سَأَلتُ أَبَا الحَسَنِ ع عَن عَبدٍ أَصَابَ صَيداً وَ هُوَ مُحرِمٌ هَل عَلَي مَولَاهُ شَيءٌ مِنَ الفِدَاءِ قَالَ لَا لَا شَيءَ عَلَي مَولَاهُ فَلَا ينُاَفيِ الخَبَرَ الأَوّلَ لِأَنّ الوَجهَ فِيهِ أَن نَحمِلَهُ عَلَي أَنّهُ إِذَا كَانَ أَحرَمَ بِغَيرِ إِذنِ مَولَاهُ فَإِنّهُ مَتَي كَانَ الأَمرُ عَلَي ذَلِكَ لَم يَكُن عَلَي مَولَاهُ شَيءٌ
اردو
جہاں تک سعد بن عبد اللہ نے محمد بن الحسن سے، انہوں نے محمد بن الحسین سے، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی نجران سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابا الحسن علیہ السلام سے ایک غلام کے بارے میں پوچھا جو احرام کی حالت میں شکار کر بیٹھا: کیا اس کے مالک پر فدیہ میں سے کچھ لازم ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اس کے مالک پر کچھ بھی نہیں ہے۔ پس یہ پہلی روایت کے منافی نہیں، کیونکہ اس میں درست توجیہ یہ ہے کہ اسے اس معنی پر محمول کیا جائے کہ اگر اس نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر احرام باندھا ہو، تو جب معاملہ ایسا ہو، اس کے مالک پر کچھ نہیں ہوتا۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.