: قُلْتُ لِأَبِي اَلْحَسَنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ إِنَّ اِمْرَأَتِي وَ أُخْتِي وَ هِيَ اِمْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ مَارِدٍ تَخْرُجَانِ فِي اَلْمَآتِمِ فَأَنْهَاهُمَا فَقَالَتَا لِي إِنْ كَانَ حَرَاماً اِنْتَهَيْنَا عَنْهُ وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ حَرَاماً فَلِمَ تَمْنَعُنَا فَيَمْتَنِعَ اَلنَّاسُ مِنْ قَضَاءِ حُقُوقِنَا فَقَالَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ «عَنِ اَلْحُقُوقِ تَسْأَلُنِي كَانَ أَبِي عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ يَبْعَثُ أُمِّي وَ أُمَّ فَرْوَةَ تَقْضِيَانِ حُقُوقَ أَهْلِ اَلْمَدِينَةِ.
اردو
اور یہ روایت ہے کہ الکاہلی نے کہا: میں نے ابو الحسن موسیٰ بن جعفر علیہما السلام سے کہا: میری بیوی اور میری بہن جو محمد بن مارِد کی بیوی ہے، ماتم کی مجالس میں جاتی ہیں، اس لیے میں نے انہیں منع کیا۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اگر یہ حرام ہے تو ہم اس سے باز آ جائیں گے؛ لیکن اگر یہ حرام نہیں ہے تو پھر آپ ہمیں کیوں روکتے ہیں، اس طرح لوگ ہمارے حقوق کی ادائیگی سے رک جاتے ہیں؟ تو انہوں نے علیہ السلام فرمایا: حقوق کے بارے میں تم مجھ سے پوچھتے ہو؟ میرے والد علیہ السلام میری والدہ اور ام فروہ کو بھیجتے تھے تاکہ وہ اہل مدینہ کے حقوق ادا کریں۔
Translation
Hadith.529 - It was narrated from Al-Kahili that He said: "I said to Abu Al-Hasan Imam Musa ibn Jafar Al-Kadhim (as): ‘My wife and my sister, who is the wife of Muhammad ibn Marid, go out to mourning gatherings. I prohibited them, but they said to me, 'If it is forbidden, we will refrain, but if it is not forbidden, why do you prevent us when people refrain from fulfilling our rights (if we do not attend)?’ Imam (as) replied: 'You ask me about rights? My father (as) used to send my mother and Umm Farwah to fulfil the rights of the people of Medina.'
Compiled by Shaykh al-Saduq (Ibn Babawayh)
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.