#1405
Muwatta Malik 1405
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلاَ تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ * إِلاَّ الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}. قَالَ مَالِكٌ فَالأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الَّذِي يُجْلَدُ الْحَدَّ ثُمَّ تَابَ وَأَصْلَحَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ .
اردو
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Translation
Hadith Translation Not available
Provided for research and educational purposes. External Reference Only.