John Shaqi

#3466

Sunan Abi Dawud 3466

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الأَسْلَمِيِّ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشَّامَ فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْبُرِّ وَالزَّيْتِ سِعْرًا مَعْلُومًا وَأَجَلاً مَعْلُومًا فَقِيلَ لَهُ مِمَّنْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ ‏.‏


اردو

عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے ( یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے ) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہو گا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔


Translation

Narrated Abdullah ibn AbuAwfa ibn AbuAwfa al-Aslami: We made a journey to Syria on an expedition along with the Messenger of Allah (ﷺ). The Nabateans of Syria came to us and we paid in advance to them (in a salam contract) in wheat and olive oil at a specified rate and for a specified time. He asked (by the people): you might have contracted with him who had these things in his possession? He replied: We did not ask them


CollectionSunan Abi Dawud

Compiled by Abu Dawud

Provided for research and educational purposes. Public Domain.