كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) وَ عِنْدَهُ فِي الْبَيْتِ أُنَاسٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ غَيْرِي فَقَالَ أَمَا وَ اللَّهِ لَيَغِيبَنَّ عَنْكُمْ صَاحِبُ هَذَا الْأَمْرِ وَ لَيَخْمِلَنَّ هَذَا حَتَّى يُقَالَ مَاتَ هَلَكَ فِي أَيِّ وَادٍ سَلَكَ وَ لَتُكْفَؤُنَّ كَمَا تُكْفَأُ السَّفِينَةُ فِي أَمْوَاجِ الْبَحْرِ لَا يَنْجُو إِلَّا مَنْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَهُ وَ كَتَبَ الْإِيمَانَ فِي قَلْبِهِ وَ أَيَّدَهُ بِرُوحٍ مِنْهُ وَ لَتُرْفَعَنَّ اثْنَتَا عَشْرَةَ رَايَةً مُشْتَبِهَةً لَا يُدْرَى أَيٌّ مِنْ أَيٍّ قَالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ كَيْفَ لَا أَبْكِي وَ أَنْتَ تَقُولُ اثْنَتَا عَشْرَةَ رَايَةً مُشْتَبِهَةً لَا يُدْرَى أَيٌّ مِنْ أَيٍّ قَالَ وَ فِي مَجْلِسِهِ كَوَّةٌ تَدْخُلُ فِيهَا الشَّمْسُ فَقَالَ أَ بَيِّنَةٌ هَذِهِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْرُنَا أَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ .
اردو
الحسین بن محمد اور محمد بن یحیی، جعفر بن محمد سے، وہ حسن بن معاویہ سے، وہ عبداللہ بن جبلہ سے، وہ ابراہیم بن خلف بن عباد الانماطی سے، وہ مفضل بن عمر سے روایت کرتے ہیں، جنہوں نے کہا: میں ابو عبداللہ (عليه السلام) کی خدمت میں حاضر تھا، اور ان کے ساتھ گھر میں کچھ لوگ بھی تھے۔ تو میں نے گمان کیا کہ اس سے ان کی مراد میرے سوا کوئی اور ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا: "بے شک، اللہ کی قسم، اس امر کے صاحب تم سے ضرور غائب ہو جائیں گے، اور یہ معاملہ ضرور اس قدر مخفی ہو جائے گا کہ کہا جائے گا: 'وہ مر گئے، ہلاک ہو گئے، کس وادی میں چلے گئے؟' اور تم ضرور الٹ دیے جاؤ گے جیسے سمندر کی موجوں میں کشتی الٹ دی جاتی ہے۔ نجات صرف اسی کو ملے گی جس سے اللہ نے عہد لیا ہو، اور جس کے دل میں اس نے ایمان لکھ دیا ہو، اور جس کی اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے تائید کی ہو۔ اور بارہ مشتبہ پرچم ضرور بلند کیے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ معلوم نہ ہوگا کہ کون سا کس کا ہے۔" انہوں نے فرمایا: تو میں رو پڑا۔ انہوں نے فرمایا: "اے ابو عبداللہ، تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟" میں نے عرض کیا: "میں آپ پر قربان، میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ فرما رہے ہیں: بارہ مشتبہ پرچم بلند کیے جائیں گے، اور یہ معلوم نہ ہوگا کہ کون سا کس کا ہے؟" انہوں نے فرمایا: اور ان کی مجلس میں ایک کھڑکی تھی جس سے سورج داخل ہوتا تھا۔ پھر انہوں نے فرمایا: "کیا یہ واضح ہے؟" میں نے عرض کیا: "جی ہاں۔" انہوں نے فرمایا: "ہمارا امر اس سورج سے بھی زیادہ واضح ہے۔"
Translation
Al Husayn Bin Muhammad and Muhammad Bin Yahya, from Ja’far Bin Muhammad, from Al Hassan Bin Muawiya, from Abdullah Bin Jabala, from Ibrahim Bin Khalaf Bin Abbad Al Anmaty, from Mufazzal Bin Umar who said, ‘I was in the presence of Abu Abdullah<sup>asws</sup>, and with him<sup>asws</sup> were some people in the room. So I thought that he<sup>asws</sup> intended by that, others than me (when) he<sup>asws</sup> said: ‘By Allah<sup>azwj</sup>! He<sup>asws</sup> would be absent from you all, the Master<sup>asws</sup> of this command, and this (matter) would become so obscure to the extent that it would be said, ‘He<sup>asws</sup> died, perished in whichever valley he<sup>asws</sup> travelled’, and you all would be tossed about just as the ship gets tossed in the waves of the sea. None will be save except for the one whose Covenant Allah<sup>azwj</sup> has Taken, and Written the <span class="iTxt">Eman</span> to be in his heart, and Aided him with a Spirit from Him<sup>azwj</sup>. And there would be raised twelve resembling flags. It would not be known which is from which’. He (the narrator) said, ‘So I wept’, and he<sup>asws</sup> said: ‘What makes you weep, O Abu Abdullah?’ So I said, ‘May I be sacrificed for you<sup>asws</sup>! How can I not weep and you<sup>asws</sup> are saying there would be twelve resembling flags, not being know which one is from which?’ And in his<sup>asws</sup> gathering there was a skylight through which the sunshine entered. So he<sup>asws</sup> said: ‘It this clear (enough)?’ So I said, ‘Yes’. He<sup>asws</sup> said: ‘Our<sup>asws</sup> matter would be clearer than this sunshine’.
Compiled by Shaykh Muhammad ibn Ya'qub al-Kulayni
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.