سَأَلتُهُ عَنِ اللّحَافِ مِنَ الثّعَالِبِ أَوِ الخُوارَزمِيّةِ أَ يُصَلّي فِيهَا أَم لَا قَالَ إِذَا كَانَ ذَكِيّاً فَلَا بَأسَ بِهِ فَالوَجهُ فِي هَذِهِ الأَخبَارِ أَن نَحمِلَهَا عَلَي ضَربٍ مِنَ التّقِيّةِ دُونَ حَالِ الِاختِيَارِ لِأَنّ ذَلِكَ مَذهَبُ جَمِيعِ العَامّةِ وَ يُؤَكّدُ مَا قَدّمنَاهُ
اردو
ان سے، علی بن السندی سے، صفوان بن یحییٰ سے، عبد اللہ بن الحجاج سے، انہوں نے کہا: میں نے ان سے لومڑیوں یا خوارزمی کھال سے بنے ہوئے لحاف کے بارے میں پوچھا: کیا اس میں salat (نماز) ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر اسے صحیح طور پر ذبح کیا گیا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ پس ان روایات کے بارے میں درست طریقہ یہ ہے کہ ہم انہیں تقیہ کی ایک صورت پر محمول کریں، نہ کہ حالتِ اختیار پر، کیونکہ یہی تمام عامہ کا مذہب ہے، اور یہ اس بات کی تائید کرتا ہے جو ہم پہلے پیش کر چکے ہیں۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.