John Shaqi

#3627

Jami al-Tirmidhi 3627

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَسَّهُ فَسَكَنَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىٍّ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏


اردو

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔


Translation

Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to give Khutbah next to a tree, and then they made a Minbar for him, so he gave Khutbahs on it, so the tree whimpered like a camel. So the Prophet (ﷺ) rubbed it, and it quieted


Compiled by Al-Tirmidhi

Provided for research and educational purposes. Public Domain.