لَا بَأسَ بِأَن يَختَضِبَ الرّجُلُ وَ يُجنِبَ وَ هُوَ مُختَضِبٌ وَ لَا بَأسَ بِأَن يَتَنَوّرَ الجُنُبُ وَ يَحتَجِمَ وَ يَذبَحَ وَ لَا يَدّهِنُ وَ لَا يَذُوقُ شَيئاً حَتّي يَغسِلَ يَدَيهِ وَ يَتَمَضمَضَ فَإِنّهُ يُخَافُ مِنهُ الوَضَحُ فَالوَجهُ فِي الجَمعِ بَينَ هَذِهِ الأَخبَارِ أَن نَحمِلَ الأَوّلَةَ عَلَي ضَربٍ مِنَ الكَرَاهِيَةِ دُونَ الحَظرِ لِئَلّا يَتَنَاقَضَ الأَخبَارُ وَ ألّذِي يَدُلّ عَلَي ذَلِكَ
اردو
علی بن ابراہیم، ان کے والد سے، النوفلی سے، السکونی سے، ابی عبداللہ علیہ السلام سے، جنہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی خضاب لگائے اور پھر وہ جنب ہو جائے جبکہ اس پر خضاب ہو۔ اور جنب کے لیے بال صفا کرنے والی دوا استعمال کرنے، پچھنے لگوانے اور ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن وہ تیل نہ لگائے اور نہ کسی چیز کا ذائقہ چکھے یہاں تک کہ اپنے ہاتھ دھو لے اور کلی کر لے، کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس سے وضح پیدا ہو جائے۔ پس ان روایات میں تطبیق کی درست صورت یہ ہے کہ پہلی روایات کو حرمت کے بجائے ایک قسم کی کراہت پر محمول کیا جائے، تاکہ روایات میں باہمی تضاد نہ رہے۔ اور اس پر دلالت کرنے والی بات یہ ہے:
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.