#6780
Sahih al-Bukhari 6780
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".
اردو
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور «حمار» کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب پینے پر مارا تھا تو انہیں ایک دن لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حکم دیا اور انہیں مارا گیا۔ حاضرین میں ایک صاحب نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! کتنی مرتبہ کہا جا چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو واللہ میں نے اس کے متعلق یہی جانا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
Translation
Narrated `Umar bin Al-Khattab:During the lifetime of the Prophet (ﷺ) there was a man called `Abdullah whose nickname was Donkey, and he used to make Allah's Messenger (ﷺ) laugh. The Prophet (ﷺ) lashed him because of drinking (alcohol). And one-day he was brought to the Prophet (ﷺ) on the same charge and was lashed. On that, a man among the people said, "O Allah, curse him ! How frequently he has been brought (to the Prophet (ﷺ) on such a charge)!" The Prophet (ﷺ) said, "Do not curse him, for by Allah, I know for he loves Allah and His Apostle
Compiled by Imam al-Bukhari
Provided for research and educational purposes. Original source: Public Domain Urdu Translation. Public Domain.