بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو جَعْفَرٍ الْمَنْصُورُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَأَتَيْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَ هُوَ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ وَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَمْعَةٌ وَ فِي يَدِهِ كِتَابٌ قَالَ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ رَمَى بِالْكِتَابِ إِلَيَّ وَ هُوَ يَبْكِي فَقَالَ لِي هَذَا كِتَابُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ يُخْبِرُنَا أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَدْ مَاتَ فَإِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ثَلَاثاً وَ أَيْنَ مِثْلُ جَعْفَرٍ ثُمَّ قَالَ لِيَ اكْتُبْ قَالَ فَكَتَبْتُ صَدْرَ الْكِتَابِ ثُمَّ قَالَ اكْتُبْ إِنْ كَانَ أَوْصَى إِلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ بِعَيْنِهِ فَقَدِّمْهُ وَ اضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْجَوَابُ أَنَّهُ قَدْ أَوْصَى إِلَى خَمْسَةٍ وَاحِدُهُمْ أَبُو جَعْفَرٍ الْمَنْصُورُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَ عَبْدُ اللَّهِ وَ مُوسَى وَ حَمِيدَةُ.
اردو
علی بن محمد، سهل یا کسی اور سے، محمد بن الولید سے، یونس سے، داود بن زربی سے، ابو ایوب النحوی سے، جنہوں نے کہا: ابو جعفر منصور نے رات کے وسط میں مجھے بلایا، تو میں ان کے پاس آیا اور ان کے ہاں داخل ہوا جبکہ وہ ایک کرسی پر بیٹھے تھے، ان کے سامنے ایک شمع تھی اور ان کے ہاتھ میں ایک خط تھا۔ انہوں نے کہا: جب میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے خط میری طرف پھینک دیا جبکہ وہ رو رہے تھے، اور مجھ سے کہا: یہ محمد بن سلیمان کا خط ہے جو ہمیں خبر دے رہا ہے کہ جعفر بن محمد علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ پس بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ تین مرتبہ کہا، اور: جعفر علیہ السلام جیسا کون ہے؟ پھر اس نے مجھ سے کہا: لکھو۔ اس نے کہا: تو میں نے خط کا آغاز لکھ دیا۔ پھر اس نے کہا: لکھو: اگر اس نے کسی ایک مخصوص شخص کو اپنا وصی مقرر کیا تھا تو اسے پیش کرو اور اس کی گردن مار دو۔ اس نے کہا: پھر جواب اس کے پاس واپس آیا کہ اس نے پانچ کو وصی مقرر کیا تھا: ان میں سے ایک ابو جعفر المنصور، اور محمد بن سلیمان، اور عبداللہ، اور موسیٰ علیہ السلام، اور حمیدہ تھے۔
Translation
Ali Bin Muhammad, from Sahl, or someone else, from Muhammad Bin Al Waleed, from Yunus, from Dawood Zurby, from Abu Ayoub Al Nahwa who said, ‘Abu Ja’far Al-Manour (the Caliph) sent for me in the middle of the night. So I went over to him and came up to him, and he was seated upon a chair, and in front of him was a candle and in his hand was a letter. So when I greeted upon him, he threw the letter towards me and he was crying, and he said to me, ‘This is the letter of Muhammad Bin Suleyman informing us that Ja’far<sup>asws</sup> Bin Muhammad<sup>asws</sup> has passed away, for we are for Allah<sup>azwj</sup> and to Him<sup>azwj</sup> are we returning (three times), and where is the likes of Ja’far<sup>asws</sup>?’ Then he said to me, ‘Write!’ So I wrote the commencement of the letter. Then he said, ‘If it was so that he<sup>asws</sup> had bequeathed to one man in particular, so bring him forward and strike off his neck’. So the answer returned to him that he<sup>asws</sup> had bequeathed to five – Abu Ja’far Al-Mansour, and Muhammad Bin Suleyman, and Abdullah, and Musa<sup>asws</sup>, and Hameyda’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.