#1219
Sunan al-Nasa'i 1219
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاَةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ } فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ .
اردو
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( شروع میں ) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو ( اس کے بعد سے ) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا ( البقرہ: ۲۳۸ ) ۔
Translation
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"We used to speak to each other during the prayer, saying whatever was necessary, at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), until this verse was revealed: Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salah (i.e. the best prayer- 'Asr). And stand before Allah with obedience (and do not speak to others during the Salah (prayers)), so we were commanded to be silent
Compiled by Al-Nasa'i
Provided for research and educational purposes. Public Domain.