John Shaqi

#1900

Jami al-Tirmidhi 1900

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلاَقِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ إِنَّ أُمِّي وَرُبَّمَا قَالَ أَبِي ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ ‏.‏


اردو

ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے، اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے، ( میں کیا کروں؟ ) ابوالدرداء رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو“ ۱؎۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی «إن امی» ( میری ماں ) کہا اور کبھی «إن أبی» ( میرا باپ ) کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔


Translation

Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami narrated from Abu Ad Darda'.:He said that a man came and said : "I have a wife whom my mother has ordered me to divorce." So Abu Ad-Darda said: " I heard the Messenger of Allah saying: 'The father is the middle gate to Paradise. So if you wish, then neglect that door, or protect it


Compiled by Al-Tirmidhi

Provided for research and educational purposes. Public Domain.