں ہیں۔
ایک لیبارٹری میں سائنس دان سرطان کے خلیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی اپنی بیٹی سرطان سے مرچکی تھی۔ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ مگر ہر نئی تحقیق میں اس کے اندر ایک خاموش انتقام تھا۔
وہ بیماری سے لڑ رہا تھا۔
شاید خدا سے بھی۔
اس نے ایک ساتھی سے کہا: "میں کسی معجزے کا انتظار نہیں کرتا۔"
پھر کچھ دیر بعد آہستہ سے بولا: "مگر کبھی کبھی چاہتا ہوں کہ کوئی معجزہ ہوتا۔"
یہ انسانی عقل اور انسانی دل کا فرق ہے۔
عقل ثبوت مانگتی ہے۔
دل نقصان کے بعد استثنا۔
انسان سائنس پر یقین رکھتا ہے، مگر ہسپتال کے باہر دعا بھی کرتا ہے۔
یہ تضاد حماقت نہیں، وجودی کمزوری ہے۔
وہ جانتا ہے دوا کام کرے گی یا نہیں، مگر پھر بھی نامعلوم سے ایک رعایت مانگتا ہے۔
شاید دعا اس جگہ پیدا ہوتی ہے جہاں احتمال کم اور محبت زیادہ ہو۔
سائنس نے معجزہ ثابت نہیں کیا۔
مگر انسانی امید ختم بھی نہیں کی۔
یہی انسان کی عجیب ساخت ہے۔ وہ اعداد جانتا ہے، پھر بھی ایک فیصد میں اپنی پوری روح رکھ دیتا ہے۔
تاریخ ایک خاموش قبرستان ہے جس میں فاتح اپنی زبان میں بولتے ہیں اور مقتول مٹی میں۔
انسان مذہب، سلطنت، قوم، نسل اور تہذیب کے نام پر قتل کرتا رہا۔ ہر دور میں اسے یقین تھا کہ اس کی جنگ آخری سچ کے لیے ہے۔ بعد کی نسلیں آتی ہیں، کتابیں کھولتی ہیں، اور دیکھتی ہیں کہ دونوں طرف انسان تھے، دونوں طرف مائیں، بچے، دعائیں، خوف اور قبریں۔
تاریخ کا سب سے تلخ سبق یہ نہیں کہ انسان ظالم تھا۔
یہ ہے کہ ظالم خود کو ظالم نہیں سمجھتا تھا۔
وہ اپنے آپ کو نجات دہندہ، فاتح، محافظ، مصلح، مومن، محبِ وطن یا تہذیب لانے والا کہتا تھا۔
انسان اپنے جرم کو نام بدل کر برداشت کے قابل بناتا ہے۔
قتل، ضرورت۔ قبضہ، مشن۔ لوٹ، ترقی۔ تعصب، پاکیزگی۔ خاموشی، حکمت۔
تاریخ میں خدا اکثر دونوں فوجوں کے ساتھ تھا۔
دونوں دعائیں کررہی تھیں۔
دونوں فتح کو حق کی علامت سمجھتی تھیں۔
مگر گولی عقیدے کی جانچ نہیں کرتی۔
جیتنے والا لازماً سچا نہیں ہوتا۔
وہ صرف زیادہ منظم، مسلح یا خوش قسمت ہوسکتا ہے۔
پھر بھی انسان نے فتح کو خدائی تائید سمجھا۔
اگر ہم جیتے تو خدا ہمارے ساتھ۔ اگر ہارے تو آزمائش۔
یہی منطق عقیدے کو تاریخ سے ناقابلِ شکست بنا دیتی ہے۔
ہر نتیجہ ایمان کے حق میں۔
لیکن تاریخ دیانت دار قاری سے پوچھتی ہے: اگر تم دوسری طرف پیدا ہوتے تو تمہارا خدا، تمہارا پرچم، تمہاری مقدس کہانی کیا ہوتی؟
شاید تم وہی ہوتے جسے آج دشمن کہتے ہو۔
انسان اپنی پیدائش کے اتفاق کو ابدی سچ سمجھتا ہے۔
وہ جس مذہب، قوم، زبان اور سماج میں پیدا ہوا، اسے طبیعی حقیقت کی طرح مانتا ہے۔ پھر دوسروں کی مختلف وراثت کو غلطی سمجھتا ہے۔
تاریخ اس غرور کو توڑتی ہے۔
وہ دکھاتی ہے کہ عقائد بدلتے ہیں، سلطنتیں گرتی ہیں، مقدس سیاسی نظام ماضی بن جاتے ہیں، اور جو سچ کبھی سوال سے باہر تھا، بعد میں انسانی تعبیر سمجھا جاتا ہے۔
کیا اس سے ہر مذہبی دعویٰ جھوٹا ہوجاتا ہے؟
نہیں۔
مگر ہر دعوے کو عاجز ہونا چاہیے۔
کیونکہ انسان کی تاریخ غلط یقین سے بھری ہے۔
ایک جنگی میوزیم میں ایک بوڑھا شخص اپنے باپ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔ اس کا باپ ایک جنگ میں مارا گیا تھا۔ بچپن سے اسے بتایا گیا کہ وہ شہید تھا۔ اسی میوزیم کے دوسرے حصے میں مخالف فوج کے ایک نوجوان کی تصویر تھی، جس کی ماں نے خط میں اسے "میرا معصوم بیٹا" کہا تھا۔
بوڑھا دیر تک دونوں تصویروں کے درمیان کھڑا رہا۔
ایک طرف شہید۔
دوسری طرف دشمن۔
مگر دونوں تصویروں میں کم عمر چہرے تھے۔
تاریخ نے پہلی بار اس سے سوال کیا: کیا تمہارا باپ واقعی صرف نیکی کی طرف تھا؟ کیا دوسرا لڑکا صرف برائی تھا؟ یا دونوں ایسے نظاموں کے اندر تھے جنہوں نے ان کی موت کو معنی دے کر مزید نوجوانوں کو مرنے بھیجا؟
جنگیں صرف ہتھیار سے نہیں چلتیں۔
کہانیوں سے چلتی ہیں۔
ہر قوم کو اپنے مردوں کے لیے مقدس زبان چاہیے، ورنہ اگلی نسل میدان میں نہیں جائے گی۔
تاریخ کے مطالعے سے انسان خدا کا انکار نہیں کرتا، مگر خدائی جواز کے انسانی استعمال سے خوف کھانے لگتا ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ مذہبی زبان کتنی آسانی سے اقتدار کی خدمت کرسکتی ہے۔
وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ بعض مذہبی انسان اسی اقتدار کے خلاف کھڑے ہوئے، غلامی، ظلم، نسل پرستی اور جنگ کے خلاف آواز بنے۔
تاریخ پھر سادہ فیصلہ نہیں دیتی۔
مذہب قاتل بھی بنا، محافظ بھی۔ سائنس ہتھیار بھی بنی، علاج بھی۔ قومیت آزادی بھی بنی، فاشزم بھی۔ فلسفہ انسانی حقوق بھی، سرد بے رحمی بھی۔
اصل مسئلہ شاید نظریے سے زیادہ انسان کی وہ خواہش ہے جو اپنے مفاد کو مقدس بنانا چاہتی ہے۔
انسان ہر عظیم تصور کو استعمال کرسکتا ہے۔
خدا کو۔ آزادی کو۔ سائنس کو۔ قوم کو۔ انصاف کو بھی۔
اس لیے تاریخ ہمیں صرف ماضی نہیں بتاتی۔
وہ ہمارے اندر چھپے ہوئے مستقبل سے خبردار کرتی ہے۔
جو قوم اپنی غلطیاں یاد نہیں رکھتی، وہ اپنے جرائم کو نئی زبان دے کر دہراتی ہے۔
جو مذہب اپنی تاریخ پر تنقید نہیں کرتا، وہ اپنے تقدس کے نیچے ظلم چھپا سکتا ہے۔
جو ملحد انسانی غرور کو نہ سمجھے، وہ خدا کے بغیر بھی نئی مطلق العنانیت بنا سکتا ہے۔
انکار انسان کو خودکار طور پر آزاد نہیں کرتا۔
وہ صرف ایک خدا کو ہٹاتا ہے۔
انسان چاہے تو اس جگہ ریاست، نسل، رہنما، سائنس یا اپنی انا کو بٹھا دیتا ہے۔ انسان کو بت پرستی کے لیے پتھر ضروری نہیں۔ کبھی نظریہ کافی ہوتا ہے۔
جب انسان نے یہ قبول کیا کہ وہ زندگی کے وسیع درخت کا حصہ ہے، تو اسے لگا شاید اس کی عظمت کم ہوگئی۔
مگر شاید عظمت کم نہیں ہوئی، غرور کم ہوا۔
وہ آسمان سے اترا نہیں۔ زمین سے اٹھا۔
