: «جَاءَ نَفَرٌ مِنَ اَلْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَسَأَلَهُ أَعْلَمُهُمْ عَنْ مَسَائِلَ فَكَانَ فِيمَا سَأَلَهُ أَنَّهُ قَالَ لَهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَرَضَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ اَلصَّوْمَ عَلَى أُمَّتِكَ بِالنَّهَارِ ثَلاَثِينَ يَوْماً وَ فَرَضَ اَللَّهُ عَلَى اَلْأُمَمِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ «إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ لَمَّا أَكَلَ مِنَ اَلشَّجَرَةِ بَقِيَ فِي بَطْنِهِ ثَلاَثِينَ يَوْماً فَفَرَضَ اَللَّهُ عَلَى ذُرِّيَّتِهِ ثَلاَثِينَ يَوْماً اَلْجُوعَ وَ اَلْعَطَشَ وَ اَلَّذِي يَأْكُلُونَهُ بِاللَّيْلِ تَفَضُّلٌ مِنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهِمْ وَ كَذَلِكَ كَانَ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فَفَرَضَ اَللَّهُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِي ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ اَلْآيَةَ: « كُتِبَ عَلَيْكُمُ اَلصِّيٰامُ كَمٰا كُتِبَ عَلَى اَلَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. `أَيّٰاماً مَعْدُودٰاتٍ » » قَالَ اَلْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ يَا مُحَمَّدُ فَمَا جَزَاءُ مَنْ صَامَهَا فَقَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَصُومُ شَهْرَ رَمَضَانَ اِحْتِسَاباً إِلاَّ أَوْجَبَ اَللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَهُ سَبْعَ خِصَالٍ أَوَّلُهَا يَذُوبُ اَلْحَرَامُ فِي جَسَدِهِ وَ اَلثَّانِيَةُ يَقْرُبُ مِنْ رَحْمَةِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ اَلثَّالِثَةُ يَكُونُ قَدْ كَفَّرَ خَطِيئَةَ آدَمَ أَبِيهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ اَلرَّابِعَةُ يُهَوِّنُ اَللَّهُ عَلَيْهِ سَكَرَاتِ اَلْمَوْتِ وَ اَلْخَامِسَةُ أَمَانٌ مِنَ اَلْجُوعِ وَ اَلْعَطَشِ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَ اَلسَّادِسَةُ يُعْطِيهِ اَللَّهُ بَرَاءَةً مِنَ اَلنَّارِ وَ اَلسَّابِعَةُ يُطْعِمُهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ طَيِّبَاتِ اَلْجَنَّةِ » قَالَ صَدَقْتَ يَا مُحَمَّدُ ».
اردو
۱۷۶۹ - یہ روایت ہے کہ الحسن ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: "یہود کے ایک گروہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله کے پاس آ کر ان میں سے سب سے عالم نے کچھ مسائل کے بارے میں سوال کیا۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ انہوں نے کہا: 'اللہ تعالیٰ نے تمہاری امت پر دن کے وقت تیس دن روزہ فرض کیا، جبکہ اللہ نے دوسری اقوام پر اس سے زیادہ فرض کیا؟' تو نبی صلى الله عليه وآله نے فرمایا: 'بے شک جب آدم علیہ السلام نے درخت سے کھایا تو وہ تیس دن اس کے پیٹ میں رہا۔ پس اللہ نے اپنی اولاد پر تیس دن بھوک اور پیاس فرض کی، اور جو وہ رات کو کھاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر فضل ہے۔ اور یہ آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی تھا۔ پس اللہ نے یہ فرض میری امت پر رکھا۔' پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: "تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ (یہ) گنے چنے دن ہیں۔" یہودی نے کہا: 'تم نے سچ کہا، اے محمد۔' پھر پوچھا: 'جو شخص انہیں روزے رکھے اس کا اجر کیا ہے؟' تو نبی صلى الله عليه وآله نے فرمایا: 'کوئی مؤمن ایسا نہیں جو رمضان کے مہینے کا روزہ نیت کے ساتھ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے سات خصوصیات فرض کر دیتا ہے۔ ان میں پہلی یہ ہے کہ اس کے جسم سے حرام چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ اللہ کی رحمت کے قریب ہو جاتا ہے۔ تیسری یہ کہ اس نے آدم علیہ السلام کے گناہ کا کفارہ کر لیا۔ چوتھی یہ کہ اللہ اس کے لیے موت کی تکلیفوں کو آسان کر دیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ قیامت کے دن بھوک اور پیاس سے محفوظ ہوتا ہے۔ چھٹی یہ کہ اللہ اسے آگ سے بری کر دیتا ہے۔ اور ساتویں یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کی پاکیزہ نعمتوں سے کھلاتا ہے۔' یہودی نے کہا: 'تم نے سچ کہا، اے محمد۔' انہوں نے کہا: 'تم نے سچ کہا، اے محمد۔'
Translation
Hadith.1769 - It is narrated from Imam al-Hasan ibn Ali ibn Abi Talib (as) that he said: "A group of Jews came to the Messenger of Allah (swt) (peace and blessings be upon him and his family), and the most learned among them asked him about certain matters. Among the questions he asked was: 'Why did Allah (swt), the Almighty, prescribe fasting during the day for your community for thirty days, while He prescribed fasting for more than that for other nations?' The Prophet (peace and blessings be upon him and his family) said: 'When Adam (as) ate from the tree, the effect of it remained in his stomach for thirty days. Therefore, Allah (swt), the Almighty, prescribed for his progeny thirty days of hunger and thirst. And what they eat at night is a favor from Allah (swt), the Almighty, upon them. The same was the case with Adam (as). Thus, Allah (swt) prescribed it for my Ummah.' Then he recited this verse: "Fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you, that you may attain taqwa. [It is for] a fixed number of days." (Surah Al-Baqarah 2:183) The Jewish man said: 'You have spoken the truth, O Muhammad (sw). What is the reward for one who fasts them?' The Prophet (peace and blessings be upon him and his family) replied: 'No believer fasts the Month of Ramadan sincerely, seeking its reward, except that Allah (swt), Blessed and Exalted, grants him seven virtues: 1. The first is that the forbidden (haram) in his body melts away. 2. He will draw closer to the mercy of Allah (swt), the Almighty. 3. He will have atoned for the sin of his father, Adam (as). 4. Allah (swt) will ease for him the throes of death. 5. He will have security from hunger and thirst on the Day of Resurrection. 6. Allah (swt) will grant him immunity from the Fire. 7. Allah (swt), the Almighty, will feed him from the pure delights of Paradise.' The Jewish man said: 'You have spoken the truth, O Muhammad (sw).'"
Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.