John Shaqi

#3487

Sunan al-Nasa'i 3487

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ زَمْعَةَ قَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ فَهُوَ ابْنِي ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هُوَ ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ‏.‏ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ‏"‏ ‏.‏


اردو

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو ( اور اسے حاصل کر لو ) وہ میرا بیٹا ہے۔ چنانچہ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر ( یعنی اس کی ملکیت میں ) پیدا ہوا ہے ( اس لیے وہ میرا بھائی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو ( اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے ) اور اے سودہ ( اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن ) تم اس سے پردہ کرو ( کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے ) “۔


Translation

It was narrated that 'Aishah said:"Sa'd bin Abi Waqqas and 'Abd bin Zam'ah disputed concerning a son of Zam'ah. Sa'd said: 'My brother 'Utbah urged me, if I came to Makkah: Look for the son of the slave woman of Zam'ah, for he is my son.' 'Abd bin Zam'ah said: 'He is the son of my father's slave woman who was born on my father's bed.' The Messenger of Allah saw that he resembled 'Utbah, but he said: 'The child is the bed's. Veil yourself from him, O Sawdah


CollectionSunan al-Nasa'i

Compiled by Al-Nasa'i

Provided for research and educational purposes. Public Domain.