سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) عَنِ الْمَأْكُولِ مِنَ الطَّيْرِ وَ الْوَحْشِ فَقَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) كُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ الْوَحْشِ فَقُلْتُ إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ مِنَ السَّبُعِ فَقَالَ لِي يَا سَمَاعَةُ السَّبُعُ كُلُّهُ حَرَامٌ وَ إِنْ كَانَ سَبُعاً لَا نَابَ لَهُ وَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) هَذَا تَفْصِيلًا وَ حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُولُهُ ( صلى الله عليه وآله ) الْمُسُوخَ جَمِيعَهَا فَكُلِ الْآنَ مِنْ طَيْرِ الْبَرِّ مَا كَانَتْ لَهُ حَوْصَلَةٌ وَ مِنْ طَيْرِ الْمَاءِ مَا كَانَ لَهُ قَانِصَةٌ كَقَانِصَةِ الْحَمَامِ لَا مَعِدَةٌ كَمَعِدَةِ الْإِنْسَانِ وَ كُلُّ مَا صَفَّ وَ هُوَ ذُو مِخْلَبٍ فَهُوَ حَرَامٌ وَ الصَّفِيفُ كَمَا يَطِيرُ الْبَازِي وَ الصَّقْرُ وَ الْحِدَأَةُ وَ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ وَ كُلُّ مَا دَفَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَ الْحَوْصَلَةُ وَ الْقَانِصَةُ يُمْتَحَنُ بِهَا مِنَ الطَّيْرِ مَا لَا يُعْرَفُ طَيَرَانُهُ وَ كُلُّ طَيْرٍ مَجْهُولٍ .
اردو
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن محبوب سے، انہوں نے سماعۃ بن مہران سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے پرندوں اور وحشی جانوروں میں سے کھائے جانے والے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے پرندوں میں سے ہر پنجے والے کو اور وحشی جانوروں میں سے ہر کچلی والے کو حرام قرار دیا ہے۔ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ درندوں میں سے (حرام ہے)۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: اے سماعہ! سارے درندے حرام ہیں، خواہ وہ درندہ بے کچلی ہو؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے یہ بات تفصیلاً بیان فرمائی تھی۔ اور اللہ عزّ وجلّ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ نے تمام مسخ شدہ جانوروں کو حرام قرار دیا ہے۔ اب خشکی کے پرندوں میں سے وہ کھاؤ جن کا پوٹا ہو، اور پانی کے پرندوں میں سے وہ کھاؤ جن کا پیٹھا کبوتر کے پیٹھے کی طرح ہو، نہ کہ انسان کے معدے کی طرح۔ ہر وہ پرندہ جو پنجوں کے ساتھ پروں کو پھیلا کر اڑے حرام ہے، اور اس طرح کی پرواز ہے جیسے باز، صقر، اور چیل اڑتے ہیں اور جو ان سے مشابہت رکھتا ہو۔ اور ہر وہ پرندہ جو پر پھڑپھڑاتا ہو وہ حلال ہے۔ اور پوٹا اور پیٹھا ان پرندوں کو جانچنے کا معیار ہے جن کی پرواز کا طریقہ معلوم نہ ہو، اور ہر نامعلوم پرندہ۔
Translation
Ali Bin Ibrahim, form his father, from Ibn Mahboub, from Sama’at Bin Mihran who said, ‘I asked Abu Abdullah<sup>asws</sup> about the edible from the birds, and the wild beasts. So he<sup>asws</sup> said: ‘Rasool-Allah<sup>saww</sup> Prohibited everything with claws from the birds, and everything with fangs from the wild beasts’. So I said, ‘The people are saying, ‘From the predators’. So he<sup>asws</sup> said to me: ‘O Sama’at! The predators, all of them are Prohibited, even if it was a predator with no fangs for it, and rather, Rasool-Allah<sup>saww</sup> said: ‘This is decisive’. And Allah<sup>azwj</sup> Mighty and Majestic and His<sup>azwj</sup> Rasool<sup>saww</sup> Prohibited the morphed (creatures) in their entirety. So now, eat from a bird of the land what had a craw for it, and from a bird of the sea what had a gizzard for it like a gizzard of the dove, not a stomach like the stomach of a human; and every (bird) which flies in town and is with a claw, so it is Prohibited, and the array is like the flying of the hawks, and the falcons and the buzzards, and what resembles that; and every (bird) who flaps so it is Permissible, and the craws and the gizzard is what is examined by it from the birds what is not recognised by its flight, and every unknown flier’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.