اس کے جسم میں قدیم مخلوقات کی تاریخ ہے۔ اس کی ہڈیوں، خون، خوف، محبت، غصے اور تعلق میں کروڑوں سال کی حیاتیاتی یاد موجود ہے۔
انسان جانور سے جدا نہیں، اس کا تسلسل ہے۔
یہ خیال بعض مذہبی ذہنوں کو اس لیے خوفزدہ کرتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے انسان کی روحانی قدر ختم ہوجائے گی۔ مگر کسی مخلوق کا طبعی آغاز اس کی اخلاقی قدر کیوں کم کرے؟
ہیرا زمین سے نکلتا ہے، اس لیے بے قیمت نہیں۔
شعور مادے سے ابھرا ہو تو بھی حیرت کم نہیں ہوتی۔
بلکہ سوال اور گہرا ہوجاتا ہے: بے شعور مادہ شعور تک کیسے پہنچا؟
ارتقا مقصد کے بغیر عمل ہوسکتا ہے۔ تبدیلی، انتخاب، بقا۔ مگر اس عمل سے ایسا دماغ پیدا ہوا جو خود ارتقا کو سمجھتا ہے، اپنی جبلت پر تنقید کرتا ہے، اور دوسروں کے لیے جان دے سکتا ہے۔
کیا اخلاق صرف سماجی بقا کی حکمت ہے؟
جزوی طور پر ہوسکتا ہے۔
تعاون گروہ کو مضبوط کرتا ہے۔ محبت نسل کو بچاتی ہے۔ ہمدردی سماجی تعلق بناتی ہے۔ مگر انسان کبھی ایسے اجنبی کے لیے قربانی دیتا ہے جس سے اسے کوئی حیاتیاتی فائدہ نہیں۔ وہ اصول کے لیے جان دیتا ہے، آنے والی نسل کے لیے جنگل بچاتا ہے، مردہ شخص کی عزت کرتا ہے، جانور کے درد پر روتا ہے۔
شاید یہ سب ارتقائی بنیادوں سے ابھرے۔
مگر اب وہ اپنی ابتدا سے بڑے معنی لے چکے ہیں۔
زبان کی ابتدا بقا میں ہوئی ہوگی، مگر اس سے شاعری بھی بنی۔ ہاتھ اوزار کے لیے بدلا، مگر اس سے مصوری بھی ہوئی۔ دماغ خطرے کے لیے بیدار ہوا، مگر اس نے فلسفہ بھی بنایا۔
ارتقا کسی چیز کی ابتدا سمجھا سکتا ہے، اس کی پوری قدر نہیں۔
محبت کے حیاتیاتی سبب جان لینے سے محبت ختم نہیں ہوتی۔
غم کے دماغی نقشے سے غم جھوٹا نہیں ہوتا۔
اسی طرح خدا کے تصور کی نفسیاتی یا ارتقائی وجہ تلاش کرنا لازماً خدا کو باطل نہیں کرتا۔
انسان خطرے میں کسی عظیم محافظ کا تصور بناتا ہے۔ گروہ مشترک خدا سے متحد ہوتے ہیں۔ اخلاقی نگران کا تصور تعاون بڑھا سکتا ہے۔ یہ سب مذہب کے پھیلاؤ کو سمجھا سکتے ہیں۔
مگر کسی عقیدے کے فائدے کی وضاحت اس کے سچ یا جھوٹ کا آخری فیصلہ نہیں۔
ایک وہم بھی مفید ہوسکتا ہے۔
ایک حقیقت بھی تکلیف دہ۔
فائدہ اور صداقت ایک چیز نہیں۔
لیکن انکار کرنے والا انسان بھی کبھی اپنی خواہش کو دلیل بنا لیتا ہے۔ وہ خدا نہیں چاہتا کیونکہ خدا کی موجودگی جواب دہی، حدود یا خوف لاتی ہے۔ جیسے مومن کبھی سکون کی خواہش سے ایمان لاتا ہے، ملحد کبھی آزادی کی خواہش سے انکار کرسکتا ہے۔
دونوں کو خود سے پوچھنا چاہیے: میں یہ اس لیے مانتا ہوں کہ شواہد مجھے یہاں لائے، یا اس لیے کہ مجھے یہ نتیجہ پسند ہے؟
یہ سوال آسان نہیں۔
انسان اپنی نیت کا بھی مکمل ماہر نہیں۔
وہ دلیل کے لباس میں خواہش چھپا سکتا ہے۔
ایک نوجوان نے مذہب چھوڑ دیا۔ اسے سکون محسوس ہوا۔ اب اسے جہنم، گناہ، نگرانی اور فرقہ وارانہ خوف سے آزادی ملی۔ کچھ عرصے بعد اس نے سمجھا کہ آزادی سچ ہونے کا ثبوت ہے۔
پھر اس نے خود کو روکا۔
اگر کوئی عقیدہ سکون دے تو وہ لازماً سچ نہیں۔
اگر انکار سکون دے تو وہ بھی لازماً سچ نہیں۔
سچ انسان کی نفسیاتی سہولت کا ملازم نہیں۔
یہ فکری بلوغت کا سخت اصول ہے۔
ہمیں اس نتیجے کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے جو ہمیں پسند نہ ہو۔
مومن کو یہ امکان دیکھنا چاہیے کہ شاید اس کی بعض مقدس تشریحات انسانی ہیں۔
ملحد کو یہ امکان کھلا رکھنا چاہیے کہ حقیقت مادے سے زیادہ پیچیدہ ہو۔
شک دونوں کی توہین نہیں۔
شک یقین کی صفائی ہوسکتا ہے۔
ارتقا نے انسان کو یہ نہیں سکھایا کہ طاقتور کا حق ہے۔ یہ ایک غلط اخلاقی نتیجہ ہوگا۔ فطرت جو کرتی ہے، وہ لازماً ہمیں وہی کرنے کا حکم نہیں دیتی۔
بیماری فطری ہے، علاج بھی۔ تشدد فطری ہے، رحم بھی۔ مقابلہ فطری ہے، تعاون بھی۔
انسان اپنے حیاتیاتی ماضی کا قیدی نہیں۔
وہ اس سے واقف ہوکر اس پر اخلاقی نگرانی کرسکتا ہے۔
شاید یہی شعور کی عظمت ہے۔
وہ شیر کی طرح غصہ محسوس کرسکتا ہے، مگر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بھی۔
وہ قبیلے کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، مگر اجنبی کو انسان سمجھ سکتا ہے۔
وہ مرنے سے ڈرتا ہے، مگر کسی دوسرے کو بچانے کے لیے جان دے سکتا ہے۔
اگر خدا نے اسے بنایا تو شاید یہی امانت ہے۔
اگر ارتقا نے اسے بنایا تو یہی ارتقا کا عجیب ترین پھول۔ دونوں صورتوں میں ذمہ داری باقی ہے۔
نوجوان اب کئی سال بڑا ہوچکا تھا۔ اس نے مذہب پڑھا، سائنس، تاریخ، فلسفہ، نفسیات۔ اس نے خدا پر یقین رکھنے والوں کے بہترین دلائل بھی سنے، انکار کرنے والوں کے بھی۔
اس نے دیکھا کہ دونوں طرف ذہین لوگ ہیں۔
دونوں طرف کمزور دلیلیں بھی۔
دونوں طرف اخلاص بھی، انا بھی۔
اسے معلوم ہوا کہ خدا کا سوال کسی ایک کتاب، ایک تجربے یا ایک مناظرے سے ختم نہیں ہوتا۔
کچھ سوال معلومات کے ہوتے ہیں۔
کچھ وجود کے۔
خدا شاید دوسرا سوال ہے۔
ایک رات وہ اپنی ماں کے پاس بیٹھا تھا۔ ماں بوڑھی ہوچکی تھی۔ اس نے پوچھا: "تم اب بھی خدا کو مانتے ہو؟"
وہ خاموش رہا۔
ماں کے لیے یہ علمی سوال نہیں تھا۔ اسے خوف تھا کہ بیٹا آخرت میں اس سے جدا نہ ہوجائے۔ اس کے عقیدے میں خدا صرف فلسفیانہ ہستی نہیں، دوبارہ ملنے کی امید تھا۔
نوجوان سچ بولنا چاہتا تھا، مگر ماں کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا تھا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں فلسفہ انسانیت سے ملا۔
اس نے کہا: "میں تلاش میں ہوں۔"
ماں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔
"خدا تمہیں راستہ دے۔"
نوجوان نے بحث نہیں کی۔
کبھی محبت دلیل جیتنے سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
مگر محبت کے نام پر جھوٹ ہمیشہ درست نہیں۔ انسان کو ایسا طریقہ چاہیے جس میں سچائی اور رحم ایک دوسرے کے دشمن نہ بنیں۔
