أَتَيْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ( عليه السلام ) فِي بَعْضِ مَا أَتَيْتُهُ فَجَعَلَ يَقُولُ لَا تَعْجَلْ حَتَّى حَمِيَتِ الشَّمْسُ عَلَيَّ وَ جَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ الْأَفْيَاءَ فَمَا لَبِثَ أَنْ خَرَجَ عَلَيَّ قَوْمٌ كَأَنَّهُمُ الْجَرَادُ الصُّفْرُ عَلَيْهِمُ الْبُتُوتُ قَدِ انْتَهَكَتْهُمُ الْعِبَادَةُ قَالَ فَوَ اللَّهِ لَأَنْسَانِي مَا كُنْتُ فِيهِ مِنْ حُسْنِ هَيْئَةِ الْقَوْمِ فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي أَرَانِي قَدْ شَقَقْتُ عَلَيْكَ قُلْتُ أَجَلْ وَ اللَّهِ لَقَدْ أَنْسَانِي مَا كُنْتُ فِيهِ قَوْمٌ مَرُّوا بِي لَمْ أَرَ قَوْماً أَحْسَنَ هَيْئَةً مِنْهُمْ فِي زِيِّ رَجُلٍ وَاحِدٍ كَأَنَّ أَلْوَانَهُمُ الْجَرَادُ الصُّفْرُ قَدِ انْتَهَكَتْهُمُ الْعِبَادَةُ فَقَالَ يَا سَعْدُ رَأَيْتَهُمْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أُولَئِكَ إِخْوَانُكَ مِنَ الْجِنِّ قَالَ فَقُلْتُ يَأْتُونَكَ قَالَ نَعَمْ يَأْتُونَّا يَسْأَلُونَّا عَنْ مَعَالِمِ دِينِهِمْ وَ حَلَالِهِمْ وَ حَرَامِهِمْ .
اردو
ہمارے بعض اصحاب، محمد بن علی سے، یحییٰ بن مساور سے، سعد الاسکاف سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں ابو جعفر (عليه السلام) کے پاس ایک ایسے کام کے سلسلے میں آیا کرتا تھا جس کے لیے میں ان کے پاس آتا تھا۔ وہ کہتے رہے: “جلدی نہ کرو،” یہاں تک کہ سورج مجھ پر تیز ہو گیا اور میں سائے کے ٹکڑوں کا پیچھا کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایک قوم میری طرف نکل آئی گویا وہ زرد ٹڈیاں ہوں؛ ان پر اون کے کپڑے تھے، اور عبادت نے انہیں گھلا دیا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، لوگوں کی خوبصورتی نے مجھے اس چیز سے غافل کر دیا جس میں میں مشغول تھا۔ پھر جب میں ان کے پاس داخل ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا: “مجھے لگتا ہے کہ میں نے تم پر مشقت ڈالی ہے۔” میں نے کہا: “جی ہاں، اللہ کی قسم۔ کچھ لوگ میرے پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے اس چیز سے غافل کر دیا جس میں میں مشغول تھا۔ میں نے کبھی ان سے زیادہ خوبصورت چہرے والے لوگ نہیں دیکھے، ایک ہی آدمی کے لباس میں، گویا ان کے رنگ زرد ٹڈیوں جیسے تھے؛ عبادت نے انہیں گھلا دیا تھا۔” تو انہوں نے فرمایا: “اے سعد، کیا تم نے انہیں دیکھا؟” میں نے کہا: “جی ہاں۔” انہوں نے فرمایا: “وہ تمہارے جنّوں میں سے بھائی ہیں۔” پھر میں نے کہا: “کیا وہ آپ کے پاس آتے ہیں؟” انہوں نے فرمایا: “ہاں، وہ ہمارے پاس آتے ہیں، ہم سے اپنے دین کی تعلیمات، اور اپنے حلال اور حرام کے بارے میں پوچھتے ہیں۔”
Translation
Some of our companions, from Muhammad Bin Ali, from Yahya Bin Musawir, from Sa’ad Al Iskaf who said, ‘I went over to Abu Ja’far<sup>asws</sup> regarding some of what I used to go to him<sup>asws</sup> for, so he<sup>asws</sup> went on to say: ‘Not now’, until the sun was very hot upon me, and I went to follow the shades. So, it was not long before there came out to me a group, as if they were locusts, there being paleness upon them, slim, the worship having affected them. So, by Allah<sup>azwj</sup>, I had never been so awed by the beauty of the group. So when I went over to him<sup>asws</sup>, he<sup>asws</sup> said to me: ‘I<sup>asws</sup> see that I<sup>asws</sup> have been difficult upon you’. I said, ‘Yes, by Allah<sup>azwj</sup>! It had comforted me what I was in, by a group which passed by me. I have never seen a people more beautiful in awe than them in uniform like one man, as if their colours were like the locusts, the paleness due to the worship having had affected them’. So he<sup>asws</sup> said: ‘O Sa’d! You saw them?’ I said, ‘Yes’. He<sup>asws</sup> said: ‘They are your brethren from the Jinn’. So I said, ‘They come to you<sup>asws</sup>?’ He<sup>asws</sup> said: ‘They do come to us<sup>asws</sup>, asking us<sup>asws</sup> about the information of their Religion, and their Permissible and their Prohibitions’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.