John Shaqi

رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ يَا اِبْنَ اَلْفَاعِلَةِ يَعْنِي اَلزِّنَى فَقَالَ «إِنْ كَانَتْ أُمُّهُ حَيَّةً شَاهِدَةً ثُمَّ جَاءَتْ تَطْلُبُ حَقَّهَا ضُرِبَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَ إِنْ كَانَتْ غَائِبَةً اُنْتُظِرَ بِهَا حَتَّى تَقْدَمَ فَتَطْلُبَ حَقَّهَا وَ إِنْ كَانَتْ قَدْ مَاتَتْ وَ لَمْ يُعْلَمْ مِنْهَا إِلاَّ خَيْراً ضُرِبَ اَلْمُفْتَرِي عَلَيْهَا اَلْحَدَّ ثَمَانِينَ جَلْدَةً ».


اردو

اس سے، الحسن بن محبوب سے، الحکم الاعمى اور ہشام بن سالم سے، عمار الساباطی سے، ابی عبداللہ علیہ السلام سے، اس بارے میں: ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا: “اے زانیہ کے بیٹے!” یعنی زنا۔ انہوں نے علیہ السلام فرمایا: “اگر اس کی ماں زندہ اور موجود ہو، پھر وہ آ کر اپنا حق طلب کرے، تو اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے۔ اگر وہ غائب ہو، تو اس کے آنے اور اپنا حق طلب کرنے تک اس کا انتظار کیا جائے گا۔ اگر وہ وفات پا چکی ہو، اور اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ معلوم نہ ہو، تو اس پر بہتان لگانے والے کو حد کے طور پر اسی کوڑے مارے جائیں گے۔”


Chapter (Bab)6 - بَابُ اَلْحَدِّ فِي اَلْفِرْيَةِ وَ اَلسَّبِّ وَ اَلتَّعْرِيضِ بِذَلِكَ وَ اَلتَّصْرِيحِ وَ اَلشَّهَادَةِ بِالزُّورِ

Compiled by Shaykh al-Tusi

Source

License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)

Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.