اس رات نوجوان نے سوچا: خدا کا انکار شاید آسان جملہ ہے، مگر اس کے بعد زندگی کے بڑے سوال باقی رہتے ہیں۔
اخلاق کیوں؟ شعور کیا؟ وجود کیوں ہے؟ کائنات قابلِ فہم کیوں؟ انصاف کی طلب کہاں سے؟ موت کے سامنے محبت کا مطلب کیا؟
خدا کو ہٹانے سے یہ سوال ختم نہیں ہوتے۔
صرف ان کے جوابات بدل جاتے ہیں۔
ملحد کہہ سکتا ہے کائنات کسی مقصد کے بغیر موجود ہے۔ مقصد انسان بناتا ہے۔ اخلاق ہمدردی، عقل اور سماجی ضرورت سے۔ شعور پیچیدہ مادے سے۔ موت اختتام۔
یہ ایک مربوط تصور ہوسکتا ہے۔
مگر اس میں بھی گہرے نامعلوم ہیں۔
مومن کہہ سکتا ہے کائنات شعور کی تخلیق ہے، اخلاقی حقیقت خدا سے، شعور روح کی علامت، موت دروازہ۔
یہ بھی مربوط تصور ہوسکتا ہے۔
مگر اس میں بھی گہرے مسائل ہیں: شر، خاموشی، وحی کے اختلافات، مذہبی تقسیم۔
دونوں نظام روشنی دیتے ہیں۔
دونوں سائے بھی۔
فکری دیانت شاید یہی ہے کہ انسان اپنے نظام کے سائے بھی دیکھے۔
انکار کرنے والا اگر سمجھے کہ اس نے تمام اسرار حل کردیے، تو وہ نئے غرور میں داخل ہوگیا۔
ایمان رکھنے والا اگر سمجھے کہ اس کے پاس ہر دکھ کا جواب ہے، تو اس نے درد کی توہین کی۔
شاید بالغ انسان وہ ہے جو دلیل رکھتا ہے، مگر عاجزی بھی۔
جو یقین رکھتا ہے، مگر ظلم نہیں کرتا۔
جو شک کرتا ہے، مگر تمسخر نہیں۔
جو سائنس کو مانتا ہے، مگر انسان کو صرف کیمیائی مشین نہیں سمجھتا۔
جو تاریخ پڑھتا ہے، مگر مایوس نہیں ہوتا۔
جو مذہب سے سوال کرتا ہے، مگر ہر مذہبی انسان کو احمق نہیں کہتا۔
جو خدا کو مانتا ہے، مگر خدا کے نام پر اپنی خواہش کو حکم نہیں بناتا۔
نوجوان کی ماں کچھ ماہ بعد مر گئی۔
جنازے کے بعد سب چلے گئے۔ وہ قبر کے پاس اکیلا کھڑا تھا۔ اس نے پوری زندگی میں پہلی بار خود کو مکمل طور پر بے زبان محسوس کیا۔
اسے معلوم نہیں تھا ماں کہیں موجود ہے یا نہیں۔
اسے معلوم نہیں تھا دعا کسی تک پہنچے گی یا نہیں۔
اس نے پھر بھی کہا: "اگر کوئی خدا ہے، تو اسے اپنے پاس رکھنا۔"
پھر وہ رو پڑا۔
کیا یہ ایمان تھا؟ نہیں معلوم۔
کیا یہ بچپن کی عادت؟ ممکن۔
کیا یہ محبت کی آخری بے بسی؟ ضرور۔
انسان بعض اوقات اس ہستی کو بھی مخاطب کرتا ہے جس کے وجود پر اسے یقین نہیں۔
کیونکہ محبت کو ایک پتہ چاہیے۔
قبر پتہ نہیں دیتی۔
آسمان شاید دیتا ہے، شاید نہیں۔
اس لمحے نوجوان نے سمجھا کہ خدا کا انکار صرف ذہنی فیصلہ نہیں۔ کبھی یہ ماں کی آواز، بچپن کی دعا، موت کی امید اور اپنی پوری شناخت سے جدائی ہوتا ہے۔
اس نے خدا کو ثابت نہیں کیا۔
رد بھی مکمل نہ کرسکا۔
مگر اس نے ایک بات سیکھ لی: سچائی کا سفر نعرے سے بڑا ہوتا ہے۔
سائنس ہمیں کائنات کا طریقہ دکھاتی ہے۔ تاریخ انسان کی خود فریبی۔ فلسفہ سوال کی گہرائی۔ غم انسان کی حد۔
اور محبت ہمیں وہاں لے جاتی ہے جہاں دلیل بھی آہستہ بولتی ہے۔
شاید خدا موجود ہے۔
شاید نہیں۔
مگر انسان کے لیے اصل امتحان یہ بھی ہے کہ وہ اس نامعلوم کے ساتھ کیسے جیتا ہے۔
کیا وہ اپنے شک سے رحم پیدا کرتا ہے یا تکبر؟
اپنے ایمان سے خدمت یا اختیار؟
اپنے علم سے عاجزی یا غرور؟
اگر خدا ہے تو شاید اسے ہمارے نتائج سے پہلے ہماری دیانت دیکھنی ہوگی۔
اور اگر خدا نہیں، تب بھی دیانت بے معنی نہیں۔
کیونکہ جھوٹ سے آزاد ہونا، کمزور کی حفاظت کرنا، حقیقت کو پسند سے اوپر رکھنا، اور نامعلوم کے سامنے ایماندار رہنا انسانی وقار ہے۔
قبر کے پاس کھڑے نوجوان نے مٹی پر ہاتھ رکھا۔
پھر آسمان کی طرف نہیں دیکھا۔
اس نے سامنے کھڑے ایک غریب بچے کو دیکھا جو جنازے کے بعد بچا ہوا کھانا سمیٹ رہا تھا۔
وہ اٹھا، اس کے پاس گیا، اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
شاید اس دن اسے خدا نہیں ملا۔
مگر وہ ایک سوال کا بہتر جواب بن گیا۔
اور شاید تمام سائنس، تاریخ، مذہب اور فلسفے کے بعد انسان کے سامنے سب سے سخت سوال یہی رہ جاتا ہے:
تم نے حقیقت کے بارے میں کیا مانا، یہ اہم ہے؛ مگر اس یقین یا انکار نے تمہیں کس قسم کا انسان بنایا؟
ایک ایسے کمرے میں کھڑا تھا جہاں شیشے کے پیچھے انسانی کھوپڑیاں رکھی تھیں۔ کچھ چہرے انسان جیسے تھے، مگر مکمل طور پر آج کے انسان جیسے نہیں۔ پیشانیاں مختلف، جبڑے بڑے، ہڈیاں بھاری۔ ہر نمونے کے ساتھ ایک زمانہ درج تھا جو اس کے بچپن کی پوری دنیا سے کہیں زیادہ پرانا تھا۔
اس نے شیشے کے اندر دیکھا، پھر اپنے ہاتھوں کو۔
یہ ہاتھ کہاں سے آئے تھے؟
وہ چہرہ جسے وہ آئینے میں "میں" کہتا تھا، کتنے مردہ جسموں، کتنی نسلوں، کتنی تبدیلیوں اور کتنی نامعلوم مخلوقات کے سفر سے گزر کر یہاں پہنچا تھا؟
بچپن میں اسے ایک پہلا انسان بتایا گیا تھا۔ ایک مکمل جسم، ایک واضح آغاز، ایک مخصوص لمحہ جس میں مٹی نے انسانی شکل لی اور پھر اس میں شعور پھونک دیا گیا۔ کہانی میں ایک باغ تھا، ایک حکم، ایک ممنوع درخت، ایک لغزش اور زمین پر اترتی ہوئی انسانی تاریخ۔
مگر عجائب گھر میں تاریخ کسی ایک دروازے سے داخل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ ابھر رہی تھی۔
کوئی واضح لکیر نہ تھی جس کے ایک طرف جانور اور دوسری طرف اچانک مکمل انسان کھڑا ہو۔ جسم بدلتے گئے، دماغ کا حجم بڑھا، ہاتھوں کا استعمال پیچیدہ ہوا، آگ، اوزار، زبان، تدفین، علامت اور ثقافت کے آثار پیدا ہوئے۔ انسان کسی ایک صبح مٹی سے اٹھتا ہوا نہیں دکھائی دیتا تھا؛ وہ لاکھوں برس کے دھندلے سفر میں اپنی پہچان بناتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ جدید انسان کے جسمانی اور رویّاتی اوصاف ایک طویل ارتقائی تاریخ سے وابستہ ہیں، نہ کہ سائنسی طور پر دکھائی دینے والے کسی ایک اچانک حیاتیاتی آغاز سے۔
نوجوان نے خود سے پوچھا:
اگر آدم ایک تاریخی فرد تھے اور تمام انسان انہی سے آئے، تو ان سے پہلے موجود انسان نما مخلوقات کیا تھیں؟
