John Shaqi

#1851

Muwatta Malik 1851

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي، بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ ‏.‏ وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ ‏.‏ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلاً يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ ‏"‏ ‏.‏ فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَىَّ أَنْ لاَ أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ‏.‏ قَالَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏


اردو

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پٹھے پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ اسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے وہ دے یا نہ دے ۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد میں اترے میری بی بی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور کھانے کے لئے آپ سے کچھ مانگے اور اپنی محتاجی بیان کر تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ پاس گیا اور دیکھا کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں وہ شخص غصے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا قسم اپنی عمر کی تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو وہ غصے ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں یا اتنا مال ہو تو اس نے پلٹ کر سوال کیا میں نے کہا ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے پھر میں لوٹ آیا اور میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سوال نہیں کیا بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو اور خشک انگور آئے آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے غنی کر دیا ہم کو ۔


Translation

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that a man of the Banu Asad said, "My family and I dismounted to rest at Baqi. My family said to me, 'Go to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and ask him for something that we can eat,' and they began to mention their need. I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and found that a man was asking for something, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was saying, 'I do not have anything to give you.' The man turned away from him in anger, saying, 'By my life! You give to whomever you wish.' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'He is angry with me because I do not have anything to give him. Whoever asks of you while he has an uqiya or its like, has asked with importunity.' " The man continued, "I said to myself about a camel that we had, 'It is better than an uqiya.' (Malik explained that an uqiya was forty dirhams.) So I returned and did not ask him for anything, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent me barley and raisins after that. He gave us from his share until Allah, the Mighty, the Majestic gave us relief


CollectionMuwatta Malik

Provided for research and educational purposes. External Reference Only.