سَأَلتُهُ كَيفَ التّيَمّمُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَي الأَرضِ فَمَسَحَ بِهَا وَجهَهُ وَ ذِرَاعَيهِ إِلَي المِرفَقَينِ فَالوَجهُ فِي هَذَا الخَبَرِ أَن نَحمِلَهُ عَلَي ضَربٍ مِنَ التّقِيّةِ لِأَنّهُ مُوَافِقٌ لِمَذَاهِبِ العَامّةِ وَ قَد قِيلَ فِي تَأوِيلِهِ إِنّ المُرَادَ بِهِ الحُكمُ لَا الفِعلُ لِأَنّهُ إِذَا مَسَحَ ظَاهِرَ الكَفّ فَكَأَنّهُ غَسَلَ ذِرَاعَيهِ فِي الوُضُوءِ فَيَحصُلُ لَهُ بِمَسحِ الكَفّينِ فِي التّيَمّمِ حُكمُ غَسلِ الذّرَاعَينِ فِي الوُضُوءِ
اردو
جہاں تک الحسين بن سعيد نے عثمان بن عيسى سے، وہ سماعہ سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں نے ان سے پوچھا کہ تیمم کیسے کیا جاتا ہے، تو انہوں نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا اور اس سے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو کہنیوں تک مسح کیے۔ پس اس روایت کے بارے میں درست طریقہ یہ ہے کہ اسے تقیہ کی ایک صورت پر محمول کیا جائے، کیونکہ یہ عام لوگوں کے مذاہب کے موافق ہے۔ اور اس کی تاویل میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حکم ہے، فعل نہیں، کیونکہ جب وہ ہتھیلی کی پشت کو مسح کرتا ہے تو گویا اس نے وضو میں اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اس طرح تیمم میں دونوں ہتھیلیوں کے مسح سے اسے وضو میں دونوں بازو دھونے کا حکم حاصل ہو جاتا ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.