John Shaqi

#3319

Sunan al-Nasa'i 3319

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّهُ لَذُو لِحْيَةٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ ‏.‏


اردو

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ( ناگواری ) دیکھتی ہوں ( اور ان کا آنا ناگزیر ہے ) ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، ( بچہ تھوڑے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ” ( پھر بھی ) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو تم ( ناگواری ) دیکھتی ہو وہ ختم ہو جائے گی“، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔


Translation

Zainab bint Abi Salamah said:"I heard 'Aisha, the wife of the Prophet say: 'Sahlah bint Suhail came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me.' The Messenger of Allah said: 'Breast-feed him.' She said: 'He has a beard.' He said: 'Breast-feed him, and that will take away (the displeasure) in the face of Abu Hudhaifah.' She said: 'By Allah, I never saw that on the face of Abu Hudhaifah after that


CollectionSunan al-Nasa'i

Compiled by Al-Nasa'i

Provided for research and educational purposes. Public Domain.