#4928
Sunan Abi Dawud 4928
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذَا " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ . فَأُمِرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَقْتُلُهُ فَقَالَ " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَالنَّقِيعُ نَاحِيَةٌ عَنِ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ .
اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع ( مدینہ کا قبرستان ) نہیں ہے۔
Translation
Narrated AbuHurayrah: Am effeminate man (mukhannath) who had dyed his hands and feet with henna was brought to the Prophet (ﷺ). He asked: What is the matter with this man? He was told: "Messenger of Allah! He imitates the look of women." So he issued an order regarding him and he was banished to an-Naqi'. The people said: Messenger of Allah! Should we not kill him? He said: I have been prohibited from killing people who pray. AbuUsamah said: Naqi' is a region near Medina and not a Baqi
Compiled by Abu Dawud
Provided for research and educational purposes. Public Domain.