: "أُتِيَ عُمَرُ بْنُ اَلْخَطَّابِ بِقُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ قَدْ شَرِبَ اَلْخَمْرَ فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا خَصِيٌّ وَ هُوَ عَمْرٌو اَلتَّمِيمِيُّ وَ اَلْآخَرُ اَلْمُعَلَّى بْنُ اَلْجَارُودِ فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ يَشْرَبُ وَ شَهِدَ اَلْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَقِيءُ اَلْخَمْرَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فَقَالَ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ مَا تَقُولُ يَا أَبَا اَلْحَسَنِ فَإِنَّكَ اَلَّذِي قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ "أَعْلَمُ هَذِهِ اَلْأُمَّةِ وَ أَقْضَاهَا بِالْحَقِّ" فَإِنَّ هَذَيْنِ قَدِ اِخْتَلَفَا فِي شَهَادَتِهِمَا فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ "مَا اِخْتَلَفَا فِي شَهَادَتِهِمَا وَ مَا قَاءَهَا حَتَّى شَرِبَهَا " فَقَالَ هَلْ تَجُوزُ شَهَادَةُ اَلْخَصِيِّ فَقَالَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ "مَا ذَهَابُ أُنْثَيَيْهِ إِلاَّ كَذَهَابِ بَعْضِ أَعْضَائِهِ"".
اردو
3287 - الحسن ابن زید نے کچھ ایسا ہی بیان کیا جو انہوں نے جعفر ابن محمد سے اپنے والد علیہ السلام سے سنا، جنہوں نے فرمایا: ‘‘عمر ابن الخطاب کو قدامة ابن مظعون پیش کیا گیا جو شراب پی چکا تھا۔ اس کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی: ایک وہ غلام تھا، اور وہ عمرو التمیمی تھا، اور دوسرا المعلى ابن الجارود تھا۔ ایک نے گواہی دی کہ اس نے اسے شراب پیتے دیکھا، اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے شراب اُگلتے دیکھا۔ پھر عمر نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله کے کچھ صحابہ کو بلایا، جن میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام بھی تھے۔ اس نے علی علیہ السلام سے کہا، ‘تم کیا کہتے ہو اے ابو الحسن؟ کیونکہ تم وہ ہو جس کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وآله نے فرمایا: ‘‘تم میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور سب سے زیادہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہو۔’’ یہ دونوں اپنی گواہی میں اختلاف کر رہے ہیں۔’ تو علی علیہ السلام نے کہا، ‘یہ دونوں اپنی گواہی میں اختلاف نہیں کر رہے، اور وہ شراب اُگلے بغیر اسے پی نہیں سکتا تھا۔’ اس نے پوچھا، ‘کیا غلام کی گواہی قابل قبول ہے؟’ اس نے فرمایا، ‘اس کے خصیوں کا نقصان اس کے کچھ اعضا کے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے۔’’
Translation
Hadith.3287 - And Al-Hasan bin Zayd narrated something similar from Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as), from his father, Imam Muhammad ibn Ali Al-Baqir (as), who said: "Umar bin Al-Khattab was presented with Qudamah bin Maz'un, who had drunk alcohol. Two men testified against him-one of them was a eunuch, Amr Al-Tamimi, and the other was Al-Mu'alla bin Al-Jarood. One of them testified that he saw him drinking, and the other testified that he saw him vomiting alcohol. Umar then sent for a group of the companions of the Messenger of Allah (swt), peace be upon him and his family, among them Commander of the Faithful Imam Ali ibn Abi Talib (as). Umar said to Imam Ali ibn Abi Talib (as): 'What do you say, O Abu Al-Hasan? For you are the one about whom the Messenger of Allah (swt), peace be upon him and his family, said: "The most knowledgeable of this nation and the one who judges with truth."' Imam Ali ibn Abi Talib (as) said: 'They have not differed in their testimony, for he would not have vomited it unless he had drunk it.' Umar then asked: 'Is the testimony of a eunuch acceptable?' Imam Ali ibn Abi Talib (as) replied: 'The loss of his testicles is no different than the loss of some other part of his body.'"
Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.