#7135
Sahih Muslim 7135
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِ حَدِيثِهِ " فِيهَا مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ { تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ * فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} .
اردو
ابوحازم نے کہا : میں نے حضر ت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آ پ نے بات ختم کی ۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا : " اس ( جنت ) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔ " پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تے ہیں ۔ پس کوئی ذی حیات ( انسان ) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا ( کچھ ) چھپا کررکھا گیاہے ۔
Translation
Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported:I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) that he gave a description of Paradise and then Allah's Apostle (ﷺ) concluded with these words: There would be bounties which the eye has not seen and the ear has not heard and no human heart has ever perceived them. He then recited this verse:" They forsake (their) beds, calling upon their Lord in fear and in hope, and spend out of what We have given them. So no soul knows what refreshment of the eyes is hidden for them: a reward for what they did" (xxxii)
Compiled by Imam Muslim
Provided for research and educational purposes. Public Domain.