وَ - بِهَذَا اَلْإِسْنَادِ: «أَنَّ أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ كَانَ يَحْكُمُ فِي زِنْدِيقٍ إِذَا شَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ مَرْضِيَّانِ وَ يَشْهَدُ لَهُ أَلْفٌ بِالْبَرَاءَةِ جَازَتْ شَهَادَةُ اَلرَّجُلَيْنِ وَ أَبْطَلَ شَهَادَةَ اَلْأَلْفِ لِأَنَّهُ دِينٌ مَكْتُومٌ ».
اردو
اور اس سندِ روایت کے ساتھ: کہ امیر المؤمنین علیہ السلام زندیق کے بارے میں فیصلہ فرمایا کرتے تھے اگر دو معتبر آدمی اس کے خلاف گواہی دیں، جبکہ ہزار آدمی اس کی بے گناہی کی گواہی دیں، تو دو آدمیوں کی گواہی قبول کی جائے گی اور ہزار کی گواہی باطل قرار دی جائے گی، کیونکہ یہ ایک مخفی دین ہے۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.