: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ عَنْ رَجُلَيْنِ مِنَ اَلصَّيَارِفَةِ اِبْتَاعَا وَرِقاً بِدَنَانِيرَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اُنْقُدْ عَنِّي وَ هُوَ مُوسِرٌ لَوْ شَاءَ أَنْ يَنْقُدَ نَقَدَ فَيَنْقُدُ عَنْهُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ بِرِبْحٍ أَ يَصْلُحُ قَالَ "لاَ بَأْسَ بِهِ".
اردو
ابن مسکان نے الحلبی سے روایت کی، جنہوں نے کہا: میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے دو صرافوں کے بارے میں پوچھا جنہوں نے دیناروں سے چاندی خریدی۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا، "میری طرف سے ادا کر،" جبکہ وہ خوشحال تھا، اور اگر وہ چاہتا تو ادا کر دیتا، لہٰذا اس کے ساتھی نے اس کی طرف سے ادا کیا۔ پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ اپنے ساتھی کا حصہ منافع کے ساتھ خرید لے۔ کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے علیہ السلام فرمایا: "اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔"
Translation
Hadith.4041 - Ibn Muskan narrated from al-Halabi, who said: I asked Abu Abdullah (as) about two moneychangers who bought silver with dinars. One of them said to his companion, "Pay on my behalf," even though he was capable of paying if he wished. So the companion paid for him. Then later, he decided to buy his companion's share with a profit. I asked: "Is this permissible?" Imam (as) said: "There is no harm in it."
Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.