John Shaqi

#4586

Sahih al-Bukhari 4586

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏{‏مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ‏}‏ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ‏.‏


اردو

ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نبی مرض الموت میں بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کا اختیار دیا جاتا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں جب آواز گلے میں پھنسنے لگی تو میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين‏» ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۔“ اس لیے میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی اختیار دیا گیا ہے ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهم بالرفيق الاعلي» کہہ کر آخرت کو پسند فرمایا ) ۔


Translation

Narrated `Aisha:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "No prophet gets sick but he is given the choice to select either this world or the Hereafter." `Aisha added: During his fatal illness, his voice became very husky and I heard him saying: "In the company of those whom is the Grace of Allah, of the prophets, the Siddiqin (those followers of the prophets who were first and foremost to believe in them), the martyrs and the pious.' (4.69) And from this I came to know that he has been given the option


Compiled by Imam al-Bukhari

Provided for research and educational purposes. Original source: Public Domain Urdu Translation. Public Domain.