John Shaqi

#915

Jami al-Tirmidhi 915

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ خِلاَسٍ، نَحْوَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ، ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ فِيهِ اضْطِرَابٌ ‏.‏ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَلْقًا وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْهَا التَّقْصِيرَ ‏.‏


اردو

اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی رضی الله عنہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر ( بال کتروانا ) ہے۔


Translation

(Another chain) with similar (as no. 914) from Khilas:But he did not mention "from Ali


Compiled by Al-Tirmidhi

Provided for research and educational purposes. Public Domain.