وہ جانور تھیں؟ انسان تھیں؟ یا اس فرق کے درمیان ایسی مخلوقات تھیں جن کے لیے ہماری مذہبی زبان کے پاس کوئی واضح خانہ نہیں؟
اگر روح ایک خاص لمحے میں دی گئی، تو وہ لمحہ کون سا تھا؟
جب کسی قدیم مخلوق نے پہلی بار مردے کو دفن کیا؟ جب اس نے آگ محفوظ کی؟ جب اس نے غار کی دیوار پر تصویر بنائی؟ جب اسے اپنے مرنے کا علم ہوا؟ یا جب اس نے پہلی بار آسمان کی طرف دیکھ کر کسی نامعلوم ہستی کا تصور کیا؟
سائنس ہڈی دیکھ سکتی ہے، روح نہیں۔
یہ اس کی حد ہے۔
مگر مذہبی روایت روح کی بات کرتے کرتے کبھی جسمانی تاریخ بھی بیان کرتی ہے۔ جیسے ہی دعویٰ جسم، نسل، عمر، زمین اور وقت سے جڑتا ہے، وہ مکمل طور پر مابعدالطبیعی نہیں رہتا۔ پھر ہڈیاں سوال کرتی ہیں، جین سوال کرتے ہیں، زمین کی تہیں سوال کرتی ہیں۔
مذہبی مفسر کہہ سکتا ہے کہ آدم پہلے حیاتیاتی انسان نہیں، پہلے اخلاقی یا صاحبِ وحی انسان تھے۔ یہ تعبیر ارتقا کے ساتھ تصادم کم کرسکتی ہے۔ مگر پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ مقدس کہانی کو اس کے ظاہری تاریخی مفہوم سے آگے بڑھ کر علامتی یا الٰہیاتی انداز میں پڑھا جارہا ہے۔
یہ ممکن ہے۔
مگر اس امکان کی قیمت ہے۔
جب ایک روایت کو سائنسی دریافت کے بعد علامت کہا جائے، تو سوال اٹھتا ہے: کیا وہ ابتدا ہی سے علامت تھی، یا حقیقت کے بدلتے علم نے ہمیں اسے علامت بنانے پر مجبور کیا؟
کیا ہم متن سمجھ رہے ہیں؟ یا اسے شکست سے بچا رہے ہیں؟
ان دونوں کے درمیان فرق ہمیشہ واضح نہیں۔
نوجوان کی ماں نے کبھی ارتقا نہیں پڑھا تھا۔ اس کے لیے آدم کی کہانی انسانی خطا، توبہ، ذمہ داری اور خدا کی طرف واپسی کی کہانی تھی۔ اگر کوئی سائنس دان اسے بتاتا کہ حیاتیاتی تاریخ مختلف ہے، تو شاید اس کی اخلاقی دنیا نہیں ٹوٹتی۔ مگر نوجوان جانتا تھا کہ مسئلہ صرف ایک جسم کے آغاز کا نہیں۔
اگر انسانی گناہ کسی ایک پہلی نافرمانی سے شروع نہیں ہوا، تو موروثی خطا، سقوط، نجات اور پوری مذہبی تاریخ کے بعض تصورات کو دوبارہ سمجھنا پڑے گا۔
اگر انسان ابتدا ہی سے بقا، تشدد، تعاون، جنسی مقابلے اور قبائلی رویوں کی ارتقائی تاریخ ساتھ لے کر آیا، تو برائی کسی ایک پھل کے کھانے سے دنیا میں داخل نہیں ہوئی۔
موت بھی انسان سے پہلے موجود تھی۔ شکار بھی۔ بیماری بھی۔
جانور کروڑوں سال پہلے مرتے، زخمی ہوتے اور معدوم ہوتے رہے۔
پھر یہ کیسے کہا جائے کہ انسانی خطا نے موت کو تخلیق میں داخل کیا؟
ممکن ہے مذہبی موت سے مراد روحانی جدائی ہو، حیاتیاتی موت نہیں۔
پھر ایک بار تعبیر بدل جاتی ہے۔
شاید تعبیر بدلنا علمی پختگی ہے۔
مگر اگر ہر مشکل مقام پر لفظ کا مفہوم تبدیل کردیا جائے، تو روایت کو غلط ثابت کرنے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا۔
جو بھی دریافت ہو، کہا جاسکتا ہے کہ متن کا اصل مطلب کچھ اور تھا۔
ایسا عقیدہ محفوظ ضرور ہوجاتا ہے۔
مگر کیا وہ قابلِ تحقیق بھی رہتا ہے؟
نوجوان نے ایک قدیم کھوپڑی کے سامنے کھڑے ہوکر سوچا کہ شاید انسان نے آدم کو اس لیے بنایا کہ اسے ایک آغاز چاہیے تھا۔ تدریجی آغاز انسان کے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا۔ ہمیں پہلا دن، پہلا باپ، پہلا گناہ، پہلا قاتل اور پہلی قبر چاہیے۔
تاریخ دھندلی ہوتی ہے۔
کہانی واضح۔
اور انسان دھند سے زیادہ کہانی میں جینا پسند کرتا ہے۔
لیکن کہانی کا نفسیاتی حسن اس کی تاریخی صداقت کا ثبوت نہیں۔
پھر بھی کہانی جھوٹ کے برابر نہیں۔
ممکن ہے آدم ایک تاریخی سوانح نہ ہوں بلکہ انسان کے اندر بیدار ہونے والے اخلاقی شعور کی علامت ہوں۔ وہ لمحہ جب ایک حیوان نے پہلی بار صرف عمل نہیں کیا بلکہ عمل کے بعد شرمندگی محسوس کی۔ جب برہنگی جسم کی حالت سے بڑھ کر خود آگہی بن گئی۔ جب انسان نے پہلی بار جانا کہ وہ چھپ رہا ہے۔
اگر ایسا ہے تو آدم ماضی کا ایک آدمی نہیں۔
ہر انسان کے اندر پیدا ہونے والا وہ لمحہ ہے جب خواہش کے بعد ضمیر بیدار ہوتا ہے۔
یہ تعبیر گہری ہے۔
مگر یہ مذہبی تاریخ کو فلسفے میں تبدیل کردیتی ہے۔
اور نوجوان کا اصل سوال یہی تھا:
کیا ہم ایک واقعہ پڑھ رہے ہیں؟
یا انسان نے اپنی داخلی پیدائش کو ایک پہلے باپ کی کہانی میں محفوظ کردیا؟
شیشے کے پیچھے کھوپڑی خاموش تھی۔
مگر اس کی خاموشی ایک مقدس کتاب سے زیادہ پرانی تھی۔
ایک اور کمرے میں زمین کی تہوں کا نقشہ تھا۔ چٹانوں کی پرتیں، برفانی نمونے، درختوں کے حلقے، سمندری تلچھٹ اور معدوم جانوروں کے آثار۔ زمین ایک کتاب تھی، مگر اس کی تحریر سیاہی سے نہیں، دباؤ، وقت، راکھ، ہڈی اور معدنیات سے لکھی گئی تھی۔
اگر پوری زمین ایک زمانے میں پانی کے نیچے گئی ہوتی، تو زمین کو اس واقعے کی ایک وسیع اور ہم آہنگ گواہی دینی چاہیے تھی۔
ایک ہی دور کی عالمی تہہ۔ جانوروں اور پودوں کی غیر معمولی مشترک تدفین۔ انسانی تہذیبوں میں ایک ہی زمانی انقطاع۔ برف، درختوں، جھیلوں اور سمندری تہوں میں ایک ہی تباہ کن نشان۔
مگر ارضیاتی تاریخ ایسی ایک حالیہ عالمی آبی تباہی کی سادہ تصویر پیش نہیں کرتی۔ مقامی اور عظیم سیلاب انسانی تاریخ میں ضرور آئے، اور قدیم تہذیبوں کی یاد میں انہوں نے عالمی شکل اختیار کی ہوسکتی ہے، لیکن ارضیات میں زیرِ بحث علاقائی سیلابی نظریات بھی ایک حالیہ عالم گیر سیلاب کے برابر نہیں۔ بلیک سی سے متعلق بعض مفروضوں کے برخلاف، تحقیق مسلسل اخراج اور پیچیدہ علاقائی تاریخ دکھاتی ہے، نہ کہ آسانی سے ثابت ہونے والا نوحی عالمی واقعہ۔
نوجوان نے کشتی کے تصور کو ذہن میں رکھا۔
ہر خشکی کے جانور کا جوڑا۔ خوراک۔ پانی۔ فضلہ۔ بیماری۔ شکاری اور شکار۔ مختلف موسموں کے جانور۔ کیڑے۔ پرندے۔ وہ جاندار جو صرف خاص خوراک، درجہ حرارت یا ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں۔
پھر پانی اترنے کے بعد ان کی دنیا بھر میں تقسیم۔
کینگرو آسٹریلیا تک کیسے پہنچا؟
برفانی خطوں کی مخلوق گرم علاقوں سے کیسے گزری؟
