#5066
Sunan Abi Dawud 5066
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ حَسَنٍ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ، أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَىِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ إِحْدَاهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْيًا فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي وَفَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَىْءٍ مِنَ السَّبْىِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرٍ " . ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ التَّسْبِيحِ قَالَ عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلاَةٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّوْمَ .
اردو
زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، ( وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے ) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں «في كل دبر صلاة» کے بجائے «على أثر كل صلاة» کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔
Translation
Umm al-Hakam or Duba’ah, daughter of al-Zubair, said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) got some prisoners of war (slaves). I my sister and Fatimah, daughter of the prophet (May peace be upon him), went to the prophet (May peace be upon him). We complained to him about our condition, and asked him to command for giving us some prisoners (slaves). The Messenger of Allah (May peace be upon him) said; The orphans of Badr came before you (and took the slaves). The transmitter then mentioned the story of glorifying Allah after every prayer. He did not mention sleeping
Compiled by Abu Dawud
Provided for research and educational purposes. Public Domain.