John Shaqi

#1136

Muwatta Malik 1136

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَاءً، كُنَّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏ وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الإِسْلاَمِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَانًا لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الإِسْلاَمِ وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ وَإِلاَّ سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ نَادَاهُ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ جَاءَنِي بِرِدَائِكَ وَزَعَمَ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي إِلَى الْقُدُومِ عَلَيْكَ فَإِنْ رَضِيتُ أَمْرًا قَبِلْتُهُ وَإِلاَّ سَيَّرْتَنِي شَهْرَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْزِلْ أَبَا وَهْبٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى تُبَيِّنَ لِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلْ لَكَ تَسِيرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ يَسْتَعِيرُهُ أَدَاةً وَسِلاَحًا عِنْدَهُ فَقَالَ صَفْوَانُ أَطَوْعًا أَمْ كَرْهًا فَقَالَ ‏"‏ بَلْ طَوْعًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَارَهُ الأَدَاةَ وَالسِّلاَحَ الَّتِي عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ كَافِرٌ فَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ وَهُوَ كَافِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ وَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ ‏.‏


اردو

ابن شہاب سے روایت ہے کہ چند عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو جاتی تھیں اپنے ملک میں ہجرت نہیں کرتی تھیں اور خاوند ان کے کافر ہوتے تھے انہی عورتوں میں سے ایک عاتکہ تھی جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں جو صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں وہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئیں اور ان کے خاوند صفوان بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا زاد بھائی وہب بن عمیر کو اپنی چادر نشانی کے واسطے دے کو صفوان کے پاس بھیجا اور ان کو امان دی اور اسلام کی طرف بلایا اور یہ کہا کہ میرے پاس آئے اگر تمہای خوشی ہو تو مسلمان ہونا نہ تو تم کو دو مہینے کی مہلت ملے گی جب صفوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی چادر لے کر آ آئے تو لوگوں کے سامنے پکار اٹھے اے محمد وہب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اس شرط پر کہ اگر میں چاہوں تو مسلمان ہو جاؤں نہیں تو مجھ کو دو مہینے کی مہلت ملے گی ۔ آپ نے فرمایا اترو اے ابووہب صفوان نے کہا قسم اللہ کی میں کبھی نہ اتروں گا جب تک تم مجھ سے بیان نہ کرو گے کہ وہب بن عمیر کا پیام صحیح ہے آپ نے فرمایا وہ تو کیا میں تمہیں چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ہوازن کی طرف حنین میں گئے اور آپ نے صفوان سے کچھ ہتھیار اور سامان عاریتاً مانگا صفوان نے کہا آپ خوشی سے مانگتے ہیں یا زبردستی سے آپ نے فرمایا خوشی سے صفوان نے ہتھیار اور سامان دئیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور صفوان کفر ہی کی حالت میں آپ کے ساتھ رہے مگر آپ نے ان کی عورت کو ان سے نہ چھڑایا یہاں تک کہ صفوان بھی مسلمان ہوگئے اور ان کی عورت بدستور ان کے پاس رہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ صفوان کی بی بی خاوند سے ایک مہینہ پہلے اسلام لائی تھیں اور جو عورت دارالکفر سے مسلمان ہو کر دارالا سلام میں ہجرت کر کے آئے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو جائے گی اور عدت کر کے دوسرا نکاح کر لے گی مگر جب اس کا خاوند اس کی عدت کے اندر مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آ جائے۔


Translation

Malik related to me from Ibn Shihab that he had heard that in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, women were becoming muslim in their own lands and they did not do hijra while their husbands were still kafirun although they themselves had become muslim. Among them was the daughter of al-Walid ibn al-Mughira and she was the wife of Safwan ibn Umayya. She became muslim on the day of the conquest (of Makka), and her husband, Safwan ibn Umayya fled from Islam. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent Safwan's paternal cousin, Wahb ibn Umayr with the cloak of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, as a safe-conduct for Safwan ibn Umayya, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, called him to Islam and asked for him to come to him and if he was pleased with the matter to accept it. If not he would have a respite for two months. When Safwan came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with his cloak, he called out to him over the heads of the people, "Muhammad! Wahb ibn Umayr brought me your cloak and claimed that you had summoned me to come to you and if I was pleased with the matter, I should accept it and if not, you would give me a respite for two months. "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Come down, Abu Wahb." He said, "No, by Allah! I will not come down until you make it clear to me." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "You have a respite of four months." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out toward Hawazin at Hunayn. He sent to Safwan ibn Umayya to borrow some equipment and arms that he had. Safwan said, "Willingly or unwillingly?" He said, "Willingly." Therefore he lent him the equipment and arms which he had. Then Safwan went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, while he was still a kafir. He was present at the battles of Hunayn and at-Ta'if while he was still a kafir and his wife was a muslim. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not separate Safwan and his wife until he had become muslim, and his wife was settled with him by that marriage


CollectionMuwatta Malik

Provided for research and educational purposes. External Reference Only.