John Shaqi

#1016

Sahih Muslim 1016

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرُوا مِنْ صَلاَتِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلاَةِ فَقَالَ إِنِّي لأُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَخْرِمُ عَنْهَا إِنِّي لأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ ‏.‏


اردو

ہشیم نے عبد الملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حضرت حضرت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی شکایت کی اور ( اس میں ) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، وہ آئے تو حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان سے ، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا ، اس کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا : یقیناً میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز کی طرف نماز پڑھاتا ہوں ، اس میں کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری میں دو تخفیف کرتا ہوں ۔ اس پر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں گمان ( بھی ) یہی ہے ۔


Translation

Jabir b. Samura reported:The people of Kufa complained to Umar b. Khattab about Sa'd and they made a mention of his prayer. 'Umar sent for him. He came to him. He ('Umar) told him that the people had found fault with his prayer. He said: I lead them in prayer in accorance with the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). I make no decrease in it. I make them stand for a longer time in the first two (rak'ahs) and shorten it in the last two. Upon this 'Umar remarked: This is what I deemed of thee, O Abu Ishaq


CollectionSahih Muslim

Compiled by Imam Muslim

Provided for research and educational purposes. Public Domain.