: قُلْتُ لَهُ أَسْتَنْجِي ثُمَّ يَقَعُ ثَوْبِي فِيهِ وَ أَنَا جُنُبٌ فَقَالَ «لاَ بَأْسَ بِهِ ».
اردو
اور شیخ، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے، نے مجھے ابو القاسم جعفر بن محمد سے، ان کے والد سے، سعد بن عبداللہ سے، احمد بن محمد سے، علی بن الحکم سے، ابان بن عثمان سے، محمد بن نعمان سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی، جنہوں نے فرمایا: میں نے ان سے کہا: میں استنجا کرتا ہوں، پھر میرا کپڑا اس میں گر جاتا ہے جبکہ میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا: “اس میں کوئی حرج نہیں۔”
Chapter (Bab)4 - بَابُ صِفَةِ اَلْوُضُوءِ وَ اَلْفَرْضِ مِنْهُ وَ اَلسُّنَّةِ وَ اَلْفَضِيلَةِ فِيهِ
CollectionTahdhib al-Ahkam
Compiled by Shaykh al-Tusi
Source
Read on Thaqalayn Project ↗Open License
License: Free for educational and research use (Thaqalayn Data API)
Provided for research and educational purposes. Original source: Thaqalayn Project. Open License.