وہ جانور جو صرف ایک خاص جزیرے یا براعظم میں ملتے ہیں، ایک مشترک مقام سے نکل کر وہاں کیسے پہنچے اور راستے میں اپنے آثار کیوں نہ چھوڑے؟
اگر ہر نوع کے چند افراد ہی بچے، تو جینیاتی تنوع کیسے برقرار رہا؟
یہ سوال خدا کی قدرت کو محدود نہیں کرتے۔ قادرِ مطلق کے لیے ہر معجزہ ممکن کہا جاسکتا ہے۔
مگر جیسے ہی ہر عملی مشکل کے جواب میں ایک نیا معجزہ شامل کیا جائے، کہانی سائنسی وضاحت کے دائرے سے نکل جاتی ہے۔
پانی معجزاتی۔ کشتی کی گنجائش معجزاتی۔ جانوروں کی آمد معجزاتی۔ ان کی خاموشی معجزاتی۔ خوراک محفوظ۔ بیماریاں قابو میں۔ پھر براعظموں تک واپسی۔
ایسا دعویٰ منطقی طور پر ناممکن ثابت نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ مطلق قدرت کو ہر خلا میں داخل کیا جاسکتا ہے۔
مگر پھر اسے سائنسی دعویٰ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
سائنس ایسے مفروضے کو ترجیح دیتی ہے جو کم اضافی مفروضوں سے مشاہدات سمجھائے، قابلِ امتحان ہو اور ایسی پیش گوئی کرے جس کے غلط نکلنے کا امکان ہو۔
معجزہ ممکنات کا دروازہ کھولتا ہے۔
مگر تحقیق کے لیے کبھی کبھی تمام دروازے ایک ساتھ کھول دینا، کسی راستے کا نہ ہونا ہے۔
نوجوان نے سوچا کہ شاید عظیم سیلاب کی کہانی کسی حقیقی علاقائی تباہی کی اجتماعی یاد تھی۔ قدیم انسان کے لیے اس کی آباد دنیا ہی پوری دنیا تھی۔ اگر دریا نے شہر، کھیت، جانور، خاندان اور افق تک سب کچھ ڈبو دیا، تو زندہ بچنے والے نے یہ نہیں کہا ہوگا کہ ہمارے محدود جغرافیائی خطے میں غیر معمولی سیلاب آیا۔
اس نے کہا ہوگا: دنیا ختم ہوگئی۔
انسانی زبان تجربے کے پیمانے پر چلتی ہے، سیارے کے پیمانے پر نہیں۔
پھر نسلوں نے واقعے کو سنایا۔
ہر نسل نے معنی شامل کیے۔
پانی صرف قدرتی آفت نہ رہا، اخلاقی فیصلہ بن گیا۔
بچ جانے والا صرف خوش قسمت نہ رہا، منتخب انسان بن گیا۔
کشتی صرف وسیلہ نہ رہی، نجات کی علامت بن گئی۔
کہانی میں ایک عظیم فلسفہ پیدا ہوا: جب تہذیب اخلاقی طور پر سڑ جائے تو تباہی آتی ہے، مگر نیکی ایک چھوٹی کشتی میں مستقبل محفوظ رکھ سکتی ہے۔
یہ فلسفہ طاقتور ہے۔
لیکن اخلاقی طاقت تاریخی ثبوت نہیں۔
یہاں ایک زیادہ تکلیف دہ سوال تھا۔
اگر عالمی سیلاب واقعی خدائی سزا تھا تو جانور کیوں ڈوبے؟ بچے کیوں؟ وہ انسان کیوں جنہیں شاید مجرم معاشرے کے فیصلوں میں کوئی اختیار نہ تھا؟
کیا پوری نوعِ انسانی اتنی بدکار تھی کہ ایک خاندان کے سوا ہر شخص موت کا مستحق تھا؟
کیا خدا کی عدالت فرد کو نہیں، اجتماعی وجود کو سزا دیتی ہے؟
اور اگر نومولود بچے بھی اس فیصلے میں شامل تھے تو گناہ کی تعریف کیا رہ جاتی ہے؟
کہا جاسکتا ہے کہ خدا زندگی دیتا ہے، اس لیے واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔
مگر حق اور رحم ایک چیز نہیں۔
ایک مالک اپنی چیز توڑ سکتا ہے۔ مگر اگر انسان خدا کی ملکیت ہیں تو کیا ملکیت اخلاقی تعلق کی مکمل وضاحت ہے؟
محبت ملکیت سے بڑی ہونی چاہیے۔
نوجوان نے ایک تصور کیا۔
پانی بڑھ رہا ہے۔ لوگ کشتی کے باہر چیخ رہے ہیں۔ مائیں بچوں کو اونچا اٹھائے ہوئے ہیں۔ اندر منتخب خاندان محفوظ ہے۔ باہر وہ انسان مر رہے ہیں جن کے متعلق فیصلہ آچکا۔
اگر یہ منظر کسی انسانی حکمران نے پیدا کیا ہوتا تو ہم اسے تاریخ کا بدترین قاتل کہتے۔
خدا کے متعلق ہم اسے عدل کیوں کہتے ہیں؟
صرف اس لیے کہ فاعل خدا ہے؟
اگر طاقت ہی نیکی کا معیار ہے تو اخلاق ختم ہوجاتا ہے۔
پھر درست وہ ہے جو مطلق طاقت کرے۔
مگر ہم خدا کو صرف طاقتور نہیں، اچھا بھی کہتے ہیں۔
اس لیے سوال باقی رہتا ہے۔
شاید سیلاب کی کہانی کو لفظی تاریخ کے بجائے انسان کی اخلاقی تباہی کا افسانوی بیان سمجھنا زیادہ معقول ہے۔
مگر پھر ماننا پڑے گا کہ مذہبی متن میں تاریخ، علامت، یاد، شاعری اور الٰہیات ملی ہوئی ہوسکتی ہیں۔
اور اگر ایسا ہے تو قاری کو یہ فیصلہ کون دے گا کہ کہاں واقعہ ختم ہوتا ہے اور استعارہ شروع؟
ہر فرقہ اپنی لکیر کھینچے گا۔
ہر زمانہ اپنی ضرورت کے مطابق۔
پھر وحی واضح روشنی کم اور انسانی تعبیر کا وسیع میدان زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
زمین کی تہیں خاموش تھیں۔
انہوں نے کشتی کی تصدیق نہیں کی۔
مگر انسان کی کہانی نے صدیوں تک طوفان سے زیادہ زور سے سفر کیا۔
شاید اس لیے کہ انسان پانی سے کم اور اخلاقی خاتمے سے زیادہ ڈرتا ہے۔
رات کے اندھیرے میں ایک باپ اپنے بیٹے کو پہاڑ کی طرف لے جارہا تھا۔
بیٹا نہیں جانتا تھا کہ سفر کا حقیقی مقصد کیا ہے۔
باپ کے اندر ایک آواز تھی جسے وہ خدا کا حکم سمجھتا تھا۔
ایک چھری۔ ایک قربان گاہ۔ ایک ایسا امتحان جس میں ایمان اور پدرانہ محبت آمنے سامنے کھڑے تھے۔
یہ کہانی تین بڑی مذہبی روایتوں میں الگ تفصیلات اور تعبیرات کے ساتھ ایمان، اطاعت اور قربانی کی عظیم مثال سمجھی گئی۔ مگر جدید اخلاقی شعور اس کے سامنے ایک سخت سوال رکھتا ہے:
اگر آج کوئی باپ کہے کہ خدا نے اسے اپنے بچے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، تو ہم اسے نبی سمجھیں گے یا ذہنی بحران کا شکار انسان؟
ہم اس بچے کو فوراً اس سے دور کریں گے۔ پولیس بلائیں گے۔ طبی مدد طلب کریں گے۔ اسے چھری کے ساتھ پہاڑ تک جانے نہیں دیں گے۔
پھر ماضی میں یہی عمل ایمان کی بلند ترین مثال کیسے بن جاتا ہے؟
فرق صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ ابراہیم کو واقعی خدا کا حکم تھا۔
مگر یہی تو اصل مسئلہ ہے۔
انسان کیسے معلوم کرے کہ اس کے اندر سنائی دینے والی آواز خدا کی ہے، خواہش کی، خوف کی، بیماری کی، روایت کی یا وہم کی؟
اگر اخلاقی اصول آواز کی تصدیق کے بعد معطل ہوسکتے ہیں، تو ہر مذہبی جنون اپنے لیے راستہ نکال سکتا ہے۔
کوئی کہے گا خدا نے حکم دیا۔ کوئی کہے گا خواب آیا۔ کوئی کہے گا مقدس مقصد ہے۔
