John Shaqi

#3534

Sunan Abi Dawud 3534

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، - يَعْنِي الطَّوِيلَ - عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلاَنٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَقْبِضُ الأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ قَالَ لاَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ‏"‏ ‏.‏


اردو

یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے ( بڑے ہونے پر ) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے ( میں نے حساب کیا تو ) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا ( جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا ) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے اینٹھ لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں ( میں واپس نہ لوں گا ) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۔


Translation

Narrated Yusuf ibn Malik al-Makki: I used to write (the account of) the expenditure incurred on orphans who were under the guardianship of so-and-so. They cheated him by one thousand dirhams and he paid these (this amount) to them. I then got double the property which they deserved. I said (to the man: Take one thousand (dirhams) which they have taken from you (by cheating). He said: No, my father has told me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Pay the deposit to him who deposited it with you, and do not betray him who betrays you


CollectionSunan Abi Dawud

Compiled by Abu Dawud

Provided for research and educational purposes. Public Domain.