سَأَلتُ أَبَا عَبدِ اللّهِ ع عَنِ الشّاذَكُونَةِ يُصِيبُهَا الِاحتِلَامُ أَ يُصَلّي عَلَيهَا فَقَالَ لَا فَالوَجهُ فِي هَذَا الخَبَرِ ضَربٌ مِنَ الِاستِحبَابِ دُونَ الحَظرِ
اردو
جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جسے الحسين بن سعيد نے صفوان سے، اور انہوں نے عبد الله بن بكير سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابا عبد الله عليه السلام سے شاذکونة کے بارے میں پوچھا جس پر احتلام کی منی لگ گئی ہو: کیا اس پر نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ پس اس روایت کی درست سمجھ یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی استحباب پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ حرمت پر۔
Chapter (Bab)232- بَابُ الشّاذَكُونَةِ تُصِيبُهَا النّجَاسَةُ أَ يُصَلّي عَلَيهَا أَم لَا
CollectionAl-Istibsar
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
Read on Thaqalayn Project ↗Open License
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.