اخلاق کا کام شاید یہی ہے کہ بعض اعمال کو آواز کے دعوے سے اوپر رکھا جائے۔
بچے کا قتل غلط ہے، خواہ قاتل اپنے یقین میں کتنا ہی مخلص ہو۔
اگر خدا واقعی نیک ہے تو وہ انسان کو ایسا حکم کیوں دے گا جو اس کے دیے ہوئے رحم، عقل اور پدرانہ ذمہ داری کو توڑ دے؟
کہا جاتا ہے مقصد قتل نہیں، اطاعت کا امتحان تھا۔
آخر میں بچہ بچا لیا گیا۔
مگر امتحان کی نوعیت پھر بھی سوال پیدا کرتی ہے۔
ایک ایسی ہستی جو دل جانتی ہے، اسے ثبوت کے لیے چھری تک سفر کیوں چاہیے؟
اگر خدا پہلے ہی ابراہیم کا ایمان جانتا تھا، تو امتحان کس کے علم کے لیے تھا؟
خدا کے لیے نہیں۔
ابراہیم کے لیے؟ نسلوں کے لیے؟
اگر مقصد انسانوں کو یہ دکھانا تھا کہ خدا انسانی قربانی نہیں چاہتا، تو کہانی کی ایک اخلاقی قرأت ممکن ہے: چھری روک دی گئی، کیونکہ حقیقی خدا بچے کا خون نہیں مانگتا۔
یہ تعبیر خوبصورت ہے۔
مگر روایتی زور اکثر اس بات پر رہا کہ ابراہیم حکم کے سامنے مکمل جھکے۔
یہاں ایک خطرہ ہے۔
اگر اطاعت کو اخلاق سے بڑا بنادیا جائے تو انسان اپنے ضمیر کو حکم کے حوالے کرسکتا ہے۔
پھر "میں صرف حکم مان رہا تھا" تاریخ کے بدترین جرائم کا جواز بن جاتا ہے۔
اخلاقی بلوغت شاید یہ نہیں کہ انسان ہر مقدس آواز پر سر جھکا دے۔
شاید یہ ہے کہ وہ آواز سے بھی پوچھے: کیا یہ رحم کے خلاف ہے؟ کیا اس میں معصوم کا خون ہے؟ کیا ایک عادل خدا واقعی ایسا چاہ سکتا ہے؟
مذہبی شخص کہہ سکتا ہے کہ انسان کی عقل خدا پر حاکم نہیں ہوسکتی۔
درست، محدود عقل نامحدود حقیقت کا مکمل پیمانہ نہیں۔
مگر اسی عقل سے ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا دعویٰ وحی ہے اور کون سا دھوکا۔
اگر عقل ناقابلِ اعتماد ہے تو نبوت کی تصدیق بھی ناقابلِ اعتماد ہوگی۔
ہم معجزہ، کردار، پیغام، اخلاق اور روایت سب کو انسانی فہم سے پرکھتے ہیں۔
اس لیے عقل کو صرف اس مقام پر خاموش نہیں کیا جاسکتا جہاں سوال مشکل ہوجائے۔
ابراہیم کی تاریخی موجودگی کا معاملہ بھی پیچیدہ ہے۔ قدیم روایات انہیں مرکزی جد مانتی ہیں، مگر ایسی شخصیات کی مکمل سوانح کو جدید تاریخی معیار پر براہِ راست ثابت کرنا آسان نہیں۔ آثارِ قدیمہ مذہبی متون کے بعض ماحول اور مقامات پر روشنی ڈال سکتا ہے، مگر کسی مقام یا ثقافتی پس منظر کی تصدیق، ہر شخصی روایت کی تصدیق نہیں ہوتی۔ آثارِ قدیمہ سے پوری مذہبی کہانی کو "ثابت یا رد" کرنے کی کوشش خود ماہرین کے نزدیک حد سے زیادہ سادہ ہوسکتی ہے۔
ایک شہر واقعی موجود ہوسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں منسوب ہر واقعہ ثابت ہوگیا۔
ایک بادشاہ کا زمانہ حقیقی ہوسکتا ہے۔
اس سے ہر معجزہ تاریخی نہیں ہوجاتا۔
تاریخ امکان، شواہد، متون، مادّی آثار اور متبادل توضیحات کا وزن کرتی ہے۔
ایمان گواہی کو قبول کرسکتا ہے۔
دونوں کے طریقے مختلف ہیں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایمان اپنے عقیدے کو تاریخی حقیقت کہتا ہے، مگر تاریخ کے سوال کو گستاخی سمجھتا ہے۔
نوجوان نے اپنے باپ کے ہاتھوں کو دیکھا۔
یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے بچپن میں اسے گرنے سے بچایا تھا۔
اس نے سوچا کہ اگر باپ محبت کی جگہ اطاعت چنتا تو وہ اسے مقدس نہیں کہہ سکتا۔
شاید اس کا اخلاق کمزور تھا۔
شاید وہ خدا کے امتحان کو نہیں سمجھتا تھا۔
مگر اس کے اندر ایک آواز کہتی تھی: جو خدا ایک باپ کو بچے کے گلے پر چھری رکھنے کو کہے، اسے پہچاننے سے پہلے چھری روکنا زیادہ اخلاقی ہے۔
اگر وہ واقعی خدا ہے تو وہ انسانی رحم سے ناراض کیوں ہوگا؟
اور اگر وہ رحم سے ناراض ہے تو "خدا" کا لفظ اس حکم کو اچھا نہیں بنا سکتا۔
شاید ابراہیم کی کہانی کی سب سے بالغ تعبیر اطاعت نہیں، چھری کا رک جانا ہے۔
انسان نے صدیوں تک باپ کے ایمان کی تعریف کی۔
شاید اب بچے کے خوف کو بھی پڑھنے کا وقت تھا۔
صحرا وسیع ہے، مگر خاموش نہیں۔
وہ قدموں کے نشان کھو دیتا ہے، مگر بڑی آبادیوں کے قیام، خوراک، برتن، آگ، تدفین اور انسانی نقل و حرکت کبھی نہ کبھی مادی آثار چھوڑ سکتے ہیں۔
روایت ایک مظلوم قوم کو مصر کی غلامی سے نکلتے دکھاتی ہے۔ آفات، بادشاہ کا مقابلہ، پانی کا پھٹنا، صحرا کا سفر، آسمانی خوراک اور ایک نئی شریعت۔
یہ کہانی صرف تاریخ نہیں۔
آزادی کا عالمی استعارہ بن گئی۔
غلام، مظلوم اور محکوم انسان نے اس میں اپنا چہرہ دیکھا۔
فرعون ہر ظالم تھا۔ موسیٰ ہر مزاحمت۔ سمندر ہر ناممکن رکاوٹ۔
یہ اخلاقی طاقت اپنی جگہ حقیقی ہے۔
مگر تاریخی سوال الگ ہے۔
ایک بہت بڑی آبادی کا مصر سے نکلنا، طویل عرصہ صحرا میں رہنا اور پھر نئے علاقوں میں داخل ہونا ایک عظیم سماجی واقعہ ہوتا۔ ایسے واقعے کے پیمانے، تاریخ اور آثار پر ماہرین میں طویل بحث ہے۔ بعض قدرتی نمونے محدود آبی واقعے کے ممکنہ طریقے دکھا سکتے ہیں، مگر کسی طبیعی طریقۂ امکان کا مظاہرہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ مقدس روایت اپنی تمام تفصیل کے ساتھ واقع ہوئی۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
یہ دکھانا کہ تیز ہوا کسی اتھلے پانی کو عارضی طور پر پیچھے دھکیل سکتی ہے، صرف یہ دکھاتا ہے کہ ایسا طبیعی واقعہ ممکن ہوسکتا ہے۔
اس سے موسیٰ، فرعون، مخصوص قافلہ، خدائی وقت اور پورا بیانیہ خودکار طور پر ثابت نہیں ہوتا۔
امکان وقوع نہیں۔
مشابہت ثبوت نہیں۔
اور عدمِ ثبوت لازماً عدمِ وقوع بھی نہیں۔
تاریخ انہی باریک فرقوں پر کھڑی ہے، مگر مناظرہ انہیں اکثر نعرے میں بدل دیتا ہے۔
مومن چھوٹی دریافت کو پوری کتاب کی تصدیق کہتا ہے۔
منکر ہر خاموشی کو مکمل تردید۔
دونوں کبھی کبھی شواہد سے زیادہ اپنی خواہش پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
پھر اخلاقی مسئلہ سامنے آتا ہے۔
