John Shaqi

#3317

Sunan al-Nasa'i 3317

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ ع��رْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ‏"‏ ‏.‏


اردو

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے ( وہ میرے محرم کیسے ہو گئے ) ، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں ( اندر ) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ( تمہیں نہیں معلوم؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں“۔


Translation

It was narrated that 'Aishah said:"My paternal uncle Aflah asked permission to enter upon me after the (Verse of) Hijab had been revealed, but I did not let him in. The Prophet came to me and I asked him (about that) and he said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'O Messenger of Allah, the woman breast-fed me, not the man.' He said: 'Let him in, may your hands be rubbed with dust, for he is your uncle


CollectionSunan al-Nasa'i

Compiled by Al-Nasa'i

Provided for research and educational purposes. Public Domain.