#3626
Sunan Abi Dawud 3626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ يَعْنِي لاِبْنِ صُورِيَا " أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ " . قَالَ ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ وَلاَ يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
اردو
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا ۱؎ سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم ( زانی کو پتھر مارنے ) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Translation
Narrated Ikrimah: The Holy Prophet (ﷺ) said to Ibn Suriya': I remind you by Allah Who saved you from the people of Pharaoh, made you cover the sea, gave you the shade of clouds, sent down to you manna and quails, sent down you Torah to Moses, do you find stoning (for adultery) in your Book? He said: You have reminded me by the Great. It is not possible for me to belie you. He then transmitted the rest of the tradition
Compiled by Abu Dawud
Provided for research and educational purposes. Public Domain.