مصر کی آفات میں عام لوگ کیوں مرے؟ پہلوٹھے بچے کیوں؟
ایک حکمران کی ضد کی قیمت ان گھروں نے کیوں ادا کی جنہیں شاید محل کے فیصلوں پر کوئی اختیار نہ تھا؟
اگر خدا فرعون کا دل نرم کرسکتا تھا، تو اس نے نشانیاں، بیماری، تباہی اور بچوں کی موت کا راستہ کیوں چنا؟
بعض روایتی قرأتیں کہتی ہیں فرعون نے خود مسلسل انکار کیا، اس کی سختی اس کے اپنے کردار کا نتیجہ تھی۔
مگر جب خدائی طاقت اجتماعی سزا میں ظاہر ہو، تو پھر وہی پرانا سوال اٹھتا ہے:
کیا عدل فرد اور مجرم میں فرق کرتا ہے؟
یا قوم، خاندان اور رعایا سب حاکم کے جرم کا حصہ بن جاتے ہیں؟
انسانی تاریخ میں بادشاہ فیصلے کرتے رہے اور سپاہی، کسان، عورتیں اور بچے مرتے رہے۔
اگر مقدس تاریخ بھی یہی نمونہ دہراتی ہے تو فرق کہاں ہے؟
صرف یہ کہ فاتح کی طرف خدا کا نام لکھ دیا گیا؟
ایک اور سخت سوال جنگی احکامات سے پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی قوم کو زمین دینے کے لیے وہاں موجود لوگوں کو ہٹایا یا قتل کیا جائے، تو جدید اخلاق اسے مقدس حق نہیں، قبضہ اور اجتماعی تشدد کہے گا۔
کیا قدیم زمانے کا خدا قدیم اخلاق کے مطابق بولتا تھا؟
یا قدیم انسان نے اپنے جنگی تجربات کو خدائی زبان میں لکھا؟
اگر اخلاقی وحی مطلق تھی تو وہ اپنے زمانے کی جنگی ثقافت سے اتنی مشابہ کیوں دکھائی دیتی ہے؟
اگر وہ تدریجی تربیت تھی تو خدا نے انسان کو مکمل اخلاقی اصول فوری طور پر کیوں نہ دیے؟
کہا جاسکتا ہے وحی انسانی تاریخ میں مرحلہ وار اترتی ہے۔
انسان اپنی استعداد کے مطابق سمجھتا ہے۔
یہ جواب ممکن ہے۔
مگر پھر مذہبی متن صرف خدا کی خالص آواز نہیں، انسانی تاریخی شعور سے گزری ہوئی آواز بن جاتا ہے۔
اور جب خدا کی آواز انسان کی ثقافت سے گزرے تو قاری کیسے معلوم کرے کہ کون سا حصہ ابدی ہے، کون سا زمانی؟
یہ مسئلہ ہر ابراہیمی روایت کے مرکز میں بیٹھا ہے۔
مذہب کہتا ہے خدا تاریخ میں بولا۔
تاریخ کہتی ہے ہر آواز انسانی زبان، سیاست، یاد اور ثقافت میں محفوظ ہوئی۔
ان دونوں کے درمیان مکمل علیحدگی ممکن نہیں۔
نوجوان نے ایک جنگی پناہ گزین بچے کو دیکھا تھا جس کا گھر تباہ ہوگیا تھا۔ ہر فریق اپنی مقدس تاریخ سناتا تھا۔ ہر فریق زمین کو وعدہ، حق، وراثت اور خدا سے جوڑتا تھا۔
بچہ کسی وعدے کو نہیں سمجھتا تھا۔
وہ صرف اپنا گھر چاہتا تھا۔
یہاں تاریخ کی مذہبی تعبیر انسانی گوشت کو چھونے لگتی ہے۔
قدیم دعوے جدید گولیوں میں بدل سکتے ہیں۔
ایک ہزار سال پرانی کہانی آج کے بچے سے اس کا گھر لے سکتی ہے۔
اس لیے مقدس تاریخ پر سوال صرف علمی شوق نہیں۔
اخلاقی ضرورت ہے۔
اگر کوئی کہانی انسان کو انصاف دے تو اسے محفوظ کرو۔
اگر وہ دوسرے کی انسانیت چھینے تو اسے دوبارہ پڑھو۔
خدا اگر عادل ہے تو وہ تاریخی دعوے کے نام پر موجودہ مظلوم کی چیخ کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
صحرا خاموش تھا۔
ممکن ہے وہاں ایک عظیم قافلہ گزرا ہو۔
ممکن ہے چھوٹی تاریخی یاد بعد میں قومی نجات کی عظیم داستان بن گئی ہو۔
ممکن ہے واقعہ، علامت اور الٰہیات ایک دوسرے میں گندھے ہوں۔
تاریخ یقین سے کم، احتمال سے بات کرتی ہے۔
اور یہی دیانت کبھی ایمان کو کمزور محسوس ہوتی ہے۔
مگر شاید سچ کو بلند آواز نہیں، درست پیمانہ چاہیے۔
قدیم تاریخ میں ہر شخصیت ایک ہی درجے کی دھند میں نہیں کھڑی۔
بعض شخصیات کے متعلق مختلف متون، مخالف ذرائع، جغرافیائی آثار اور نسبتاً قریب زمانی روایات ملتی ہیں۔ بعض کے متعلق مواد دیر سے، مذہبی اور محدود ہوتا ہے۔ مگر ایک تاریخی شخصیت کا وجود اور اس سے منسوب معجزات دو الگ سوال ہیں۔
یہ ممکن ہے کہ کوئی واعظ، مصلح یا مذہبی رہنما واقعی موجود رہا ہو۔
اس سے پانی پر چلنا، مردہ زندہ کرنا، آسمان سے وحی لینا، فرشتے دیکھنا یا جسمانی طور پر آسمانی سفر کرنا تاریخی طریقے سے خودکار طور پر ثابت نہیں ہوتا۔
مؤرخ عموماً اس توضیح کو ترجیح دیتا ہے جس کے لیے انسانی تجربے کے معلوم قوانین کو معطل نہ کرنا پڑے۔
اگر ایک متن کہے کہ بیمار صحت یاب ہوا، مؤرخ پوچھے گا: کیا تشخیص درست تھی؟ کیا مبالغہ ہوا؟ کیا بعد کی روایت نے واقعہ بڑھایا؟ کیا علامتی قصہ تھا؟ کیا نفسیاتی یا طبیعی بہتری تھی؟
مؤرخ یہ نہیں کہہ سکتا کہ معجزہ فلسفیانہ طور پر ناممکن ہے۔
وہ صرف یہ کہتا ہے کہ معجزہ تاریخی طریقۂ تحقیق سے ثابت کرنا بہت مشکل ہے، کیونکہ "قدرتی قانون کی خلاف ورزی" خود سب سے غیر معمولی مفروضہ ہے۔
غیر معمولی دعویٰ غیر معمولی شہادت مانگتا ہے۔
ایک پرانی کتاب میں دعویٰ موجود ہونا اس دعوے کی تاریخ کا ثبوت ہے۔
ضروری نہیں کہ دعویٰ کردہ واقعے کا بھی کافی ثبوت ہو۔
ہزار سال بعد کسی مذہبی برادری کی مضبوط عقیدت یہ ثابت کرسکتی ہے کہ روایت نے انسانوں کو گہرا متاثر کیا۔
یہ نہیں کہ ہر مافوق الفطرت تفصیل لازماً واقع ہوئی۔
انسان افواہ، یاد، محبت، عقیدت اور اجتماعی تکرار سے کہانی کو بدل سکتا ہے۔ وہ جھوٹ بولے بغیر بھی غلط یاد رکھ سکتا ہے۔ ایک واقعہ کئی زبانوں، سامعین اور نسلوں سے گزرے تو ہر راوی ضروری نہیں کہ جعل ساز ہو۔
کہانی انسانی ہاتھوں میں خود بڑھتی ہے۔
عظیم شخصیت کے گرد عظیم واقعات جمع ہوجاتے ہیں۔
محبوب رہنما صرف انسان رہنا برداشت نہیں کیا جاتا۔
اس کی پیدائش خاص۔ بچپن خاص۔ علامتیں خاص۔ موت خاص۔ موت کے بعد بھی موجودگی خاص۔
شاید انسان عظمت کو معجزے کے بغیر مکمل نہیں سمجھتا۔
عیسیٰ کی کہانی میں ایک مظلوم مصلح، محبت کا پیغام، سیاسی اور مذہبی طاقت سے تصادم، سولی اور پھر موت پر فتح کا دعویٰ ہے۔
اگر قیامت واقعی ہوئی تو انسانی تاریخ کی سب سے عظیم خبر ہوسکتی ہے۔
اگر نہیں ہوئی تو ایک شکست خوردہ تحریک نے اپنے رہنما کی موت کو امید میں تبدیل کردیا۔
دونوں امکانات کے درمیان فرق پورے مذہب کی بنیاد بدل دیتا ہے۔
