: «قَضَى أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فِي أَرْبَعَةٍ شَرِبُوا فَسَكِرُوا فَأَخَذَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ اَلسِّلاَحَ فَاقْتَتَلُوا فَقُتِلَ اِثْنَانِ وَ جُرِحَ اِثْنَانِ فَأَمَرَ بِالْمَجْرُوحَيْنِ فَضُرِبَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَ قَضَى دِيَةَ اَلْمَقْتُولَيْنِ عَلَى اَلْمَجْرُوحَيْنِ وَ أَمَرَ أَنْ تُقَاسَ جِرَاحَةُ اَلْمَجْرُوحَيْنِ فَتُرْفَعَ مِنَ اَلدِّيَةِ وَ إِنْ مَاتَ أَحَدُ اَلْمَجْرُوحَيْنِ فَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَاءِ اَلْمَقْتُولَيْنِ شَيْ ءٌ ».
اردو
احمد بن محمد نے ابن ابی نجران سے، انہوں نے عاصم بن حمید سے، انہوں نے محمد بن قیس سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی، جنہوں نے فرمایا: امیر المؤمنین علیہ السلام نے چار آدمیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو شراب پی کر نشے میں آ گئے۔ پھر ان میں سے بعض نے دوسروں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور وہ آپس میں لڑ پڑے، تو دو قتل ہو گئے اور دو زخمی ہوئے۔ آپ نے دونوں زخمیوں کے بارے میں حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک کو اسی کوڑے لگائے جائیں، اور آپ نے فیصلہ فرمایا کہ دونوں مقتولوں کا خون بہا دونوں زخمیوں پر ہوگا۔ نیز آپ نے حکم دیا کہ دونوں زخمیوں کے زخموں کا اندازہ کیا جائے اور اسے خون بہا سے کم کر دیا جائے؛ اور اگر ان دونوں زخمیوں میں سے کوئی ایک مر جائے تو دونوں مقتولوں کے ورثاء میں سے کسی پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.