: «أُمُّ اَلْوَلَدِ جِنَايَتُهَا فِي حُقُوقِ اَلنَّاسِ عَلَى سَيِّدِهَا» قَالَ «وَ مَا كَانَ مِنْ حَقِّ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَانَ ذَلِكَ فِي بَدَنِهَا» قَالَ «وَ يُقَاصُّ مِنْهَا لِلْمَمَالِيكِ وَ لاَ قِصَاصَ بَيْنَ اَلْحُرِّ وَ اَلْعَبْدِ».
اردو
ابن محبوب نے نعیم بن ابراہیم سے، مسمع ابی سیار سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی، جنہوں نے فرمایا: "امّ الولد کا جرم لوگوں کے حقوق کے بارے میں اس کے مالک پر ہے۔" انہوں نے فرمایا: "اور جو کچھ اللہ عز و جل کے حق سے متعلق ہو، وہ اس کے بدن پر ہے۔" انہوں نے فرمایا: "اور غلاموں کے لیے اس سے قصاص لیا جائے گا، اور آزاد اور غلام کے درمیان کوئی قصاص نہیں۔"
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.