مگر مؤرخ کے پاس قبر سے نکلتے ہوئے جسم کی براہِ راست غیر جانب دار ریکارڈنگ نہیں۔
اس کے پاس عقیدت مند روایات، مختلف متون اور ابتدائی جماعت کا یقین ہے۔
کیا لوگوں کا یقین واقعے کا ثبوت ہے؟
ثبوت ضرور ہے کہ وہ یقین رکھتے تھے۔
مگر انسان غلط بات پر بھی اخلاص سے یقین کرسکتا ہے۔
اسی طرح محمد کی تاریخی موجودگی، تحریک، سیاسی اثر، مذہبی متن اور ابتدائی برادری کا وجود ایک تاریخی مطالعے کا موضوع بن سکتا ہے۔ لیکن فرشتے سے ملاقات، وحی کا خدائی منبع اور آسمانی سفر مابعدالطبیعی دعوے ہیں۔
مؤرخ یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایک شخص نے دعویٰ کیا، لوگوں نے قبول کیا، متن وجود میں آیا اور تاریخ بدل گئی۔
وہ خدا کو کمرے میں بطور گواہ پیش نہیں کرسکتا۔
یہاں ایمان چھلانگ لگاتا ہے۔
وہ کردار، زبان، اثر، متن اور روحانی تجربے کو ملا کر کہتا ہے: یہ انسانی نہیں ہوسکتا۔
منکر کہتا ہے: انسانی تاریخ میں غیر معمولی ذہانت، مذہبی تجربہ، سیاسی قیادت اور ادبی قوت بارہا ظاہر ہوئی ہے؛ غیر معمولی ہونا خدائی ہونے کے برابر نہیں۔
دونوں کے درمیان اصل جنگ اکثر شواہد سے زیادہ معیار کی ہوتی ہے۔
مومن کے لیے باطنی اثر بھی شہادت ہے۔
مؤرخ کے لیے قابلِ بیرونی تصدیق زیادہ اہم۔
ایک انسان کتاب پڑھ کر رو پڑتا ہے، زندگی بدل دیتا ہے، گناہ چھوڑتا ہے۔
اس کے لیے یہ خدا کی آواز ہے۔
دوسرا وہی کتاب پڑھ کر انسانی تاریخ، زبان اور اقتدار دیکھتا ہے۔
اس کے لیے یہ انسانی متن۔
تجربہ الگ، نتیجہ الگ۔
کیا سچ پڑھنے والے کی داخلی حالت پر منحصر ہے؟ نہیں ہونا چاہیے۔
مگر انسان سچ کو ہمیشہ اپنے شعور سے گزرتا ہوا پاتا ہے۔
کوئی خالص، غیر انسانی نقطۂ نظر ہمارے پاس نہیں۔
یہی انسانی علم کی حد ہے۔
نوجوان کی ماں کی وفات کے بعد اسے اس کی جائے نماز ملی۔ کنارے پر آنسوؤں کے خشک نشان شاید نظر نہیں آتے تھے، مگر اسے معلوم تھا کہ ماں نے وہاں کتنی راتیں گزاری تھیں۔
سائنس ان آنسوؤں کا نمک ناپ سکتی تھی۔
نفسیات غم، خوف اور عقیدے کا تعلق سمجھا سکتی تھی۔
تاریخ بتا سکتی تھی کہ دعاؤں کی شکل کیسے بنی۔
مگر ماں کے لیے وہ جگہ خدا سے ملاقات تھی۔
کیا بیٹے کو حق تھا کہ وہ اسے محض دماغی کیفیت کہہ کر ختم کردے؟ نہیں۔
کیا ماں کا تجربہ خدا کے وجود کا قطعی ثبوت تھا؟ یہ بھی نہیں۔
احترام اور تصدیق ایک چیز نہیں۔
کسی انسان کے تجربے کی عزت کی جاسکتی ہے، اس کی تعبیر قبول کیے بغیر۔
یہی بالغ انکار ہے۔
وہ مومن کو احمق نہیں کہتا۔
وہ کہتا ہے: تمہارا تجربہ حقیقی ہوسکتا ہے، مگر اس کی مذہبی تعبیر واحد ممکن تعبیر نہیں۔
وہ نبی کو لازماً جھوٹا نہیں کہتا۔
ممکن ہے کسی نے سچائی سے یقین کیا ہو کہ اسے وحی ملی۔
مخلص ہونا خطا سے محفوظ نہیں کرتا۔
شدید یقین بیرونی حقیقت کی ضمانت نہیں۔
روحانی تجربہ دماغ، ثقافت، توقع اور سماجی ماحول سے متاثر ہوسکتا ہے۔
مگر اسے صرف بیماری کہنا بھی علمی تکبر ہوگا۔
ہر غیر معمولی تجربہ جنون نہیں۔
اور ہر گہرا تجربہ خدا بھی نہیں۔
نوجوان نے آخرکار سمجھا کہ وہ تمام ابراہیمی انبیا کو سائنس سے "غلط ثابت" نہیں کرسکتا۔
کیونکہ سائنس اس سوال کے لیے بنی ہی نہیں کہ فرشتہ واقعی آیا یا نہیں، خدا نے کلام کیا یا نہیں، موت کے بعد کیا ہے۔
سائنس قابلِ مشاہدہ دنیا کے نمونے پرکھتی ہے۔
جہاں دعویٰ طبیعی دنیا سے ٹکراتا ہے، وہاں وہ سخت سوال پوچھتی ہے۔
جہاں دعویٰ تاریخ میں داخل ہوتا ہے، وہاں مؤرخ شواہد مانگتا ہے۔
جہاں دعویٰ اخلاق میں داخل ہوتا ہے، وہاں ضمیر پوچھتا ہے کہ معصوم کے ساتھ کیا ہوا۔
مگر خدا کا آخری انکار سائنس سے نہیں نکلتا۔
وہ فلسفیانہ نتیجہ ہے۔
جس طرح خدا کا آخری اقرار کسی فوسل سے نہیں نکلتا۔
وہ بھی فلسفیانہ اور ایمانی نتیجہ ہے۔
ایک فریق کہتا ہے: شواہد کے بغیر مافوق الفطرت ہستی فرض کرنا ضروری نہیں۔
دوسرا کہتا ہے: وجود، شعور، اخلاق اور کائناتی نظم کی مکمل توضیح صرف مادے سے نہیں ہوئی۔
بحث باقی رہتی ہے۔
لیکن مقدس کہانیوں کے سامنے ایک بات ضرور بدل چکی تھی۔
اب انسان صرف یہ نہیں پوچھتا تھا: کیا یہ کتاب میں لکھا ہے؟
وہ پوچھتا تھا: اس کے آزاد شواہد کیا ہیں؟ کیا متبادل انسانی توضیح زیادہ سادہ ہے؟ کیا واقعے کا اخلاقی مفہوم قابلِ دفاع ہے؟ کیا دعویٰ غلط ثابت ہونے کی کوئی ممکن صورت رکھتا ہے؟ کیا ہم متن پڑھ رہے ہیں یا اپنی ضرورت؟
یہ سوال ایمان کو لازماً قتل نہیں کرتے۔
وہ بچکانہ ایمان کو بالغ ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔
اور جو ایمان سوال سے مر جائے، شاید وہ سچ پر نہیں، سوال کی ممانعت پر زندہ تھا۔
نوجوان نے ماں کی جائے نماز تہہ کرکے الماری میں رکھ دی۔
اس نے سجدہ نہیں کیا۔
اس نے تمسخر بھی نہیں کیا۔
وہ کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔
باہر ایک بچہ اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے جارہا تھا۔
اس نے سوچا: انسان اپنے باپ کی کہانی سے تاریخ شروع کرتا ہے۔
پھر ایک دن ہڈیاں، ستارے اور وقت اسے بتاتے ہیں کہ اس کی کہانی اس کے خاندان، قوم اور مذہب سے کہیں پرانی ہے۔
اس دن کچھ لوگ خدا کھو دیتے ہیں۔
کچھ خدا کا تصور بدلتے ہیں۔
کچھ سوال کو دبا دیتے ہیں۔
اور کچھ پہلی بار دیانت سے کہتے ہیں: میں نہیں جانتا۔
شاید یہی جملہ انکار نہیں۔
شاید یہ جھوٹے یقین سے آزادی ہے۔
اور شاید ابراہیمی روایتوں کے سامنے سائنس اور تاریخ کا سب سے گہرا فیصلہ یہ نہیں کہ "تمام انبیا جھوٹے تھے۔"
بلکہ یہ ہے: غیر معمولی انسانی دعووں کو صرف اس لیے تاریخ، سائنس اور اخلاق سے بالاتر نہیں رکھا جاسکتا کہ نسلوں نے انہیں مقدس کہنا شروع کردیا۔
اگر خدا نے واقعی انسان سے بات کی ہے تو سچائی سوال سے نہیں ڈرے گی۔
اور اگر صرف انسان ہی بولتا رہا ہے، تو سوال ہی وہ روشنی ہے جس میں اس کی آواز سے خدا کا نام الگ کیا جاسکتا ہے۔
