John Shaqi

سَأَلتُ أَبَا عَبدِ اللّهِ ع عَنِ المُتَمَتّعِ يَقدَمُ مَكّةَ يَومَ التّروِيَةِ صَلَاةَ العَصرِ تَفُوتُهُ المُتعَةُ فَقَالَ لَا لَهُ مَا بَينَهُ وَ بَينَ غُرُوبِ الشّمسِ وَ قَالَ قَد صَنَعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللّهِص


اردو

ان سے، صفوان سے، العلاء سے، عیسیٰ بن القاسم سے، انہوں نے کہا: میں نے ابا عبداللہ علیہ السلام سے اس متمتع کے بارے میں پوچھا جو یومِ ترویہ کو نمازِ عصر کے وقت مکہ پہنچے: کیا اس سے متعہ فوت ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ اس کے لیے اس وقت اور غروبِ آفتاب کے درمیان وقت ہے۔ اور انہوں نے فرمایا: بے شک رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔


Chapter (Bab)166- بَابُ الوَقتِ ألّذِي يَلحَقُ الإِنسَانُ فِيهِ المُتعَةَ
CollectionAl-Istibsar

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.