: اِبْتَدَأْتُ فِي طَوَافِ اَلْفَرِيضَةِ فَطُفْتُ شَوْطاً وَاحِداً فَإِذَا إِنْسَانٌ قَدْ أَصَابَ أَنْفِي فَأَدْمَاهُ فَخَرَجْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَابْتَدَأْتُ اَلطَّوَافَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فَقَالَ «بِئْسَمَا صَنَعْتَ كَانَ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَبْنِيَ عَلَى مَا طُفْتَ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ ».
اردو
حَمَّاد ابن عثمان نے حبیب ابن مظاہر سے روایت کی، جنہوں نے کہا: میں نے فرض طواف شروع کیا اور ایک چکر مکمل کیا، جب اچانک ایک شخص نے میرا ناک مارا اور خون بہنے لگا۔ تو میں باہر گیا اور اسے دھویا، پھر واپس آ کر طواف دوبارہ شروع کیا۔ پھر میں نے یہ بات ابو عبداللہ علیہ السلام کو بتائی۔ تو انہوں نے فرمایا: “جو تم نے کیا وہ برا تھا؛ تمہیں چاہیے تھا کہ جہاں سے طواف چھوڑا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کرتے۔” پھر فرمایا: “بے شک تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔”
Translation
Hadith.2798 - Hammad ibn Uthman narrated from Habib ibn Muzahir, who said: I began the obligatory tawaf and completed one round when someone hit my nose, causing it to bleed. I left, washed it, and then returned to start the tawaf over. I mentioned this to Abu Abdullah (as). Imam (as) said: "What you did was not correct. You should have continued from where you left off. However, there is no penalty upon you."
Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.