سَأَلتُهُ عَنِ الصّلَاةِ بِاللّيلِ وَ النّهَارِ إِذَا لَم تُرَ الشّمسُ وَ لَا القَمَرُ وَ لَا النّجُومُ قَالَ تَجتَهِدُ رَأيَكَ وَ تَعَمّدُ القِبلَةَ جُهدَكَ فَالوَجهُ فِي هَذِهِ الأَخبَارِ أَن نَحمِلَهَا عَلَي حَالِ الضّرُورَةِ التّيِ لَا يَتَمَكّنُ الإِنسَانُ فِيهَا مِنَ الصّلَاةِ إِلَي أَربَعِ جِهَاتٍ فَإِنّهُ يُجزِيهِ التحّرَيّ فَأَمّا إِذَا تَمَكّنَ فَلَا بُدّ مِنَ الصّلَاةِ إِلَي أَربَعِ جِهَاتٍ
اردو
الحسین بن سعید، عن الحسن، عن زرعہ، عن سماعہ، انہوں نے کہا: میں نے ان سے رات اور دن کی نماز کے بارے میں پوچھا جب نہ سورج دکھائی دیتا ہے، نہ چاند، نہ ستارے۔ انہوں نے فرمایا: تم اپنی رائے سے کوشش کرو اور اپنی استطاعت بھر قبلہ کا قصد کرو۔ پس ان روایات کے بارے میں درست طریقہ یہ ہے کہ ہم انہیں اس حالتِ ضرورت پر محمول کریں جس میں انسان چار سمتوں کی طرف نماز ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس کے لیے اندازہ کافی ہے؛ لیکن اگر وہ قادر ہو تو پھر چار سمتوں کی طرف نماز ادا کرنا لازم ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.