John Shaqi

: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ شَيْ ءٌ يَقُولُهُ اَلنَّاسُ عَوْرَةُ اَلْمُؤْمِنِ عَلَى اَلْمُؤْمِنِ حَرَامٌ فَقَالَ «لَيْسَ حَيْثُ يَذْهَبُونَ إِنَّمَا عُنِيَ عَوْرَةُ اَلْمُؤْمِنِ أَنْ يَزِلَّ زَلَّةً أَوْ يَتَكَلَّمَ بِشَيْ ءٍ يُعَابُ عَلَيْهِ فَيَحْفَظَ عَلَيْهِ لِيُعَيِّرَ بِهِ يَوْماً مَا».


اردو

ان سے، البرقی سے، ابن سنان سے، حذیفہ بن منصور سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے کہا: لوگ ایک بات کہتے ہیں: “مومن کی عورۃ مومن پر حرام ہے۔” تو انہوں نے فرمایا: “یہ اس معنی میں نہیں ہے جس طرف وہ جاتے ہیں۔ بلکہ مومن کی عورۃ سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی لغزش میں پھسل جائے یا ایسی بات کہے جس پر اس پر عیب لگایا جائے، پھر کوئی اسے اپنے پاس محفوظ رکھے تاکہ ایک دن اسی کے ذریعے اسے رسوا کرے۔”


Chapter (Bab)18 - بَابُ دُخُولِ اَلْحَمَّامِ وَ آدَابِهِ وَ سُنَنِهِ

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.