John Shaqi

#2573

Sahih al-Bukhari 2573

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهْوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ ‏ "‏ أَمَا إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ ‏"‏‏.‏


اردو

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور اور وہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کا تحفہ پیش کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے ( راوی کو شبہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تحفہ واپس کر دیا۔ پھر ان کے چہرے پر ( رنج کے آثار ) دیکھ کر فرمایا کہ میں نے یہ تحفہ صرف اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔


Translation

Narrated As-Sa'b bin Jath-thama:An onager was presented to Allah's Messenger (ﷺ) at the place called Al-Abwa' or Waddan, but Allah's Apostle rejected it. When the Prophet (ﷺ) noticed the signs of sorrow on the giver's face he said, "We have not rejected your gift, but we are in the state of Ihram." (i.e. if we were not in a state of Ihram we would have accepted your gift, Fath-ul-Bari page 130, Vol)


Compiled by Imam al-Bukhari

Provided for research and educational purposes. Original source: Public Domain Urdu Translation. Public Domain.